اُبُراکو (سوراخ)

Spread the love

’’اُبُراکو‘‘ پُرتگالی زبان میں سانپ کے بل نما اُس سوراخ کو کہتے ہیں جس میں سے کھیتی کا پانی رِس کر ضائع ہو جاتا ہے۔ آج اس لفظ کو میں نے اپنا موضوعِ سخن بنایا ہے۔ کہانی اچھی لگے تو کمنٹ ضرور کیجئے گا۔

جب میں چھوٹی سی تھی تب میں اپنے آبائی گاؤں میں رہتی تھی ۔ یہاں کاشت کاری کا سب سے بڑا ذریعہ بارش کے پانی پر تھا۔ لوگ مہینوں حتی کہ سالوں انتظار کرتے کہ کب بارش ہو گی اُن کی زمینیں سیراب ہو جائیں گی اور وہ اپنے گزربسر کے لیے کاشت کاری کر سکیں گے۔ اگر کچھ سالوں تک بارش نہیں ہوتی تو لوگ پیسے اکٹھے کرکے کوئی گائے وغیرہ خرید کر ذبح کر کے خیرات کرتے اور بارش کے لیے دُعا کرتے۔

جب بھی بارش ہو تی یہاں سیلاب آنے کا امکا ن ہوتا تو لوگ اپنا اپنا بیلچہ اُٹھا کر کھیتوں کی طرف نکل جاتے۔ سب سے پہلے کھیتوں کی طرف آنے والے پانی کا راستہ صاف کرتے تا کہ پانی آسانی کے ساتھ کھیتوں کی طرف آنکلے۔ پانی کا راستہ ایک یا دو کلومیٹر یا اُس سے زیادہ بھی ہوتا تھا۔

اصول تو ہر جگہ یہی ہوتا ہے جس کا کھیت پہلے آتا پانی بھی سب سے پہلے اُسے حاصل ہوتا۔ سیلاب کے پانی پر تو بھروسہ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ دن یا رات کسی بھی وقت آسکتا ہے۔ چونکہ لوگوں کی زندگی کا دارومدار سیلاب کے پانی پر تھا اس لیے وہ ہر مشکل گھڑی کے لیے تیار رہتے۔

جب بھی کوئی زمین دار کھیت پر پانی باندھتا تو وہ سارا دن یا ساری رات پانی کا خیال رکھتا کہ کہیں کسی جگہ سے پانی نہ نکل جائے۔ سب سے زیادہ خطرہ اُبُراکو یعنی چھوٹے سوراخوں کا ہوتا۔ زیادہ تر پانی ان سوراخوں کی وجہ سے ضائع ہو جاتا۔ اس لیے زمیندار کو دن یا رات پانی پر پہرا دینا پڑتا۔ کہ کہیں پانی اُبُراکو سے اپنا راستہ نہ بنا لے۔ جس کی وجہ سے وہ کھیت کے ہر طرف چکر لگاتا تاکہ پانی کو محفوظ بنا سکے۔

بہت سے ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ لوگ کھیتوں پر پانی باندھنے کے بعد اپنے گھروں کو چلے جاتے اور بدقسمتی سے پانی ایسے اُبُراکو سے اپنا راستہ بنا لیتا تو کھیت کا سارا پانی نکل جاتا جس کی وجہ سے زمین دار کی ساری محنت ضائع ہوجاتی اور اس کا کھیت پانی کے ہوتے ہوئے بھی خشک یعنی بنجر رہ جاتا۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم لوگ کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں اور جب اس مقصد کے قریب پہنچتے ہیں تب ہم لاپرواہی کا شکار ہوجاتے ہیں کہ ہم نے مقصد حاصل کر لیا مگر ہم ان اُبُراکو کی طرف بالکل توجہ نہیں کرتے کہ جن کی وجہ سے مقصد کے قریب ہوتے ہوئے بھی اسے گنوا سکتے ہیں اور کئی سالوں کا مقصد ضائع ہو جاتا ہے۔

کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی ایک مقصد کے پیچھے پڑتے ہیں اور سار ا وقت اسی پر لگا لیتے ہیں اور ہما ری توجہ ہمارے ارد گرد کی چیزوں یا رشتوں سے ہٹ جاتی ہے جن کو سنوارنے کے لیے کئی سال بیت چکے ہوتے ہیں۔

ہم کبھی یہ نہیں سوچتے کہ اس کھیت کی طرح جس کے مالک نے اسے اہم موقع پر چھوڑ کر چلا گیا تھا اور اس کا سارا پانی اُبُراکو کی وجہ سے نکل کر کھیت کو ویران کر گیا تھا۔ ہر سہولت کے ہوتے ہوئے بھی ہماری زندگی ویران ہو سکتی ہے۔

ہماری زندگی میں ایسے اُبُراکو بہت زیادہ ہوتے ہیں جن پر توجہ نہ دینے سے ہمیں بہت سے مسائل کا سامنا کر نا پڑسکتا ہے۔ ہم لوگ نئی چیزوں کو پانے کی چکر میں اپنے پاس موجود چیزوں کی اہمیت گنوا بیٹھتے ہیں۔
زیادہ کمانے کے چکر میں اپنے پاس پہلے سے موجود رقم بھی کھو سکتے ہیں۔ ذاتی مفاد کے چکر میں اپنی دوستی اور رشتہ داری بھی کھو دیتے ہیں۔

دُعا ہے کہ ہر انسان اس اُبُراکو سے محفوظ رہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply