1 جولائی کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1798ء کو نپولین بونا پارٹ نے مصر کے شہر اسکندریہ کو فتح کیا۔

1858ء کو مشہور برطانوی سائنس دان چارلیس ڈارون نے لندن ایک اجتماع میں اپنا وہ تاریخ مقالہ پیش کیا جس میں انسانی ارتقا کا نظریہ پیش کیا گیا۔

1867ء برٹش نارتھ امیریکن ایکٹ، 1867ء کینیڈا کے آئین کے طور پر نافذ العمل ہو گیا جس سے کینیڈین فیڈریشن وجود میں آئی۔ جان اے میکڈونلڈ نے اس کے پہلے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

1881ء امریکہ اور کینیڈا کے مابین پہلی بین الاقوامی فون کال سروس کا آغاز

1916ء جنگ عظیم اول: روم میں پہلے دن کی محاذ آرائی میں بیس ہزاربرطانوی فوجی ہلاک اور چالیس ہزار زخمی ہوئے

1929ء کو مشہور کارٹون کردار ” پوپائے دی سیلر ” پہلی بار امریکا میں منظر عام پر آیا۔

1935ء امریکن تحقیقاتی بیورو (اے بی آئی) کو تحقیقی فیڈرل بیورو (ایف بی آئی) کا نام دے دیا گیا

1941ء کو ٹیلی وژن پر پہلا اشتہار دکھایا گیا۔ نیو یارک کے ڈبلیو این بی ٹی چینل پر دکھایا جانے والا یہ اشتہار بلووا نامی گھڑی کا تھا۔

1948ء قائد اعظم نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے اسے مالیاتی خود مختاری کی علامت قرار دیا

1961ء راولپنڈی کو پاکستان کا دار الحکومت بنا کر کراچی کو صوبہ سندھ میں شامل کر دیا گیا۔

1965ء مغربی پاکستان اسمبلی نے اعظم فاروقی کی پیش کش کردہ شراب نوشی پر پابندی کی قرارداد منظور کی

1966ء پہلی رنگین ٹیلی ویژن نشریات کا آغاز کینیڈا سے ہوا

1970ء صدریحیی خان نے ون یونٹ تحلیل کرکے صوبوں کی سابقہ حیثیت بحال کردی

1975ء سعودی عرب کے بادشاہ خالد نے سعودی پاک بینک کے قیام کی منظوری دی

1978ء پاکستان مسلم لیگ نے جنرل ضیاء الحق کی مجوزہ حکومت میں شمولیت کا فیصلہ کیا

1994ء پی ایل او لیڈر یاسر عرفات کی ستائیس سالہ جلا وطنی کے بعد پہلی بار غزہ آمد

1997ء چین دوبارہ ہانگ کانگ کا حصہ بنا

ولادت

ابن حاجب مسلم محدث اور مالکی فقیہ تھے۔ ان کا انتقال 12 فروری 1249ء کو ہوا۔

1879ء لیون جوو جو فرانسیسی تجاری یونین کے صدر تھے انھیں 1951ء میں نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ ان کا انتقال 28 اپریل 1954ء کو ہوا۔

1893ء پروفیسر ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم پاکستان سے تعلق رکھنے والے مشہور و معروف فلسفی، شاعر، نقاد، محقق، ماہر اقبالیات، ماہر غالبیات، مترجم اور سابق پروفیسر فلسفہ عثمانیہ یونیورسٹی اور سابق ڈائریکٹر ادارۂ ثقافت اسلامیہ لاہور تھے۔ ان کا انتقال 30 جون، 1959ء کو ہوا۔

1918ء ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری ایک عظیم صوفی و روحانی بزرگ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مایہ ناز مفسر، سیرت نگار، ماہر تعلیم، صحافی، صاحب طرز ادیب اور دیگر بیشمار خوبیوں کے مالک تھے۔ تفسیر ضیاء القرآن، سیرت طیبہ کے موضوع پر ضیاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم، 1971ء سے مسلسل اشاعت پزیر ماہنامہ ضیائے حرم لاہور، منکرین حدیث کے جملہ اعتراضات کے مدلل علمی جوابات پر مبنی حدیث شریف کی اہمیت نیز اس کی فنی، آئینی اور تشریعی حیثیت کے موضوع پر شاہکار کتاب سنت خیر الانام، فقہی، تاریخی، سیاسی، معاشی، معاشرتی اور دیگر اہم موضوعات پر متعدد مقالات و شذرات آپ کی علمی، روحانی اور ملی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف اور ملک بھر میں پھیلی ہوئی اس کی شاخوں کی صورت میں بر صغیر کی بے نظیر علمی تحریک اور معیاری دینی کتب کی اشاعت و ترویج کا عظیم اشاعتی ادارہ ضیاء القرآن پبلیکیشنز ان کے علاوہ ہیں۔ آپ کا انتقال 7 اپریل 1998 کو ہوا۔

1918ء احمد دیدات کا پیدائشی نام احمد حسین دیدات تھا۔ جو ایک مسلمان مبلغ ،مقرراور مناظر تھے۔ ان کی اکثر تقاریر اسلام، مسیحیت اور بائبل پر مرکوز تھیں۔ آپ نے مسیحیوں کے ساتھ بے شمار بین المذاہب عوامی مباحثے منعقد کیے ہیں۔ ان کے تقاریر کے اہم موضوعات، انجیل، نصرانیت، حضرت عیسیٰ علیہ اسلام، محمد کا ذکر انجیل میں، کیا آج کی انجیل کلام اللہ، وغیرہ ہیں۔ انہوں نے ایک بین الاقوامی اسلامی تبلیغی تنظیم،IPCI قائم کی۔ اس کے علاوہ آپ نے اسلام اور مسیحیت پر کئی کتب لکھے اور بڑے پیمانے پر تنظیم کی طرف سے ان کو تقسیم کیا گیا۔ آپ کو مسلسل پچاس سال تبلیغ کا کام کرنے پر1986ء میں شاہ فیصل بین الاقوامی انعام دیا گیا۔ آپ مغربی دنیا میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کو تبلیغ کرنے کے لیے انگریزی زبان استعمال کرتے تھے۔ ان کا انتقال 8 اگست 2005 کو ہوا۔

1903ء رفیع محمد چوہدری ایک پاکستانی ماہرِ نیوکلیائی طبیعیات اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے پارٹیکل فزکس کے پروفیسر تھے۔ انھیں پاکستان میں تجرباتی نیوکلیائی طبیعیات کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ عبد السلام کے ہمراہ پاکستان کے جوہری ہتھیار بنانے کے منصوبے کو ابتدا کرنے والوں میں سے تھے۔ ان کے شاگرد ثمر مبارک مند کہتے ہیں کہ وہ حقیقی طور پر پاکستان کے جوہری منصوبے کے بانی تھے۔ ان کا انتقال 4 دسمبر 1988 کو ہوا۔

1912ء ڈاکٹرغلام مصطفیٰ خان پاکستان کی ممتاز روحانی شخصیت، محقق، ماہر لسانیات، عالم دین، مترجم، ماہرتعلیم اور سندھ یونیورسٹی میں پروفیسر ایمریطس تھے۔ وہ ناگپور یونیورسٹی، بھارت اور سندھ یونیورسٹی کے صدرشعبۂ اردو کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کا انتقال 25 ستمبر،2005ء کو ہوا۔

1920ء اخلاق الرحمن قدوائی، بھارتی کیمیا دان اور سیاست دان تھے۔ وہ کئی بھارتی ریاستوں کے گورنر رہ چکے ہیں جیسے بہار، مغربی بنگال اور ہریانہ۔ وہ راجیہ سبھا کے بھی رکن رہ چکے ہیں۔ ان کو بھارت کا دوسرا بڑا اعزاز پدم وبھوشن سے نوازا جا چکا ہے۔ ان کا انتقال 24 اگست 2016ء کو ہوا

1922ء پروفیسر سید مجتبیٰ حسین پاکستان کے ممتاز اردو تنقید نگار، استاد۔ دانشور اور شاعر تھے۔ ان کا انتقال یکم اپریل، 1989ء کو ہوا۔

1924ء احمد علی خان، پاکستانی صحافی (وفات: 2007ء)

1926ء رابرٹ فوگل امریکی ماہر اقتصادیات ہیں اقتصا دیات میں ان کی کام کی اہمیت کو دیکھ کر 1993 میں انھیں اور ڈوگلس نارتھکو نوبل میموریل انعام برائے معاشیات مشترکہ طور پر دیا گیا۔ ان کا انتقال 11 جون 2013 کو ہوا۔

1929ء جیرالڈ موریس ایڈیلمن ایک امریکی حیاتیاتی ماہر تھا جس نے پولیوولوجی میڈیسن میں 1972 نوبل انعام کا اشتراک کیا جس میں مدافعتی نظام پر روڈنی رابرٹ پورٹر کے ساتھ کام کرنا تھا۔ ایڈیلمن کے نوبل انعام یافتی تحقیق انٹیبوڈی انوکیوں کی ساخت کی دریافت ہے۔ انٹرویو میں، انہوں نے کہا ہے کہ مدافعتی نظام کے اجزاء کو انفرادی زندگی میں تیار کیا گیا ہے جس طرح دماغ کے اجزاء زندگی بھر میں تیار ہوتے ہیں۔ مدافعتی نظام پر ان کے کام کے درمیان اس طرح کا تسلسل ہے، جس کے لیے انہوں نے نوبل انعام جیت لیا اور اس کے بعد میں نیوروسوسر اور دماغ کے فلسفہ میں بھی اس کے بعد کام کیا۔ ان کا انتقال 17، مئی، 2014 کو ہوا۔

1934ء آسکر ایوارڈ یافتہ ہدایت کار، پروڈیوسر اور اداکار .یکم جولائی 1934 میں پیدا ہونے والے پولک دسویں کلاس پاس کرنے کے بعد اداکار کے طور پر اپنی قسمت آزمانے کے لیے نیویارک آئے۔ ان کا انتقال 26 مئی 2008ء کو ہوا۔

1934ء جین مارش، برطانوی اداکارہ

1940ء حکیم سید ظل الرحمن : ایک مشہور یونانی محقق ہیں۔ ان کی کاوشوں سے جدید بھارت میں یونانی طرز علاج و معالجہ جدید شکل میں مروج ہے۔ حکیم صاحب ایک مایہ ناز ریسرچر ہیں۔ سنہ 2000 میں ابن سینا اکیڈمی آف میڈیسن اینڈ کو قائم کیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اجمل خان طبیہ کالج کے پروفیسر اور چیئرمین کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں۔ علم الادویہ شعبہ میں میں تقریباً چالیس سال کی خدمات کے بعد وظیفہ یاب ہوئے۔ طب پر ان کی 45 تصانیف ہیں۔ ان کے پاس یونانی طب سے متعلق کتب کا گنجینہ موجود ہے۔ بھارت کی حکومت ان کی خدمات کے اعتراف میں 2005ء میں انہیں پدماشری اعزاز سے نوازا۔

1941ء الفرڈ جی گلمینایک امریکی کیمیائی حیاتیات دان تھے جنھوں نے 1994ء کا نوبل انعام حاصل کیا تھا۔ ان کا انتقال 23 دسمبر 2015 کو ہوا۔

