125

رمضان شوگرملزکیس، حمزہ شہباز کے مزیدجسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

Spread the love

عدالت نے چودہ روز کیلئے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا،20جولائی کو پیش کرنے کی ہدایت

لاہور(صباح نیوز) احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز کیس میں پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نیب کی حمزہ شہباز کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی۔ جمعہ کو احتساب عدالت میں رمضان شوگر مل کیس کی سماعت جج نعیم ارشد ملک کی سر براہی میں ہوئی جس میں حمزہ شہباز کو پیش کیا گیا۔دوران سماعت قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمد شہباز شریف نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے اپنے اوپر لگنے والے تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ جب سندھ میں چینی کی قیمت کم تھی تو پنجاب میں شوگر ملز ایسوسی ایشن اور شوگر ملز مالکان نے  شور مچایا مگر میں نے ان کی ایک نہ سنی اور میں نے کہا کہ چینی کے کاروبار میں ہمارے خاندان اور میرے بیٹوں سمیت ملز مالکان کا اربوں روپے کا  نقصان ہوا تاہم میں نے کہا کہ میں استعفیٰ دے دوں گا مگر میں دبائو میں نہیں آئوں گا اور گنے کی قیمت کم نہیں کروں گا ۔ اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہنا ہوں کبھی کرپشن نہیں کی، مجھے بدنام کرنے کے  لئے الزام لگایا جا رہا ہے ۔

خطا کار انسان ہوں، عوامی عہدہ رکھتے ہوئے بھی کوئی غلط کا  م نہیں کیا۔ جھوے مقدمات بنا کر عوام کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نیب کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات سے ان کی تذلیل کی جارہی ہے ، انہوں نے عوامی خدمت کے لئے دن رات ایک کیا ہے۔  شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ اپنے اوپر لگنے والے الزامات کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے ثبوت پیش کرنے کے لئے بھی تیار ہیں۔ شہباز شریف کا کہناتھا کہ مجھ پر رمضان شوگر ملز کے قریب سے گزرنے والے نالے کی تعمیر کا   18 کروڑ روپے  کا کیس بنا کر مجھ پر ڈال دیا گیا ہے اور اس سے عدالت اور عوام کا صرف  وقت ضائع کیا جا رہا ہے ۔قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے احتساب عدالت سے حمزہ شہباز کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی گئی تھی۔

عدالت نے حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ان کو چودہ روز کیلئے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ،عدالت نے 20 جولائی کو حمزہ شہباز شریف کو دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔مسلم لیگ  ن کے رہنما حمزہ شہباز اور میاں شہباز شریف کو نیب عدالت پہنچایا گیا تو دونوں باپ بیٹے نے کمرہ عدالت میں ایک دوسرے سے ملاقات کی اور مصافحہ بھی کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں