رجب طیب اردگان بغاوت سے حقیقی رہنما بنے تک کا سفر

Spread the love

حکیم محمد شیراز، سائنسداں و لکچرر شعبہ معالجات، کشمیر یونیورسٹی، کشمیر

تاریخ گواہ ہے کہ جب دنیا میں ظلم و استبداد، انارکی، قتل و غارت گری، جہالت، رشوت ستانی،رعونت و فرعونیت کادور دورہ ہوتا ہے تو ذات بے ہمتا،کہ سروری فقط اسی کو زیبا ہے، کسی نہ کسی نجات دہندہ شخص کو پیدا کرتا ہے اور اسے وہ سب صلاحیتیں اور کمالات عطا فرما تا ہے، جو رہنماؤں کے لئے ضروری ہیں مطلب یہ کہ وہ ممولوں کو شہباز سے لڑادیتے ہیں، سوتی بستی کو جگا دیتے ہیں، اور، جو ملکوں اور قوموں میں انقلاب برپا کر دیتے ہیں، انھیں خلوص کا ایک دریائے بے کراں، پارے کی سیمابی اور بجلیوں کی بے تابی،خطابت کی جادوگری، شخصیت کی دلآویزی، خلقی و فطری محبوبیت اور سب سے بڑھ کر دل کی وہ چوٹ اور جگر کا وہ زخم عطا ہوتا ہے جو حسب ذیل اشعار کے مترادف ہوتا ہے:

نوا پیرا ہوائے بلبل کہ تیرے ترنم سے
کبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیدا

پھر ان کی وہ قلندرانہ شان اور مجذوبانہ ادا جو حق کہنے میں کبھی بڑے چھوٹے، دوست دشمن کی پرواہ نہیں کرتی بلکہ اس کو وسیلۂ نجات اور شرط ایمان سمجھتی ہے اور ایسے اشخاص اپنی قوم کو غلامی و آزمائش سے اور حکمرانوں کی جادوگری نیز ان کے ظلم و جور سے نکالتے ہیں۔ بقول شخصی:

خون اسرائیل آجاتا ہے آخر جوش میں
توڑ دیتا ہے کوئی موسیٰ طلسم سامری

اور اپنی قوم کو یہ پیغام دیتے ہیں:

بھروسہ کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
کہ دنیا میں فقط مردان حُر کی آنکھ ہے بینا

رجب طیب اردگان بھی انہی رہنماؤں میں سے ہیں جن کے نام سے آج شاید ہی کوئی ایمان والا نا واقف ہوگا۔

اردگان کی پیدائش 26 فروری 1954ء ترکی کے مشہور شہر استنبول میں ہوئی۔ والد،احمد اردگان کوسٹ گارڈ اوربحری کپتان تھے۔ آپ نے تعلیم، مرمرہ یونیورسٹی، اکنامک اورادارتی سائنس سے حاصل کی۔آپ ستر اور اسی کی دہائیوں میں اسلامی حلقوں میں سرگرم رہ چکے ہیں۔ سیاسی کیریئر سے پہلے اردگان فٹبال کے کھلاڑی تھے۔

عملی زندگی میں پرواز (زمانہ وار):

1984ء: ویلفیئر پارٹی کیڈسٹرکٹ ہیڈ منتخب ہوئے۔

1985ء: ویلفیئر پارٹی کے استنبول پروویژنل ہیڈ منتخب ہوئے اورپارٹی کے سنٹرل ایگزیکٹو بورڈ کے ممبر بھی۔

1994ء۔ 1998ء: استنبول کے میئر کے عہدے پرفائز رہے۔

اگست 2001ء: اسلامی جماعت(جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی) کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

2002ء۔2003ء: اردگان کی جماعت(جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی) واضح برتری سے انتخابات میں فتح یاب ہوجاتی ہے۔ جس کے بعد اردگان ترکی کے وزیراعظم بن جاتے ہیں۔

2003ء۔2014ء: بطور وزیراعظم اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔

جون 2011ء:جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی اکثریت سے جیتتے ہوئے ارد گان کے لیے تیسرا دورحکومت کی راہ ہموار کردیتی ہے۔

10 اگست 2014ء: اردگان پہلی مرتبہ صدر منتخب ہوجاتے ہیں۔

7 جون 2015ء: ترکی میں پارلیمانی انتخابات منعقد ہوتے ہیں،جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی 41 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوپاتی ہے جودوتہائی اکثریت نہیں اس نتیجے کی وجہ سے اردگان کوپارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں تبدیل کرنے میں مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں۔

15۔16 جولائی2018: ترکی میں فوجی انقلاب کی کوشش کی جاتی ہے جسے ناکام بنادیا جاتا ہے، اس ناکام انقلاب میں 161 افراد ہلاک اور 1140 زخمی ہوجاتے ہیں۔ اردگان حکومت کوبچانے کے لیے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ سڑکوں پر نکلیں اور انقلابیوں کامقابلہ کریں۔

1۔ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ اسلام سے والہانہ محبت ہے۔

2۔ آپ نے آئی ایم ایف کا 23.5 ارب ڈالر کا ملکی قرضہ صفر کر کے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کو قرضہ دینے کی آفر کی۔

3۔ لادین ملکی تعلیمی نظام کو ختم کرکے اسلامی نظریات پر تعلیمی نظام قائم کیا۔ جس کی وجہ سے طالب علموں کی تعداد 65000 ہزار سے 8لاکھ ہو گئی۔

4۔ آپ کے دور میں ملکی یونیورسٹی کی تعداد 98 سے 190 ہو گئی۔

5۔ بارہ سال سے کم عمر کے لوگوں پر تلاوت قرآن کی پابندی تھی، اس کو ختم کیا۔

6۔ اسکول اور مساجد کے سو میٹر کے احاطہ میں شراب کا اشتہار ممنوع قرار دیا۔

7۔ صرف ایک سال میں ہزاروں نئی مساجد تعمیر کیں نیز پرانی مساجد بحال کیں۔

8۔ عوام کے لیے گرین کارڈ جاری کیے جس کے تحت کوئی بھی ترک باشندہ کسی بھی ترکی ہسپتال سے مفت طبی امداد حاصل کر سکتا ہے۔
9۔ خواتین کو پردے کے ساتھ ڈیوٹی کی اجازت دی۔ ایک خاتون جج نے 2015 عیسوی میں اسکارف پہن کر کیس سنا تو یورپ کے لیے یہ بریکنگ نیوز بن گئی۔

10۔ سودی بینک کی بجائے اسلامی بینک کو ترجیح دی۔

11۔ 2002 عیسوی میں زر مبادلہ کے ذخائر 26.5 ملین ڈالر تھے۔ جو 2014 عیسوی میں 150 ملین ڈالر تک پہنچ گئے۔

12۔ آپ کے دور میں ترکی میں ہوائی اڈوں کی تعداد 26 سے بڑھ کر 50 ہو گئی۔

13۔ آپ کے دور میں سیاحت کے ذریعے ہونے والی آمدنی بڑھ کر 20 ارب ڈالر ہو گئی۔

14۔ ترکی میں 13500 کلو میٹر طویل سڑکیں بنوائیں۔

15۔ 2009 عیسوی میں ترکی میں تیز رفتار ریل گاڑیاں چلنے لگیں۔

16۔ 1076 کلو میٹر لمبی ریلوے لائینیں بچھوائیں۔ 5449 کلو میٹر کی مرمت کروائی۔

17۔ تعلیمی بجٹ 7.5ارب لیرا سے 34 ارب لیرا ہو گیا۔

18۔ شہر استنبول کو آلودگی، جرائم، قمار بازی سے پاک کیا نیز ٹریفک سے رواں دواں والا شہر بنوایا۔

19۔ پانی، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ ختم کی اور بلوں میں بھی نمایاں کمی کی۔

20۔ ترکش ائیر لائن دنیا کی ساتویں بڑی ائیر لائن بن گئی۔

21۔ ناپ تول کی کمی، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی وغیرہ کا ترکی سے بڑی حد تک خاتمہ کر دیا۔

22۔ سن 2008ء میں غزہ پٹی پر اسرائیل کے حملے کے بعد رجب طیب اردگان کے زیرقیادت ترک حکومت نے اپنے قدیم حلیف اسرائیل کے خلاف سخت رد عمل کا اظہار کیا اور اس پر سخت احتجاج کیا۔ ترکی کا احتجاج یہیں نہیں رکا بلکہ اس حملے کے فوری بعد ڈاؤس عالمی اقتصادی فورم میں ترک رجب طیب اردگان کی جانب سے اسرائیلی صدرشمعون پیریز کے ساتھ دوٹوک اور برملا اسرائیلی جرائم کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد ڈاؤس فورم کے اجلاس کے کنویئر کی جانب سے انہیں وقت نہ دینے پر رجب طیب اردگان نے فورم کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور فوری طور پر وہاں سے لوٹ گئے۔ اس واقعہ نے انہیں عرب اور عالم اسلام میں ہیرو بنادیا اور ترکی پہنچنے پر فرزندان ترکی نے اپنے ہیرو سرپرست کا نہایت شاندار استقبال کیا۔

اس کے بعد 31 مئی بروز پیر 2010ء کو محصور غزہ پٹی کے لیے امدادی سامان لے کر جانے والے آزادی بیڑے پر اسرائیل کے حملے اور حملے میں 9 ترک شہریوں کی ہلاکت کے بعد پھر ایک بار اردگان عالم عرب میں ہیرو بن کر ابھر اور عوام سے لے کر حکومتوں اور ذرائع ابلاغ نے ترکی اور ترک رہنما رجب طیب اردگان کے فلسطینی مسئلے خاص طورپر غزہ پٹی کے حصار کے خاتمے کے لیے ٹھوس موقف کو سراہا اور متعدد عرب صحافیوں نے انہیں قائد منتظر قرار دیا۔ اور وہ واحد وزیر اعظم ہیں جنہوں نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنما کی پھانسی پر ترکی کے سفیر کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔

15 جولائی 2016 کی شب فوج کے ایک دھڑے نے اچانک ہی ملک میں مارشل لا کے نفاذ کا اعلان کر دیا لیکن بغاوت کی اس سازش کو تر ک عوام نے سڑکوں پر نکل کر، ٹینکوں کے آگے لیٹ کر ناکام بنادیا اور یہ ثابت کیا کہ اصل حکمران وہ ہے جو لوگوں کے دلوں پر حکومت
کرے۔

اعزازات:

فروری 2004ء میں جنوبی کوریا کے دار الحکومت سیول اور فروری 2009ء میں ایران کے دار الحکومت تہران نے رجب اردگان کو اعزازی شہریت سے بھی نوازا۔

علاوہ ازیں جامعہ سینٹ جانز، گرنے امریکن جامعہ، جامعہ سرائیوو، جامعہ فاتح، جامعہ مال تپہ، جامعہ استنبول اور جامعہ حلب کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند سے بھی نوازا گیا ہے

اکتوبر 2009ء میں دورِ پاکستان کے موقع پر رجب اردگان کو پاکستان کا اعلیٰ ترین شہری اعزاز نشان پاکستان سے نوازا گیا۔

خاموش مگر مستقل مسلسل سیاسی سفر سے آغاز کرنے والے طیب اردگان ترکی میں سیاست کے انمٹ گرو بن چکے ہیں۔ مصطفیٰ کمال اتاترک کے بعد انہیں بجا طور پہ جدید ترکی کا معمار کہا جاسکتا ہے۔ موجودہ انتخابات میں فیصلہ کن کامیابی کے بعد وہ ترک تاریخ کے طاقتورترین صدر بن کر ابھرے ہیں۔ ان کی متعارف کردہ انتخابی اصلاحات کے بعد انہوں نے وزیر اعظم کا عہدہ ختم کردیا ہے۔ وزرا کی تعیناتی اور برطرفی مکمل طور پر ان کی صوابدید ہے۔

عدلیہ ان کی من منشا کے تحت ہے۔ وہ جب چاہیں ایمرجنسی نافذ کرکے ترک آئین معطل کرسکتے ہیں۔ آئندہ انتخابات کے انعقاد تک جو کہ اگر ہوتے ہیں انہیں کسی بھی بڑی سیاسی اپوزیشن کا بظاہر کوئی خطرہ نہیں ہے۔

وہ اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ’’ہم نے پہلی بار ترکی کا نظام سیاست عوام کی طاقت سے بدل دیا ہے۔ ’’دوسال پہلے کی ناکام فوجی بغاوت اور اس کی باقیات کو مکمل تلف کردینے کے بعد حالیہ انتخابات میں ان کی افسانوی جیت کے بعد ان کے بیان پر شک کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ ان کے مطابق جدید ترکی میں طاقتور صدارتی نظام اس لئے لازمی تھا کہ ماضی کی طرح اب کوئی سیاسی عدم استحکام کسی غیر سیاسی طاقت کی جانب سے ترک سیاست کی بساط نہ لپیٹ سکے۔

1960 اور اس کے بعد کی آئندہ تین دہائیوں تک ترک فوج جو کہ خود کو بطور ادارہ کمال اتاترک کے سیکولر ازم کا محافظ سمجھتی تھی تین مرتبہ سیاسی بساط لپیٹ چکی تھی۔ مزید یہ کہ ترک فوج حب الوطنی اور ریاست کے تحفظ کی آڑ میں سیاست کو بظاہر ایک باندی سے بڑھ کر کوئی حیثیت دینے پر تیار نہیں تھی۔ اردگان کے مضبوط سیاسی دور سے قبل فوج کو ریاست کے اندر ریاست کی حیثیت حاصل تھی۔

اردگان نے اپنی سیاسی جماعت جسٹس ایند ڈویلپمنٹ پارٹی جسے عرف عام میں اے کے پارٹی کہا جاتا ہے کی جڑیں ترکوں کی مسلم شناخت میں گہری پیوست کردی ہیں۔ فوج کی جانب سے سختی سے نافذ ترک سیکولر سماج کی اقدار اور اقتدار پر اس کی مسلسل گرفت کو ڈھیلاکرنے میں اردگان کی سیاسی جماعت کا سفر طویل اور مشکلات سے پُر رہا ہے۔ ترک سیاست کے اس پیرائے کو بدلنے میں اردگان کی ذاتی حیثیت میں مسلسل محنت اور عوامی خدمت و معاشی کامیابی کی ضمانت اور عوام تک اس کا پھل،ان کے سیاسی کمال کی وجہ بنا ہے۔

آج جبکہ مغربی میڈیا اور ان کے ناقدین ان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی آزادیوں کی بندشوں کا الزام لگاتے ہیں اور ناکام فوجی بغاوت کے ذمہ داروں کے خلاف ان کے سخت کریک ڈاؤن کی مذمت کرتے ہیں تو ترکی کے اندر عوامی سطح پہ ایسا کوئی احتجاج نہیں اٹھتا جیسا احتجاج ترک فوج کی بغاوت پر اردگان کے حق میں نظر آیا تھا۔ آج ترکی میں وہ اڑھائی سو افراد جنہوں نے ترک جمہوریت اور اردگان کی حکومت کے حق میں فوج کے باغی گروہ سے ٹکراتے ہوئے جان دی شہدا کہلاتے ہیں۔ جبکہ سلاخوں کے پیچھے قید اس بغاوت کے منصوبہ سازوں کے حق میں سوائے اردگان کے سیاسی مخالفین کے کوئی مضبوط آواز ابھرتی ہوئی نظر نہیں آتی۔

ترک صدر نہ صرف عالمی سطح پر اہم سیاسی رہنما بن کر ابھرے ہیں بلکہ ان کے ہاتھ ترکی کے عوام کی حساس نبض پہ بھی مضبوطی سے قائم ہیں۔ ترک ریاست اور اس کی سلامتی کے لئے بڑا خطرہ سمجھے جانے والے کرد گروہ ان کے نشانے پر ہیں۔ وہ ان کے خلاف فوجی کاروائی کے لئے ترک فوج کو شام میں کاروائیوں کی اجازت دے چکے ہیں۔ وہ نیٹو کے اتحادی ہونے کے باوجود شام میں جاری جنگ کے خاتمے کے لئے ایران اور روس کے ہمنوا دکھائی دیتے ہیں۔ شام کے فوجی تنازع میں روس کے ساتھ بگڑتے ہوئے تعلقات کو سنبھال کر، فلسطین اسرائیل تنازع میں سخت مگر پریکٹیکل حکمت عملی کے ساتھ دونوں فریقوں کو اپنے مفاد میں رکھ کر اور یورپی یونین کے ساتھ ایک محتاط فاصلہ رکھتے ہوئے ترک معیشت کوکامیاب اور پراعتماد بنا کر انہوں حالیہ انتخابات میں اپنے مخالفین کو شکست دی ہے۔ وہ جب یہ کہتے ہیں کہ ’’وہ دن گئے جب ترکی یورپی یونین میں شمولیت کے لئے درخواست دیا کرتا تھا۔ ’’تو کوئی اس بیان کو محض سیاسی بیان نہیں سمجھتا۔ کیونکہ ترکی کی خارجہ پالیسی اب آزاد ہے اور اس کی معیشت مضبوط ہے۔ عالمی امور کے متعلق فیصلہ کرتے ہوئے عالمی طاقتوں کے لئے اب ترکی کو نظرانداز کرنا بہت مشکل ہوچکا ہے۔

