دوران ڈیوٹی نرسوں کا موبائل فون بند: نوٹیفیکیشن جاری

Spread the love

پاکستان نرسنگ کونسل کی سفارشات پر من و عن عملدرآمد ہوگا، کوئی رعائیت نہیں ہوگی:کوثر پروین

تمام نرسزکو ہسپتالوں میں صفائی ستھرائی،ڈسپلن،وقت کی پابندی اورریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت

لاہور (صباح نیوز)ڈائریکٹر جنرل نرسنگ پنجاب نے صوبہ بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال کے دوران نرسوں کو موبائل استعمال نہ کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں جبکہ دوران ڈیوٹی نرسیں یونیفارم اور محکمانہ کارڈ آویزاں کرنے کی پابند ہونگی۔ یہ حکم بنیادی مراکز صحت سے ٹیچنگ ہسپتالوں اور نرسنگ سکولوں میں فوری نافذ العمل ہو گا۔

اس سلسلے میں ڈی جی نرسنگ کوثر پروین نے تمام میڈیکل کالجز کے پرنسپلز وایم ایس صاحبان،ضلعی آفیسرز صحت، نرسنگ کالجز و سکولوں کی سربراہان اورنرسنگ سپرنٹنڈنٹس کو نوٹیفیکیشن بھجوا دیا ہے کہ وہ اپنے ماتحت نرسز کو ہسپتالوں، کالجوں اور سکولوں میں صفائی ستھرائی،ڈسپلن،وقت کی پابندی اور با قاعدہ ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کریں اور ضمن میں کہیں بھی کوئی بھی نرمی نہ برتی جائے۔

ڈی جی نرسنگ نے کہا کہ طبی اداروں کا ماحول مریض دوست رکھنے میں نرسز کا بنیادی کردار ہوتا ہے اور یہ فریضہ وہ اُسی صورت سر انجام دے سکتی ہیں اگر وہ طے شدہ قواعدو ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کریں۔ ڈائریکٹر جنرل نرسنگ کوثر پروین نے مزید کہا کہ پاکستان نرسنگ کونسل کی سفارشات پر تمام نرسز کی جانب سے من و عن عملدرآمد ہوگا اور کہیں کسی سے کوئی رعائیت نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ نرسنگ کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس میں فرائض سر انجام دینے والی خواتین دکھی انسانیت کی خدمت جیسے اعلیٰ مشن کی تکمیل کرتی ہیں۔

اس ڈیوٹی کے دوران میڈیا میں آنے والی شکایات کے مطابق موبائل فون کا بے جا استعمال دیکھا گیا ہے جو کسی صورت بھی قابل برداشت نہیں،انہوں نے کہا کہ وہ اس بڑے اقدام کیلئے مجبور ہیں اور اگر اس ہدایت کے باوجود کہیں کوئی شکائیت پائی گئی تو محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اور میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو قواعدو ضوابط کے مطابق شکایت کی جائے گی تاکہ متعلقہ نرس کے خلاف ضابطے کی کاروائی عمل میں لائی جا سکے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ خود اور ان کی ٹیم ہسپتالوں اور سکولوں کا اچانک جائزہ لیں گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ڈاکٹروں کے موبائل فون پر پابندی عائد کی گئی تھی مگر اس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں کرایا جا سکا آپ جس بھی ہسپتال جائیں وہاں ڈاکٹر اور دیگر عملہ کسی نہ کسی طرح موبائل فون پر مصروف ہی ملے گا یہاں تک کہ مریض کو بیٹھا دیا جاتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب فارغ ہو کر دیکھیں گے اور یہ صورتحال ایمرجنسی وارڈ میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ پاکستان میں حکمران و اعلی عہدداران کی پھرتیاں بہت دیکھنے کو ملتی ہیں اور نوٹیفیکیشن بھی مگر ان قواعد پر عملدرآمد نہیں ہوتا

Leave a Reply