99

تہران، یورینیم کا ذخیرہ 2015 کی طے شدہ حد سے تجاوز کرگیا،ایرانی میڈیا

Spread the love

تہران(آئی این پی) تہران نے یورینیم کی افزودگی کی 2015 کے جوہری معاہدے میں طے کی گئی 300 کلوگرام کی حد پار کرلی ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اقوام متحدہ کے انسپکٹرز نے حال ہی میں ایران کے کم حساس یورینیم کے ذخیرے کا وزن کیا۔ ایران نے حال ہی میں کم حساس یورینیم کی پیداوار کو چار گنا کر کے جوہری معاہدے کی شرائط میں سے ایک کی خلاف ورزی کی تھی۔

ایران نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ اگر عالمی طاقتیں، امریکہ کے معاہدے سے الگ ہونے اور تہران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے بعد معاہدے کی نئی شرائط کے حوالے سے مذاکرات میں ناکام ہوتی ہیں تو وہ جولائی کے آخر تک اپنے یورینیم کے ذخائر کو ہتھیاروں کی تیاری کے لیے ضروری سطح کے قریب لے جائے گا۔یورپی ممالک نے امریکہ کے معاہدے سے الگ ہونے کی مخالفت کرتے ہوئے ایران پر زور دیا تھا کہ وہ معاہدے کی پاسداری جاری رکھے۔

تاریخی جوہری معاہدے کو ایسے وقت میں پیچیدہ صورتحال سے نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے جب خلیج فارس میں کشیدگی شدت اختیار کر چکی ہے جبکہ ایران کی جانب سے گذشتہ ماہ امریکی ڈرون گرانے کے بعد اس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ڈرون گرانے کے واقعے کے حوالے سے امریکہ کا کہنا تھا کہ ڈرون کو بین الاقوامی فضائی حدود میں گرایا گیا، جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ ڈورن کو اس کی حدود میں آنے پر تباہ کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں