8 جولائی کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1497ء کو مشہور پرتگیزي مہم جو واسکوڈی گاما نے ہندوستان جانے کے لیے نئی بحری مہم کا آغاز لزبن کی بندرگاہ سے کیا۔ افریقہ اور یورپ کے درمیان سے جانے کا راستہ بند ہو جانے کی وجہ سے وہ افریقہ اور قطب جنوبی سے گھوم کر ہندوستان پہنچنے والا پہلا مہم جو کہلایا۔

1856ء کو امریکی ریاست میسا چو سٹس سے تعلق رکھنے والے چارلس ای بارنز نے مشین گن کی ایجاد کے حقوق اپنے نام کرائے۔

1947ء کو امریکہ، نیو میکسیکو کے علاقے روز ویلز میں ایک اڑن طشتری گرنے کا واقعہ رونما ہوا، امریکی حکومت نے بہ ظاہر اس واقعے پر پردہ ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ہوائی غبارے کی تجرباتی اڑان تھی۔

1963ء امریکہ نے کیوبا کے ساتھ مالیاتی لین دین پر پابندی لگا دی

1969ء ویتنام سے امریکی فوجوں کاانخلا شروع ہوا

1975ء لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا

1978ء کو دو جرمن کوہ پیماؤں رین ہولڈ میسز اور پیٹر ہیبلر نے آکسیجن استعمال کیے بغیر دنیا میں پہلی مرتبہ ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کیا۔

2003ء سوڈان کا طیارہ اے ئربس بوئنگ 737بحیرہ احمر کے قریب گر کرتباہ ہو گیا 116مسافر ہلاک

1997ء نیٹو نے چیک ری پبلک، ہنگری اور پولینڈ کو رکنیت کی دعو ت دی

ولادت

1760ء – کرسٹین کیمپ، فرانسیسی ریاضی دان

1878ء – جمی کوئین، اسکاٹش فٹ بال کھلاڑی

1904ء ہنری کارٹن، فرانسیسی ریاضی دان

1908ء سردار بہادر خان، پاکستانی سیاست دان۔ موضع ریحانہ ضلع ہزارہ ’’سرحد‘‘ میں پیدا ہوئے۔ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے چھوٹے بھائی تھے۔ 1936ء میں سرحد اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1943ء-46ء سرحد اسمبلی کے رکن رہے۔ 1948ء میں پاکستان کے وزیرموصلات مقررہوئے۔ 1955ء میں سرحد کے وزیر اعلیٰ اور 1962ء میں قومی اسمبلی کے رکن چنے گئے۔ کچھ عرصہ اسمبلی میں حزب اختلاف کی قیادت کی۔ 1968ء میں سیاست سے کنارہ کش ہو گئے۔ ان کا انتقال 31 دسمبر 1975 کو ہوا۔

1913ء پروفیسر اقبال عظیم بینائی سے محروم محقق، ادیب، شاعرہیں، نام سید اقبال احمد قلمی نام اقبال عظیم والد سید مقبول عظیم عرش ہیں۔8 جولائی 1913ء میں یہ شاعر اور ادیب میرٹھ بھارت میں پیدا ہوئے۔ لکھنؤ یونیورسٹی سے بی اے اور آگرہ یونیورسٹی سے ایم۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔ ہندی اور بنگلہ کے اعلیٰ امتحانات پاس کیے۔ ساڑھے گیارہ سال یوپی کے سرکاری مدارس میں معلمی کی۔ جولائی 1950ء میں مشرقی پاکستان آئے اور تقریباً بیس سال سرکاری ڈگری کالجوں میں پروفیسر اور صدر شعبہ اردو کی حیثیت سے کام کیا۔ اپریل 1970ء میں بینائی زائل ہونے کے سبب اپنے اعزہ کے پاس کراچی آ گئے۔ اقبال عظیم کی وفات22 ستمبر 2000ء کو کراچی (سندھ)، پاکستان میں ہوئی

1928ء بلخ شیر مزاری پاکستان کے مشہور سیاست دان اور سابق نگراں وزیر اعظم ہیں۔ وہ راجن پور، ضلع ڈیرہ غازی خان، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ بلخ شیر مزاری بے 1950ء کی دہائی میں سیاست میں حصہ لیا۔ 1951ء کو ڈسٹرکٹ بورڈ ڈیرہ غازی خان کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ مسلم لیگ پارلیمانی بورڈ کے ر کن بنے۔ 1955ء میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے پاکستان دستور ساز اسمبلی جبکہ 1956ء میں مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1973ء میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے پنجاب صوبائی اسمبلی جبکہ 1977ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تاہم پارٹی سے اختلافات کے بعد انہوں نے استعفیٰ دیدیا۔ 1982ء میں صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے مجلس شوریٰ کا رکن نامزد کیا۔ 1985ء میں غیر جماعتی انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے پارلیمانی ایسوسی ایشن، دولت مشترکہ، انٹر پارلیمانی یونین اور اقوام متحدہ میں متعدد بار پاکستان کی نمائندگی کی۔ 24 اکتوبر 1990ء کو آئی جے آئی کے ٹکٹ پر راجن پور حلقہ این اے ۔134 (موجودہ حلقہ 175) سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 18 اپریل 1993ء کو صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے قومی اسمبلی توڑ دی۔ اس کے ساتھ ہی نواز شریف حکومت اختتام پزیر ہوئی اور میر بلخ شیر مزاری کو نگراں وزیر اعظم نامزد کر دیا۔ 26 مئی 1993ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے صدر غلام اسحاق خان کے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے نواز شریف کی حکومت کو غیر مشروط طور پر بحال کر دیا۔ اسمبلی کی اس بحالی کے ساتھ ہی نگراں وزیر اعظم میر بلخ شیر مزاری 26 مئی 1993ء ہی کو 39 دن حکومت کرنے کے بعد رخصت ہو گئے اور اقتدار نواز شریف کو منتقل کر دیا گیا۔ 24 اکتوبر 1993ء کے عام انتخابات میں میر بلخ شیر مزاری ایک بار پھر اپنے آبائی حلقہ این اے۔ 134 سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

1929 اردو کے ممتاز مزاحیہ شاعر دلاور فگار، دلاورنے شعر گوئی کا آغاز 14 برس کی عمر میں 1942ء میں کیا۔ انہیں مولوی جام نوائی بدایونی اور مولانا جامی بدایونی نامی اساتذہ کی رہنمائی ملی تھی۔ دلاورنے اپنی ابتدائی تعلیم بدایوں ہی میں حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایم اے (انگریزی) اور ایم اے (معاشیات) کی سندیں بھی حاصل کیں۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز انہوں نے بھارت میں درس و تدریس سے کیا۔ اس کے بعد وہ ہجرت کرکے کراچی آئے۔ وہ یہاں کے عبد اﷲ ہارون کالج میں بحیثیت لیکچرار کچھ عرصے تک اردو پڑھاتے تھے۔ اس وقت فیض احمد فیض یہاں کے پرنسپل ہوا کرتے تھے۔ 25 جنوری 1998ء کو دلاور فگار کا انتقال ہو گیا۔ دلاور کی غزلوں کا مجموعہ ’’حادثے‘‘ 1954ء میں چھپا تھا۔ ان کی ایک طویل نظم ’’ابو قلموں کی ممبری‘‘ 1956ء میں کافی مقبول ہوئی۔ ان کی مزاحیہ نظموں، قطعوں اور رباعیوں کا مجموعہ ’’ستم ظریفیاں‘‘ 1963ء میں شائع ہوا۔

1958ء نیتو سنگھ، بھارتی اداکارہ

1963ء مارک کرسٹوفر، امریکی ہدایتکار

1972ء سورو گنگولی، بھارتی کرکٹ کھلاڑی

وفات

1933ء انتھونی ہوپ، برطانوی مصنف

1967ء فاطمہ جناح، پاکستانی سیاست دان

1979ء رابرٹ برن ودورڈ 20 صدی کے ایک نامور امریکی نامیاتی کیمیاءدان تھے جنھوں نے کئی قدرتی نامیاتی چیزوں کی تیاری اور سالموں کی ساخت سے دنیا کو رشناس کرایا۔انھیں 1965 میں کیمیاء کا نوبل انعام دیا گیا۔

1979ء سن اٹیرو ٹومو ناگا ایک جاپان کے طبیعیات دان اورنوبل انعام برائے طبیعیات جیتنے والے طبیعیات دان تھے۔ انہوں نے یہ انعام 1965 میں امریکی سانسدانوں جولیان سکونگر اور رچرڈ فلپ فے مین کے ساتھ مشترکہ جیتاتھا۔ اس کی وجہ کوانٹم الیکٹرونکس (Quantum Electronics) سے جڑے ان کے کام تھے جس کی وجہ سے اوسکیلیٹر اور ایمپلی فائیر کی تخلیق ممکن ہوئی۔

1994ء کم ال سنگ مالی کوریا کا پہلا رہبر اعلیٰ تھا۔ وہ 1948ء سے 1994ء میں اپنی وفات تک اس عہدے پر قائم رہا۔ اس قبل وہ 1948ء سے 1972ء تک پریمیئر اور 1972ء سے 1994ء تک صدر بھی رہا۔

Please follow and like us:

Leave a Reply