پدم شری پروفیسرحکیم سید ظل الرحمٰن

Spread the love

نابغہ روز گار شخصیت پروفیسر حکیم سید ظل الرحمٰن کے یوم پیدائش پرخصوصی مضمون

صاحب مضمون

تحریر و تحقیق: شمیم ارشاد اعظمی

( پرنسپل جامعہ طبیہ دیوبند، اتر پردیش۔

Email:siazmi@gmail.com)

حکیم سید ظل الرحمان کا تعلق تجارہ کے مشہور سادات خاندان سے ہے۔ آپ کے آباء و اجداد سلطان شمس الدین التمش (1235- 215) کے عہد میں گردیز (غزنین) سے دہلی میں فروکش ہوئے۔ طبابت آپ کے خاندان میں پشتینی چلی آرہی ہے۔ حیات کرم حسین میں آپ نے بڑی تفصیل کے ساتھ اپنے خاندان کا تذکرہ کیا ہے۔ تقسیم ہندکے وقت آپ کا خاندان بالکل بر باد ہوگیا ،حویلیاں ،دواخانہ اور قیمتی کتب خانہ فساد کی نذر ہوگئے۔ آپ کے خاندان کے لوگوں نے عزت و جان بچا کر بھوپال کا رخ کیا اور یہیں مستقل طور سے آباد ہوگئے۔ آپ کے دادا حکیم سید قاضی کرم حسین مرحوم کا شمارطب کی عالی مرتبت شخصیات میں ہوتا ہے۔ درجنوں کتابوں کے مصنف اور علاج و معالجہ میں ماہرتھے۔ 25 جون 1953 کو بھوپال میں انتقال ہوا۔ آپ کے خاندان میں ہمیشہ علما و مشائخ ،اطبا ، ادبا اورصاحب فضل و کمال شخصیات پیدا ہوتی ر ہی ہیں۔

حکیم سید ظل الرحمان یکم جولائی 1940 کو بھوپال میں پیدا ہوئے ۔ چند سال کے تھے کہ والدہ کے سایہ عاطفت سے محروم ہو گئے۔ والد گرامی حکیم سید فضل الرحمان اور عم مکرم حکیم سید عتیق القا در کے آغوش شفقت میں پرورش پائی۔ ابتدائی تعلیم بھوپال میں جامعہ احمدیہ سے حاصل کر کے نہایت ہی کم عمری میں ندوۃ العلماء ،لکھنؤمیں داخلہ لیا۔ ندوہ میں پانچ سال رہ کرعربی درسیات کی تکمیل فر مائی۔ طب کی تعلیم حاصل کر نے کے لیے 1955 میں اجمل خاںطبیہ کالج میں داخلہ لیا اور 1960 میں طب کی سند حاصل کی۔ طبیہ کالج کی علمی ،ادبی و تہذیبی اور سیاسی سر گرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ہاؤس مانیٹر ،کامن روم سکریٹری اور طبی سو سائٹی کے نائب صدر کے ساتھ طبیہ کالج میگزین کے ایڈیٹر بھی رہے۔ طالب علمی ہی کے زمانہ میں آپ کے جوہر کھلنے لگے اور بہت جلد آپ نے اپنا نام اصحاب علم کی فہرست میں درج کرالیا۔ سعادت مندی ،جہد مسلسل ،خلوص و ایمانداری اور سنجیدگی و شائستگی کی بنیاد پرآپ کالج کے نور نظر بن گئے۔ بالخصوص شفاء الملک حکیم عبد اللطیف فلسفی صاحب کی آنکھوں کا تارہ۔ آپ ایک قابل استاد کے لائق و قابل فخرشاگرد ثابت ہوئے

حکیم سید ظل الرحمن نے اپنی عملی زندگی کا آغاز اجمل خاں طبیہ کالج میں ڈیمونسٹریٹر کی حیثیت سے کیا ،اس کے بعد 1963میں جامعہ طبیہ ،دہلی سے وابستہ ہوگئے ۔1973میں شعبہ علم الادویہ ، اجمل خاں طبیہ کالج ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ریڈر کی حیثیت سے تقرر ہوا اور 1983میں ترقی پاکر پروفیسر اور صدر شعبہ مقرر ہوئے۔حکیم سید ظل الرحمن نے اپنی انتھک محنت اور کوششوں سے شعبہ علم الادویہ کو ترقی کی ایک نئی جہت عطا فرمائی۔آپ نے ڈین فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی ہیں۔

مطالعہ کا ذوق بچپن ہی سے تھا۔ ندوہ میں آکرتحریری و تقریری صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوا۔ اجمل خاں طبیہ کالج کے طالب علمی کے زمانہ سے ہی مضمون نویسی شروع کر دی تھی۔ اسی زمانہ کا ایک عظیم الشان کارنامہ کالج میگزین کا ’شیخ الرئیس نمبر‘ہے۔ اس نمبر کو علمی اور طبی حلقوں میں بہت پسند کیا گیا ۔ شیخ الرئیس کی مطبوعہ کتابوں پر خود ایک طویل مضمون سپرد قلم کیا اس کے علاوہ طب کے مشاہیر اور دانشوروں سے گرانقدر مضمون لکھوائے۔

حکیم سید ظل الرحمان ہمہ جہت شخصیت کے حامل اورجامع کمالات کے مالک ہیں۔ آپ بیک وقت ایک قابل معلم ، ادیب شہیر ،باکمال مصنف ،نامور طبی محقق ،عظیم مؤرخ ،ماہر علم الادویہ ،علم دوست اور باذوق سیاح ہیں۔ طب کی آپ نے خون جگر سے آبیاری کی ہے اور آج بھی اسی جوش خروش سے مصروف ہیں۔ آپ کے اہم کارناموں میں ابن سینا اکیڈمی کا قیام ہے ۔ آپ نے ہندوستان سے باہر جاکر انگلینڈ ، یو نان ،جرمنی ،ہالینڈ،اسپین وغیرہ میں طب کا پر چم لہرایا ہے ۔ اور طب یو نانی کی ترویج و اشاعت اور احیا کی بے مثال کوششیں کی ہیں۔

حکیم سید ظل الرحمان کا ایک اور اہم کام ابن سینا طبیہ کالج اعظم گڑھ کا قیام بھی ہے۔ حکیم صاحب نے اس کالج کے لیے جو کوششیں کی ہیں انھیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ بستی میں بھی مولانا باقر حسین کی دعوت پر طبیہ کالج کے قیام کے سلسلہ میں تشریف لے گئے۔ کالج کے لیے زمین بھی خریدی جا چکی تھی مگر بعد میں معلوم نہیں کیوں کالج کھل نہ سکا۔ جامعہ طبیہ دار العلوم دیوبند کے مسائل کو حل کر نے کے لیے اپنے ساتھ حکیم سید ایوب علی ،علیگڈھ ،حکیم احتشام الحق قریشی ،لکھنؤ اور حکیم ارشاد احمد ،اعظم گڈھ کی ایک ٹیم تیار کی مگر افسوس کہ تمام تر کوششوں کے باوجود اس کالج کو بچایانہیں جا سکا۔ اتر پردیش میں طب یو نانی کے تحفظ اور بقا کے لیے آپ نے کئی اہم کار نامے انجام دیے ہیں۔ ابن سینا طبیہ کالج ،بھارت طبیہ کالج اور صوبہ کے دوسرے طبیہ کالجوںکی منظوری اور نئے طبیہ کالج کے قیام کے سلسلہ میں قابل قدر کارنامے انجام دیے ہیں۔ آل انڈیا یو نانی طبی کانفرنس کے ایک فعال اور متحرک فرد کی حیثیت سے آپ کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ کانفرنس کے پلیٹ فارم سے طب یونانی کے گوناگوں مسائل کو حل کر نے میں کافی جد وجہد کی ہے۔

تصانیف

تاریخ ،طب ، ادب ،تحقیق ، تدوین و ترجمہ ،اسلامی تہذیب ،طبی شخصیات وغیرہ پراب تک حکیم صاحب کی چار درجن سے زائد کتابیں ،دس خطبات ،6مرتبہ کتب و مجلات ،2 مونوگراف اور ملک و بیرون ملک کے علمی وفنی اور تحقیقی رسائل و جرائد میں ڈیڑھ سو سے زائد مقالات شائع ہو چکے ہیں ۔ ان میں زیادہ تر کتابیں طبی مخطوطات کی تدوین ،تہذیب وترجمہ پرمبنی ہیں۔طب کی اہم کتابوں کی تدوین وترجمہ آپ کا خاص امتیاز ہے۔ اس سے جہاں ایک طرف نامعلوم مخطوطہ کا تعارف سامنے آتا ہے وہیں دوسری جانب عربی اور فارسی سے نابلد حضرات ان کتابوں سے بآسانی مستفید ہو سکتے ہیں۔

1 –
دور جدید اور طب
( 1963)
2 –
تاریخ علم تشریح
( 1967,2007)
3 –
علم الامراض
( 1969,90,94,2010)
4 –
رسالہ جودیہ
( 1971,84,99)
5 –
تجدید طب
( 1972)
6 –
بیاض وحیدی
( 1974,1991)
7 –
مطب مرتعش
( 1976,2011)
8 –
تذکرہ خاندان عزیزی
( 1978,2009)
9 –
کتاب المرکبات
( 1980,91,10)
10 –
صفوی عہد میں علم تشریح
( 1983)
11 –
حیات کرم حسین
( 1983,2008)
12 –
عزیزی فیملی آف فیزیشنز
( 1983)
13 –
علیگڈھ کے طبی مخطوطات
( 1984)
14 –
رسالہ نبیذ قسطا بن لوقا(عکسی)
( 1985)
15 –
قانون ابن سینا اور اس کے شارحین و مترجمین
(, 2013 1986)
16 –
طب فیروز شاہی
( 1987)
17 –
ریسرچ ان علم الادویہ
( 1990)
18 –
اسٹڈیز ان علم الادویہ
( 1990)
19 –
رسالہ اطریلال
( 1993)
20 –
دلی اور طب یونانی
( 1995,2012)
21 –
رسالہ ادویہ قلبیہ
( 1996)
22 –
ایران نامہ
( 1998)
23 –
طبی تقدمے
( 2000)
24 –
آئینہ تاریخ طب
( 2001)
25 –
اسماء الادویہ
( 2002)
26 –
مقالات شفاء الملک
( 2002)
27 –
حکیم اجمل خاں
( 2004)
28 –
قانون ابن سینا،شارحان و مترجمان آن
( 2004)
29 –
سفر نامہ بنگلہ دیش
(6 200)
30 –
رسالہ النبض الصغیر(جالینوس)
( 2007)
31 –
رسالہ نقرس (قسطا بن لوقا)
( 2007)
32-
عین الحیات (محمد بن یوسف ہروی)
( 2007)
33-
رسالہ نبیذ
( 2007)
34 –
رسالہ فی فرق الطب (جالینوس)
( 2008)
35-
رسالہ فی العناصر (جالینوس)
( 2008)
36-
کتاب المزاج (جالینوس)
( 2008)
37 –
تذکرہ اطباء عصر
( 2010)
38 –
راس مسعود
( 2010)
39 –
یونانی طب میں اعلیٰ تعلیم،اصول تحقیق و مطالعہ مخطوطات
( 2011)
40
رسالہ حرارت غریزیہ
( 2012)
41
میزان حرف
( 2012)
42
رسالہ خضاب
( 2013)
43
منظوم طبی رسائل
( 2013)
44
شفاء الامراض
( 2015)
45
دیوان غالب (مقدمہ و ترتیب)
( 2015)
46
مجربات کرم حسین
( 2015)
47
ابن سینا یادگاری خطبہ
(2016)
48
حکیم احسن اللہ خاں
( 2017)

حکیم سید ظل الرحمان کا ایک اہم کام طب یو نانی کے لٹریچر (سی۔سی۔آئی۔ایم کے علم الادویہ نصاب کے مطابق) کی تیاری ہے۔ طبیہ کالجز میںمعیاری لٹریچر کی کمی کا احساس آپ کوشروع سے ہی تھا ۔ آپ جب شعبہ علم الادویہ کے چیر مین مقرر ہوئے تو آپ نے شعبہ کے دیگر اساتذہ کو طبی نصاب کے مطابق معیاری و آسان اسلوب کے مطابق کتابیں لکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ادویہ مفردہ ،کلیات ادویہ ،مرکبات ادویہ اور دواسازی اور تکلیس پر کئی اہم کتابیں اس شعبہ سے منظر عام پر آئیں۔ آپ نے خود مرکبات پرایک کتاب تحریر فر مائی جو طبیہ کالج کے نصاب میں داخل ہے۔ اس کتاب کی تین ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ حکیم محمد رفیق الدین سے کنز الادویہ مفردہ اور منہاج الصیدلہ و الکیمیا نامی دو کتابیں لکھوائیں۔ حکیم ایوب علی قاسمی ؒ نے قوانین ادویہ کے نام سے کلیات ادویہ پر نہایت معیاری کتاب تحریر فر مائی جس کے اب تک کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ اس ر وایت کو آگے بڑھاتے ہوئے حکیم نعیم احمد خاں نے ادویہ معدنیہ اور حکیم عبد اللطیف نے توضیحات کلیات ادویہ اور کلیات جیسی تحقیقی و تنقیدی کتابیں تحریر فر مائیں۔ حکیم اقبال احمد قاسمی نے کتاب المفردات ،کتاب التکلیس ،کتاب النبض جیسی اہم کتابیں لکھیں۔ حکیم غفران احمد نے اصول دواسازی پر عصری اسلوب اور دواسازی کی جدید معلومات کے ساتھ ایک بیش مفید کتاب تصنیف فر مائی ہے۔

کالج سے سبکدوشی کے بعد حکیم ظل الرحمان نے اپنے آپ کو مستقل طور سے طب کی ترویج و اشاعت اور ترقی کے لیے وقف کر دیا ہے۔ اگست 2000 میں ابن سینا اکیڈمی قائم کر کے طبی علوم و فنون کو عالمی سطح پر متعارف کرایا ہے۔ حکیم سید ظل الرحمان لائبریری ،حکیم کرم حسین میوزیم ،گوشۂ غالب اس اکیڈمی کی شان ہیں۔ لائبریری میںبیس ہزار سے زائد اہم ،نایاب اور قیمتی کتابیں موجود ہیں۔ چھ سو سے زائد طبی و علمی مخطوطات اس لائبریری کی زینت ہیں۔ اس میں چند ایسے مخطوطات شامل ہیں جو دنیا کی کسی بھی لائبریری میں موجود نہیں ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اس لائبریری کا غالب کلیکشن بہت ہی قیمتی اور نایاب کتابوں اور مجلات پر مشتمل ہے جو دنیا کے کم ہی لائبریریوں میں موجود ہے۔

ستمبر1963میں حکیم سید ظل الرحمن جامعہ طبیہ، دہلی سے وابستہ ہوئے۔حکیم سید ظل الرحمان نے دہلی کے دوران قیام میں طبی اکاڈمی قائم کی ۔اس اکاڈمی کا آغاز بھوپال سے ہو چکا تھا۔حکیم سید ظل الرحمان نے اکاڈمی کے ترجمان کے طور پر ’’الحکمت‘‘ کے نام سے ایک ماہنامہ کا اجرا ء کیا ۔ اس اکاڈمی کے بانی ،ناظم اور رسالہ کے مدیر حکیم سید ظل الرحمن تھے۔ حکیم اقبال احمد سر پرست ، شفاء الملک حکیم عبد اللطیف فلسفی صدر، اور حکیم شجاع الدین حسین ہمدانی نائب صدر مقرر کئے گئے۔ اکاڈمی کا مقصد طب یونانی کی بقا اور تحفظ کے ساتھ علمی وفنی اعتبار سے فن کی تبلیغ و اشاعت تھا۔ الحکمت کا پہلا شمارہ اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ مئی 1965میں منصہ شہود پر آیا ۔ رسالہ الحکمت کا اجراء ایسی بے سر و سامانی کے عالم میں ہوا جب کہ طبی اکاڈمی کے پاس نہ کوئی مستقل دفتر تھا اور نہ کوئی ذریعہ آمدنی۔ کساد بازاری کے اس دور میں فقط فنی خدمت کا جذبہ ہی تھا جو الحکمت کے اجراء کا محرک بنا ۔عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ طب یونانی کے رسائل و جرائد میں علمی وفنی مضامین کے بجائے بیشتر مضامین نسخوں اور مجربات پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ان کے دامن میں ٹوٹکوں ، چٹکلوں اور تعویذوں کی مخصوص جگہ ہوتی ہے ۔ مگر الحکمت ان تمام فرسودہ روایات سے ہٹ کر ایک خاص علمی و فنی حیثیت کا حامل تھا۔ اکاڈمی کی طرف سے اس کے اجراء کا مقصد ہی یہ تھا کہ طبی علوم کو سائنٹفک اور علمی وفنی انداز میں دنیا ئے طب اورا رباب فکر و نظر تک پہونچایا جائے۔ چنانچہ الحکمت کے شمارے علمی، طبی ،فنی اور تحقیقی مضامین پر مشتمل ہر ماہ پابندی کے ساتھ شائع ہوتے رہے۔ ستمبر1970تک شائع ہو تا رہا ، مگر اس کے بعد طبی صحافت کا درخشاں باب ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا۔

حکیم سید ظل الرحمن کی شروع سے ہی علمی اور طبی انجمنوں ،طبیہ کالجوں اور دیگر اداروں سے وابستگی رہی ہے۔ ہندستان کے اکثر طبیہ کالجوں اور ملحقہ یونیورسٹیوں سے کسی نہ کسی طرح وابستہ رہے۔وزارت صحت و خاندانی بہبود حکومت ہند ،نئی دہلی کی فار ماکوپیا کمیٹی کے ممبر رہے اور ساتھ ہی سنگل ڈرگس سب کمیٹی (یونانی) وزارت صحت و خاندانی بہبود حکومت ہند ،نئی دہلی کے چیرمین بھی رہے۔سنٹرل کونسل فار ریسرچ ان یو نانی میڈیسن کی مختلف کمیٹیوں کے ممبر ہیں۔کونسل کے تحقیقی مجلات ’ ہیپو کریٹک جرنل‘ اور ’ جہان طب‘ کی مجلس مشاورت کے ممبر ہیں۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن بنگلور کی گورننگ باڈی اور دیگر سائنٹفک اینڈ اکیڈمک کمیٹیوں کے بھی ممبر رہ چکے ہیں۔سر سید اکیڈمک علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کی مینیجنگ کمیٹی کے ممبر ہیں۔قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ،نئی دہلی کے طبی پینل کے ممبر ہیں۔ انٹر نیشنل سو سائٹی فار ہسٹری آف میڈیسن استنبول،ترکی کے لائف ممبر ہیںنیزجرنل آف انٹر نیشنل سو سائٹی فار ہسٹری آف اسلامک میڈیسن استنبول کے نیشنل ایڈوائزری بورڈ کے ممبر ہیں۔انسٹی ٹیوٹ آف عرب سائنس حلب کے جرنل فار دی ہسٹری آف عرب سائنس کے ایڈیٹوریل بورڈ کے ممبر ہیں۔یو رپین جرنل آف اتھنو فارماکولوجی کے ایڈیٹوریل بورڈ کے ممبر ہیں۔ڈھاکہ بنگلہ دیش کی دی گریٹ ابن سیناکونسل کے انٹر نیشنل ایڈوائزرہیں۔

حکیم سید ظل الرحمن کی علمی و طبی خدمات کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔ایک درجن سے زائد ایوارڈ و اعزاز سے سرفراز کئے گئے ہیں۔1995 میں صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر شنکر دیال شرما نے فارسی زبان میں غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں صدر ایوارڈ سے نوازا۔2006 میں ’ پدم شری ‘ جیسے اعلیٰ شہری اعزاز سے نوازے گئے۔2013 میں جامعہ ہمدر (کراچی) نے ڈی ۔لٹ کی ڈگری سے سرفراز فرمایا۔یہ صرف طبی برادری کے لئے ہی باعث افتخار نہیں ہے بلکہ پوری علیگ برادری کے لئے فخر کی بات ہے کہ بیرون ممالک میں پہلی بار کسی علیگ کو اس عظیم سند سے سر فراز کیا گیا۔2015میں حکومت اتر پردیش نے یش بھارتی ایواارڈ اور 2018میں حکومت مدھ پردیش نے نواب صدیق حسن خاں ایوارڈ سے نوازا۔ اس وقت حکیم سید ظل الرحمن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میںخازن (Treasurer) کی حیثیت سے اعزازی طور پر وابستہ ہیں۔

Please follow and like us:

Leave a Reply