معمار طب :پروفیسر حکیم شمیم احمد سعیدی 18جنوری 1937 تا 16 جنوری 2011

Spread the love

شمیم ارشاد اعظمی
ایسوسی ایٹ پروفیسر ،جامعہ طبیہ دیوبند،اتر پردیش

بیسویں صدی کا مؤرخ جب طب کی تاریخ رقم کرے گا توجامعہ طبیہ دیوبند اور بانی جامعہ طبیہ پروفیسر حکیم شمیم احمد سعیدی کے بغیر اس کی تاریخ وتحقیق نامکمل رہے گی۔ طب کے فروغ اور ترقی میں حکیم شمیم احمد سعیدی علیہ الرحمۃکی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔حکیم شمیم احمد سعیدی صاحب کی ذات مختلف کمالات و اوصاف کا مجموعہ تھی۔ درس و تدریس، مطب،انتظام و انصرام آپ کی خاص مصروفیات تھیں۔طبی دنیا میں آپ بہترین معلم کی حیثیت سے مشہور ہو ئے۔جامعہ طبیہ قائم کر کے ایک اچھے منتظم،ماہر تعلیم اور محسن ہو نے کا ثبوت پیش کیا۔آپ کی پوری زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے۔آپ نے ایمانداری،خلوص اور لگن کے ذریعہ مشکل سے مشکل کام کو آسان بنا دیا۔سہل پسندی،غیر ذمہ دارانہ رویہ اور خوشامد کو ہمیشہ نا پسند کیا کیوںکہ ایمانداری،خلوص اور لگن جہاں کامیابی کی ضمانت ہیں اور انسان کو خلوص و ایثار کا پیکر بناتی ہیں وہیں سہل پسندی،غیر ذمہ دارانہ رویہ اور خوشامد خود غرضی کو جنم دیتی ہیںجس سے حسد، بغض،تفخر اور مادیت پرستی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔

پروفیسر حکیم شمیم احمد سعیدی مرحوم

آپ کا قلم بہت اچھا تھا لیکن کالج کی انتظامی امور کی وجہ سے تصنیف و تالیف کی طرف زیادہ توجہ نہیں فر ماسکے تاہم چند تحریریں آپ کی یاد گار ہیں جس میں سر سید کی سی سادگی،آزاد جیسا نر گسی لب ولہجہ، شبلی جیسی تحقیقی شان اور حالی جیسا تنقیدی شعور موجود ہے۔

آپ کی پوری زندگی آئینہ کی طرح صاف و شفاف تھی۔ سادگی،خوش مزاجی،مہمان نوازی اور علم دوستی آپ کی زندگی کے اہم پہلو ہیں یہی وجہ ہے کہ جو شخص بھی ایک مرتبہ آپ سے قریب ہوا وہ کبھی آپ سے جدا نہ ہوا۔ آپ کی گفتگو میں شبنم سی لطافت اور ارداہ میں ہمالیہ جیسا استحکام تھا۔ آپ مطالعہ کا بہت اعلیٰ اور پاکیزہ ذوق رکھتے تھے۔ طبی کتب کے علاوہ اسلامیات اوردیگر علوم و فنون کی بھی کتابیں آپ کے زیر مطالعہ رہتی تھیں۔ اسلامی کتب سے آپ کو بہت لگاؤ تھا۔کبھی کبھی ذوق کے مطابق مشق سخن بھی کیا کرتے تھے،جامعہ طبیہ کا ترانہ آپ ہی کا نتیجہ فکر ہے۔ آپ کا قلم بہت اچھا تھا لیکن کالج کی انتظامی امور کی وجہ سے تصنیف و تالیف کی طرف زیادہ توجہ نہیں فر ماسکے تاہم چند تحریریں آپ کی یاد گار ہیں جس میں سر سید کی سی سادگی،آزاد جیسا نر گسی لب ولہجہ، شبلی جیسی تحقیقی شان اور حالی جیسا تنقیدی شعور موجود ہے۔


حکیم صاحب شیریں کلام تھے ،لہجہ میں شائستگی اور اپنائیت تھی۔مریض بہت جلد حکیم صاحب کو اپنا مسیحا بنا لیتا تھا

ضلع میرٹھ کے ایک چھوٹے سے قصبہ میں 18جنوری1937کو پیدا ہونے والا یہ بچہ طب کا ماہ کامل بن کر چمکا۔ ہندستان کے مشہور طبی کالج ’’اجمل خاں طبیہ کالج ،مسلم یونیورسٹی‘ ‘ سے1958میں فراغت حاصل کی۔ فراغت کے بعد میرٹھ میں عملی زندگی کا آغاز کیا ۔آپ کے بڑے بھائی لاہور میں رہتے تھے ،ان کی خواہش تھی کہ آپ لاہور میں مطب شروع کریں، چنانچہ بڑے بھائی کے حکم کی تعمیل میں لاہور کا سفر کیا اور وہاں مطب کھولا، مگر دل کوچہ ٔ یار سے آزاد نہیں ہوپایا، چنانچہ جلد ہی لاہور کوخیر آباد کہ کر وطن میرٹھ آگئے۔ اسی دوران میرٹھ کے ایک جلسہ میں دار العلوم دیوبند کے مہتمم حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب سے ملاقات ہوئی، قاری صاحب سے دار العلوم دیوبند کے’ ’جامعہ طبیہ‘‘ میں درس و تدریس سے متعلق گفتگو ہوئی، چنانچہ حکیم صاحب بہت ہی قلیل مشاہرہ پر قاری صاحب کی دعوت کو قبول کرلیا اور دیوبند آگئے۔ 17 ستمبر 1963 میں’ ’دار العلوم دیوبند ‘‘کے ’’ جامعہ طبیہ‘‘ سے بحیثیت لکچرر وابستہ ہوگئے۔ درس و تدریس کے ساتھ حکیم صاحب نے طبابت کا سلسلہ جاری رکھا۔ حکیم صاحب شیریں کلام تھے ،لہجہ میں شائستگی اور اپنائیت تھی۔مریض بہت جلد حکیم صاحب کو اپنا مسیحا بنا لیتا تھا۔ حکیم صاحب کا کلینک کم اور خدمت خلق کا ادارہ زیادہ تھا ،اکثر مریض دوا لینے کے بعد مجبوری کا اظہار کرتے یا بعد میں پیسہ ادا کرنے کا وعدہ کرتے تھے۔ حکیم صاحب نے کبھی کسی سے تقاضہ نہیں کیا اور ہمیشہ مجبوروں کو مفت میں دوائیں دیں۔ حالانکہ اس وقت پرچہ اور دواؤں کی قیمت صرف دو روپیہ سے چار روپیہ تھی۔ یونانی اور ایلوپیتھی دونوں دوائیں معمولات مطب میں شامل تھیں۔ آپ کے خود تیارہ کردہ مرکبات عام و خاص میں مشہور تھے۔ ان میں مرہم خارش، شربت سعال اور آئی ڈراپ کافی مقبول تھے۔ حکیم صاحب کو شروع سے ہی دوا سازی سے لگاؤ تھا۔یہی لگاؤ اور تعلق بعد میں ’’جامعہ ریمیڈیز‘‘ کی شکل میں منصہ شہود پر لایا۔الحمد اللہ آج ’’جامعہ ریمیڈیز‘‘ کاشمارملک کی مشہور دواساز ادارہ میں کیا جاتا ہے۔


حکیم شمیم احمد سعیدی کو پیتھا لوجی اور سرجری کے اسباق پڑھانے کا موقع ملا۔ آپ کی محنت ولگن ،فن کے تئیں خلوص و ایمانداری کے نہ صرف طلبا معترف تھے بلکہ منتظمین دار العلوم بھی آپ کی خوبیوں و کمالات کا کھلے دل سے کاعتراف کرتے تھے۔

دار العلوم دیوبند کے جامعہ طبیہ کے اساتذہ میں حکیم محمد عمر پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ حکیم عزیز الرحمن اعظمی، حکیم ایوب علی قاسمی،حکیم سید نفیس احمدصاحبان درس و تدریس سے وابستہ تھے۔ حکیم عزیز الرحمن اعظمی اور حکیم ایوب احمد قاسمی صاحبان نے طب کے علمی سرمایہ میں گرانقدر اضافہ کیا۔ حکیم ایوب قاسمی صاحب سرکاری ملازمت مل جانے کے بعد دار العلوم سے مستعفی ہوگئے اور بقول حکیم سید محمد نفیس حکیم شمیم احمد سعیدی صاحب کا انہی کی جگہ پر تقرر ہوا۔ حکیم ایوب صاحب بعد میں اجمل خان طبیہ کالج سے وابستہ ہوگئے اور وہیں سے سبکدوش ہوئے۔ حکیم شمیم احمد سعیدی کو پیتھا لوجی اور سرجری کے اسباق پڑھانے کا موقع ملا۔ آپ کی محنت ولگن ،فن کے تئیں خلوص و ایمانداری کے نہ صرف طلبا معترف تھے بلکہ منتظمین دار العلوم بھی آپ کی خوبیوں و کمالات کا کھلے دل سے کاعتراف کرتے تھے۔ زندگی کا سفر رواں دواں تھا، مگر نہ جانے کس کی نظر لگ گئی اور آخر کار قانونی پیچیدگیوں کی بناپر دار العلوم کو اس اہم اور مفید ادارہ کو بند کرنے کا فیصلہ لینا پڑا۔ جامعہ طبیہ کا خاتمہ ملت اسلامیہ کا بہت بڑا خسارہ تھا۔ چنانچہ حکیم شمیم احمد سعیدی نے دوبارہ اس کے احیا کی کوششیں تیز کردیں۔ اور اس منصوبہ کو عملی جامعہ پہنانے کے لئے بے سرو سامانی اور قلت وسائل کے باوجود ’’جامعہ طبیہ‘‘ کے ہی کے نام سے 1987میں محلہ بڑضیاء الحق، دیوبند میں ایک طبی ادارہ کی بنیاد رکھی اور باقاعدہ درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ دوسرے سال جب طلبا کی تعداد میں اضافہ ہوا اور مکان اپنی قلت وسائل کا شکوہ کناں ہوا تو1990میں جی۔ٹی ۔روڈ پر باقاعدہ زمین لے کر ادارہ کو نئی شکل دینے کی کوشش تیز ہوگئی، تعمیرات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ دشوریاں ہزار اوروسائل محدود تھے لیکن حکیم صاحب کے حوصلے بہت بلند تھے۔ رحمت خدا وندی کا ظہور شروع ہوا اور یکے بعد دیگرے کمروں کی تعمیر مکمل ہوتی چلی گئی اور دیکھتے دیکھتے یہ صحرا گلشن میں تبدیل ہو گیا۔ راقم نے ہندستان کے تقریباً تمام طبیہ کالج دیکھے ہیں لیکن جو تعمیر ی جمال یہاں دکھائی دیتا ہے وہ کہیں اور دیکھنے کو نہیںملتا۔ حکیم صاحب کی شب و روز کی مسلسل کوششوں اور لگن سے اس ادارہ کو1991میں گورنمنٹ سے منظوری مل گئی۔کالج کی تعمیر و ترقی سے دوست ہی نہیں دشمن بھی متاثر ہوئے۔

حکیم صاحب شروع سے ہی جامعہ طبیہ کو طب کا ایک آئیڈیل کالج بنانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ نباتات کی شناخت کے لئے وسیع و عریض اراضی پر مشتمل ہربل گارڈن تیار کروایا

