اردو کے اہم ڈرامہ نگار 1980 کے بعد

Spread the love

مضمون نگار : قرۃ العین

جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی

اردو اصناف ادب میں ڈراما ایک مقبول صنف ہے۔ عالمی سطح پر جس کی تاریخ دو ہزار سال پرانی بتائی جاتی ہے۔ جس میں اس نے کئی ملکوں کا سفر کیا۔ طرح طرح کی زبانوں کا مزہ چکھا۔ رنگ برنگ پردوں اور اسٹیج کے عجیب عجیب مناظر دیکھے۔ سین سینری کی آرائش اور زرق برق لباس کی زیبائش سے گزر کر کتاب اور الفاظ کی قید میں بند ہوا۔ ان دو ہزار سالہ طویل تاریخ میں اُردو ڈراما کی صرف ایک صدی کا ذکر آتا ہے۔ 

اُردو ادب میں جس وقت ڈرامے کی بنیاد پڑی اس وقت ملک کی فضا سازگار نہ تھی۔ لکھنؤ کا شاہی اسٹیج ہو یا اندر سبھا کا عوامی اسٹیج۔ ڈرامے کو اس کے فنی اقدار پر پرکھ کر اس کی فکری و فنی صلاحیت کا لحاظ کیے بغیر پیش کر دیا گیا۔ یعنی جس اسٹیج پر ڈرامے کی بنیاد رکھی گئی اس کا مقصد صرف اور صرف ناچ اور گانے کی محفل آراستہ کرنا تھا۔ اس لیے پیش کش کی کوئی واضح تکنیک کا سراغ نہیں ملتا۔ ابتدا میں اُردو ڈراما کے عدم فروغ کی ایک وجہ عام طور پر اُردو کے ادیبوں کا شامل نہ ہونا تھا۔ اس لیے کہ وہ اسے اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آخری دور تک وہ لوگ ڈراما نگاری کو خلاف تہذیب سمجھتے تھے۔ لیکن اب صورتِ حال تبدیل ہو چکی ہے اور اُردو ڈراما ایک مقبول عام صنف کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ 

اسّی(80) کے بعد دوسری زبانوں کے مقابلے اُردو میں اسٹیج ڈرامے کم ہیں لیکن ڈرامے کی مقبولیت نے اُردو زبان کو متاثر کیا ہے اور اب اُردو میں ڈرامے اتنے بھی کم نہیں ہیں جتنا کہ سمجھا جاتا ہے۔ اُردو ڈرامے کے ارتقا میں خاص طور پر اسّی کے بعد تھیٹر اور اسٹیج نے اہم کردار ادا کیا۔ تکنیکی سطح پر مشرقی روایت کے ساتھ مغربی تکنیک کو بھی اپنانے کی کو شش کی ہے چنانچہ آج کا تھیٹر مشرق کی تہذیبی روایت سے اپنا تعلق رکھتے ہوئے موجودہ زمانے کے ذہن و فکر سے کافی مطابقت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے ہندوستانی ڈرامے کو مزید تقویت ملی اور اس طرح بہت سارے اُردو کے ڈراما نگار سامنے آئے اور اُردو کے متعدد ڈراما گروپ کو بھی پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ 

1980 کے بعدکا عہد اُردو ڈرامے کی تاریخ کا ایک اہم دور ہے۔ کئی اہم ڈراما نگاروں نے شاہکار ڈرامے لکھے اور کھیلے گئے۔ ان تمام ڈراما نگاروں اور ان کے ڈراموں پر گفتگو کرنا قدرے مشکل تھا لہٰذا چند اہم ڈراما نگار وں اور ان کے ڈراموں کا انتخاب کرکے اس پر مقدور بھر گفتگو کرنے کی کو شش کی گئی ہے۔ تاکہ اس عہد کے ڈراما نگاروں کی ڈراما نگاری پر روشنی پر سکے۔

اس ضمن میں محمد حسن کا نام سر فہرست ہے۔ ان کا شمار ایسے ڈراما نگاروں میں ہوتا ہے جو 80 سے قبل اور اس کے بعد بھی ڈرامے لکھتے رہے۔ ان کے ڈراموں میں تنوع ہے۔ ایک طرف انھوں نے تاریخی ڈرامے تحریر کیے ہیں تو دوسری جانب علمی و ادبی شخصیتوں پر بھی کئی ڈرامے لکھے۔ علاوہ ازیں حالات کے مطابق سیاسی و سماجی ڈرامے بھی منظر عام پر آئے در اصل ان کے ڈراموں کا بنیاد ی موضوع باطنی اور بیرونی دنیاؤں کے باہمی رشتے کی تلاش ہے۔ ان کے ڈراموں میں نہ خارج سے دامن بچایا جا سکتاہے نہ باطن سے۔ ان کے تخلیق کردہ ڈرامے کی ایک طویل فہرست ہے۔ ان میں ’مور پنکھی‘، ’داراشکوہ‘، ’اکبر اعظم‘، ’تماشااور تماشائی‘، ’کہرے کا چاند ‘ اور ’ضحاک‘ وغیرہ کافی اہم ہے۔ محمد حسن کے ڈراموں میں ضحاک سب سے زیادہ مشہور اور متنازع ڈراما ہے۔ اس ڈرامے کوان کے فن کا کامیاب ترین نمونہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ ڈرامے میں ایک ظالم اور جابر بادشاہ کی کہانی کو عصری تناظر میں رکھتے ہوئے اسٹیج کے ترسیلی میڈیم کو بڑی ہنر مندی سے استعمال کیا اور اردو ڈرامے کی روایت کو مزید تقویت دی اور علامتی ڈراما نگاروں کے لیے ایک نئی راہ متعین کی۔ محمد حسن نے علمی و ادبی شخصیتوں سے متاثر ہو کر ’نظیر اکبر آبادی‘، ’میر تقی میر‘ اور غالب کے حالات زندگی پر بھی ڈرامے لکھے۔ 

1980کے بعد اردو ڈراموں کے حوالے سے ساگر سرحدی کا ایک بلند مقام ہے انھوں نے کئی اچھے ڈرامے تحریر کیے۔ ساگر سرحدی کا اسٹیج سے گہرا رشتہ ہے۔ انھوں نے ڈرامے لکھے، ہدایت کاری کی اور فلمی ڈائیلاگ لکھنے کا کام بھی انجام دیا۔ اردو ڈراما نگاری میں سرحدی کا مقام بلند ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ انھوں نے مراٹھی، گجراتی، کنّڑ، تیلگو، پنجابی اور اڑیہ ڈراموں کو ترجمے کے ذریعے اردو میں منتقل کیا۔ 

ساگر سرحدی کے ڈراموں کا مجموعہ ’خیال کی دستک‘ ہے جس میں چھ ایکانکی ڈراماخیال کی دستک،مسیحا، بھوکے بھجن نہ ہوئے گوپالا، مرزا صاحب، ایک بنگلہ بنے نیارا، کسی سیما کی ایک معمولی سی گھٹنا ہے۔ اس کے علاوہ تنہائی، دوسرا آدمی، گرو، ہندوستان ہمارا، عورت، بھگت سنگھ کی واپسی، انٹرنیشنل کلب، راج دربار، دائرہ، ایک شام گزر گئی، زمانہ، دیش، نگڑم، شوالہ، میرے دیس کے گاؤں، احساس کی چبھن، کوئی اکیلا نہیں، اجنبی، ہنگامہ، کفن جیسے ڈرامے بھی ہیں۔ساگر سرحدی کو تھیٹر کے ساتھ فلم سے بھی لگاؤ تھا ان کی لکھی کامیاب فلموں میں کبھی کبھی، وری، کہونہ پیار ہے، لوری، دیوانہ، سلسلہ، تیرے شہر میں، دوسرا آدمی ’چاندنی‘ ہیں۔

سید محمد مہدی 1980 کے بعد سامنے آنے والے اردو کے ان ڈراما نگاروں میں سے ہیں جنھوں نے باضابطہ طور پرڈرامے کو اپنے لیے مخصوص کیا اور ڈرامے کی بہت خدمت کی۔ انھوں نے اس فن کے ساتھ پورا انصاف کیا اور کئی اچھے ڈرامے لکھے۔ جن میں ’غالب کون ہے؟‘ غالب کے اڑیں گے پرزے، منی بائی حجاب، مارے گئے گلفام، اقبال، جان غزل،گاندھی کی لاٹھی اور مرزا غالب وغیرہ ہیں۔اس کے علاوہ مہدی نے ابراہیم القاضی کے لیے یونانی ڈراموں کو اردو روپ بھی دیا۔

بلقیس پروین بحیثیت شاعرہ و افسانہ نگار کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔ انھوں نے ا پنے ادبی سفر کا آغاز شاعری سے کیا۔ ان کی غزلوں اور نظموں کے دو مجموعے ’گیلا ایندھن‘ اور ’شعلوں کے درمیان‘ ہے۔ اس کے بعد انھوں نے افسانے کی طرف رخ کیا اور کئی افسانے لکھے۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ ’ویران آباد گھروں کے‘ منظر عام پر آیا۔ اس کے علاوہ دنیا کی دوسری زبانوں کے نمائندہ افسانوں کو اردو میں منتقل کیا۔ بچوں کی تربیت اور اس کی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہوئے ’دلچسپ‘ نام کی ایک کتاب لکھی۔

بلقیس پروین یوں تو ایک شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں لیکن ڈرامے سے بھی کافی دلچسپی رکھتی ہیں۔ انھوں نے کئی ڈرامے لکھے۔علاوہ ازیں بہت سے اچھے غیر ملکی ڈراموں کے ترجمے بھی کیے۔ ان کا ڈراما ’بجھی ہوئی کھڑکیوں میں کوئی چراغ‘ نہایت اہم ہے۔ اس ڈرامے میں شمالی ہندوستان کے مسلم گھرانے کی تہذیب خاص طور پر آزادی کے بعد کے ہندوستان کا معاشرتی نقشہ پیش کیا گیا ہے۔ تہذیبی اختلاف دکھا کر یکجہتی کا سبق سکھا تا ہے۔ بلقیس نے اپنے فن کے ذریعے سماجی زندگی کے مختلف پہلوؤں مثلاً عورتوں کی کشمکش اور ان کے ذاتی مسائل کے علاوہ غنڈہ گردی و بدحالی،تقسیم وطن کا کرب، انسانی استحصال وغیرہ کو آسان اور سلیس الفاظ میں کردار کی مناسبت سے خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے۔

یوگ راج کا تعلق پیشہ ورانہ طور پر ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے رہا ہے لیکن تھیٹر اور اسٹیج سے بھی لگاؤ اور دلچسپی ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ تھیٹر سے ان کو ایک طرح کی فطری مناسبت ہے۔ اس لیے انھوں نے ریڈیو، ٹی۔وی یا اسٹیج کا جو بھی میڈیم اختیار کیا ان کی کارکردگی لائق تحسین رہی۔

یوگ راج کے اسٹیج ڈراموں کا مجموعہ ’رنگ زندگی کے‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے ریڈیو ڈراموں کا مجموعہ ’آواز کے رنگ‘ بھی شائع ہوچکا ہے۔ ان کا مجموعہ ’رنگ زندگی‘ کے پہلے تین ڈرامے، ’بھٹی‘،’ آخری رات‘ اور’ گونگا ساز‘قیام بمبئی کے دوران لکھے گئے۔

یوگ راج اپنے ڈراموں میں کردار کی زبان سے جو مکالمے ادا کرواتے ہیں ان سے ایک قسم کے کھلے پن کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ زندگی کی زبان بولتے ہیں۔ کتابی زبان اور تصنع آمیز اسلوب سے حتی المقدور اپنے آپ کو محفوظ رکھتے ہیں۔ ان کے مکالموں کی ایک خاص خوبی یہ ہے کہ وہ طویل نہیں ہوتے ہیں۔ ان کے ڈراموں کی کہانیوں سے کردار تخیّلی اور فرضی نہیں ہوتے بلکہ آس پاس کی زندگی سے ماخوذ ہوتے ہیں۔ یوگ راج کو پرتھوی تھیٹر سے وابستگی کے دنوں میں پرتھوی راج کپور کو بہت قریب سے جاننے اور ملنے کا موقع ملا جس سے متاثر ہوکر انھوں نے ایک کتاب ’تھیٹر کے سرتاج پرتھوی راج‘ لکھی۔ جو اردو اور ہندی میں شائع ہوچکی ہے۔ 

جتیندر ناتھ کوشل کی پیدائش 4فروری 1936 کو سرگودھا پاکستان میں ہوئی اور انتقال 19 اپریل 2004 کو دلی میں ہوا۔ 1962 میں نیشنل اسکول آف ڈراما سے ڈپلوماکیا۔ کوشل اردو زبان بہت اچھی جانتے تھے یہی وجہ ہے کہ NSD کے قیام کے بعد کے دنوں میں اسٹیج ہونے والے کئی غیر ملکی ڈراموں کو اردو میں منتقل کیا۔ وہ نیشنل اسکول آف ڈراما کی کئی کمیٹیوں کے متحرک و سرگرم ممبر تھے۔ 

جے این کوشل تھیٹر کے کئی شعبوں مثلاً روشنی، موسیقی، ریکارڈنگ، منظر نگاری، اداکاری اور ہدایت کاری میں بہت ہی ماہر تھے۔ ان کے دوستوں، رفیقوں اور عزیزوں کی کمی نہیں تھی۔ وہ آپسی رشتوں میں بڑے گرم جوش تھے ان کی فکر اور سوچ میں ایک طرح کا کھلا پن تھا۔ انھوں نے کئی ڈرامے لکھے جن میں ہم سفر، ایک سوال، آندھیاں، اور اس کے بعد، تاریک راہیں اور وادیاں اور ویرانہ وغیرہ اہم ہیں۔ اس کے علاوہ کئی مقبول غیر ملکی ڈراموں کے اردو اور ہندی میں ترجمے بھی کیے۔ جن میں دی سینڈ، جے بابا گوپی ناتھ، موت کے سائے میں، الہ دین، آفتاب فیض آبادی، نہلے پہ دہلا، کیا کرے گا قاضی، دلیر ماں، بیگم اور باغی، پناہ گاہ، دن کے اندھیرے وغیرہ۔ انھوں نے رنگ یا ترا جیسی تاریخی کتاب بھی مرتب کی۔ اس کے علاوہ بادل سرکار اور شیو بٹالوی کے لکھے ڈراموں کی ہدایت کاری بھی کی۔

زیر بحث موضوع کے اعتبار ایک اہم نام شیلا بھاٹیا کاہے۔انھوں نے موسیقی، اوپیرا نگاری، تھیٹر فنکاری، ہدایت کاری اور ڈراما نگاری کے میدان میں شاندار کارنامے انجام دیتے ہوئے سیالکوٹ، لاہور، کشمیر اور دلی تک کے سفر کیے۔ اس میں شہرت بھی حاصل کی۔ 1959 میں شیلا نے NSD سے وابستگی اختیار کرلی۔ اسی دوران انھوں نے 49 ڈرامے لکھے اور چھ ڈراموں کی ہدایت کاری کی نیز اداکاری اور موسیقی کے کام بھی انجام دیے۔ ان کے مقبول ڈراموں کی فہرست کافی طویل ہے۔ ان کی پہلی مقبول پیش کش ’کال آف دی ویلی‘ (وادی کی گونج) تھی جس کو 1951 میں پیش کیا گیا۔اس کے علاوہ روکھے کھیت(1953)، ہیر رانجھا (1956)، پرتھوی راج چوہان (1963)، چنن بدلاں دا (1966)، قصہ عورت کا حوّا سے ہپی تک (1972)، نادرشاہ (1977)، ہاسمین (لور کا کے ڈراما پر مبنی) (1978)، جگنی (1978)، درد آئے گا دبے پاؤں(1980)، یہ عشق نہیں آساں (1981) مانسرور(1981)، شہنشاہ اکبر (1983)، سلگتے دریا (1985)، کاغذ کے کینوس(1985)، تیرے میرے لیکھ۔ لور کا کرت بلڈویڈنگ (1985)، عمر خیام۔ جنون راگ ہے(1990)، شبنم (1993)، مقدر (والٹر کی زندگی پر مبنی)(1995)، دھوتی(1977)، میں اور وہ (1999) جیسے مقبول ڈراموں کے علاوہ کئی دوسرے ڈراموں کی بھی ہدایت دی جن میں ’رائی تے پہاڑ (بلونت گارگی 1951) غالب کون ہے(سید محمد مہدی 1971)، جان غزل(سید محمد مہدی 1983)، امیر خسرو (نیاز حیدر 1987)، دروپدی(کمال احمد صدیقی بھارت بھوشن 1983) ہیں۔ اس لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں کہ شیلا نے اُردو تھیٹر کو زندہ رکھنے نیز اسے اپنے تھیٹر کے تجربات سے ہم آہنگ کرنے کی کامیاب کو ششیں کیں۔

1980 کے بعداردو ڈرامے کو جن لوگوں نے ایک نیارخ دیا ان میں جاوید صدیقی کا نام اہم ہے وہ قومی نائب صدر کی حیثیت سے اپٹا سے وابستہ رہے۔ ان کا لکھا ہوا ’تمھاری امرتا‘ سپر ہٹ ڈراما تھا۔ ان کے مقبول ڈرامے آپ کی سونیا، سالگرہ، شیام رنگ، بیگم جان، ہمیشہ، کچے لمحے، اندھے چوہے اور پی کے سیٹھ نے پی کے بولا ہیں۔ ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان میں غیر معمولی تخلیقی صلاحیت ہے۔ وہ کبھی فلم لکھتے ہیں تو کبھی ڈراما اور کبھی ٹی وی سیریل۔ جاوید صدیقی کے تقریبا 25ڈرامے مختلف ڈراما گروپس نے اسٹیج کیے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اردو تھیٹر کی ترقی اور اس کی بقاء کے لیے کچھ اہم تبدیلیوں کی ضرورت ہے جیسے ناٹک کو ایسا ہونا چاہیے کہ ہر جگہ آسانی سے اسٹیج کیا جاسکے۔ یہ آسانی اسٹیج میں ہونے والے اخراجات، کم کاسٹ اور سازو سامان میں شو کرنا شامل ہے۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ جاوید صدیقی کم سے کم کاسٹ اور کردار سازی میں فضول خرچی کے بجائے کفایت سے کام لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ 

جاوید صدیقی نے اردو تھیٹر کو قریباً دو درجن سے زائد ڈرامے دیے ہیں۔ ان کے تمام ڈرامے کے موضوعات عصر حاضر کے مسائل سے تعلق رکھتے ہیں۔ 

1980 کے بعد اگر ہم بنگال کے اُردو ڈرامے پر نظر ڈالتے ہیں تو دو بہت ہی اہم نام اس دور میں نظر آتے ہیں جن کی شناخت بنگال ہی نہیں بلکہ ہندوستانی سطح پر ہے۔ ایک کمال احمد اور دوسرے ظہیر انور۔ کمال احمد نے ڈراموں کی جو فضا تیار کی ہے اس سے ڈرامے کے امکانات کو تقویت ملی ہے۔ ان کے ڈراموں کے کئی مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں۔ انھوں نے بہت ہی مختصر مدت میں چالیس سے زائد ڈرامے تحریر کیے جو کئی مرتبہ اسٹیج کی زینت بھی بنے۔ ان کے ڈراموں کے مجموعے ’کشکول‘، ’مور کے پاؤں‘،’گرداب‘، ’اُلٹی گنگا‘، ’اور ایسا نہیں تھا وہ ‘ہیں۔ اس کے علاوہ ’پد یاترا‘، ’ایک تھا راجا ‘ ’مرض بڑھتا گیا‘،’اور پھر بیاں اپنا‘،’ریلیف ‘، ’کوئی تعبیر نہیں ‘ وغیرہ ڈرامے ہیں۔

کمال احمد کے ڈاموں کی طاقت اس بات میں پوشیدہ نظر آئی کہ ا نھوں نے عام فہم انداز میں سیاسی شعور، سماجی حقیقت نگاری اور طنز یہ مکالموں میں اپنی منفرد راہ بنائی ہے۔ کمال احمد کی کردار نگاری کی اپنی فنی خوبی ہے۔ ان کے ڈرامے کو پڑھنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ اسٹیج کے فن سے پوری واقفیت رکھتے ہیں۔ 

