چراغ حسن حسرت کی منتخب شاعری

Spread the love

چراغ حسن حسرت کے برسی کے موقع پر صرف اردو ڈاٹ کام کی طرف سے خراج تحسین کے طور پر منٹو کا لکھا خاکہ، حسرت کی شاعری اور مزاح نگاری کے حوالہ سے ان کا ایک مضمون آج خصوصی طور پر شامل اشاعت کیا گیا ہے۔

غزل

یارب غم ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا
جو ہاتھ جگر پر ہے وہ دست دعا ہوتا

اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت
یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا

ناکام تمنا دل اس سوچ میں رہتا ہے
یوں ہوتا تو کیا ہوتا یوں ہوتا تو کیا ہوتا

امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی
وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا

غیروں سے کہا تم نے غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا

غزل

آؤ حسن یار کی باتیں کریں
زلف کی رخسار کی باتیں کریں

زلف عنبر بار کے قصے سنائیں
طرۂ طرار کی باتیں کریں

پھول برسائیں بساط عیش پر
روز وصل یار کی باتیں کریں

نقد جاں لے کر چلیں اس بزم میں
مصر کے بازار کی باتیں کریں

ان کے کوچے میں جو گزری ہے کہیں
سایۂ دیوار کی باتیں کریں

آخری ساعت شب رخصت کی ہے
آؤ اب تو پیار کی باتیں کریں

غزل

دل بلا سے نثار ہو جائے
آپ کو اعتبار ہو جائے

قہر تو بار بار ہوتا ہے
لطف بھی ایک بار ہو جائے

زندگی چارہ ساز غم نہ سہی
موت ہی غم گسار ہو جائے

یا خزاں جائے اور بہار آئے
یا خزاں ہی بہار ہو جائے

دل پہ مانا کہ اختیار نہیں
اور اگر اختیار ہو جائے

غزل

اس طرح کر گیا دل کو مرے ویراں کوئی
نہ تمنا کوئی باقی ہے نہ ارماں کوئی

ہر کلی میں ہے ترے حسن دل آرا کی نمود
اب کے دامن ہی بچے گا نہ گریباں کوئی

مے چکاں لب نظر آوارہ نگاہیں گستاخ
یوں مرے پہلو سے اٹھا ہے غزل خواں کوئی

زلف برہم ہے دل آشفتہ صبا آوارہ
خواب ہستی سا نہیں خواب پریشاں کوئی

نغمۂ درد سے ہو جاتا ہے عالم معمور
اس طرح چھیڑتا ہے تار رگ جاں کوئی

غزل

دشمن جوانیوں کی یہ آشنائیاں ہیں
ان آشنائیوں میں کیا کیا برائیاں ہیں

حسرتؔ کہو کہ کس سے آنکھیں لڑائیاں ہیں
ہونٹوں پہ سرد آہیں منہ پہ ہوائیاں ہیں

یا دل ستانیاں تھیں اور مہربانیاں تھیں
یا کج ادائیاں ہیں یا بے وفائیاں ہیں

قسمت کی کیا شکایت تقدیر کا گلا کیا
جتنی برائیاں ہیں دل کی برائیاں ہیں

Leave a Reply