10 جولائی کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1800ء کلکتہ میں اردو ،ہندی اور مقامی زبانوں کے فروغ کے لیے فورٹ ولیم کالج کا قیام عمل میں آیا

1947ء برطانوی وزیر اعظم نے قائد اعظم محمد علی جناح کو گورنر جنرل پاکستان بنانے کی تجویز کی حمایت کی

1973ء پاکستان کی قومی اسمبلی میں بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کی قرارداد پاس ہوئی

ولادت

1856ء نیکولا ٹیسلا، امریکی طبعیات دان اور انجینئر (Engineer)

1902ء کرٹ الڈر ایک جرمن کیمیاء دان تھا۔ انھوں نے اوٹوڈائلس کے ہمراہ ڈائس الڈر کیمیائی عمل پر کام کیا اور اس کے صلے میں ان دونوں کو1950 میں نوبیل انعام دیا گیا۔ ان کا انتقال 20 جون 1958 کو ہوا۔

1903ء غفور غلام ازبکستان کے قومی شاعر، ناول نگاراور مترجم تھے۔ انہیں ناول Shum bola کی وجہ سے عالمی شہرت حاصل ہوئی۔ غفور غلام مترجم کے طور پر مشہور و معروف ہیں۔ انہوں نے ملکی اور غیر ملکی ادیبوں خاص کر الیکزاندرپشکن، شیکسپیئر، سعدی شیرازی، ولادیمیرمایاکوفسکی کی تخلیقات کو ازبک زبان کا جامہ پہنایا۔ اس کے علاوہ آپ حمزہ حکیم زادہ نیازی کے ساتھ جدید ازبک شاعری کے بانی کہلائے جاتے ہیں۔ آپ کو ریاستی اسٹالن انعام اور ازبکستان کے قومی شاعر کے خطاب سے نوازا گیا۔ ان کا انتقال 10 جولائی 1966ء کو ہوا۔

1905ء سید الطاف علی بریلوی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ادیب، صحافی، ماہر تعلیم اور تحریک پاکستان کے کارکن تھے۔ سر سید احمد خان کی قائم کردہ آل انڈیا ایجوکیشنل کانفرنس کی پاکستان میں شاخ آل پاکستان ایجوکیشنل کانفرنس کے نام سے قائم کی۔ انہوں نے نے تعلیم کے شعبے میں ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں اور کراچی میں سر سید گورنمنٹ گرلز کالج قائم کیا۔ ان کا انتقال 24 ستمبر، 1986ء کو ہوا۔

1920ء اون چیمبر لین امریکا کے ایک طبیعیات دان اورنوبل انعام برائے طبیعیات جیتنے والے سائیسدان تھے۔ انہوں نے یہ انعام 1959 میں چن نینگ یانگ کے ساتھ مشترکہ جیتا جس کی وجہ ان کی ایٹم کے ذیلی ذرات کی مشترکہ دریافتیں تھی۔ ان کا انتقال 20 فروری 2006 کو ہوا۔

1921ء اسد اللہ خاں المروف اسد بھوپالی بھارت کے نامور شاعر اور فلمی گیت نگار تھے۔ انہیں فلم میں نے پیار کیا کے گیت دل دیوانہ بن سجنا کے مانے نہ پر بھارت کی فلمی صنعت کا سب سے بڑا انعام فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔ ان کا انتقال 9 جون، 1990ء کو ہوا۔

یہ بھی پڑھیں

1925ء مہاتیر (محاضر) بن محمد ملائیشیا کے ساتویں وزیر اعظم ہیں جنہوں نے 10 مئی 2018ء کو انتخابات میں کامیابی کے بعد یہ عہدہ سنبھالا ہے۔ اس کے قبل وہ اس عہدہ پر 1981ء سے 2003ء تک، 22 سال، فائز رہے۔

1928ء نیویل انتھونی مسکارینہاس ایک پاکستانی صحافی اور مصنف تھے۔ ان کی تصنیفات The Rape of Bangla Desh اور Bangladesh: A Legacy of Blood میںانہوں نے لکھا ہے کہ 1971ء میں پاکستانی فوج کی جانب سے بنگلہ دیش میں بہت ظلم کیا گیا، ناقدین اس بات کوحقیقت تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ ان کا انتقال 3 دسمبر 1986 کو ہوا۔

1930ء سید امین اشرف، ایک مشہور اردو غزل شاعر اور نقاد تھے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں پی ایچ ڈی کی، جس کے لیے انہوں نے سیروجنی نایڈو کی شاعری کو موضوع بنایا۔ انہوں نے اپنی شاعری کے تین مجموعے اور تنقیدی مضامین کا مجموعہ ایک کتاب کی شکل میں تیار کیا۔ ان کی شاعری کی خدمات پر انہیں بہت سے اکیڈمک ایوارڈز ملے اور بہت سے مضامین ان کی شاعری کی مدح سرائی میں لکھے گئے۔ 7 فروری 2013ء (بمطابق 25 ربیع الاول 1434 ہجری) کو علی گڑھ میں دل کی تکلیف میں مبتلا ہونے پر ان کی وفات ہوئی اور انہیں کچاوچہ شریف میں اشرف جہانگیر سمنانی کے مقبرے کے پاس اپنے والد کی قبر کے ساتھ دفن کیا گیا۔

1931ء ایلس منرو ایک کینیڈا کے ادیب ہیں انہوں نے 2013 کا نوبیل انعام برائے ادب اپنے نام کیا۔

1935ء محسن زیدی ایک اردو شاعرتھے جو قلمی نام ‘محسن لکھا کرتے تھے۔ سید محسن رضا زیدی 10 جولائی 1935 شہر بہرائچ میں پیدا ہوئے۔محسن زیدی نے 1956 ء میں بھارتی اقتصادی سروس میں شمولیت اختیار کی اور 1993 ء میں ان کی ریٹائرمنٹ تک بھارت کی حکومت کے ساتھ کام کیا۔ کیمیکل اور ارورک، لیبر، زراعت کی وزارتوں میں مرکزی حکومت کے ساتھ بہت سے عہدوں پر تعینات رہے۔ اور منصوبہ بندی کمیشن میں۔ انہوں نے کہا کہ جوائنٹ سکریٹری کے سینئر انتظامی جماعت میں ایک ‘سینئر اکانومسٹ کے طور پر ریٹائر۔ انہوں نے حکومتی سطح پر جاپان، سنگاپور، ہانگ کانگ، تائیوان، انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ اور الجیریا جیسے ممالک کا دورہ کیا۔ ان کا 3 ستمبر 2003ء کو لکھنؤ میں انتقال ہوا ۔

1937ء پروفیسر ڈاکٹر نواز علی شوق پاکستان سے تعلق رکھنے والے سندھی زبان و ادب کے معروف ماہر، شاعر، نقاد، محقق اور جامعہ کراچی کے شعبہ سندھی کے سابق چیئرمین ہیں۔ وہ شاہ عبد اللطیف بھٹائی کی شاعری پر تحقیق کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔

1949ء سنیل گواسکر، بھارتی کرکٹ کھلاڑی

1962ء اعظم طارق مذہبی و سیاسی تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان کے سربراہ تھے اور پاکستان میں اپنے وقت کے طاقتور ترین راہنماؤں میں سے ایک تھے۔ اس کے علاوہ ایک متنازع شخصیت کے طور پر بھی جانے جاتے تھے۔ فرقہ واریت پھیلانے اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کے الزامات کی زد میں بھی رہے۔ شیعہ ذرائع اعظم طارق کو 1997ء تا 2003ء سینکڑوں اہل تشیع مسلمانوں کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ ان کو 4 اکتوبر، 2003ء اسلام آباد میں داخلے کے وقت فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ اس فائرنگ میں انہیں 40 گولیاں لگیں۔

وفات

831ء ام جعفر زبیدہ بنت جعفر بن ابو جعفر منصورہاشمی خاندان کی چشم و چراغ تھیں۔ یہ خلیفہ ہارون الرشید کی چچا زاد بہن اور بیوی تھیں ان کا نام ” امۃ العزیز “ تھا۔ ان کے دادا منصور بچپن میں ان سے خوب کھیلا کرتے تھے، ان کو ” زبیدہ “ ( دودھ بلونے والی مدھانی ) کہہ کر پکارتے تھے، چنانچہ سب اسی نام سے پکارنے لگے اور اصلی نام بھول ہی گئے۔ یہ نہایت خوبصورت اور ذہین و فطین تھیں۔ جب جوان ہوئیں تو خلیفہ ہارون الرشید سے ان کی شادی ہو گئی۔ یہ شادی بڑی دھوم دھام سے ذوالحجہ 165ھ مطابق جولائی 782ء میں ہوئی۔ ہارون الرشید نے اس شادی کی خوشی میں ملک بھر سے عوام و خواص کو دعوت پر بلایا اور مدعوین کے درمیان میں اس قدر زیادہ مال تقسیم کیا جس کی مثال تاریخ اسلامی میں مفقود ہے۔ اس موقع پر خاص بیت المال سے اس نے پانچ کروڑ درہم خرچ کیے۔ ہارون الرشید نے اپنے خاص مال سے جو کچھ خرچ کیا وہ اس کے علاوہ تھا۔

1084ء خواجہ ابو علی فارمدی کا نام فضل بن محمد ہے آپ کی ولادت 407ھ اور وفات 477ھ میں ہوئی۔ اسم گرامی فضل بن محمد بن علی اور کنیت ابو علی اور فارمد کی طرف منسوب ہے جو طوس (موجودہ ایران) کے دیہات میں سے ایک گاؤں ہے۔ علم کا حصول فقہ کے امام ابو حامد غزالی سے ہوا اور ابو عبد اللہ بن باکو شیرازی ابو منصور تمیمی،ابو عبد الرحمن نیلی اور ابو عثمان صابونی سے حدیث کا سماع کیا۔ خراسان کے شیخ الشیوخ ہیں ا پنے وقت کے یکتا تھے۔ اوراپنی طریقت میں خاص تھے وعظ و نصیحت میں ابو القاسم کے شاگرد تھے۔ ان کی نسبت تصوف میں دوطرف کی ہے۔ ایک تو شیخ بزرگوار ابو القاسم گرگانی(جرجانی) کی طرف دوسری شیخ بزرگوار ابو الحسن خرقانی کی طرف جو مشائخ کے پیشوا اور وقت کے قطب ہیں۔ طریقہ نقشبندیہ میں خواجہ ابوالقاسم گرگانی سے بیعت ہوئے لیکن اویسی طور پر ابوالحسن خرقانی سے فیض یاب ہوئے۔ آپ کے صاحب کمال ہونے کے لیے یہ دلیل کافی ہے کہ حجۃ الاسلام امام محمد غزالی آپ کے مرید اور تربیت یافتہ تھے۔

1994ء نام مرزا رضا حسین اور رضا تخلص تھا۔ شاعر اور ادیب۔ پشاور میں پیدا ہوئے اور وہیں میٹرک، منشی اور پشتو فاضل کے امتحانات پاس کیے۔ اردو اور فارسی میں شعر کہے۔ بزم سخن پشاور، ادبستان پشاور کے ناظم رہے۔ اور انجمن ترقی اردوسرحد کے سیکرٹری بھی رہے۔ 1938ء میں ماہنامہ ند 1939ء میں ہفتہ وار شباب پشاور سے اور 1940ء میں ہفتہ وار اخبار شباب لاہور سے نکالا۔ تصانیف میں مراۃ الاسلام، جمال الدین افغانی، خوشحال خان کے افکار، رحمان بابا کے افکار، ادیبات سرحد وغیرہ۔ افسانے، ڈرامے اور تنقیدی مضامین بھی لکھتے ہیں۔ اصنافِ سخن میں غزل ،نظم ،رباعی، قطعہ سب ہی میں طبع آزمائی کی ہے۔ پشتو ادب کو اردو دان دنیا سے متعارف کرانے میں بھی انہیں اولیت حاصل رہی۔ پشاور میں وفات پائی۔ وہ 25 دسمبر 1910 کو پیدا ہوئے۔

2006ء احمد ندیم قاسمی، پاکستانی شاعر و مصنف

2007ء مولانا عبد الرشید غازی لال مسجد واقعہ میں ” آپریشن سائلنس ” کے نتیجے میں ہلاک کر دیے گئے۔

تعطیلات و تہوار

1973ء بہاماس برطانیہ سے آزاد ہوا

Please follow and like us:

Leave a Reply