11 جولائی کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1930 آسٹریلوی کھلاڑی ڈان بریڈمین نے ایک ہی دن میں 309 رنز بنانے کا عالمی ریکارڈ بنایا

1950ء پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں شمولیت اختیا کی

1960ء ہارپر لی کے ناول ٹو کل دا موکنگ برڈ (To Kill the Mockingbird) کی پہلی اشاعت

2012ء پلوٹو کے پانچوں چاند کی دریافت

2010ء اسپین فٹ بال کا عالمی چیمپیئن بنا

2006ء بھارت کے شہر ممبئی کے ریلوے اسٹیشن کے قریب ٹرین میں سات بم دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں دو سو نو افراد ہلاک جبکہ سات سو سے زائد زخمی ہوئے تھے ممبئی پولیس نے لشکر طیبہ اور اسٹوڈنٹ اسلامک موومنٹ آف انڈیا پردھماکوں کا الزام عائد کیا تھا

2003ء اٹھارہ ماہ کے تعطل کے بعد لاہور دہلی بس سروس کادوبارہ آغاز ہوا

1995ء سرب فوجوں نے بوسنیا اور ہرزیگویناکے آٹھ ہزار سے زائد مسلمان شہریوں کو قتل کر دیا

1995ء امریکہ اور ویتنام کے مابین سفارتی تعلقات بحال ہوئے

1989ء دولت مشترکہ نے پاکستان کو دولت مشترکہ میں دوبارہ شمولیت کی باضابطہ پیش کش کر دی

1987ء اقوام متحدہ نے عالمی یوم آبادی منانے کا آغاز کیا دنیا کی آبادی 5 ارب سے تجاوز کرگئی

ولادت

1767ء امریکہ کا چھٹا صدر، دوسرے صدر۔ جان ایڈمز کا بڑا لڑکا۔ شہر کوئنسی (میساچوسٹس) میں پیدا ہوا۔ ہارورڈ کالج سے بی اے کیا۔ 1803ء میں سینٹ کا رکن منتخب ہوا۔ نپولین نے روس پرحملہ کیا تو روس میں امریکہ کا سفیر تھا۔ 1817ء میں امریکہ کا وزیر خارجہ بنا اور ایک معاہدے کے تحت سپین سے فلوریڈا کا علاقہ لیا۔ 1825ء تا 1829ء تک امریکہ کا صدر رہا۔ حبشی غلاموں کی آزادی کا زبردست حامی تھا۔

1902ء بالدیو سنگھ ایک بھارتتی سکھ سیاسی رہنما جس نے تحریک آزادی ہند میں سیاسی کردار ادا کیا اور پہلا وزیر دفاع بھارت بنا۔

1928ء راجا رسالو پاکستان سے تعلق رکھنے والے پنجابی زبان کے شاعر اور محقق تھے۔ راجا رسالو 11 جولائی، 1928ء کو شیخوپورہ، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد صادق تھا۔ وہ ایک طویل عرصے تک پاکستان رائٹرز گلڈ لاہور اور پنجابی ادبی بورڈ لاہور کے سیکریٹری رہے۔ ان کی تصانیف میں پنجاب دے لوک گیت، لوریاں، پنجابی دی دوجی کتاب اور آوجائی شامل ہیں۔ وہ 29 ستمبر، 2007ء لاہور میں انتقال کر گئے۔

1915ء پروفیسر سید شبیر علی کاظمی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز ادیب، ماہر لسانیات اور ماہر تعلیم تھے۔ شبیر علی کاظمی 11 جولائی، 1915ء کو سنبھل، مراد آباد، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔ تقسیم ہند کے بعد پہلے مشرقی پاکستان منتقل ہوئے اور پھر سقوط ڈھاکہ کے بعد کراچی میں اقامت اختیار کی۔ یہاں وہ انجمن ترقی اردو سے منسلک ہو گئے۔ ان کی تصانیف میں اردو اور بنگلہ کے مشترک الفاظ، اساس اردو، پراچین اردو، والیان اردو، اردو کا عوامی ادب، ایشیا کے لوگ اور چند تعلیمی تصورات شامل ہیں۔ وہ 31 جنوری، 1985ء کو انتقال کر گئے۔

1935ء ڈاکٹر نواب حیدر نقوی پاکستان کے ممتاز ماہرِ اقتصادیات اور دانشور ہیں۔ سید نواب حیدر نقوی 11 جولائی، 1935ء میں میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ اور ان کا خاندان 1950ء میں پاکستان ہجرت کر آیا۔ 1961ء میں انہوں نے ییل یونیورسٹی، امریکہ سے ماسٹر کیا اور 1966ء میں پریسٹن یونیورسٹی، برطانیہ سے پی ایچ ڈی کیا۔ انہوں نے 1969ء سے 1970ء تک ہارورڈ یونیورسٹی میں مزید تحقیقی کام کیا۔ ڈاکٹر نواب حیدر نقوی 1972 سے 1974 تک ترکی میں مڈل ایسٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی میں بھی پڑھاتے رہے ہیں اور پاکستان میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس میں ڈائریکٹر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ نیز نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اٹھارٹی سے بھی منسلک رہے ہیں۔ کچھ عرصہ کوثر یونیورسٹی آف سائنسز اسلام آباد میں بھی ریکٹر کے فرائض انجام دیے اور اب وفاقی اردو یونیورسٹی برائے آرٹس، سائنس اور ٹیکنالوجی سے وابستہ ہیں۔

1950ء پرویز امیر علی ہود بھائی ایک پاکستانی نیوکلیئر طبیعیات دان، مضمون نگار اور قومی سلامتی کے مشیر ہیں۔ ہود بھائی نے مساچوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) سے الیکٹریکل انجینئری اور ریاضیات میں گریجویٹ کیا، اس کے بعد سولڈ سٹیٹ طبیعیات (ٹھوس حالت طبیعیات) کے موضوع میں ماسٹر لیول کی تعلیم حاصل کی اور پھر نیوکلئر فزکس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے مختلف یونیورسٹیوں جیسے ایم آئی ٹی، یونیورسٹی آف میری لینڈ، کارنیگ میلن یونیورسٹی وغیرہ میں عارضی پروفیسر شپ کے طور پر کام کیا۔ 2003ء میں انہیں پیوگوش کونسل میں چھ روزہ قیام کے لیے مدعو کیا گیا۔ ہودبھائی “دی بلیٹن آف اٹامک سائنٹسٹس” کے کفیل بھی ہیں اور “پرماننٹ مانیٹرنگ پینل آن ٹیرارزم آف دی ورلڈ فیڈریشن آف سائنٹسٹس” کے ایک اہم رکن بھی۔

1952ء بل باربر کینیڈین آئس ہاکی کھلاڑی

1982ء کرس کولی امریکی فٹ بال کھلاڑی

1990ء پیٹرک پیٹرسن امریکی فٹ بال کھلاڑی

وفات

1941ء سر آرتھر ایڈورڈز ایوینز آثار قدیمہ کے ماہر تھے جن کی وجہ شہرت جزیرہ کریٹ پر کنوسوس کے کھنڈر کی کھوج تھی۔ انہوں نے ہیرو اسکول، بریزنوز کالج ،جامعہ آکسفورڈ اور جامعہ گوٹنجن سے تعلیم حاصل کی۔

2001ء استاد سلامت علی خان پاکستان سے تعلق رکھنے والے شام چوراسی گھرانے کے نامور کلاسیکی گائیک تھے۔ وہ 12 دسمبر، 1934ء کو پیدا ہوئے۔

2001ء قتیل شفائی یا اورنگزیب خان پاکستان کے ایک مشہور و معروف اردو شاعر تھے۔ قتیل شفائی خیبر پختونخواہ ری پورہزارہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی۔ یہاں پر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور بہت سی فلموں کے لیے گیت لکھے۔ وہ پاکستان اور ہندوستان میں یکساں مقبول تھے اور ہندوستان میں بھی کام کے سلسلے میں لمبا عرصہ تک قیام پذیر رہتے۔ قتیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں۔ ان کے لہجے کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ یوں تو انھوں مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے۔ ان کی شاعری میں سماجی او رسیاسی شعور بھی موجود ہے۔ اور انھیں صف اول کے ترقی پسند شعرا میں اہم مقام حاصل ہے۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انھوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا۔ ان کا کلام پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔ صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی 1994ء، آدم جی ادبی انعام، امیر خسرو ایورڈ، نقوش ایورڈ۔ نیز بھارت کی مگھد یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ’’قتیل اور ان کے ادبی کارنامے‘‘ کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کی۔ صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہاولپور یونیورسٹی کی دو طالبات نے ایم اے کے لیے ان پر مقالہ تحریر کیا۔ پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ اڑھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے۔ انہیں نیشنل فلم ایورڈ کے علاوہ دو طلائی تمغے اور بیس ایورڈ بھی دیے گئے۔

2017ء محمد یونس جون پوری، بر صغیر کے مشہور عالم دین اور مظاہر علوم سہارنپور کے شیخ الحدیث تھے۔ 1937ء میں جون پور میں ولادت ہوئی۔ ابتدائی اور متوسط تعلیم جون پور کے مدارس میں حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور میں حاصل کی اور فراغت کے بعد مظاہر علوم میں استاذ حدیث مقرر ہوئے۔ اور تا وفات وہیں کتب حدیث کی تدریس کی ذمہ داری انجام دی۔ شیخ الحدیث محمد زکریا کاندھلوی اور مولانا محمد اسعد اللہ سے مجاز بیعت و ارشاد تھے۔ 2017ء میں طویل علالت کے بعد وفات پائی اور سہارن پور کے قبرستان شاہ کمال میں مدفون ہوئے۔

1936ء جیمز مرے امریکی اداکار (پیدائیش: 1901ء)

1957ء آغا خان سوم سر سلطان محمد شاہ کا انتقال ہوا

تعطیلات و تہوار

عالمی یوم آزادی

Please follow and like us:

Leave a Reply