151

عبدالستار ایدھی کو بچھڑے 3 برس بیت گئے

Spread the love

عبدالستار ایدھی نے صرف 5ہزار روپے سے اپنے پہلے فلاحی مرکز ایدھی فائونڈیشن کی بنیاد ڈالی

کراچی(صباح نیوز)انسانیت کے لیے اپنی زندگی وقف کردینے والے معروف سماجی کارکن اور ایدھی فانڈیشن کے بانی چیئرمین عبدالستار ایدھی کو دنیا سے رخصت ہوئے 3برس بیت گئے۔عبالستار ایدھی 1928میں بھارت کے شہر گجرات میں ایک مسلمان تاجر کے گھر پیدا ہوئے اور 1947میں ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے۔انہوں نے صرف 5ہزار روپے سے اپنے پہلے فلاحی مرکز ایدھی فائونڈیشن کی بنیاد ڈالی، لاوارث بچوں کے سر پر دستِ شفقت رکھا اور بے سہارا خواتین اور بزرگوں کے لیے مراکز قائم کیے۔6دہائیوں تک انسانیت کی بلاتفریق خدمت کرنے والے ایدھی، انتقال سے قبل تقریبا 20ہزار بچوں کی سرپرستی کررہے تھے۔

مرحوم ایدھی نے اپنی آنکھیں عطیہ کر کے مرنے کے بعد بھی دکھی انسانیت کی خدمت کی جس کی وجہ سے 2افراد کی آنکھوں کو روشنی مل سکی۔اپنی سوانح حیات ‘اے میرر ٹو دی بلائنڈ’ میں ایدھی صاحب نے لکھا کہ ‘معاشرے کی خدمت میری صلاحیت تھی، جسے مجھے سامنے لانا تھا۔’ایدھی اور ان کی ٹیم نے میٹرنٹی وارڈز، مردہ خانے، یتیم خانے، شیلٹر ہومز اور اولڈ ہومز بھی بنائے، جس کا مقصد معاشرے کے غریب و بے سہارا لوگوں کی مدد کرنا تھا۔اس ادارے کا نمایاں شعبہ اس کی 1500 ایمبولینسیں ہیں جو ملک میں دہشت گردی کے حملوں کے دوران بھی غیر معمولی طریقے سے اپنا کام کرتی نظر آتی ہیں۔

2000 میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں ایدھی فانڈیشن کا نام بحیثیتِ دنیا کی سب سے بڑی فلاحی ایمبولینس سروس درج کیا گیا تھا۔ان کی شاندار خدمات پر حکومت پاکستان کی جانب سے 1989 میں نشان امتیاز سے نوازا گیا۔ عبدالستار ایدھی 8جولائی 2016میں گردوں کے عارضے میں مبتلا ہونے کے باعث طویل علالت کے بعد 88سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں