تہی دست (افسانہ) صباممتاز بانو

Spread the love

’’زندگی اکیلے رہنے سے نہیں، کسی کے ساتھ سے حسین ہوتی ہے‘‘

یہ مشہور فقرہ اس نے پہلی دفعہ نہیں سنا تھا یہ تو کئی لوگ اسے کہہ چکے تھے کہ زندگی کا مزہ اکیلے پن میں نہیں مگر جب یہ فقرہ اس نے کہا تو اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ اس طرح کے فقرے بول کر دراصل وہ اسے سمجھاتا تھا کہ ’’وہ اس سے شادی کرلے۔‘‘ اسے پتہ تھا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے بے شک ضرورت کے لبادے میں لپٹی ہوئی مگر تھی تو محبت، بقول اس کے دنیا کی کوئی عورت اسے اس طرح مطمئن نہیں کرسکی تھی۔

وہ کہتا تھا کہ تم ان عورتوں میں سے ہو جن کے لیے مرد حورانِ بہشت کو ٹھکرا سکتا ہے۔ وہ عورت جسے مرد کے لیے تحفہ کیا گیا ہے وہ تم جیسی ہی ہوتی ہیں۔
اس کا اسے ان عورتوں جیسا کہنا بھی اپنی توہین لگتا تھا کہ وہ خود کو کسی جیسا نہیں سمجھتی تھی کہ وہ تو بس ایک تھی، اس جیسی کوئی اور نہیں ہوسکتی تھی۔

یہ بات نہیں تھی کہ اسے تعریف اچھی نہیں لگتی تھی۔ تعریف کسے اچھی نہیں لگتی اور وہ بھی عورت کو۔ اگر کوئی عورت یہ کہتی ہے کہ اسے تعریف پسند نہیں تو وہ صریحاً جھوٹ بولتی ہے اس لیے کہ خود کو منفرد کہلوا سکے،عام روایتی عورت سے الگ سوچ کی حامل عورت۔ تعریف تو عورت کے سر پر ایسا چڑھ کر بولتی ہے کہ اس کے دماغ کو ہپناٹائز کر دیتی ہے۔ وہ سحر زدہ ہو کر بس بار بار ستائشی کلمات،اپنی مداح سرائی اوردوسر وں کی داد دیتی ہوئی نگاہوں کو دماغ کی پردہ سکرین پر دہراتی رہتی ہے۔ تعریف کے بل پر عورت کو لوٹا جاسکتا ہے۔

اسے بھی تعریف اچھی لگتی تھی مگر اس تعریف کے بدلے وہ کسی کم تر بندے سے شادی نہیں کرسکتی تھی۔ پل دو پل کا ساتھ یا پھر کچھ سرور بخش لمحات یا پھر ایک رات کی بات، رات گئی بات گئی…… ضرورتوں کی سولی پر چڑھنے کا مطلب یہ نہیں کہ خواہشوں کی سیج بھی اسی سولی پر سجا لی جائے۔

وہ اسے سمجھاتا رہتا تھا کہ ’’عمر گزر رہی ہے۔ جلد شادی کرلو‘‘۔ وہ اس سے عمر میں بڑی تھی مگر وہ کہتا تھا کہ مجھے پروا نہیں،تم اس عمر میں بھی ایک حسین عورت ہو،تم سے شادی میرے دل کی آواز اور میرے جسم کی پکار ہے جو تم بن سکون نہیں پاتا۔مجھے کوئی پروا نہیں کہ تم تیس سے اوپر کی ہو۔

جب وہ یہ کہتا تھا کہ اسے پروا نہیں تو وہ زہر خند ہونٹوں پر سجائے اس پر طنز کرتی۔

’’تم نہ تو تعلیم یافتہ ہو، نہ خوبصورت اور نہ تمہارے پاس دولت ہے۔‘‘

’’مجھے تم سے شادی کیوں کرنی چاہیے؟ کیا مجھے اپنے معیار سے اتنا نیچے گر جانا چاہیے۔‘‘

