4 جولائی کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1187ء صلیبی جنگ :صلاح الدین ایوبی نے معرکہ ء حطین میں شاہ یروشلم کو شکست دی

1884ء فرانس نے ”مجسمہ آزادی“ اسٹیچو آف لبرٹی امریکا کو تحفے میں دیا

1946ء فلپائن نے دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکا سے مکمل آزادی حاصل کی

1947ء قانون آزادی ہند بل برطانوی دار العوام میں پیش ہوا

1954ء جرمنی نے ہنگری کوشکست دے کر فٹ بال ورلڈ کپ جیت لیا

1977ء پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل محمد ضیاء الحق کے حکم پر وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کر لیا گیا۔

1995ء حکومت سندھ نے شام کو چھپنے والے چھ اخبارات پر پابندی عائد کردی

1996ء وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے حبکو پاور پلانٹ کا افتتاح کیا

1999ء وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے امریکا کا دورہ کیا جہاں ان پر کارگل سے فوج کو ہٹانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔

ولادت
1546ء مراد ثالث 1574ء سے اپنی وفات تک سلطنت عثمانیہ کا حکمران رہا۔ مراد ثالث ایک کمزور، عیش پرست و جاہ پسند حکمران تھا جو حرم کے زیر اثر تھا جہاں پہلے اس کی والدہ نور بانو سلطان اور پھر اس کی پسندیدہ بیوی صفیہ سلطان کا زور چلتا تھا۔ اس کے دور میں امور سلطنت چلانے میں اہم کردار معروف عثمانی صدر اعظم محمد صوقوللی پاشا کے ہاتھوں میں تھا جو اکتوبر 1579ء میں اپنے قتل تک اس عہدے پر فائز رہے اور عثمانی سلاطین کی کمزوری کا اثر سلطنت پر نہ پڑنے دیا۔ مراد ثالث کے دور میں ایران اور آسٹریا کے ساتھ کئی جنگیں لڑی گئیں۔ اس کا دور عثمانی معیشت اور اداروں کی تنزلی کا دورِ آغاز تھا۔ ان کا انتقال 15 جنوری 1595ء کو ہوا۔

1921ء گیرارڈ ڈیبریو فرانس کے ماہر اقتصادیات تھے اقتصا دیات میں انکی کام کی اہمیت کو دیکھ کر 1983میں انھیں نوبل میموریل انعام برائے معاشیات مشترکہ طور پر دیا گیا۔

1934ء اجمل میاں 17 فروری 1933ء کو کراچی سندھ، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ وہ پاکستان کے چودہویں منصف اعظم تھے۔ ان کا انتقال 16 اکتوبر 2017 کو ہوا۔

وفات

1826ء امریکہ کا تیسرا صدر۔ اعلان آزادی کو قلمبند کرنے کا اعزاز اسی کو حاصل ہوا۔ 1784ء میں فرانس میں وزیر با اختیار مقرر ہوا۔ 1801ء سے 1807ء تک جمہوریہ متحدہ امریکا کا صدر رہا۔ اس کی صدارت کے دوران میں لوئی زیانا کی ریاست خریدی گئی اور امریکا میں بردہ فروشی خلاف قانون قرار دی گئی۔ وہ 13 اپریل 1743 کو پیدا ہوا۔

1831ء جیمز مونرو، پانچواں امریکی صدر (پیدائیش: 1758ء)

1934ء میری کیوری، پیدائشی نام ماریہ سکلوڈووسکا، المعروف مادام کیوری ایک پولش-فرانسیسی طبیعیات دان اور کیمیا دان تھیں۔ وہ تابکاری (radioactivity) کے شعبے کی بانی تھیں جنہوں نے دو مرتبہ نوبل انعام حاصل کیا۔ آپ واحد فرد ہیں جنہوں نے سائنس کے دو مختلف شعبوں (طبیعیات اور کیمیا) میں نوبل انعام حاصل کیے۔ انھیں طبیعیات میں یہ انعام 1903ء میں ان کے شوہر پیری کیوری کے ساتھ دیا گیا جس کی وجہ تابکاری پر کی گئیں ان کی تحقیقات و دریافتیں تھیں جبکہ کیمیاء میں یہ انعام انھیں 1911ء میں ملا جس کی وجہ ریڈئیم اور پولونیم کی دریافتیں تھیں۔ آپ جامعہ پیرس میں استاد کی حیثیت سے متعین کی گئی پہلی خاتون تھیں۔ آپ وارسا، پولینڈ میں پیدا ہوئیں اور اپنے ابتدائی ایام وہیں گزارے لیکن 24 سال کی عمر میں 1891ء میں سائنس کی تعلیم کے لیے پیرس، فرانس منتقل ہو گئیں۔ آپ نے اعلیٰ تعلیم اور تمام تر سائنسی تحقیق پیرس ہی میں کی اور فرانس کی شہریت اختیار کر لی۔ آپ نے پیرس اور وارسا میں کیوری علمی ادارے قائم کیے۔ وہ 7 نومبر، 1867 کو پیدا ہوئیں۔

1943ء مولانا اشرف علی تھانوی، ابتدائی تعلیم میرٹھ میں ہوئی فارسی کی ابتدائی کتابیں یہیں پڑھیں اور حافظ حسین مرحوم دہلوی سے کلام پاک حفظ کیا پھر تھانہ بھون آکر حضرت مولانا فتح محمد صاحب سے عربی کی ابتدائی اور فارسی کی اکثر کتابیں پڑھیں ذوالقعدہ 1295ھ میں آپ بغرض تحصیل وتکمیل علوم دینیہ دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے اور پانچ سال تک یہاں مشغول تعلیم رہ کر 1301ھ میں فراغت حاصل کی اس وقت آپ کی عمر تقریباً19سال تھی زمانہ طالب علمی میں حضرت میل جول سے الگ تھلگ رہتے اگر کتابوں سے کچھ فرصت ملتی تو اپنے استاد خاص حضرت مولانا محمد یعقوب کی خدمت میں جابیٹھتے۔ 5 ربیع الثانی 1280ھ بمطابق 9 ستمبر، 1863ء تاریخ ولادت ہے۔

2015ء عبد اللہ بن عبد العزیز بن مساعد آل سعود ، سعودی عرب کے شمالی سرحدی صوبے کے گورنر تھے۔ ان کے والد شاہزادہ عبد العزيز بن مساعد بن جلوي اور سابق سعودی شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود آپس میں چچیرے بھائی تھے اور یہ ان کے قابل اعتماد کمانداروں میں سے تھے۔ اور ان چھ لوگوں میں سے ایک تھے جن کی معیت میں شاہ عبدالعزیز نے ریاض کو واگزار کروایا تھا اور انہوں نے معرکہ حجلا کی قیادت بھی کی تھی۔ ان کی والدہ کا نام شہزادی طرفة بنت مساعد البتال المطيري تھا اور ان کے ایک بھائی شاہزادہ جلوي بن عبد العزيز بن مساعد آل سعود نجران کے گورنر تھے۔

2000ء سندھی زبان کے لوک فنکار اور صوفیانہ کلام گانے میں مہارت رکھنے والے الن فقیر، علی بخش یا الن فقیر سندھی لوک اور صوفی گلوکار تھے جنہیں صوفی شاعری کی خاص صنف “کافی” گانے میں ملکہ حاصل تھا۔

2015ء ـ عبداللہ حسین ( اردو کے شہرۂ آفاق ناول نگار) بمقام لاہور، پاکستان

تعطیلات و تہوار

1776ء امریکن کمانڈر جارج واشنگٹن نے برطانیہ کے ساتھ جنگ کے دوران ڈکلریشن آف انڈی پینڈنس پر دستخط کیے چار جولائی امریکا کی آزادی کا دن کہلاتا ہے

فلپائن یوم جمہوریہ

Leave a Reply