مامتا (افسانہ) احمد ندیم قاسمی

Spread the love

آج احمد ندیم قاسمی کو ہم سے بچھڑے 13 برس بیت گئے ہیں۔ وہ 20 نومبر 1916 کوپنجاب کے ضلع خوشاب میں پیداہوئے تھے انہوں نے 50 سے زائد کتب تصنیف کیں جن میں شاعری اور افسانے بھی شامل ہیں احمدندیم قاسمی نے انگریزی زبان میں بھی شاعری کی ان کی نظم ”دی فیڈ ” انٹرمیڈیٹ کے نصاب میں شامل کی گئی ہے ان کی دیگر اہم تصانیف میں جلال وجمال ۔ شعلہ گل۔ کشت وفا۔ چوپال۔سناٹا ۔کپاس کے پھول وغیرہ شامل ہیں احمدندیم قاسمی 10 جولائی 2006 کو انتقال کرگئے تھے۔ ان کے یوم وفات پر انہیں یاد کرنے اور خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ان کا افسانہ مامتا بطور خاص شائع کیا جا رہا ہے امید ہے ہماری یہ کاوش آپ کو پسند آئے گی۔ (مدیر)

پنجاب سے مجھے برطانیہ کے ایک افسر نے بھرتی کیا اور چین کے ایک جزیرے ہانگ کانگ بھیج دیا، جہاں چینی بستے تھے اور انگریز گورنر راج کرتا تھا۔ مدتوں سے ہانگ کانگ پولیس کے لیے پنجاب سے سپاہیوں کے گروہ کے گروہ تو برآمد کئے جاتے ہی تھے۔ لیکن اب ادھر یورپ میں ہٹلر نے جنگ چھیڑ دی تھی اور انگریز وہاں بہت عدیم الفرصت ہو رہا تھا، اس لیے ہانگ کانگ پولیس کے لیے پنجابی نوجوانوں کی مانگ دگنی ہو گئی تھی میں کچھ ایسے گٹھے ہوئے جسم کا جوان نہیں ہوں۔ فوجی بھرتی میں کئی بار منہ کی کھائی ہے۔ مگر اب کے ڈاکٹر نے میری باہر نکلی ہوئی پسلیوں سے نظریں بچا کر میرے لمبے قد کی تعریف کی اور کہا کہ اتنے دراز قد نوجوان سپاہی کو دیکھتے ہی چینی بالشیے دہل کر مرجائیں گے۔ ہانگ کانگ پولیس میں چھ فٹ سے کم قد کے نوجوانوں کو بھیجنا بہت بڑی سیاسی غلطی ہے اور اس سیاسی غلطی کی تصحیح کا جذبہ ہانگ کانگ لے آیا۔

میں نے پرانے ہانگ کانگی سپاہیوں سے سن رکھا تھا کہ ہانگ کانگ میں بڑے مزے ہیں۔ ہر اس ملک میں پولیس کے مزے ہیں جس پر کوئی دوسرا ملک راج کرتا ہے اور ہانگ کانگ تو پولیس کی جنت ہے۔ پستہ قد گداگر چینی عورتوں کو سڑکوں اور بازاروں کی پٹریوں سے بھگا دو اور جب ان کی گودوں میں سے ان کے بچے پاؤں سے جوتوں کی طرف نکل جائیں تو ان کو گندے چیتھڑے کی طرح چٹکی سے پکڑ کر ان کی مائوں کی طرف اچھال دو اور پولیس ہیڈکوارٹر میں آکر اس روپہلی خدمت کی سنہری سند حاصل کرلو۔ کولون اور اصل چین کی سرحد پر آنے والے چینی مسافر کی تلاشی لو اور اس کا بوجھ ہلکا کرکے اسے پھر چین میں دھکا دے دو۔ لیکن جب ہمارا جہاز سنگاپور پہنچا توایک مدراسی نے ہوائی اڑا دی کہ ادھر مشرقی سمندروں میں بھی جنگ ہونے والی ہے۔ جہاز کے انگریز کپتان نے یہ افواہ سنی تو اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ غلط افواہ پھیلانے کے جرم میں مدراسی جہازی کو ملازمت سے برطرف کر دیا اور سنگا پور ہی میں انگریز پولیس کے حوالے کردیا۔۔۔ تاکہ افواہ زیادہ نہ پھیلنے پائے۔

جب ہم ہانگ کانگ پہنچے تو فضا سرگوشیوں میں چھلکتی معلوم ہوئی۔ جنگ ہونے والی ہے، جنگ ہونے والی ہے۔ پھٹی پھٹی آنکھوں میں زبانیں پیدا ہوگئی تھیں اور لوگ یوں تیورا تیورا کر چلتے تھے جیسے قدم قدم پر ان کے سینے کے اندر ہی گولی چل جاتی ہے۔ ہانگ کانگ اور کولون کی بل کھاتی سڑکوں کی پٹریوں پر بیٹھے ہوئے چینی پناہ گزین افق کی طرف یوں تکتے رہتے تھے جیسے طیاروں کے انتظار میں ہیں۔ ان کے پھٹے ہوئے ہونٹوں اور اچٹتی ہوئی پٹریوں میں ایک ہی سوال کلبلارہا تھا ’’جوکچھ ہونے والا ہے وہ ایک دم سے کیوں نہیں ہو چکتا‘‘۔

بھوکے پیاسے چینی بچوں کے ہجوم روٹی کی تلاش میں سڑکوں پر مارے مارے پھرتے تھے۔ ایک انگریز حکمران نے انتظامیہ کے ایک اجلاس کے دوران میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اتنے بہت سے بچوں کا کفیل ہونا حکومت کا فرض نہیں۔ جن بچوں کے ماں باپ زندہ ہیں ان کے گلے میں کتوں کی طرح پٹے ہونے چاہئیں اورگلے میں پٹے کے بغیر جو لڑکا دکھائی دے اسے کولون کی سرحد پر لے جاکر اصلی چین میں دھکا دے دینا چاہیے۔ پولیس کے لیے پیدل سیر کرنے والے صاحب لوگوں کی آسائش کی خاطر پٹریاں صاف رکھنے کا کام سخت دشوار ہورہا تھا۔ مورچے کھدرہے تھے۔ پناہ گاہیں تعمیر ہو رہی تھیں۔ عمارتوں کے حسن کو ریت کی بوریوں نے چھپا لیا تھا۔ یوں معلوم ہوتا کہ سارے کا سارا ہانگ کانگ زیر تعمیر ہے۔

کہتے ہیں ایک زمانے میں ہانگ کانگ کی روشنیاں جب سمندر میں ڈبکیاں لگاتی تھیں اور پھر جب پانی ان روشنیوں کو اوپر انہی روشنیوں کی طرف اچھال دیتا تھا تو پرانے بوسیدہ جسموں میں بھی انگڑائی کی اینٹھن رینگنے لگتی تھی۔ مگر اب ہانگ کانگ اورکولون کا درمیانی سمندر ساری دنیا کے اندھیرے کا منبع معلوم ہوتا تھا۔ اس وقت میں دن کی تربیتی پریڈ سے تھک ہار کر بیرک میں چارپائی پر لیٹے ہوئے ادھر ادھر کی مزے مزے کی باتیں سوچنے کی کوشش کرتا، مگر اندھیرے اور سناٹے کی دہشت میرے کانوں میں بمباروں کی بھنبھناہٹ بن کر گونجتی اور میں اپنی ماں کو یاد کر کے رو دیتا۔

دن کو بھی جب میں لوگوں کی پتھرائی ہوئی آنکھیں اور فق چہرے دیکھتا تو یوں محسوس کرتا تھا جیسے یہ سب کے سب اپنی مائیں کھو بیٹھے ہیں اورانہی کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ مجھے بار بار اپنی ماں یاد آتی تھی مگر دن کے ہنگاموں میں اس تصور سے باربار کترا کر نکل جانے میں کامیاب ہو جاتا البتہ رات کو یہ تصور میرے ذہن میں اور میری آنکھوں سے چمٹ کر رہ جاتا اور میں تکیے میں منہ چھپا کر بچوں کی طرح روتا رہتا۔

ماں نے مجھے ہانگ کانگ آنے سے روکا تھا اور کہا تھا ’’ہانگ کانگ تو وہاں ہے جہاں سے آگے سنا ہے دھرتی ختم ہو جاتی ہے۔ بیٹا تم دلی کلکتہ میں ہوتے تو میں تمہیں خوابوں میں ٹٹول لیتی، پر تم تو ہانگ کانگ جارہے ہو۔ تمہارے میرے درمیان سمندر اور پہاڑ کھڑے ہو جائیں گے اور پھر میرے لال لام اگر ادھر بھی ہونے لگی اور تمہارے دشمنوں پر بھی کوئی آنچ آگئی تو بتائو میں یہاں اس اجڑے پجڑے گاؤں میں کس کے ہاتھ کا سہارا لے کر اٹھوں گی۔ نہ جاؤ میرے بیٹے، مجھے بھوکوں زندہ رہنا آتا ہے۔ میں سوچتی ہوں، وہاں تمہارے کپڑے کون دھوئے گا؟ تمہارے بالوں میں تیل کون ڈالے گا؟ تمہاری آنکھ میں سے گری ہوئی پیک کون نکالے گا؟ تمہارے چولے کے بٹن کون ٹانکے گا؟۔۔۔ اور پھر پچھلے سال کی طرح تمہارے دشمنوں کو نمونیا ہو گیا، تو؟ پچھلے سے پچھلے سال کی طرح، میر ی زبان کوئلہ ہو جائے، اگر تمہارے دشمنوں کے آدھے سر میں درد اٹھا تو تمہاری کنپٹیوں میں روغن بادام کون ملے گا؟ نہیں بیٹا نہ جاؤ چلو میرے گھٹنے سے لگ کر بیٹھ جاؤ۔ بھوکوں مریں گے پر اکٹھے تومریں گے۔ اور بیٹا تم ہانگ کانگ میں ہوئے اور ادھر میں مر گئی تو میری قبر میں تمہارے حصے کی مٹھی بھر مٹی کون ڈالے گا۔ جو مولوی جی کہتے ہیں ماں کی قبر اندھیرے میں جھولی بھر ستاروں کی طرح چمکتی رہتی ہے، بتاؤ‘‘

لیکن میں چلا آیا تھا اور جب آتے وقت میں نے ماں کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے کی کوئی جھری ایسی نہ تھی جس میں آنسو ندی بن کر پھیل نہ گئے ہوں۔ آنسوئوں میں ڈوبا یہ چہرہ جیسے میری پتلیوں میں گھس گیا تھا۔ رات کو بیرک میں مجھے اس فق چہرے کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا تھا اور پھر میں ماں کی جمی ہوئی نظروں سے ڈرنے لگتا اور حواس باختہ ہو کر اس سے سرگوشی کرتا تھا ’’ماں تمہاری پلکیں جھپکتی ہی نہیں۔ تمہاری پتلیا ں تو ہلتی ہی نہیں ، تم کسے دیکھ رہی ہو ماں!‘‘ اور یہ سوال میں اس لیے پوچھتا تھا کہ مجھے میری ماں چینی پناہ گزینوں کی طرح افق کی طرف تکتی نظر آتی تھی۔ جہاں سے کہتے ہیں ایک منٹ میں ایک ہزار بم برسانے والے ہوائی جہازوں کو نمودار ہونا تھا۔

اور پھر ایک دن یہ نظریں افق پر جمی رہ گئیں۔ بمبار کسی اور سمت سے آ نکلے۔ پیانو اور آرگن کی صدائوں میں لپٹا ہوا ہانگ کانگ بموں کے دھماکوں سے بلبلا اٹھا۔ طیارہ شکن توپیں چند مرتبہ بھونکیں اور پھر گردنیں نہوڑا کے تھکے اژدھوں کی طرح پلٹ گئیں۔ بجلی اور تار کے اکھڑے ہوئے کھمبے بلندی پر سے پٹخنیاں کھاتے ہوئے گرے اور سڑکوں پر بکھرئے ہوئے ، پناہ گزینوں کا بھیجہ چاٹتے ہوئے ساحل پر بکھر گئے۔ شہروں کی عمارتوں نے اپنی جگہ بدل لی۔ دیواروں کے ملبے باغیچوں میں آن گرے تو باغیچے کی جھاڑیاں ہال کمرے میں بکھر گئیں۔ ڈیوٹی پر کھڑے ہوئے ایک پنجابی سپاہی کے پیٹ میں بم کا ایک سپلٹر پیوست ہو گیا۔ انتڑیاں باہر نکل آئیں، موت کے کرب میں اس نے چند بل کھائے تو اس کی انتڑیاں اس کی گردن میں پھنس گئیں اور ایک انگریز افسر نے بموں کے خوف سے بے نیاز ہو کر اس کی تصویر اتار لی۔ ہم غیر تربیت یافتہ سپاہیوں کو پناہ گاہوں میں دھکیل دیا گیا۔ جہاں انگریز بچے اور انگریز مائیں تک ’’ممی ممی‘‘ کراہ رہی تھیں۔ایک بوڑھی انگریز عورت پناہ گاہ کے دروازے کے پاس سے ہر چہرے کو پڑھتی ہوئی آگے بڑھنے لگی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تلے کھڑے تھے اور وہ ایک ہاتھ سے ٹھوڑی کے نیچے لٹکتی ہوئی جھلی کو مسلے جارہی تھی اورجب وہ آخری چہرہ پڑھ چکی تو ’’میرا بیٹا‘‘ کہہ کر دھم سے گر پڑی اور ہم سب کے منہ لٹک گئے۔

جاپانیوں کے آنے میں زیادہ دیر نہ لگی۔ وہ آئے اور قابض ہو گئے اور میں جو پنجاب سے ہانگ کانگ میں پولیس کا سپاہی بننے آیاتھا جنگی قیدی بنا دیا گیا۔ اس روز میں خوب خوب رویا۔ مجھے کچھ ایسا لگتا تھا جیسے میں اپنی زندگی کی عزیز ترین متاع یعنی اپنی ماں کو کھو بیٹھا ہو، جیسے جنگ نے میری بانہوں سے میری ماں کو کھسوٹ لیا ہے، جیسے اب تک میں ہانگ کانگ میں اپنی ماں کے پہلو میں بیٹھا تھا مگر اب اس کی لاش کو دفن کرکے خالی ہاتھ رہ گیا ہوں۔ باوجود ہزار کوشش کے اب ماں کا فق چہرہ بھی میرے سامنے نہیں ابھرتا تھا۔اس چہرے کے مانوس نقوش دھندلا گئے تھے، ہر طرف جیسے غبار اڑنے لگا تھا۔

چند روز تک اسی کیفیت میں قیدیوں کے باڑے میں بند پڑا رہا۔ میرا بند بند ٹوٹ چکا تھا اور جسم بالکل کھوکھلا ہو گیا تھا۔ کبھی بھولے سے سرہلایا توکچھ ایسا محسوس ہوا جیسے ایک پتھر ایک کان سے لڑھک کر دوسرے کان سے ٹکرا گیا ہے ۔ بعض اوقات پھیپھڑوں میں سانس جاتی تھی اور وہیں کی ہو رہتی تھی اور میں سینے پر گھونسا مار کر دوسری سانس لے پاتا تھا۔

مگر جلد ہی میں اس قید سے مانوس ہو گیا اور پھر جاپانیوں سے مانوس ہونے میں تو مجھے کوئی دیر نہ لگی۔ میری قمیص کے بٹن ٹوٹ گئے تھے۔ ایک دن ایک جاپانی سے میں نے ایک بٹن کی بھیک مانگی تو اس نے میرے سینے کے بالوں کا ایک گچھا ایک جھٹکے سے توڑ کر میرے ہاتھ میں دے دیا اورکہا ’’اسے باندہ لو‘‘ ٹوٹے ہوئے بالوں کی جڑوں میں سے پھوٹتے ہوئے خون نے جاپانیوں سے مانوس ہونے کی پہلی منزل طے کرا دی۔ حکم ملا کہ سب قطار میں کھڑے ہو جاؤ۔ حکم دینے والا جاپانی افسر الٹے قدموں پیچھے ہٹا تو ایک چھوٹے سے گڑھے نے اسے لڑکھڑا دیا، اس کی ٹوپی گر پڑی اور عینک کا ایک بازو کان سے ہٹ کر لٹکنے لگا۔ میرے قریب کھڑا ہوا سربلند مسکرا دیا ۔ ’’مسکراتا ہے؟‘‘ ایک جاپانی افسر نے سوال کیا اور پھر ایک گولی سن سے آئی، سربلند کی پسلیوں کو توڑتی باہر نکل گئی۔ ایک لمحے کے لیے میں مرگیا۔ پھر جب جاپانیوں کو بے تحاشا ہنستے سنا توہوش آیا ہنسی کی وجہ بھی سمجھ میں آگئی۔ گولی سربلند کے جسم سے نکل کر اس کے عقب میں کھڑے ہوئے وارث کے پیٹ میں گھس گئی تھی اور سر بلند پیچھے گرا تھا تو وارث منہ کے بل گرا تھا اور موت کے کرب میں دونوں نے ایک دوسرے کے جسم نوچ ڈالے تھے اور وارث کی موت جاپانیوں کے لیے لطیفہ بن گئی تھی۔ اس روز سے ہم سب نے ایکا ایکی جاپانیوں سے مانوس ہونے کی آخری منزل طے کرلی۔ حکم ملے تومسکرائو حکم ملے تو نظریں اٹھائو۔ حکم ملے تو خشک گلے ترکرنے کے لیے منہ کا لعاب نگلو اور اگر حکم نہ ملے تو مٹی کے مادھو کی طرح جس انداز اور جس رخ سے کھڑے ہو کھڑے رہو۔ اور پھر میں جینے کے معاملے میں بہت لالچی ہو گیا تھا۔ میں ہر قیمت پر جینا چاہتا تھا کہ کبھی تو جنگ ختم ہوگی، کبھی تو کوئی جہاز مجھے اپنے سینے پر بٹھا کر سنگاپور سے گزرتا ہوا ہگلی میں داخل ہوگا اور ریل گاڑی مجھے کلکتے سے پنجاب لے جائے گی، جہاں میں اپنی ماں کے گھٹنے سے لگ کر بیٹھ جاؤں گا اور قیامت تک یونہی بیٹھا رہوں گا۔ جینے کے اسی لالچ کے سبب میں نے جاپانیوں کے حضور میں کبھی کوئی گستاخی نہیں کی۔

کافی دنوں تک ہم ہانگ کانگ ہی میں اپنے نئے حاکموں کی خدمت بجا لاتے رہے۔ ہم ایسے سدھ گئے تھے کہ ہم نے سرکس والے ہاتھیوں کو مات کر دیا تھا۔ ایک روز ہمیں ایک جاپانی افسر نے بتایا کہ ہانگ کانگ کے قریب ہی ساحلی جزیروں میں سے ایک چھوٹے سے جزیرے پر سو ڈیڑھ سو چینی مچھیروں نے جاپانی سرکار کے خلاف ایک محاذ بنا لیا ہے اور اب وہ ہانگ کانگ تک چھاپا مارنے کی سوچ رہے ہیں۔ ان کی گوشمالی کے لیے ہانگ کانگ سے جاپانی فوجیوں کا ایک دستہ بھی جانے والا تھا۔ جس میں وفادار اور تابعدار قسم کے قیدیوں کو بھی جانا تھا۔ ظاہر ہے اس دستے میں میرا نام سرفہرست تھا۔ رات دو بجے ہم سب ایک دخانی کشتی پر سوار ہوئے۔ آج ہوا معمول سے زیادہ خنک ہو رہی تھی اور میری قمیض کے کھلے گریبان میں جیسے اولے سے بھر گئے تھے۔

ایک دوسرے میں گھستے سمٹتے ہم منہ اندھیرے اس جزیرے پر پہنچے۔ نہایت ہوشیاری سے ساحل پر اترے اور پھر جھاڑیوں میں رینگتے ہوئے جب آگے بڑھے تو اس وقت سامنے مشرق میں جیسے کسی نے انار چھوڑ دئیے تھے۔ اتنی اجلی صبح میں نے پنجاب میں بھی کبھی نہیں دیکھی۔ چڑیوں کے چہچہوں میں ہنسی کی سی کیفیت تھی۔سمندری پرندے لمبی لمبی ٹانگیں لٹکائے ہمارے سروں پر تیرنے اور غوطے مارنے لگے تھے۔

اچانک ہم نے دیکھا کہ ہمارے سامنے ایک چھوٹی سی وادی چینی کی پیالی کی طرح نمودار ہو گئی۔ اس کے عین وسط میں چند جھونپڑے تھے اور چہار طرف ساحل کی سمت سے آتی ہوئی ان گنت پگڈنڈیاں، ان کے قریب آکر غائب ہو رہی تھیں۔ جھونپڑوں کے گردگھاس کے قطعے تھے۔ ان کے گرد درختوں کا ایک دائرہ تھا۔ ان کے پیچھے جھاڑیوں کا ایک دائرہ اور پھر سب کے آخر میں ساحل کی سنہری ریت اور سانس لیتے ہوئے سمندر کا دائرہ۔ سارا منظر کچھ عجیب مصنوعی سا لگتا تھا، بالکل کھلونا سا اور جب سمندر کی بڑی بڑی لہروں کی طرف دیکھتا تھا تو میرے قدموں تلے چینی کی یہ پیالی تیرتی اور ڈولتی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔

ہم سب کو بڑی حیرت ہوئی کہ دیر تک انتظار کرنے کے باوجود ابھی تک ہمیں جھونپڑوں کے آس پاس کوئی بچہ تک دکھائی نہیں دیتا تھا۔ کسی جھونپڑے سے دھواں تک نہیں اٹھتا تھا۔ کسی بوڑھے کے کھانسنے تک کی آواز نہیں آتی تھی۔ صرف ایک کتا گھاس کے قطعوں میں لوٹیں لگارہا تھا۔ تنگ آکر دستے کے جاپانی لیڈر نے اپنے ریوالور سے ہوا میں فائر کر دیا اور پھر ہم سب دبک کر زمین سے چمٹ گئے۔ مگریہ فائر بھی جھونپڑوں کے آس پاس زندگی کا کوئی ثبوت نہ ابھار سکا بس اتنا ہوا کہ کھیلتا ہوا کتا کان کھڑے کر کے ایک لمحہ ہماری طرف دیکھتارہا اور پھر جھونپڑوں میں بھاگ گیا۔ چڑیاں بہت سی ڈاروں کی صورت میں مشرق کی طرف کچھ یوں اڑ گئیں جیسے ابھرتے ہوئے سورج میں گھس کر دم لیں گی۔

اب ہم نے ہلہ بول دیا۔ جھونپڑوں کے قریب آکر ہم نے اکٹھے بہت سے فائر کھول دئیے اور پھر جاپانی افسر نے کڑک کر چینی زبان میں کہا ’’اگر کوئی اندر ہے تو فوراً باہر آجائے ورنہ اس کے بعد ہم اندر آکر کسی کو جیتا نہ چھوڑیں گے‘‘۔

اور پھر میں نے ایک ایسا منظر دیکھا جو صرف جنوں پریوں کی کہانیوں ہی میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں سے وہاں تک تمام جھونپڑوں میں سے پھٹے پرانے چیتھڑے پہنے ہوئے بوڑھی اور ادھیڑ عمر کی عورتیں اتنی بہت سی تعداد میں ایک دم باہر نکل آئیں جیسے وہ اسی حکم کے انتظار میں تھیں۔ آن کی آن میں ہمارے سامنے جھریوں بھرے چہرے، لٹکتی ہوئی جھلیوں اور بجھی ہوئی آنکھوں کی قطاریں تن گئیں اور مجھے کچھ ایسا لگا جیسے کوئی بہت بڑا حادثہ ہونے والا ہے۔ اس وقت کا سناٹا ہولناک تھا۔ ابھرتے ہوئے سورج کی وجہ سے ہم سب کے سائے ڈرائونی حد تک لمبے ہو کر گھس کے قطعوں پر جیسے لیٹ گئے تھے اور عورتیں زیر لب کوئی جا پ کررہی تھیں۔ کچھ ایسی پراسرار فضا پیدا ہوگئی جیسے ابھی ابھی ایک پل میں چینی کی یہ پیالی ہوا میں ابھر جائے گی اور الٹ کر سب کو سمندر میں گرادے گی۔

جاپانی افسر کے حکم سے ہم نے انہیں گھیرے میں لے لیا۔ پھر جاپانی لیڈر آگے بڑھا اور گرج کر بولا ’’مرد کہاں ہیں؟‘‘

ایک لمحے تک خاموشی رہی جیسے توپ میں گولا بھرا جارہا ہے۔

پھر ایک بالکل سفید بالوں والی بڑھیا ایک قدم آگے آگئی اور بولی:

’’روز کے کام پر گئے ہیں‘‘۔

’’روز کے کام پر‘‘ لیڈر کڑکا ’’یعنی جاپانی سرکار کی جڑیں کھودنے کے لیے چین کے ساحلوں پر فسادیوں کے اڈے بنانے؟‘‘

’’جی نہیں‘‘ بڑھیا بولی ’’مچھلیاں پکڑنے!‘‘

’’اور بچے اور بوڑھے؟‘‘ افسرنے پوچھا ’’اور تمہاری لڑکیاں؟‘‘

’’آج ہم مچھیروں کا سالانہ میلہ ہے‘‘ بڑھیا اسی انداز سے بول رہی تھی ’’سب ادھر پانیوں میں خوشیاں منائیں گے اور۔۔۔‘‘

’’ادھرآؤ‘‘ لیڈر نے بڑھیا کے ہاتھ کو ایک جھٹکے سے کھینچا اور وہ منہ کے بل گر پڑی۔ دوسرے افسر نے اس کی پیٹھ پر اپنے ریوالور کا فائر کر دیا۔ وہ چیخی اور یوں تڑپی جیسے اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ پھر وہ چت گر پڑی اور دو ایک بار تن کر ٹھنڈی ہو گئی اور اپنی پتھرائی ہوئی آنکھوں سے جیسے ہم سب کو گھورنے لگی۔ سب عورتیں چہروں کو ہاتھوں سے چھپا کر رہ گئیں اور میں نے اپنے ہونٹ کے ایک گوشے کو اس زور سے کاٹا کہ کرچ سے میرے دانت میرے ہی گوشت میں اتر گئے۔ چڑیوں کے غول جو شاید پلٹ کر آئے تھے روتے ہوئے ہانگ کانگ کی طرف اڑ گئے۔

لمبی لمبی ٹانگوں والے سمندری پرندے کچھ یوں منتشر ہو کر ادھر ادھر اڑ گئے جیسے گولی انہی کے ہجوم میں سے گزری ہے۔

دور کے جھونپڑوں میں دو کتے بھونکنے لگے۔

ہم پنجابیوں کو عورتوں کی نگرانی کے لیے چھوڑ کر جاپانی جھونپڑوں میں گھس گئے خوب خوب اٹھا پٹخ کی اور گالیاں بکیں۔ میں چینی عورتوں کے چہروں کو باری باری دیکھتا رہا، ان کی ٹھوڑی کے نیچے لٹکتی ہوئی جھلی موت کے خوف سے یاجانے کس احساس سے کانپے جارہی تھی اور ان کی ذرا ذرا سی آنکھیں کہیں دور ہٹ کر سوچ رہی تھیں۔ جاپانی جھونپڑوں سے نکل کر دورگول ساحل کی طرف چلے گئے تھے اور جھاڑیوں میں فائرکر رہے تھے۔

اچانک ایک عورت زمین پر بیٹھ گئی میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی اوراپنا زیر لب جاپ جاری کر دیا مجھے اپنی ماں یاد آگئی۔ میں فورادوسری طرف دیکھنے لگا اور کچھ یوں ظاہر کیا جیسے میں ان سب سے بے پروا ہو گیا ہوں۔ آنکھوں کے گوشوں میں سے میں نے دیکھا وہ عورت پھرزمین پر بیٹھ گئی اور دوسری عورتوں کی ٹانگوں میں چھپتی ہوئی آگے کھسکنے لگی۔ مردہ بڑھیا کے پاس آکر اس نے نہایت خوفزدہ انداز میں میری طرف دیکھا۔ پھر جلدی سے لاش کے چہرے پر ایک بڑا سا کپڑا پھیلا کر وہ پیچھے ہٹی اور اپنی جگہ پر آکر کھڑی ہو گئی۔

میں نے صبط کی کوشش کی، کانپتے ہوئے ہونٹوں کو دانتوں میں جکڑ لیا مگر میری آنکھوں میں آنسو آہی گئے۔ لاش کا منہ ڈھانپنے والی عورت تھوڑا سا آگے آکر مجھے بڑے غور سے دیکھنے لگی۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس کی پلکیں جھپک گئیں اور اکٹھے بہت سے آنسو اس کی جھریوں میں ندیوں کی طرح بہ کر پھیل گئے۔ سمندر کی ٹھنڈی نم آلود ہوا میرے کھلے گریبان سے فائدہ اٹھا کر میری پسلیوں میں پیوست ہوئی جارہی تھی اور میں رو رہا تھا۔ میںنے دوسری عورتوں کی طرف دیکھا، ان سب کی آنکھیں بھی ڈبڈبا آئی تھیں۔ میں بڑھیا کی لاش کی طرف دیکھنے لگا، ہوا کے جھونکے نے اس کے منہ پر سے کپڑا اڑا دیا تھا۔ میں نے جھک کر اس کا سر اٹھایا اور اس کے گرد کپڑا لپیٹ دیا۔ایک جاپانی سپاہی چنگھاڑتا ہوا آیا اور میری کمر میں ایک زور کی ٹھوکر ماری۔ لاش کا منہ ڈھانپنے والی عورت کے سوا دوسری سب عورتوں نے ہاتھوں سے اپنے چہرے چھپا لیے اور میں کمر کی چوٹ کو سہلاتا کھڑا ہو گیا۔ جاپانی سپاہی نے لاش کے سر پر سے کپڑا نوچ ڈالا۔ مری ہوئی بڑھیا کا ذرا سا سفید جوڑا کھل کر اس کے کھلے دھانے اور پتھرائی ہوئی آنکھوں پر پھیل گیا اور سب جاپانی واپس آگئے۔

دستے کے لیڈر نے عورتوں کے سامنے بڑے غصے سے ایک تقریر کی اورکہا:

’’معلوم ہوتا ہے کہ ہانگ کانگ میں بھی تم لوگوں کا خفیہ گروہ کام کررہا ہے اور انہی میں سے کسی نے تمہیں ہمارے چھاپے کی خبر دی ہے۔ ورنہ یوں نوعمر لڑکیاں، بچے، جوان اور بوڑھے جزیرے پر سے غائب نہ ہوتے۔ لیکن ہم یہاں سے جائیں گے نہیں۔ ہم آج سارا دن ان کا انتظار کریں گے اور جب وہ آئیں گے تو تمہارے بیٹوں، بیٹیوں، بھائیوں، بہنوں، شوہروں، بیویوں اور باپوں کو تمہارے سامنے گولیوں سے اڑا دیں گے اور پھر تمہیں بھی سمندر میں دھکیل دیا جائے گا‘‘۔ وہ دیرتک ایسی باتیں کرتا رہا اور آخر ہم جنگی قیدیوں کو ان نئے قیدیوں کی نگرانی پر مقررکر کے سب جاپانی دور درختوں کے دائرے میں چلے گئے اور اپنے اپنے تھیلوں سے شراب کی بوتلیں نکال کر قہقہے مارنے اور ناچنے گانے لگے۔

عورتیں ہمارے حلقے میں بیٹھ گئیں۔ بادل گھر آئے تھے جن کی وجہ سے سورج غائب تھا۔ اتنی دیر بعد بھی وہی منہ اندھیرے کا منظر جاری تھا۔ تیز ٹھنڈی ہوا میرے سینے میں برمے کی طرح گھسی جارہی تھی۔ میں گریبان کے دونوں حصوں کو ملاتا تومیرا ہاتھ سن ہو جاتا اور جب چھوڑتا تو سر پے پاؤں تک لرز اٹھتا۔ بڑھیاکی لاش کی موجودگی کے احساس سے بھی جسم کی کپکپی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ عورتوں کا زیر لب جاپ جاری تھا۔ لاش کا منہ ڈھانپنے والی عورت کے چہرے پر آنسوئوں کی بجائے زردی سنڈرہی تھی اور وہ منہ کھولے مجھے گھور ے جارہی تھی۔

دیر تک یہی کیفیت جاری رہی۔ جب ایک جاپانی سپاہی ہمارے پاس آیا اور بولا کہ فی الحال ایک اور قریبی جزیرے پر جانے کا فیصلہ ہوا ہے اس لیے کچھ دیر کے بعد ادھر روانہ ہوں گے اور جب تک یہ عورتیں ہم سب کے لیے کھانا تیار کریں گی۔ اس نے عورتوں کو کھان پکانے کا حکم دیا اور ہمیں اپنی اپنی جگہ پر کھڑے رہنے کا حکم دے کر واپس چلاگیا۔

عورتیں اپنے اپنے جھونپڑوں میں چلی گئیں۔ بادل گرجنے لگا، ہوا میں جمی ہوئی برف کے ٹکڑے اڑنے لگے جو میرے سینے سے نکیلے پتھروں کی طرح ٹکرا رہے تھے اور میں اپنے گھروندے کے اس گوشے کو یاد کررہا تھا جس میں دبک کر ہم ماں بیٹا سردیوں کا بشتر حصہ گزار دیتے تھے۔ اپلوں کا دھواں ہمارا احاطہ کیے رکھتا تھا اور ماں بار بار میرے سینے پر اپنی چادر پھیلا کر کہتی تھی ’’سینے کو سردی سے بچائے رکھو بیٹا ہوا میں جو نمونیا ہوتا ہے وہ سینے ہی کی راہ پسلیوں میں اترتا ہے۔۔۔‘‘

آنسوئوں میں بھیگا ہوا ماں کا چہرہ ایک مدت کے بعد بڑی وضاحت سے میرے سامنے ابھرا۔ جھریوں میں پھنسے ہوئے آنسو بجلی کی چمک سے جگمگا اٹھے تھے۔ جھلی کانپ رہی تھی اور یہ چہر ہ میرے قریب آرہاتھا۔

وہ عورت جس نے لاش کا چہرہ ڈھانپا تھا، آہستہ آہستہ میری طرف آرہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی اوروہ بار بار پلٹ پلٹ کر جاپانیوں کی طرف دیکھتی تھی جو دور ابھی تک ناچ اور گارہے تھے۔ اس کے چہرے اور میری ماں کے چہرے میں کتنی مماثلت تھی، بڑھاپے میں کتنی یکسانیت ہوتی ہے۔ اس وقت ان کی جھریوں میں بھی آنسو پھیل رہے تھے۔ قریب آکررک گئی اور چینی زبان میں آہستہ سے بولی:

’’قیدی ہو؟‘‘

میں زبان سے کچھ نہ بولا صرف اثبات میں سرہلادیا۔

وہ بولی ’’میرا بیٹا جلدی میں تھا، میں پکارتی رہی مگر اس نے میری ایک نہ سنی، اس کی قمیص میں بھی تمہاری طرح ایک بھی بٹن نہ تھا‘‘۔

میں چونکا۔

وہ بولتی چلی گئی ’’تمہاری ماں ہے نا؟‘‘

میں اب کے بھی کچھ نہ بولا ، صرف اثبات میں سرہلا دیا۔ میں نے ضبط کرنے کی کوشش کی مگر بچے کی طرح رونے لگا۔

وہ آگے بڑھ کر میری قمیص میں بٹن ٹانکنے لگی اور جب ٹانک چکی تو آنسوئوں میں مسکرائی۔ جاپانیوں کی طرف کنکھیوں سے دیکھ کر اس نے جیسے چوری چوری میرے ایک گال پر بوسہ دیا اور میری قمیص سے آنسو پونچھ کر پلٹ گئی۔

اور میں ایک لمحے کے لیے یوں سمجھا جیسے چینی کی یہ پیالی ہوا میں ابھر کر الٹ گئی ہے اور میں پنجاب میں اپنی ماں کی گود میں گرا پڑا ہوں!!

Please follow and like us:

Leave a Reply