اردو ڈراما اور تھیٹر کوفروغ دینے میں جو لوگ کوشاں ہیں ان میں ایک نمایا ں نام نادرہ ظہیر ببر کا ہے۔ نادرہ نے 1981 میں ایک جٹ کے نام سے ممبئی میں اپنا ایک تھیٹر گروپ قائم کیا۔ انھوں نے ممبئی میں رہ کر اسی کے بینر تلے کئی کامیاب ڈرامے اسٹیج کیے۔ جس کی پہلی پیشکش ’یہودی کی لڑکی‘ تھی جو پارسی تھیٹر کے اسٹائل میں تھا۔ یہ پیشکش بہت عمدہ تھی اور پچھلے 30 سالوں سے ایک جٹ نے متعدد کامیاب ڈرامے پیش کیے جن میں تلچھٹ، راجہ کا سپنا، چرن داس چور، سندھیا چھایا، آؤ پکنک چلیں، چندن پور کی چمپابائی، پنکھ ہوتے تواڑجاتی، انصاف اور نہ نقد نہ ادھار خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

نادرہ نے اس کے علاوہ کئی ڈرامے لکھے اور ہدایت کاری بھی کی جن میں شرافت چھوڑ دی میں نے، دیاشنکر کی ڈائری، سکو بائی، سمن اور سنا، دل ہی تو ہے، اور جی جیسے آپ کی مرضی وغیرہ کافی اہم ہیں۔

عصر حاضر کا ایک اہم ڈراما نگار ہدایت کار اور نقاد ظہیر انور ہے۔ ان کے طبع زاد ڈراموں پر مشتمل ’انگاروں کا شہر‘ (1993)، انتظار اور ابھی، سحر ہونے تک، قیدی، صلیب(1985)، آخری موڑ، نقارہ، فیصلے آسمانوں کے، نئے موسم کا پہلا دن ہیں۔ ان کے ترجمہ کیے ہوئے ڈراموں میں ایک انارکسٹ کی اتفاقیہ موت، نیلامی ایک سلطان کی، چاہوں گا میں تجھے اور شہزادی تورانڈوٹ، سلیم شیروانی کی شادی، انصاف، اور شادی ایک دیوانے کی جیسے ڈرامے شامل ہیں۔ان کے چار ڈراموں کے مجموعے ’انگاروں کا شہر‘ صلیب، فرانسیسی ڈرامے اور نئے موسم کا پہلا دن شائع ہوچکے ہیں۔ ان کی مقبول ٹیلی فلموں میں ’خوابوں کا سویرا‘ ہے۔ ظہیر انور نے اس کی ہدایت کاری کی ہے۔

مجموعی طور پر ظہیر انور کو فن ڈراما پر قدرت حاصل ہے۔ انھوں نے ہندوستانی سماج سے اپنا کردار تراشا ہے۔ جیسے سماج میں ہورہے استحصال، کسانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم، آئے دن ہورہے فسادات، مہنگائی، بے روزگاری اور انسانی استحصال کو ڈراما نگار نے اپنایا ہے۔ ظہیر انور کو زبان پر مکمل دسترس ہے۔ وہ نہایت ہی آسان اور عام فہم الفاظ میں کردار کی مناسبت سے ایسے مکالمے گڑھتے ہیں کہ وہ مکالمہ خود بخود بولتا ہوا نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر اصغر ندیم نے انھیں تھیٹر کی دنیا کا Activist اورنبّاض کہا ہے۔ 

تری پراری شرما کی پیدائش 31جولائی 1956 کو ہریانہ کے کرو کشیتر میں ہوئی۔ 1976 میں دہلی یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں گریجویشن کیا اور ہدایت کاری میں ڈپلوما کی سند نیشنل اسکول آف ڈراما سے حاصل کی۔ وہ ایک مشہور و معروف ڈراما نگار ہیں۔ انھوں نے متعدد ڈراما گروپس سے وابستہ رہ کر بے شمار ڈرامے لکھے اور ہدایت کاری بھی کی۔ ان کے مشہور ڈرامے بہو، کاٹھ کی گاڑی، برسامنڈا، عکس پہیلی، سزا، ریشمی رومال،پوشاک، دائرے اور عزیز النساء، سن ستاون کا قصہ وغیرہ۔ تری پرارا شرما نے بہت سے انگریزی اور ہندی ڈراموں کے ترجمے بھی کیے جن میں ’’اندھایگ اور اوتھیلو(Othello)ہیں۔ 

درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ اقبال نیازی کی پیدائش 10مئی 1960 کو بمبئی میں ہوئی۔ ہندوستان کے دوسرے بڑے شہروں دہلی اور کلکتہ کی طرح ممبئی بھی تھیٹر کے لیے بہت ساز گار شہر رہا ہے۔ اس شہر میں اردو کے متعدد ڈراما نگار ساگرسرحدی، جاوید صدیقی، نادرہ ببر وغیرہ سرگرم ہیں۔ تو دوسری طرف ممبئی اور پورے مہاراشٹر میں اقبال نیازی بھی کردار آرٹ اکادمی کے بینر تلے اپنے لکھے ڈرامے اسٹیج کرتے رہتے ہیں۔

ڈراما اور اسٹیج سے محبت اس قدر بڑھی کہ اب تھیٹر کرنا ان کا محبوب مشغلہ بن چکا ہے۔ پچھلے بیس پچیس برسوں میں اردو کے جن ڈرامانگاروں نے وقت کی نبض کو محسوس کر کے سماج کو بدلنے کی خواہش سے یا پھر مروجہ سماجی ڈھانچے کے چیلنج کوقبول کرتے ہوئے ڈراما لکھا ان میں ایک اہم نام اقبال نیازی کا آتا ہے۔ محمد حسن نے ڈراما ’ضحاک‘ اور کمال احمد نے ’ایک تھا راجہ‘ لکھ کر ایمر جنسی کی لائی ہوئی آفات کا سختی سے احتساب کیا۔ بالکل اسی طرح اقبال نیازی نے اس روایت کی پاسداری کرتے ہوئے اپنا ڈراما ’جلیانوالا باغ‘ تحریر کیا۔ جس کو غیر معمولی کامیابی، پذیرائی اور انعام و اعزاز ملے ہیں۔

اس کے علاوہ ان کا طبع زاد ڈراما ’ہم صرف کمپورمائز کرتے ہیں‘ مہاراشٹر اردو اکادمی کے ڈراما مقابلے میں انعام پاکر ہندی اور مراٹھی میں ترجمہ ہوکر داد پاچکا ہے۔ ان کے لکھے دیگر ڈرامے ’سب ٹھیک ہے‘، ’خصی کرالو‘ اور ’ڈاکو آرہے ہیں‘ وغیرہ اہم ہیں۔آج اردو ڈراما اقبال نیازی کو بڑی پر امید نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ نے حال ہی میں انھیں غالب ڈراما ایوارڈ سے نوازا ہے۔

شاہد انور یوں تو صحافت سے منسلک تھے لیکن ان کا اصل میدان ڈراما تھا۔ ڈرامے لکھنے اور انھیں اسٹیج کرنے کی سرگرمی سے شاہد انور کی دلچسپی پختہ ہوئی۔ دہلی آنے کے بعد پہلے تو انگریزی، ہندی اور اردو کے نامور اور اہم اخبار و رسائل میں مسلسل ڈرامے پر تبصرہ، تجزیہ اور تنقید لکھتے رہے۔ ان کی تنقید زمانے کی رائج تنقید سے مختلف نظر آتی ہے۔

شاہد انورنے اپنی ڈراما نگاری کی شروعات ایڈپٹیشن سے کی۔ انھوں نے اردو کی اہم کہانیوں پر مبنی ڈرامے لکھے۔ جن میں ایک اہم ڈراما شموئل احمد کی کہانی ’سنگھار دان‘ پر مبنی ہے۔ اس ڈرامے کو اردو اکیڈمی دہلی کے ڈراما نگاری مقابلے میں نہ صرف پہلا انعام ملا تھا بلکہ اسے نہایت ہی طمطراق سے پیش کیا گیا تھا اور اسے حبیب تنویر نے اپنی ہدایت میں دوبارہ پیش کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ اس کے بعد کئی اہم ڈرامے منظر عام پرآئے جن میں درج ذیل ڈرامے شامل ہیں: سنگھار دان،فائنل سولوشن،دیکھ تماشا دیکھ، کالے کوے نے کہا،زہر قند،ایک کہانی ایسی بھی،غیر ضروری لوگ،سوپنا کا سپنا،شیرنی نے کہا، ہمارے سمے میں اوربی تھری وغیرہ۔ شاہد انور نے کئی تھیٹر کے میگزین کی ادارت بھی کی جن میں بہروپ تھیٹر ڈائجسٹ شامل ہے۔ اس کا ہر شمارہ ایک خاص موضوع پر مبنی ہوتا ہے یہی اس رسالے کی خوبی ہے۔

موجودہ دور میں ڈاکٹر سعید عالم ایک منفرڈراما نگار، ادا کار، ہدایت کارہیں جو عملی طور پر اس صنف سے وابستہ ہیں۔ موجودہ سماجی اور سیاسی حالات پر ان کی گہری نظر ہے۔ وہ سماج میں ہونے والی تبدیلیوں کو بہت قریب سے دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں اور عہد حاضر کے بدلتے ہوئے سیاسی، سماجی اور اقتصادی حالات کو اپنے ڈراموں کا موضوع بناتے ہیں۔

ڈاکٹر سعید عالم کا دہلی میں Pierrots Troupe نام کا اپنا ایک تھیٹریکل گروپ ہے۔ جس کو 1989 میں اشوک پورن نے قائم کیا تھا۔ بعد میں وہ بمبئی چلے گئے اور تب سے ڈاکٹر سعید عالم اس گروپ کے سکریٹری ہیں۔ انھوں نے زیادہ تر ڈرامے اسی بینر تلے اسٹیج کیے۔ان کے ڈراموں کی ایک لمبی فہرست ہے جو کامیابی سے اسٹیج کیے جاتے رہے ہیں۔ جن میں غالب، مولانا آزاد، غالب ان نیو دہلی، بیگم اختر، رہے نام، زندگی نام ہے جیے جانے کا، تم کو چاہوں کہ نہ آؤ، پڑے گر بیمار، پولیوشن حاضر ہو، غالب کے خطوط، کون سنتا ہے کہانی میری، شریک غالب، لال قلعہ کا آخری مشاعرہ، میں ابو سلیم ہوں، اور 1947 اہمیت کے حامل ہیں۔ڈاکٹر سعید عالم ٹی وی سیریل سے بھی وابستہ رہے ہیں حسرت موہانی، غبار خاطر، جو دل پہ گزری اور غزل اس نے چھیڑی ہے ان کے ہدایت کردہ عمدہ سیریل ہیں۔

مذکورہ بالا ڈراما نگاروں کے علاوہ بھی بہت سے ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جنھوں نے گاہے گاہے اُردو ڈرامے لکھے ہوں گے اور یہ ممکن ہے کہ بعض نام چھوٹ بھی گئے ہوں گے۔ میں نے حتی المقدور 1980کے بعد کے نمائندہ ڈراما نگاروں او راُن کے ڈراموں کو شامل کرنے کی کو شش کی ہے۔ مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ 1980 کے بعد ڈرامے سے وابستہ ڈراما نگاروں نے موضوع او راسلوب کی سطح پر اُردو ڈرامے کے دامن کو وسیع کیا جس کی وجہ سے یہ تمام تخلیقات اُردو ڈرامے کی تاریخ میں اہم اضافے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ سلسلہ ابھی جاری و ساری ہے او ران دنوں بہت سے اچھے اور سنجیدہ ڈراما نگار اپنے طور پر اُردو ڈرامے کی آبیاری کر رہے ہیں۔ 

کتابیات

1۔ مور پنکھی اور دوسرے ڈرامے۔محمد حسن

2۔ اردو تھیٹر کل اور آج۔ انیس اعظمی

3۔ عصری ہندوستانی تھیٹر(اردو ہندی تھیٹر کے حوالے سے): زبیر رضوی

4۔ صلیب(ڈراماقیدی) ظہیر انور

5۔ الفاظ،علی گڑھ،اطہر پرویز

بشکریہ
قومی اردو کونسل

Leave a Reply