صادق آباد: اکبر ایکسپریس اورمال گاڑی میں تصادم، 21 افراد جاں بحق،67 زخمی

Spread the love

کوئٹہ جانے والی اکبر ایکسپریس ولہار ریلوے اسٹیشن پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی

زخمی اور لاشیں جناح اور شیخ زائد اسپتال منتقل ، ایمرجنسی نافذ ،زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے

50 سے زائد سرکاری و نجی ایمبولینسزنے ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا، شیخ زید اسپتال میں کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے،ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان

ڈی پی او عمر سلامت کی جانب سے زخمیوں کی جانیں بچانے کے لیے عوام الناس سے خون عطیات دینے کی اپیل

ابتدائی معلومات کے مطابق ٹرینوں کے درمیان افسوسناک حادثہ سگنل بروقت تبدیل نہ کرنے کے باعث پیش آیا،ڈی پی او
اکبر ایکسپریس کی 10 میں سے 4 بوگیاں پٹری سے اتریں، ساڑھے 8 بجے ٹرینوں کی آمدو رفت بحال کرد ی گئی ہے، ایڈیشنل جنرل مینیجر ریلوے

اکبر ایکسپریس کا مال گاڑی سے ٹکرانا ریلوے سسٹم کی ناکامی ہے، لگتا ہے حادثے کا ذمہ دار ڈرائیور نہیں ریلوے آپریشن سسٹم ہے،چیئرمین ریلویز

وزیر اعظم عمران خان اور شیخ رشید کا ٹرین حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار ، اعلی ترین سطح کی تحقیقات کا حکم

صادق آباد (نامہ نگار، بیورو رپورٹ، ایجنسیاں) رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد کے علاقے ولہار ریلوے اسٹیشن پر اکبر ایکسپریس اور مال گاڑی میں تصادم کے نتیجے میں 21 افراد جاں بحق اور 67 زخمی ہوگئے،وزیر اعظم عمران خان اوروزیر ریلوے شیخ رشید نے ٹرین حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ جانے والی اکبر ایکسپریس ولہار ریلوے اسٹیشن پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی۔ حادثے کے نتیجے میں 21 افراد جاں بحق اور 67 زخمی ہوگئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی اے ایس پی ڈاکٹر حفیظ الرحمان بگٹی اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔

ترجمان پولیس کے مطابق تصادم کے نتیجے میں اکبر ایکسپریس کی متعدد بوگیاں الٹ گئیں جبکہ حادثے میں اکبر ایکسپریس کے انجن کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

واقعے کی اطلاع ملنے پر ریسکیو عملہ جائے حادثہ پر پہنچ گیا اور امدادی کارروائیاں شروع کردیں، حادثے کے زخمیوں اور جاں بحق ہونے والوں کو جناح اور شیخ زائد اسپتال منتقل کیا گیا،زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان جمیل احمد جمیل نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ قیمتی جانوں کے تحفظ کے لئے تمام انسانی وسائل بروئے کارلا رہی ہے، ضلع بھر سے 50 سے زائد سرکاری و نجی ایمبولینسزنے ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔

شیخ زید اسپتال میں کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے جبکہ تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال اور شیخ زید اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ ڈی پی او عمر سلامت کی جانب سے زخمیوں کی جانیں بچانے کے لیے عوام الناس سے خون عطیات دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ڈی پی او رحیم یار خان عمر سلامت کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ٹرینوں کے درمیان افسوسناک حادثہ سگنل بروقت تبدیل نہ کرنے کے باعث پیش آیا، مسافر ٹرین کے لوپ لائن پر آنے کی وجہ بظاہر نظر نہیں آرہی، ضلعی پولیس محکمہ ریلوے کے ساتھ مل کر حادثہ کے محرکات جاننے کے لئے تفتیش کر رہی ہے، اس کے علاوہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بھی تشکیل دی جا رہی ہے، جلد حادثے کے محرکات بارے حقائق سے آگاہ کیا جائے گا۔

ایڈیشنل جنرل مینیجر ریلوے زبیر شفیع کے مطابق اکبر ایکسپریس کے ڈرائیور عبدالخالق اور اسسٹنٹ ڈرائیور اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ زبیر شفیع نے بتایا کہ اکبر ایکسپریس کی 10 میں سے 4 بوگیاں پٹری سے اتری ہیں، حادثے کے بعد اپ ٹریک پر ٹرینوں کی آمدو رفت روک دی گئی تھی لیکن ساڑھے 8 بجے اسے بحال کردیا گیا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ حادثہ صبح 4بجے کے قریب پیش آیا ہے، ٹرین میں سوار بیشتر مسافر سو رہے تھے، گاڑی کو حادثہ کانٹا تبدیل نہ کرنے کی صورت میں پیش آیا ہے، اسٹیشن والے اپنی ڈیوٹی نہیں کر رہے تھے ورنہ جانی نقصان نہیں ہوتا۔

چیئرمین ریلوے سکندر سلطان راجہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اکبر ایکسپریس کا مال گاڑی سے ٹکرانا ریلوے سسٹم کی ناکامی ہے۔انہوں نے کہا کہ لوپ لائن پر مال گاڑی کی موجودگی میں اکبر ایکسپریس کو لوپ لائن پر لینا نااہلی ہے، ابتدائی تحقیقات سے لگتا ہے کہ حادثے کا ذمہ دار ڈرائیور نہیں ریلوے آپریشن سسٹم ہے۔چیئرمین ریلویز نے مزید کہا کہ حادثے کا حتمی ذمہ دار کون ہے، اس کا تحقیقات کے بعد ہی تعین ہو گا، ریلیف آپریشن تیز کر دیا گیا ہے، جاں بحق افراد کی لاشیں اور زخمی اسپتال پہنچائے جا چکے، اپ اور ڈاون ٹریک کلیئر ہیں۔

عینی شاہدین نے مزید بتایا کہ ہمیں اپنی مدد آپ ہی بوگیوں سے نکلنا پڑا، حادثہ پیش آنے کے کافی دیر بعد ریسکیو ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی تھی۔دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان اور وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ٹرین حادثے اور قیمتی جانوں کی ہلاکتوں پراظہار افسوس کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ حادثہ بظاہر انسانی غفلت کا نتیجہ لگتا ہے۔ وزیر ریلوے نے حادثے کے متعلق اعلی ترین سطح کی تحقیقات کا حکم دے دیاہے۔

Leave a Reply