شب وروز کی محنت اور ذہنی تکان حکیم صاحب کی جسمانی قوی کو متاثر کرنے لگے ۔ اور پھر حکیم صاحب کے خوابوں میںرنگ بھرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حکیم شمیم صاحب کے بڑے صاحبزادہ ڈاکٹر انور سعید صاحب کو منتخب کیااور بہت کم دنوں میں جامعہ طبیہ نے بلندیوں کی اونچی سطح کو چھو لیا۔ ابتد ہی سے اس ادارہ میں کامل طب و جراحت کا نصاب جاری تھا۔ حکیم صاحب شروع سے ہی جامعہ طبیہ کو طب کا ایک آئیڈیل کالج بنانے کا ارادہ رکھتے تھے۔حکیم صاحب کے ذہن میں تھا کہ جامعہ طبیہ ایک ایسا ادارہ ہو جہاں طب کی ابتدائی تعلیم کے ساتھ ساتھ طبی تحقیقات و تجربات کا بھی سلسلہ جاری رہے ۔ طلباکی عملی مشق کے لئے ہاسپیٹل کے علاوہ دواسازی کا عظیم وشاندار ادارے کا آغاز کیا۔ ادویہ کو نفع بخش اور معیاری بنانے اور ان کی خوبیوں اور کمیوں کو پرکھنے کے لئے لیبارٹری بنوائی۔ نباتات کی شناخت کے لئے وسیع و عریض اراضی پر مشتمل ہربل گارڈن تیار کروایا تاکہ طلبا کے اندر خود اعتمادی پیدا ہو، اپنی آنکھوں سے ان پودوں کو دیکھیں اور شناخت کر سکیں جو نصاب میں شامل ہیںاور روز مرہ کی زندگی میں ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔حکیم شمیم احمد سعیدی نے ہمیشہ تعلیمی معیار کو بلند اور بہتر بنانے کی کوششیںکرتے رہے۔ طلبا کے مطالعہ کے لئے ذاتی ذخیرہ کتب لائبریر ی کے حوالہ کردیا جو ایک بہت بڑی قربانی تھی، یہی نہیں بلکہ قدیم طبی کتب کی حصولیابی کے لیے مختلف جگہوں کا سفر کیا اور اس سلسلہ میںلوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ ڈسکشن کے لئے نعشوں کا حصول ایک مشکل امر تھا ،لیکن اس کے باوجود ان کے ارادہ نے ہار نہیں مانی، مستقل لگے رہتے اور نعش لانے میں کامیاب ہوجاتے۔ طلبا کے لئے لائق و فائق اساتذہ کا انتخاب کرتے۔ گفتگو ہی گفتگو میں ان کی لیاقت اور فن کے تئیں دلچسپی اور ایثار کو بھانپ لیتے۔ طلبا کو لیب اور کلاس کی سہولیات مہیا کرانے میں کبھی وسائل کی پروا نہیں کی۔لیب میں ہمیشہ ضرورت سے زیادہ ماڈل، چارٹ اور دیگر ضروری سامان کا انتظام رکھتے تھے۔
2001میں جامعہ طبیہ کے اندر پوسٹ گریجویٹ کی تعلیم کا آغاز ہوا۔اس طرح جامعہ طبیہ جیسے پرائیوٹ ادارہ میں پہلا پوسٹ گریجویٹ ادارہ قائم ہوا۔

طب میں پوسٹ گریجویٹ سطح کی تعلیم عام طور سے گورنمنٹ اداروں تک ہی محدود تھی۔ ایک سوال نے کہ پوسٹ گریجویٹ کی تعلیم گورنمنٹ ادارہ میں ہی کیوں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے حکیم صاحب نے ایک نئے حوصلہ اور قوت ارادی کے ساتھ کوششیں تیز کر دیں۔ سب سے پہلے پوسٹ گریجوٹ سے متعلق شعبہ کی درس و تدریس اور دیگر ضروریات کو مکمل کیا اور گورنمنٹ سے جامعہ طبیہ میں شعبہ معالجات کے اندر پوسٹ گریجویٹ کی تعلیم کے آغاز کے لئے درخواست جمع کردی ۔حکومت کے متعین کردہ شخصیات جامعہ طبیہ میں پوسٹ گریجویٹ شعبہ سے متعلق تمام ضروری چیزوں کا معائینہ کیا۔ کچھ دنوں کے بعد حکومت کی طرف سے شعبہ معالجات میں پوسٹ گریجوٹ کے لئے درس وتدریس کی اجازت مل گئی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے حکیم صاحب کی قربانیوں اور کوششوں کو شرف قبولیت بخشا اور 2001میں جامعہ طبیہ کے اندر پوسٹ گریجویٹ کی تعلیم کا آغاز ہوا۔اس طرح جامعہ طبیہ جیسے پرائیوٹ ادارہ میں پہلا پوسٹ گریجویٹ ادارہ قائم ہوا۔

درس و تدریس کے ساتھ حکیم صاحب کو طبی سیاست سے بھی دلچسپی تھی۔ آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس صوبہ اتر پردیش کے نائب صدر کی حیثیت سے بے لوث خدمات انجام دی ہیں۔ طبی تعلیم کو معیاری اور طبی تعلیمات کو عوام تک پہنچانے کے لئے سنٹرل کونسل آف یونانی میڈیسن کا الیکشن بھی لڑے اور کامیاب ہوئے۔ سی سی آئی ایم کی ممبر شپ کے دوران طب کے نصاب تعلیم کو جدید دور سے ہم آہنگ کرنے اور طبی علوم کے فروغ کے لئے آپ کی کوششیں بہت اہم ہیں۔

دواسازی سے متعلق حکیم صاحب نے ایک ایساادارہ کھولنے کا خواب دیکھا تھا جس میں اعلیٰ اور معیاری قسم کی دواؤں کا انتخاب کرکے دواسازی کے تمام اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے دوائیں تیار کی جائیں ۔

2005میں ’’جامعہ ریمیڈیز‘‘ کے نام سے ایک ادارہ کا آغاز کیا۔الحمد للہ آج اس ادارہ کو ہندستا ن کے مشہور دوا ساز ادورں میں شمار کیا جاتا ہے۔

جامعہ طبیہ میں پوسٹ گریجویٹ کلاس شروع ہونے کے بعد حکیم شمیم احمد سعیدی صاحب کو جب کچھ اطمینان ہوا تو دواسازی کے منصوبہ کو عملی جامعہ پہنانے کا کام شروع کیا۔ حکیم شمیم احمد سعیدی صاحب کوشروع سے ہی دواسازی سے دلچسپی تھی۔ ابتدا میں جب گھر پر مطب کرتے تھے اس وقت ایک درجن سے زائد دوائیں گھر پر ہی تیار کرتے تھے، ان میں شربت ،مرہم ،معجون اور قطور چشم شامل ہیں۔ دواسازی سے متعلق حکیم صاحب نے ایک ایساادارہ کھولنے کا خواب دیکھا تھا جس میں اعلیٰ اور معیاری قسم کی دواؤں کا انتخاب کرکے دواسازی کے تمام اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے دوائیں تیار کی جائیں۔ معمولی اور غیر معیاری دوائیں استعمال نہ کی جائیں۔ اگر مرکبات کے اندر موجود تمام اجزا کو ایمانداری سے شامل کر کے مرکب تیار کیا جائے تو اس کی افادیت اور تاثیر ضرور سامنے آئے گی۔ انہی اصولوں اور حوصلوں کے ساتھ حکیم شمیم احمد سعیدی صاحب نے 2005میں ’’جامعہ ریمیڈیز‘‘ کے نام سے ایک ادارہ کا آغاز کیا۔الحمد للہ آج اس ادارہ کو ہندستا ن کے مشہور دوا ساز ادورں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ’’جامعہ ریمیڈیز‘‘ کا آغاز کلاسیکل ادویہ کی تیاری سے ہوا اور بہت جلد ’’جامعہ ریمیڈیز‘‘ نے پچیس ادویات کو اپنے نام سے پیٹنٹ کرا لیا۔ اس وقت جامعہ ریمیڈیز کے ساٹھ سے زائد پیٹنٹ مرکبات تیار کیے جاتے ہیں۔ جامعہ ریمیڈیز کی خصوصیت رہی کہ اس نے ہمیشہ دواؤں کے اصلی اجزا کے ساتھ اس کے ظاہری شکل کو معیاری اور دلکش بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ جامعہ نے کئی اہم اشکال ادویہ کو ریسرچ و تحقیق کے بعد انہیں گولیوں کی شکل میں پیش کیا ہے۔ زیادہ تر دواؤں کی تیاری، فلنگ اور لیبلنگ وغیرہ آٹو مشین کے ذریعہ انجام پاتے ہیں۔ یہا ں کے مشہور پروڈکٹ جس کی ڈمانڈ جامعہ ریمیڈیز بہت مشکل سے پوری کر پاتی ہے، اس میں تمام قسم کے عرقیات ، روغن مسکن، برینر ،روغن زلف دراز، الوڈرنک شامل ہیں۔

حکیم صاحب نے ان اداروں کے علاوہ بہت سارے منصوبے اور خاکے بنائے تھے، لیکن افسوس طبیعت اور صحت نے ساتھ نہیں دیا اور آخر کار 16 جنوری 2011 کو خالق حقیقی کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے راہیٔ ملک عدم ہوئے۔

حکیم شمیم احمد سعیدی صاحب کا ایک اور کارنامہ جس کی نظیر پورے ہندستان میں نہیں ملتی ہے وہ’’حکیم شمیم احمد سعیدی اسپیشلیٹی ہاسپیٹل‘‘ ہے۔ اس ادارہ کووزارت آیوش حکومت ہند نے ایک پروجیکٹ کے طور پر منظور کیا ہے۔ اس ہاسپیٹل میں علاج بالتدبیر کے ذریعہ تمام مزمن امراض کا علاج کیا جاتا ہے۔دو منزلہ اس ہاسپیٹل کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کبھی اس کے وارڈ خالی نہیں ملتے ہیں۔ اس ہاسپیٹل میں بیشتر کلاسیکل اور روایتی طریقوں سے علاج کیا جاتا ہے۔ دلک ،ریاضت، ارسال علق، نطول ،ٹکور، پاشویہ، اسٹیم باتھ، سونا باتھ، حمام جیسی سہولیات یہاں دستیاب ہیں۔ روایتی انداز سے علاج و معالجہ کرنے میں اس ادارہ کو پورے ملک میں اولیت حاصل ہے۔

حکیم صاحب نے ان اداروں کے علاوہ بہت سارے منصوبے اور خاکے بنائے تھے، لیکن افسوس طبیعت اور صحت نے ساتھ نہیں دیا اور آخر کار 16 جنوری 2011 کو خالق حقیقی کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے راہیٔ ملک عدم ہوئے۔
پروفیسر حکیم شمیم احمد سعیدی کے انتقال کے بعد آپ کے دونوں بیٹوں پروفیسر ڈاکٹر انور سعید اور پروفیسر اختر سعید صاحبان حکیم صاحب کے خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہمہ وقت مصروف ہیں۔ والد محترم کے منصوبوں کو عملی جامعہ پہناتے ہوئے جامعہ طبیہ کے اندر یونانی فارمیسی اور یونانی نرسنگ کے اسکول کھولے۔ آج ان اداروں سے سیکڑوں کی تعداد میں طلبا فارغ ہو کر ملک و ملت کی تعمیر میں اہم خدمات انجام دے رہے ہیں۔دونوں ہی بیٹے والد محترم کے سچے جانشیں ہیں۔ حکیم شمیم صاحب جیسا اخلاق،وہی جذبہ ،وہی لگن اور فن کے تئیں خلوص اور ایمانداری ان کے اندر بھی موجودہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply