27 جون کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1940ء سوویت فوج نے رومانیہ پر حملہ کیا

1941ء رومانیہ میں 13،266 یہودیوں کو قتل کر دیا گیا۔

1946ء کینیڈا میں کینیڈین شہریت کی تعریف مقرر کی گئی۔

1954ء ماسکو کے قریب پہلے ایٹمی پاور پلانٹ نے کام شروع کیا۔

1967ء دنیا کی پہلی اے ٹی ایم مشین لندن میں لگائی گئی۔

1974ء امریکی صدر رچرڈ نکسن نے روس کا دورہ کیا۔

2008ء م ائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹو بل گیٹس نے فلاحی کاموں پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے مائیکروسافٹ سے استعفی دیا

ولادت

1838ء بنکم چندر چٹرجی یا بنکم چندر چٹوپادھیائے ایک بنگالی نژاد مصنف، شاعر اور صحافی تھے۔ بنکم چندر نے بھارت کے قومی نغمہ’’ وندے ماترم‘‘ کی نغمہ سازی کی جس سے تحریک آزادی ہند کے دوران میں کارکنوں کو تحریک ملتی تھی۔ چٹوپادھیائے نے بنگالی زبان میں تیرہ ناول اور بہت سے تنقیدی، سائنسی اور طنزیہ مقالات لکھے۔ ان کی تصنیفات کے بھارت کی دوسری علاقائی زبانوں بشمول انگریزی میں بڑے پیمانے پر ترجمے ہوئے ہیں۔ چٹوپادھیائے کی پیدائش ایک کٹر برہمن خاندان میں ہوئی۔ انہوں نے بنگالی مخیر محمد محسن کے قائم کردہ ہوگلی محسن کالج اور پریزیڈنسی کالج، کلکتہ میں تعلیم حاصل کی۔ چٹوپادھیائے کا کلکتہ یونیورسٹی کے اولین گریجویٹ میں شمار ہوتا ہے۔ سنہ 1858ء سے 1891ء میں اپنی سبکدوشی تک وہ برطانوی حکومت ہند میں ڈپٹی کلکٹر اور ڈپٹی مجسٹریٹ کے منصب پر فائز رہے

1869ء ہنس سوپر مین جرمنی کے ایک ایبریولوجسٹ تھے جنھوں نے 1935 کا نوبل انعام برائے طب و فعلیات حاصل کیا

1892ء پال کولن فرانسیسی مصور (وفات: 1985ء)

1931ء ماٹینس جے جی ولٹمین نیدر لینڈ کے ایک طبیعیات دان تھے۔ انہوں نے طبیعیات کا نوبل انعام بھی جیتا تھا۔ یہ انعام 1999 میں انہوں نے ہم وطن سائنس دان گیرارڈ ٹی ہوفٹ کے ہمراہ الکٹرو ویک انٹریکشن کے کوانٹم سٹرکچر پر کام کرنے پر حاصل کیا تھا۔

1939ء آر ڈی برمن بھارتی موسیقاران کا انتقال 4 جنوری 1994ء

1951ء جولیا ڈفی امریکی اداکارہ

1952ء مدن کمار بھنڈاری نیپالی سیاست دان (وفات: 1993ء)

1975ء اسماعیل بن موسی مینک المعروف مفتی مینک زمبابوی عالم دین اور زمبابوے کے مفتی اعظم ہیں۔ وہ مجلس العلماء زمبابوے کی فتوی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ انہیں سنہ 2013ء، 2014ء اور 2017ء میں اردن کے مؤسسۃ آل البیت للفکر الاِسلامی کی جانب سے انہیں دنیا کے 500 با اثر ترین مسلمانوں کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے۔ سنہ 2018ء میں انہوں نے اپنے اقوال کا مجموعہ موٹیویشنل مومینٹس کے عنوان سے کتاب شائع کی اور سنہ 2019ء میں اس کا دوسرا ایڈیشن موٹیویشنل مومینٹس 2 کے نام سے شائع کیا۔ ان کی پیدائش زمبابوے کے شہر ہرارے میں ہوئی اور اسی شہر میں انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد آپ نے علوم شریعت کی ڈگری جامعہ اسلامیہ سے لی اور پھر فقہ و قانون میں مہارت کے لیے دار العلوم کنتھاریہ گجرات، بھارت چلے گئے۔

1980ء کیون پیٹرسن برطانوی کرکٹ کھلاڑی

وفات

1015ء ابوالحسن محمد بن الحسین بن موسی، معروف بہ سید رضی و یا شریف رضی پانچویں صدی ہجری کے معروف شیعہ اثناعشری عالم دین تھے۔ وہ سلطان محمود غزنوی، حکومت آل بویہ، شیخ صدوق، حکیم فردوسی، شیخ طوسی اور اپنے بھائی سید شریف مرتضی کے ہم عصر تھے۔ اہل تشیع کے بہت بڑے عالم دین ہیں ـ آپ کی تالیف کردہ مشہور کتاب نہج البلاغہ ہے۔

1839ء رنجیت سنگھ سکھ سلطنت کا پہلا مہاراجہ

1979ء سر جان لارنس ایک انگریز تھا جو ایک ممتاز برطانوی شاہی ریاست کار بنا تھا اور جو 1864ء سے 1869ء تک وائسرائے اور گورنر جنرل ہند رہا۔

2008ء بھارت کے سابق فوجی سربراہ۔ مانک شاء نے پاکستان کے ساتھ 1971ء کی جنگ میں بھارتی فوج کی قیادت کی تھی۔ جنہوں نے سنہ انیس سو اکہتر میں پاکستان کے خلاف بھارتی فوج کو کامیابی دلائی تھی اور مشرقی پاکستان کی جگہ بنگلہ دیش کا وجود ہوا تھا۔ بھارت نے اس کامیابی کے لیے انہیں فیلڈ مارشل کے خطاب سے نوازہ تھا۔ آزاد بھارت میں یہ خطاب صرف دو فوجیوں کو ملا ہے۔ مانیک شاء کا جنم انیس سو چودہ میں امرتسر میں ہوا تھا۔ انہوں نے تقریباً چالیس برس تک فوجی خدمات انجام دیں جس میں دوسری عالمی جنگ سمیت پانچ جنگیں شامل ہیں۔ انہیں لڑائی کے دوران میں ایک بار گولی بھی لگی تھی۔ ان کا خاندان پارسی تھا اور ان کے والد ایچ ایف شاء ایک ڈاکٹر تھے جو پنجاب میں جاکر بسے تھے۔ مانیک شاء نے ابتدائی تعلیم امرتسر کالج میں حاصل کی تھی اور بعد میں انہیں انگریزوں کے قائم کیے گئے دہرہ دون کے فوجی انسٹی ٹیوٹ میں تربیت کا موقع ملا تھا۔وہ 3 اپریل 1914 کو پیدا ہوا۔

2010ء آخوند زادہ سیف الرحمن بانی سلسلہ سیفیہ نقشبندی مجددی (پیدائیش: 1925ء)

2018ء شیخ التفسیر مولانا اسحاق خان مدنی (1938ء – 27 جون 2018ء) محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوری کے شاگرد، فاضل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن، اسلامی نظریاتی کونسل آزاد کشمیر کے رکن، جمعیت علما اسلام آزاد کشمیر کے امیر، مولانا محمد یوسف خان کے ماموں، مفسرِ قرآن تھے۔ اسحاق مدنی نے تعلیم کا آغاز جامعہ خیر المدارس ملتان، جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے کیا دورہ حدیث کی تکمیل کے بعد جامعہ مدینہ سعودی عرب سے تعلیم مکمل کی۔ اسحاق مدنی کئی اسلامی کتابوں کے مصنف بھی تھے انہوں نے قرآن کریم کی تین تفسیریں لکھیں جو کئی جلدوں پر مشتمل ہیں۔ وہ جامرہ میں مدرس کے فرائض سر انجام دیتے رہے جس کے بعد اسحاق مدنی کو سعودی حکومت کی طرف سے ورلڈ اسلامک مشن کارکن نامزد کیا گیا۔ وہ 43 برس تک دوبئی میں سعودی دارلافتا والارشاد کی جانب سے مبعوث رہے اور درس حدیث دیتے رہے

تعطیلات و تہوار

جبوتی کا یوم آزادی

Please follow and like us:

Leave a Reply