مغرب اگرچہ اردگان کو پسند نہیں کرتا کیونکہ و ہ ترکوں کے مسلم تشخص پہ عائد سرکاری پابندیوں کے خاتمے پہ یقین رکھتے ہیں۔ سعودی قیادت میں مشرق وسطیٰ کے سیاسی کھلاڑیوں کو وہ اس لئے چبھتے ہیں کہ وہ ان کے حمایتی مغربی کیمپ سے نکلتے جارہے ہیں اور ان کی پینگیں ماسکو اور تہران تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ماضی میں بشارالاسد سے سخت اور عملی مخالف اردگان اب شام کے تنازع پر روسی مصالحت کے زیادہ قائل نظر آتے ہیں۔

ان کی حالیہ کامیابی کے اسباب دیکھے جائیں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ خطے میں تنازعات کے حل کے لئے ان کے عملی اقدامات، اپنی قیادت میں ترکی کی کامیابیوں کا برملا اظہار، غیر معمولی اختیارات کے حصول کے لئے غیر معذرت خواہانہ انداز میں عوام سے حمایت پر اصرار اور سب سے آخر میں شام جیسے آتش فشاں تنازع میں تیزی سے ابھرتے ہوئے مغربی اتحاد کے پسندیدہ لڑاکے کردوں سے اپنی سرحد کے تحفظ کے لئے جنگ کرنا، یہ وہ عوامل تھے جن کے بل بوتے پر وہ سیاسی کامیابیوں کی سیڑھی پہ تن تنہا بہت تیزی سے اوپر چڑھے ہیں۔

اگرچہ یہاں بر صغیر میں بھی ان کے چاہنے والوں کی تعداد کم نہیں ہے۔ جہاں ایک جانب بعض مصلح نما دانشوران انہیں عالم اسلام کا صلاح الدین ایوبی سمجھتے ہیں وہیں دوسری جانب ایسے سیاسی مفکرین بھی ہیں جو ان کی سیاسی کامیابیوں اور ترک فوج پر ان کی آہنی گرفت کوبر صغیر کا ممکنہ سیاسی مستقبل سمجھتے ہیں۔

اگرچہ سن 1924 عیسوی کے آس پاس ترکی کی صدیوں پرانی سلطنت عثمانیہ کی بنیادوں میں تزلزل آگیا تھا بلکہ اس کا خاتمہ کر دیا گیا جو کہ عالم اسلام کا ایک بہت بڑا سہارا تھا۔ جس کی حمایت میں بر صغیر میں اسی زمانہ میں خلافت تحریک بھی اٹھی تھی مگر چند نا عاقبت اندیشوں کی وجہ سے وہ نذر خزاں ہو گئی۔بقول شخصی:

کوئی تقدیر کی منطق سمجھ سکتا نہیں ورنہ
نہ تھے ترکانِ عثمانی سے کم ترکان ِ تیموری

رجب طیب اردگان نے اپنے اسلاف کے طرز عمل کو اپناتے ہوئے خود ایک سلامتی ریلی جس میں ترک عوام کا ایک بحر ذخار شریک تھا، اقبال کے اس شعر کو پڑھا تھا، جو حسب حال انھیں پر صادق آتا ہے:

اگر عثمانیوں پہ کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

Please follow and like us:

Leave a Reply