آج کا شاعر منصور آفاق

Spread the love

ﺷﺐِ ﻭﺻﺎﻝ ﭘﮧ ﻟﻌﻨﺖ ، ﺷﺐِ ﻗﺮﺍﺭ ﭘﮧ ﺗُﻒ
ﺗﻴﺮﮮ ﺧﯿﺎﻝ ﭘﮧ ﺗُﮭﻮ ، ﺗﯿﺮﮮ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﭘﮧ ﺗُﻒ
.
ﻭﮦ ﭘﺎﺅﮞ ﺳﻮ ﮔﺌﮯﺟﻮ ﺑﮯ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﺍﭨﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ
ﻃﻮﺍﻑ ﮐﻮﭼﻪﺀ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﭘﮧ ، ﮐﻮﺋﮯ ﯾﺎﺭ ﭘﮧ ﺗُﻒ
.
ﺗﺠﮫ ﺍﯾﺴﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮬﺶ ﭘﮧ ﺑﺎﺭﮬﺎ ﻟﻌﻨﺖ
ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮬُﻮﮞ ﻧﻮﮎِ ﺧﺎﺭ ﭘﮧ ﺗُﻒ
.
ﺩﻝِ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﻮ ﺗُﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮨﮯ
ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺣﺴﻦِ ﻧﻈﺮ ، ﺗﯿﺮﮮ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﭘﮧ ﺗُﻒ
.
ﭘﮩﻨﭻ ﺳﮑﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﺗﮏ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺯﺧﻢ ﮐﺎ ﻧﻮﺭ
ﭼﺮﺍﻍِ ﺧﻮﻥ ﭘﮧ ﺗُﮭﻮ ، ﺳﯿﻨﻪﺀ ﻓﮕﺎﺭ ﭘﮧ ﺗُﻒ
.
ﮬﯿﮟ ﺑﺮﮒِ ﺧﺸﮏ ﺳﯽ ﺷﮑﻨﯿﮟ ﺧﺰﺍﮞ ﺑﮑﻒ ﺑﺴﺘﺮ
ﻣﻴﺮﮮ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﮩﺮﯼ ﮬُﻮﺋﯽ ﺑﮩﺎﺭﭘﮧ ﺗُﻒ
.
ﮐﺴﯽ ﻓﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ ﮨﮯ ﺟﺎ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﺑﺎﻧﭧ
ﺗﻴﺮﮮ ﻣﻼﻝ ، ﺗﻴﺮﯼ ﭼﺸﻢ ﺍﺷﮑﺒﺎﺭ ﭘﮧ ﺗُﻒ
.
ﺗﺠﮭﮯ ﺧﺒﺮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺮﮔﯿﺎ ﮬُﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﺳﺖ، ﺗﻴﺮﮮ ﺟﯿﺴﮯ ﻏﻤﮕﺴﺎﺭ ﭘﮧ ﺗُﻒ
.
ﺻﺪﺍ ﮬﻮ ﺻﻮﺕِ ﺳﺮﺍﻓﯿﻞ ﺗﻮ ﻣﺰﮦ ﺑﮭﯽ ﮬﮯ
ﮔﻠﮯ ﮐﮯ ﺑﯿﭻ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮑﯽ ﮬُﻮﺋﯽ ﭘﮑﺎﺭ ﭘﮧ ﺗُﻒ
.
ﻣﻴﺮﯼ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﮬﮯ ﮐﺘﻨﮯ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺳﮯ
ﺍﻣﯿﺮِﺷﮩﺮ!! ﺗﯿﺮﮮ ﻋﮩﺪِ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﭘﮧ ﺗُﻒ
.
ﯾﮩﯽ ﺩﻋﺎ ﮨﮯ ﺗﻴﺮﺍ ﺳﺎﻧﭗ ﭘﺮ ﭘﺎﺅﻥ ﺁﺋﮯ
ﮨﺰﺍﺭ ﮬﺎ ﺗﻴﺮﮮ ﮐﺮﺩﺍﺭِ ﺩﺍﻍ ﺩﺍﺭ ﭘﮧ ﺗُﻒ
.
ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﻢ ﺳﮯ ﯾﮧ ﭨﻮﭨﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻨﺼﻮﺭ
ﻓﺴﺮﺩﮔﯽ ﮐﮯ ﺳﻠﮕﺘﮯ ﮬُﻮﺋﮯ ﺣَﺼﺎﺭ ﭘﮧ ﺗُﻒ

منصور آفاق (پیدائش : 17 جنوری 1962ء) معروف شاعر اور ادیب ہیں۔ منصور آفاق کا کالم دیوار پر دستک جنگ لندن میں شایع ہوتا ہے۔ منصورآفاق نے پی ٹی وی اور دوسرے چینلز کے لیے کئی ٹی وی سیریلز تحریر اور ڈائرکٹ کیے ہیں، جن میں زمین، دنیا، پتھر اور کہہ جانڑاں میں قابلِ ذکر ہیں۔ منصور آفاق جدید شاعری میں اپنے منفرد لہجے کے باعث خصوصی مقام رکھتے ہیں۔

اُنہوں نے لکھنے کا آغاز سولہ سال کی عمر سے کیا۔ بہت کم عمری میں کامیابی نے اُن کے قدم چومے۔ وہ پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے سب سے کم عمر ڈراما سیریل رائٹر ہیں۔

آفاق نما ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ اٹھارہ سال کی عمر میں شائع ہوا اور ان کے لکھے ہوئے خاکوں کا مجموعہ چہرہ نما بیس سال عمر میں شائع ہوا۔ غزل، نعت، ڈراما، تنقید، تحقیق، کالم نگاری، ناول نگاری اور جدید نظم میں انہوں نے ہمیشہ زندہ رہنے والا کام کیا۔

منصور آفاق ایک معتبر فلمی نقاد بھی ہیں۔ وہ ایک طویل عرصہ تک روزنامہ نوائے وقت میں فلموں اور ٹی وی پروگراموں پر تبصرے کر تے ہیں۔ برطانیہ میں سوسائٹی آف کلچر اینڈ ہیرٹج کے تحت کام کرنے والی ایسٹ فلم اکیڈمی میں اداکاری اور سکرپٹ رائیٹنگ پر لیکچربھی دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے اردو میں ڈائریکشن کے موضوع ایک کتاب تتلی کاشاٹ کے نام سے بھی تحریر کی ہے

Leave a Reply