سیلفی (شاکرہ نندنی کے قلم سے ایک شائستہ تحریر)

Spread the love

ہم نے دیکھا ہے کہ عورتیں دنیا کے ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں فنی مہارتیں ہوں یا علم و ادب ہر کام میں عورتیں برابر کھڑی ہیں مگر مزاح نگاری میں عورتوں کا وجود و ورود کم کم ہی ملتا ہے خاص کر اردو ادب میں تو اس کا بہت ہی فقدان ہے۔ اس بارے میں ایک مذاکرے کے دوران ایک خاتون ادیبہ سے سوال کیا گیا کہ خواتین مزاح نگار کم کیوں ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ عورت کی سب سے بڑی مزاحیہ تخلیق مرد جو ہے اب وہ اس سے زیادہ مزید کیا مزاح پیش کرے۔ مگر شاکرہ کا خیال ہے کہ مزاح نگاری کسی بہت ہی سنجیدہ انسان کا کام ہوتا ہے وہ کبھی کبھی مزاح لکھتی ہیں اس سے ہرگز یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کے ہاں سنجیدگی بہت کم پائی جاتی ہے۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ گذشتہ برس آکسفورڈ ڈکشنری نے سال کا سب سے بہترین لفظ کسے قرار دیا تھا؟ ذرا سوچئے ہوسکتا ہے کہ وہ آپ کی پسندیدہ ترین عادت بھی ہو، کچھ ذہن میں نہیں آتا تو چلیں اپنا اسمارٹ فون نکالیں اور اپنی تصویر کھینچ لیں تو یہی ہے وہ لفظ یعنی سیلفی۔ جی ہاں، جدید عہد کے نوجوانوں کا پسندیدہ ترین مشغلہ جو اب ہر عمر کے افراد کی پسند بن چکا ہے۔

یہ وہ لت ہے جو اس وقت بلا تفریق مذہب و رنگ و نسل دنیا بھر کے لوگوں کو لگ چکی ہے. خود کو ہیرو سمجھنے والے بچے، نوجوان، جوان اور بڈھے بابے منہ کے طرح طرح کے زاویے بناتے ہوئے موبائل ہاتھ میں لے کر اپنی تصویریں کھینچتے اور سماجی رابطوں کے برقی صفحات پر شیئر کرتے نظر آتے ہیں بظاہر ان کا مقصد دنیا کو اپنے حسن سے متاثر کرنا ہوتا ہے لیکن درحقیقت ان کے دماغ میں کیا کیڑا ہوتا ہے، وہی بہتر جانتے ہیں

اسی طرح وہ حسن کی دیویاں جو اپنا حسن چھپانا بھی چاہتی ہیں اور رہ بھی نہیں سکتیں، وہ اپنے چہرے پر گھنی زلفوں کا سایہ کر لیتی ہیں تاکہ لفنگوں اور دل پھینک عشاق کی نظرِ بد سے محفوظ بھی رہ سکیں اور اپنا شوق بھی پورا کر سکیں. نقاب پوش حسینائیں بھی سیلفی کی بے حد دیوانی پائی گئی ہیں، سر کٹی سیلفی بھی ان کی ہی ایجاد ہے

سیلفی لینے کی سب سے مشہور جگہ باتھ روم ہے جہاں پہلے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی تصویر کھینچی جاتی ہے، پھر دیگر ضروریات سے فارغ ہو کر دوبارہ اپنی تصویر کھینچی جاتی ہے اور پھر دونوں تصاویر کا موازنہ کر کے جو زیادہ اچھی لگے، اسے فیس بُک یا ٹوئٹر پر پوسٹ کر دیا جاتا ہے۔ بسا اوقات حسن یوں بیتاب ہوتا ہے کہ اس کے ذہن میں کچھ اور ہی سمایا ہوتا ہے جس کے بارے میں خود انہیں بھی معلوم نہیں ہوتا اسی اجلت میں کئی بار باتھ روم میں لی گئی سلفی پر لوگ مطلع کرتے ہیں کہ اے نیک بخت اپنے تئیں حسینۂ عالم جب آپ اپنے وائٹ ہاوس میں عکس خود یعنی سلفی لیں تو عقب سے صابن، تولیہ اور زنانہ زیر جامہ وغیرہ ہٹانے سے عافیت بنی رہے گی۔

بعض لوگوں کے بازو چھوٹے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ صحیح طریقے سے سیلفی نہیں لے سکتے کیونکہ کیمرہ زیادہ نزدیک ہونے کی وجہ سے تصویر میں ان کا منہ بہت بڑا آتا ہے اس اہم مسئلے کا حل سائنس دانوں نے سیلفی اسٹک ایجاد کر کے نکال لیا ہے. یہ ایک چھڑی ہوتی ہے جس کے ایک سرے پر کیمرے والا موبائل اور دوسرے سرے پر چھوٹے بازوؤں والا کارٹون کھڑا ہوتا ہے

انسان کی اس عادت خیر سے یوں معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے کہ اس سلسلہ میں سائنس دان اپنا کام کار چھوڑ کر اس کے پیچھے لگ گئے اور اپنی دانش و حکمت کے گھوڑے دوڑائے اور ہمیشہ کی طرح انہوں نے نتائج کا اعلان اپنے خیال سے شروع اور یوں گویا ہوئے کہ سیلفی کی عادت درحقیقت انسان کے اندر چھپی خودپرستی کی علت کو ظاہر کرتا ہے اور یہ چیز ان کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ اس سے ایک بات یہ بھی ثابت ہوئی کہ سائنسدان ہماری طرح فارغ نہیں ہوتے اور ان کو ٹی وی و اخبار سے کوئی رغبت نہیں ہوتی اگر وہ ان چیزوں سے سامان راحت کرتے تو یہ ہرگز نہ کہتے کہ نقصان دہ ہو سکتا ہے کیونکہ ٹی وی یا اخبار سے ان کو معلوم ہو جاتا کہ خیر سے سلفی کے کارِ مفید اعظم نے اب تک بےشمار قیس و لیلائیں جنت کو روانہ کر دی ہیں۔

Leave a Reply