’’اس لیے کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ بے انتہا محبت……‘‘ وہ ہر دفعہ اپنے دعوے پر اصرار کرتا اور وہ ہمیشہ کی طرح اس کے دعوے کا مذاق اڑاتی۔
’’محبت ایک لفظ ہے مگر اس ایک لفظ کو ثابت کرنے کے لیے کئی جتن کرنا پڑتے ہیں۔ بہت سے پا پڑ بیلنا پڑتے ہیں… رانجھا، مجنوں، فرہاد، پنوں، رومیو، اپنی محبوبائوں کے لیے سب نے کشٹ کاٹے ہیں، تم کشٹ کاٹنا تو دور کی بات آج تک میرے کسی کام نہیں آئے۔ اخلاقی، مالی کسی بھی لحاظ سے میری کوئی مدد نہیں کی۔ محبت کی ابتدا کیئر Care سے ہوتی ہے تمہاری محبت کی ابتدا بھی ضرورت ہے اور انتہا بھی ضرورت۔ تمہاری ضرورتوں کی دنیا تمہاری عمر سے زیادہ ہے۔ اس خانے کو ہمیشہ تم نے پر رکھا اور دیوار پر محبت لکھ دیا۔ چونا کی ہوئی دیوار پر رنگ و روغن سے محبت لکھ دینے سے کوری اینٹ پر کندہ ضرورت کو تم چھپا نہیں سکتے۔ بعض دفعہ ظاہری چیزیں نگاہوں سے اوجھل رہتی ہیں اور پس پردہ چیزیں واضح ہو جاتی ہیں‘‘۔

اس کی بات سن کر وہ سر پٹختا اور چلانے لگتا، ’’ہاں ہاں تمہیں کبھی میری محبت کا یقین نہیں آئے گا، تم ایک متکبر، خود سر اور خود پسند عورت ہو۔‘‘ وہ اس پر الزام تراشی شروع کردیتا… وہ اس کی محبت کے دعویٰ کو پرکھنے لگتی،کیا سچ تھا؟… کیا جھوٹ؟… جھوٹ، اس کی محبت جھوٹ ہے۔ کتنے تکلیف دہ دن گزارے تھے اس نے، جب اسے پیسوں کی ضرورت تھی، انشورنس جمع کراتی تھی۔ گھر کی تعمیر کے لیے، داخلے کے لیے پیسوں کی ضرورت،گھر کے ا خر اجات اپنی جگہ ایک بوجھ تھے،اس نے تو اس کا کوئی بھی بوجھ بانٹنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

وہ تھاکہ بس محبت محبت کا راگ الاپ کر اپنا من ہلکا کر لیتا… جیب ہلکی کرنے کو وہ تیار نہیں تھا۔
اس کا ایک ہی جواز وہ قرار دیتا کہ اس کی جیب میں کچھ تھا ہی نہیں… وہ تہی داماں تھا۔ یہ بات تو وہ بھی جانتی تھی کہ وہ بقا کے دور سے گزر رہا ہے۔’’دیکھا، ایک دن میں سیٹل Settle ہو جائوں گا، تب میں نہ صرف تمہاری ضرورتیں پوری کروں گا بلکہ اپنی خواہشیں بھی… اس کی تمنائیں کیا تھیں؟

’’تمہارے بزنس میں تمہاری مدد، تمہیںایک گاڑی کا تحفہ اور اور……‘‘(اس سب کے بدلے میں سال میں ایک دفعہ کا ساتھ)
وہ ہنس دیتی، کئی بار تو اس نے کہا تھا کہ میں نے تمہاری برتھ ڈے پر چاندی کا لاکٹ بننے دیا ہے، فلاں بوتیک سے سوٹ خریدنے چلیں گے، گھر کے لیے مچھلی کا ٹوکر الے کردوں گا (جی بھر کھانا… اور اس دفعہ کے سیزن میں حاصل ہونے والی آمدنی میں سے سونے کا سیٹ، پتہ نہیں کتنے تر پ کے پتے پھینکتا تھا وہ۔

اتنی ساری باتیں کرنے والا اس کی برتھ ڈے پر ایک معمولی سا کیک لے کر نہ آ سکا،اپنی بہن کی شادی پر مٹھائی کا ڈبہ تک نہ دے سکا، اس کی ہر بات جھوٹ تھی… خود کو برتر ثابت کرنا، کبھی ناممکن ارادوں کا اظہار کرنا۔

وہ خود اب تک اسے کتنے تحائف دے چکی تھی۔اس کی ماں بہنوں کے لیے سوٹ اور اس کی بہن کی شادی پر تحائف۔ اس کی سالگرہ پر اس کا پسندیدہ پرفیوم،کیک اور ڈھیروں کتابیں جو اس کو تبصرے کے لیے ملتی تھیں۔اس نے وہ بھی اسے گفٹ کر دیں تاکہ وہ کچھ پیسے بنالے۔

وہ تھا کہ فقیری ظاہر کرتا رہتا۔وہ سب سمجھتی تھی، ثبوت وہ دے نہیں سکتا تھا کیونکہ ثبوت اس کے پاس تھا نہیں… صاف گوئی سے اسے چڑ تھی… صفائی کے لیے اس کے پاس تھا کچھ نہیں… بزدل وہ انتہا کا تھا۔ اس میں خوبیاں بھی تھیں، مہمان نواز تھا، ملنسار تھا، باصلاحیت تھا، باشعور تھا مگر اس کی خامیاں اتنی شدید، اتنی بدصورت اوراتنی کریہہ تھیں کہ لگتا تھا جیسے کراہت بن کر اس کے چہرے پر چپک گئی ہوں، تبھی تو اس کے چہرے پر ٹپکتی تھیں۔

وہ پہاڑوں جیسے دعوے کرتا اور زمین پر سر نگوں ہو جاتا۔… آسماں سے برستے اولے جیسے زمین پر گر کر اپنا وجود کھو دیتے ہیںمگر شرمندگی اس کی نگاہوں میں پھر بھی رتی بھر نہیں ہوتی تھی۔ دعوے کرنے والے اکثر ڈھیٹ ہوا کرتے ہیں کیونکہ انسان تو سراپا کوشش ہے لگن ہے، سعی ہے، محبت ہے، انسان کے اپنے اختیار میں جب کچھ بھی نہیں تو پھر دعوے کیوں……؟ ۔’’ہم نے یہ کہہ دیا، ہم نے وہ کر دیا،ہم یہ کریں گے، ہم وہ کریں گے‘‘… خدا کی ہم مر تبگی کا شعار بھلا انسان کو کہاں زیب دیتا ہے؟

پہلے وہ اس کی باتیں سن کر جرح کرتی تھی کیونکہ ایک آس من میں ہلکورے مارتی تھی کہ شاید وہ سچا ہو،اپنی باتوں پر کسی دن پورا اتر جائے جیسے کھوٹا سکا بھی کبھی کام آجاتا ہے۔

پھر اس کی عملی کجی کو دیکھ کر طنز کرنے لگی اور پھر آہستہ آہستہ اس نے چپ سادھ لی۔

ایک جھوٹے شخص سے کیا ٹکرانا… وہ بھی پرلے درجے کا جھوٹا، دوغلا اور منافق جس کی کوئی زبان نہیں تھی۔

وقت جوں جوں گزر رہا تھا۔ اس کا فضا سے شادی کے لیے اصرار بڑھ رہا تھا۔

ادھرفضا کے اندر کا اضطراب بڑھ رہا تھا… سمجھ نہیں آتا تھا کہ وہ کیا کرے کیا عمل سے تہی یہ شخص شادی کے لائق ہے، کیا اس کی بیوی بن کر وہ سکھی زندگی گزار سکے گی… وہ خود سے سوال کرتی اور اس کا دماغ اس کے سوال کا تجزیہ کر کے جواب دیتا ’’نہیں… نہیں… نہیں‘‘ دل اس کے معاملے میں تو کبھی دماغ سے ٹکرایا ہی نہیں تھا کیونکہ دل میں وہ کبھی جگہ نہیں لے پایا… دل نے اگر کبھی کسی کونے کھدرے میں اسے جگہ دی بھی تو اس کی حرکتوں کے باعث دل کو اسے نکالنا پڑا… آخر مالک تو دل تھا،… رکھے یا نہ، وہ کیا کرسکتی تھی۔

’’مجھے تم سے شادی نہیں کرنی…… تم جو مرضی کرلو۔ میں تم سے شادی نہیں کرسکتی۔‘‘ ہمیشہ وہ اس کے اصرار پر اس کو ٹھکرا دیتی لیکن کب تک وہ اس کا انتظار کرتا ؟ وہ ضرورت کا پجاری تھا بن عورت زندگی کو بے کار سمجھتا تھا۔

