9 جولائی کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1921ء کراچی میں منعقدہ خلافت کانفرنس میں محمد علی جوہر کا تاریخی خطاب

1948ء پاکستان کے پہلے ڈاک ٹکٹوں کا سیٹ جاری ہوا

1989ء مکہ مکرمہ میں دو بم دھماکوں میں ایک حاجی شہید اور 16زخمی ہو گئے

1997ء ہولی فیلڈ کا کان کاٹنے کی وجہ سے باکسر مائیک ٹائسن پر باکسنگ کھیلنے پر پابندی لگا دی گئی

2003ء بنگلہ دیش میں مسافروں سے بھری کشتی الٹنے سے 400افراد ڈوب گئے

ولادت

1908ء علامہ رشید ترابی، پاکستانی دانشور

1915ء ڈیوڈ ڈیمنڈ، امریکی موسیقار

1925ء گرو دت، بھارتی اداکار اور ہدایتکار

1926ء بن روئے مٹل سن ایک ڈنمارک کے طبیعیات دان تھے۔ انھوں نے طبیعیات کا نوبل انعام بھی جیتا یہ انعام 1975ء میں انہوں نے اپنے ہم وطن سائنس دان ایگ بوہر اور امریکی سائنس دان لیو جیمز رین واٹر کے ہمراہ ایٹمی مرکزے میں موجود کولیکٹیو موشن اور پارٹیکل موشن کے باہمی تعلق کوجاننے اور اس بنیاد پر ایٹمی مکزے کی ساخت کے بارے میں بنائے گئے ان کے مفروضے پر یہ انعام دیا گیا۔

1935ء مائیکل ولیمز، برطانوی اداکار

1951ء کرس کوپر، امریکی اداکار

1952ء ڈاکٹر خالد سہیل مشہور ماہرِ نفسیات، ناول نگار، افسانہ نگار، ادیب اور شاعر ہیں۔ ڈاکٹر خالد سہیل 9 جولائی 1952 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پروفیسرعبدالباسط تھے۔ جو1947 میں امرتسر سے لاہور آئے اور پھر 1954 میں لاہور سے کوہاٹ ہجرت کی۔ وہ گورنمنٹ کالج کوہاٹ میں بھی شعبہِ ریاضی کے استاد رہے۔ ڈاکٹر خالد سہیل نے ابتدائی تعلیم پشاور سے ہی حاصل کی۔ بی ایس سی مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر خالد سہیل نے 1974 میں خیبر میڈیکل کالج پشاور سے ایم بی بی ایس کیا۔ ایک سال کے ہاؤس جاب کے بعد ایران چلے گئے۔ پھر انہوں نے 1977 میں کنیڈا کی میموریل یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ 1983 میں انہوں نے فیلو شپ (ایف۔ آر۔ سی۔ پی) کا امتحان پاس کیا۔ انہوں نے چند سال مختلف ہسپتالوں میں کام کیا۔ وہ 1995 سے لے کر اس وقت تک اپنی نرسوں این ھینڈرسن اور بے ٹی ڈیوس کے ساتھ اپنے (کریٹو سائیکو تھراپی کلینک) میں کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر خالد سہیل نہ صرف بہترین ماہرِ نفسیات اور ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں بلکہ انہیں اردو ادب سے بھی گہرا لگاؤ ہے اور ان کے افسانے، کالم اور شاعری اور تراجم مختلف اخبارات اور مجلوں میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر خالد سہیل کی تقریباً 66 کتب اردو اور انگریزی میں اب تک شائع ہو چکی ہیں۔ ان میں ادبی موضوعات کی بھی کتب ہیں لیکن زیادہ تر کتب نفسیاتی مسائل سے متعلق ہیں

1956ء ٹام ہینکس، امریکی اداکار

وفات

1973ء عالم دین اور ممتاز ذاکر علامہ رشید ترابی کا کراچی میں انتقال ہوا

1967 فاطمہ جناح مادرملت یعنی قوم کی ماں۔ ہمارے ماہرین تاریخ وسیاست نے مادر ملت کو قائد اعظم کے گھر کی دیکھ بھال کرنے والی بہن کے حوالے سے بہت بلند مقام دیا ہے لیکن انہوں نے قیام پاکستان اور خصوصاً 1965ء کے بعد کے سیاسی نقشے پر جو حیرت انگیز اثرات چھوڑے ہیں ان کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی۔ یہ ایک معنی خیز امر ہے کہ قائد اعظم کی زندگی میں مادر ملت ان کے ہمر اہ موثر طور پر 19 سال رہیں یعنی 1929ء سے 1948ء تک اور وفات قائد کے بعد بھی وہ اتنا ہی عرصہ بقید حیات رہیں یعنی 1946ء سے 1967ء تک لیکن اس دوسرے دور میں ان کی اپنی شخصیت کچھ اس طرح ابھری اور ان کے افکارو کردار کچھ اس طرح نکھر کر سامنے آئے کہ انہیں بجا طور پر قائد اعظم کی جمہوری بے باک اور شفاف سیاسی اقدار کو ازسر نو زندہ کرنے کا کریڈیٹ دیا جا سکتا ہے جنہیں حکمران بھول چکے تھے۔ اس سلسلے میں مادر ملت نے جن آرا کا اظہار کیا ان سے عصری سیاسیات و معاملات پر ان کی ذہنی گرفت نا قابل یقین حد تک مکمل اور مضبوط نظر آتی ہے۔ 1965ء کے صدارتی انتخاب کے موقع پر ایوب خاں کی نکتہ چینی کے جواب میں مادر ملت نے خود کہا تھا کہ ایوب فوجی معاملات کا ماہر تو ہو سکتا ہے لیکن سیاسی فہم و فراست میں نے قائد اعظم سے براہ راست حاصل کی ہے اور یہ ایسا شعبہ ہے جس میں آمر مطلق نا بلد ہے۔

2004ء ازبیل سینفورڈ، امریکی اداکارہ

تعطیلات و تہوار

جنوبی سوڈان کا پرچم – جنوبی سوڈان کا یوم آزادی

Please follow and like us:

Leave a Reply