پاک ملائشیا کئی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے سے تعلقات مزیدمستحکم ہونگے، ڈاکٹرمہاتیر محمد

Spread the love

دونوں ممالک میں موجود صلاحیتوں کو استعمال میں لاکر باہمی تجارت کو بڑھایا جاسکتا ہے، تعلقات کے نئے راستے کھلیں گے

باہمی تعلقات کو سٹریٹجک شراکتداری میں بدلنے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور تعاون میں اضافہ ہوگا
ملائشین وزیر اعظم کا راولپنڈی ایوان وصنعت و تجارت کی 32 ویں انٹرنیشنل ا چیومنٹ ایوارڈز کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب

کوالمپور(کامرس ڈیسک) ملائیشیاء کے وزیراعظم ڈاکٹرمہاتیر محمد نے کہا ہے کہ پاکستان اور ملائشیاء کے درمیان مضبوط اور گہرے تعلقات ہیں دونوں ممالک کے درمیان کئی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے سے یہ تعلقات مزیدمستحکم ہونگے، دونوں ممالک میں موجود صلاحتیوں کو استعمال میں لاکر باہمی تجارت کو بڑھایا جاسکتا ہے اور تعلقات کے نئے راستے کھلیں گے ،باہمی تعلقات کو سٹریٹجک شراکت داری میں بدلنے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور تعاون میں اضافہ ہوگا ،ملائشین وزیر اعظم ڈاکٹرمہاتیر محمد منگل کو یہاں راولپنڈی ایوان وصنعت و تجارت کی 32 ویں انٹرنیشنل اچیومنٹ ایوارڈز کی تقریب سے مہمان خصوصی کے طور خطاب کررہے تھے۔

تقریب سے راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے صدر ملک شاہد سلیم، گروپ لیڈر سہیل الطاف اور اچیومنٹ ایوارڈز کمیٹی کے چیئرمین چوہدری ندیم اے روف نے بھی خطاب کیا،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہاکہ دنیا کی کسی بھی چیمبر کی ایسی تقریب ملائشیاء میں منعقد ہورہی ہے جس میں شرکت ان کے لئے باعث اعزاز ہے۔

ملائیشیا ء کے وزیر اعظم نے کہاکہ دونوں ملکوں کی صلاحیتوں کا اندازہ 2007کے آزاد تجارتی معاہدے کے بعد ہوا، دونوں ممالک میں کافی صلاحیتیں موجود ہیں جن کو استعمال میں لانے کی ضرورت ہے پاکستان نے کئی شعبوں میں ترقی کی ہے، ہم وہاں کی 210 ملین آبادی جبکہ پاکستان ہماری 32ملین آبادی کی کئی ضروریات کو پورا کرسکتا ہے ہم نے کئی چیزیں ایجاد کی ہیں جن میں پاکستان ہمارے تجربے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

انجینئرنگ، ریسرچ، تجارت، زراعت کے شعبوں میں استفادہ کرسکتے ہیں جبکہ دوطرفہ تجارت میں پھل، سی فوڈ (سمندری خوراک) ہم پاکستان سے لے سکتے ہیں جبکہ پاکستان ہم سے بہت کچھ لے سکتا ہے اور کئی شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں دونوں ملک اگر محنت کریں تو دوطرفہ تجارت کو بڑھایا جاسکتا ہے۔

پاکستان نے جہاز بنانے کے شعبے میں کافی ترقی کی ہے جبکہ ملائیشیاء خاص طورپر کار کی صنعت میں آگے ہے۔ ان شعبوں میں ہم ایک دوسرے کے تجربوں سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے باہمی تعلقات کو سٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے پر اتفاق کیاہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا ایک نیا دور شروع ہوگا مہاتیر محمد نے کہا اگرچہ دونوں ممالک کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے لیکن ان مسائل پر متحد ہوکر قابو پایا جاسکتا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ملک شاہد سلیم نے کہاکہ ہمارے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ پاکستان میں 210 ملین لوگوں کے علاوہ پوری امت مسلمہ کے ہیرو مہاتیر محمد نے ہماری اس تقریب میں شرکت کی جو کہ ہمارے لئے کافی اعزاز کی بات ہے، انہوں نے کہاکہ ہم نے مختلف ورکنگ گروپس قائم کیے ہیں جو مختلف معاملات پر کام کریں گے اور اس دو روزہ کانفرنس کے نتیجہ میں پاکستان اور ملائیشیاء کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوگا جس سے دونوں ممالک کی عوام کو فائدہ ہوگا۔ پھل، ماربل، جمز، زرعی مصنوعات ہم ملائیشیاء کو دے سکتے ہیں جس سے پاکستان کو کافی زرمبادلہ حاصل ہوسکتا ہے۔

تقریب سے اپنے خطاب میں راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے گروپ لیڈر سہیل الطافنے کہا کہ 2020ء میں ملائیشیا ء کی کار بنانے والی کمپنی پروٹون پاکستان میں اپنی پیداوار شروع کرے گی۔ جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہونگے اور پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھے گی، تقریب میں دونوں ممالک کے فنکاروں نے اپنی اپنی ثقافت کا بھی مظاہرہ کیا۔ قبل ازیں ملائیشیاء کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے مختلف افراد میں ایوارڈز تقسیم کیے۔ تقریب میں پاکستان کی تاجر برادری اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے 300 سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔

تقریب میں ملائشیاء میں پاکستان کے ناظم الامور مسٹرعاطف، اسلام آبا دمیں ملائشیا ء کے سفیر،ملائشیاء میں ایرانی سفیر سمیت مختلف ممالک کے سفراء کے علاوہ ملائشیاء میں پاکستانی کیمونٹی کے چیدہ چیدہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر وزیراعظم مہاتیر محمد نے پاکستان طلباء کی سکالرشپ کیلئے ایک ملین رنگٹس( ملائیشین کرنسی) کا اعلان کیا

Please follow and like us:

Leave a Reply