1952ء ڈین ایکروئیڈ، کینیڈین اداکار

1956ء حسین حقانی 2008ء سے 2011ء تک امریکہ میں پاکستان کا سفیر رہا۔ اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اسے سفیر مقرر کیا۔ اس سے پہلے متعدد حکومتوں (نواز شریف، بینظیر بھٹو) کا ایک وقت تک چہیتا رہا مگر بعد میں ان کا مخالف ہو گیا۔ سیاسی کردار کا آغاز اسلامی جماعت طلبہ، جامعہ کراچی، کے صدر کے طور پر کیا۔ بعد میں صحافت سے وابستہ رہا۔ امریکی جامعہ میں استاد بھی رہا۔ 2011 میں اس پر پاکستان کے فوجی سربراہان کے خلاف صدر آصف علی زرداری کی طرف سے امریکی ایڈمرل ملن سے مدد مانگنے کا پیغام بھیجنے کا الزام لگا جس پر اس سے استعفی لے لیا گیا۔ پاکستان عدالتوں میں زیر التوا مشہور زمانہ میمو گیٹ کیس کا مرکزی ملزم ہے اور اس وقت عدالتوں کو مطلوب یہ شخص پاکستان مخالف اور اپنی بیوی فرح اصفہانی سمیت فرار ہے۔

1961ء ویلز کی شہزادی ڈیانا, جو لیڈی ڈیانا کے نام سے مشہور ہیں۔امیر ویلز چارلس کی پہلی بیوی تھی۔ ان کا انتقال ایک کار حادثہ میں 31اگست 1997ء کو ہوا وہ اپنے دوست دودی کے ساتھ محو سفر تھیں

1967ء پامیلا اینڈریسن، امریکی اداکارہ، مصنف، فلمساز

وفات

1242ء چغتائی خان، چنگیز خان کے بیٹے تھے۔ اور مغلوں کے جد امجد ہیں چغتائی خان کی زندگی میں ماوراالنہر، قازقستان، کاشغر اور ترکستان کے علاقے اس کی تحویل میں تھے۔ اس نے اپنے باپ کی وصیت کے مطابق اپنے وزیر اعظم قراچار نوئیاں سے اپنی بیٹی توکل خانم کی شادی کر کے رشتہ داری قائم کی اور اپنے علاقوں کا انتظام سپرد کر کے خود اوکتائی خان کے پاس سکونت اختیار کر لی اور امور سلطنت میں اس کا پاتھ بٹاتا رہا۔ یہ شخص مسلمانوں کا بہت بڑا دشمن تھا۔ المالیق چغتائیوں کا پایہ تخت تھا۔ چغتائی خان کی موت شکارگاہ میں ایک بازگشتہ تیر پینکنے سے ہوئی۔ یہ تیر اس کی پشت پہ لگا اور مہلک ثابت ہوا۔ یہ واقعہ 1241ء میں اوکتائ خان کی موت سے 6 ماہ پیشتر پیش آیا۔ وہ 22 دسمبر 1183 کو پیدا ہوا۔

1277ء الملک الظاہر رکن الدین بیبرس بندقداری مملوک سلطنت کا پہلا نامور حکمران ہے۔ اس نے 1260ء سے 1277ء تک 17 سال مصر و شام پر حکومت کی۔ وہ ہلاکو خان اور دہلی کے غیاث الدین بلبن کا ہمعصر تھا۔ وہ نسلاً ایک قپچاق ترک تھا جسے غلام بنانے کے بعد قپچاق میں فروخت کر دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ منگولوں نے بھی اسے غلام بنا کر شام میں فروخت کر دیا تھا۔ وہ ایوبی سلطان الصالح ایوب کا ذاتی محافظ تھا۔ وہ ساتویں صلیبی جنگ میں فرانس کے لوئس نہم اور 1260ء میں جنگ عین جالوت میں منگولوں کو شکست دینے والے لشکروں کا کمانڈر تھا

1739ء احمد ثالث خلافت عثمانیہ کی باگ ڈور سنبھالنے والا سلطان تھا۔ وہ 30 یا 31 دسمبر 1673ء کو بلغاریہ کے ایک قصبے دو بریچ میں پیدا ہوئے اور یکم جولائی 1736ء کو وفات پائی۔ انہوں نے 1607ء میں پیدا ہونے والی عائشہ سے شادی کی۔ وہ سلطان محمد رابع کا بیٹا تھا۔ ان کی والدہ سلطان یونان کی ایمت اللہ رابعہ تھیں۔

1941ء مولوی حکیم محمد نجم الغنی خاں رام پوری، نجمی تخلص بر صغیر پاک و ہند کے نامور مورخ، شاعر، طبِ یونانی کے حکیم اور علم عروض کے ماہر تھے۔ انہوں نے تاریخ راجستان، اخبار الصنادید، ، تاریخ راجگان ہند موسوم بہ وقائع راجستان، تاریخ اودھ سمیت تاریخ کے موضوع پر لاتعداد کتب اور علم عروض پر بحر الفصاحت نامی کتاب تحریر کی جو اس موضوع پر اہم ترین کتاب تسلیم کی جاتی ہے۔ نجم الغنی خاں کے والد مولوی عبد الغنی خاں اپنے عہد کے سربر آوردہ علما میں سے ایک تھے۔ وہ 8 اکتوبر 1859ء کو پیدا ہوئے۔

1971ء ولیم لارنس براگ ایک برطانیہ کے طبیعیات دان اور نوبل انعام جیتنے والے سائنس دان تھے انھوں نے یہ انعام 1915ء میں ولیم ہنری براگ کے ساتھ مشترکہ جیتا جس کی وجہ قلمی ساخت کو ایکس رے کے ذریعے دیکھنے کی ان کی مشترکہ کوششیں تھیں۔ وہ 31 مارچ 1890ء کو پیدا ہوئے۔

2001ء جے ہنس ڈی ہنسن ایک امریکی کے طبیعیات دان اورنوبل انعام برائے طبیعیات جیتنے والے طبیعیات دان تھے۔ انہوں نے یہ انعام 1964 میں ایک امریکی سائنسدان چارلس ہارڈ ٹاونس اور ہم وطن سائنسدان الیکزینڈر پروکورو کے ساتھ مشترکہ جیتا جس کی وجہ کوانٹم الیکٹرونکس سے جڑے انکے کام تھے جس کی وجہ سے اوسکیلیٹر اور ایمپلی فائیر کی تخلیق ممکن ہوئی۔ وہ 14 دسمبر 1922 کو پیدا ہوئے۔

2002ء اکلیم اختر، جو بعد ازاں جنرل رانی کے نام سے مشہور ہوئیں، پاکستان کے صدر جنرل یحییٰ خان کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتی تھیں۔ ان کے قریبی تعلقات کی بنا پر وہ جنرل یحیی کو ’’آغا جانی‘‘ کے نام سے پکارتی تھیں اور ان تعلقات کی بنیاد پر وہ نہایت مقبول اور انتہائی اختیارات کی حامل شمار ہوتی تھیں۔ اسی طاقت اور اختیار کی وجہ سے انھیں جنرل رانی کہا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل یحیی کے دور میں جنرل کے بعد اکلیم اختر پاکستان کی سب سے بااختیار شخصیت ہوا کرتی تھیں۔ ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا، مگر پھر بھی انھیں سرکاری پروٹوکول دیا جاتا تھا۔ پاکستان کے مشہور پاپ گلوکار، فخر عالم اور عدنان سمیع، جنرل رانی کے نواسے ہیں۔ جنرل رانی کی بیٹی عروسہ عالم جو فخر عالم کی والدہ ہیں نے کچھ عرصہ قبل بھارت کے ایک سیاست دان امریندر سنگھ سے مبینہ طور پر شادی کر لی۔ گو اس کی تصدیق اس وجہ سے بھی نہیں ہو سکی کہ بھارت میں غیر مسلم کے لیے ایک سے زائد شادی غیر قانونی ہے۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ عدنان سمیع اور عروسہ عالم نے بھارت کی شہریت لی اور وہاں قیام پذیر ہیں۔

2004ء مارلن برانڈو، امریکی اداکار (پیدائیش: 1924ء)

تعطیلات و تہوار

1960ء صومالیہ نے آزادی حاصل کی

1868ء کینیڈا کا قومی دن (سابق ڈومینین ڈے)

نیوفنڈلینڈ اینڈ لیبریڈور: میموریل ڈے

کیوبیک موونگ ڈے

گھانا یوم جمہوریہ

1949ء ویت نام نے فرانس سے آزادی حاصل کی

Leave a Reply