گھر والوں کے اصرار پر شادی کے لیے تو وہ کب کا مان چکا تھا؟ بس فضا کے سامنے پر چار کرتا رہتا کہ’’ دیکھو شادی ہوتی ہے یا نہیںویسے بھی ابھی تو بس بات چلی ہے، کشیدگی رہتی ہے، کب رشتہ ٹوٹ جائے کب سب ختم ہو جائے‘‘۔…… اسے اپنے ساتھ نتھی رکھنے کے لیے چالاکیوں کا سہارا لیتا یا پھر ایک آس کہ شائد وہ شادی کے لیے مان جائے۔

فضا تو خود چاہتی تھی کہ وہ شادی کرلے بھلا مرد بھی تجرد کی زندگی گزار سکتا ہے۔ وہ جانتی تھی کہ جوگ کا روگ مرد کے بس کی بات نہیں۔ پھر اس کی شادی کا دن آ پہنچا۔

’’جنوری میں اس کی شادی تھی، وہ اتنی دور گائوں شادی میں شرکت نہیں کرسکتی تھی۔ اس نے گفٹ لیا، سلامی کو لفافے میں ڈالا اور اس کے آفس پہنچ گئی۔… اگر آج بھی اس نے محبت کا اظہار کیا اور اس کے پائوں کو پکڑ کر رو دیا تو… شاید آج وہ ہار جائے اس کی محبت کے سامنے،آج وہ مان جائے اور اس سے شادی کے لیے ہاں کردے۔

انہی سوچوں میں غلطاںاس نے اس کے آفس کا دروازہ کھولا تو اسے اچانک سامنے دیکھ کر وہ بوکھلا گیا ’’وہ اپنے ایک دوست کو بارات،ولیمے کا سوٹ اور د یگر چیزیں دکھا رہا تھا

سب قیمتی تھے‘‘‘ ایک سے بڑھ کر ایک……

اتنے میں فون آگیا۔

’’او اچھا بھائی کو بھیجو، پچاس ہزار لے جائے۔ اپنی پسند کے کپڑے بنالو، بعد میں اور پیسے بھی دے دوں گا‘‘۔
غالباً اس کی منگیتر کا فون تھا۔

’’یار فرصت ہی فرصت ہے تمہارے لیے،بھابھی کے ساتھ آجائو رنگ محل یا اچھرہ چلتے ہیں، جیسے کہوگی، شاپنگ کرا دوں گا۔‘‘اس کی ہونے والی بیوی اس کے ساتھ شاپنگ کرنا چاہ رہی تھی۔

کتنے اعتماد سے بول رہا تھا وہ……

اب اس کے پاس اس کی بیوی کے لیے فرصت بھی تھی اور پیسے بھی۔ ہونے والی بیوی پر پیسہ خرچ کیا جارہا تھا… اور جسے محبوبہ کا مقام دیا۔جس کو اتنے سال بیوی بنا کر رکھااور

بیوی کا تصوراتی روپ دیا، اس کے لیے وہ کنگال رہا۔

انار کلی، رنگ محل، اچھرہ،اس کے لیے سب سے انجان تھا وہ، سارے گمان ٹوٹ گئے۔وہ بہت خوش بھی تھا۔

آج فضا نے سب جان لیا تھا۔ آج بھی اس نے محبت کا دعویٰ کیا مگر آج یہ دعوی بالکل بے جان تھا کیونکہ اب اس میں سے ضرورت بھی نکل گئی تھی۔ وہ تہی دست نہیں، اس کا دل اس کی محبت سے تہی تھا۔ فضا نے ایک نظر اس کے سوٹوں پر ڈالی دوسری اس کی جیب سے جھلکتے ہوئے والٹ پر… وہ محبت کے دعوے میں تہی داماں نکلا تھا…ثبوت مل گیا تھا۔ اس نے اپنا پرس اٹھایا۔ کمرے میں تھوکا اور باہر نکل گئی۔ جیب سے جھلکتا والٹ اور والٹ سے جھلکتے نوٹ اس کی ڈبڈبائی آنکھوں کے سامنے ناچ رہے تھے

۔

Please follow and like us:

Leave a Reply