چراغ حسن حسرت (خاکہ) از سعادت حسن منٹو

Spread the love
سعادت حسن منٹو اور چراغ حسن حسرت

مولانا چراغ حسن حسرت جنہیں اپنی اختصار پسندی کی وجہ سے حسرت صاحب کہتا ہوں۔ عجیب و غریب شخصیت کے مالک ہیں۔ آپ پنجابی محاورے کے مطابق دودھ دیتے ہیں مگر مینگنیاں ڈال کر۔ ویسے یہ دودھ پلانے والے جانوروں کی قبیل سے نہیں ہیں حالانکہ کافی بڑے کان رکھتے ہیں۔

آپ سے میری پہلی ملاقات عرب ہوٹل میں ہوئی۔ جسے اگر فرانس کا’’لیٹن کوارٹر‘‘ کہا جائے تو بالکل درست ہوگا۔ ان دنوں میں نے نیا نیا لکھنا شروع کیا تھا اور خود کو بزعم خویش بہت بڑا ادیب سمجھنے لگا تھا۔ عرب ہوٹل میں تعارف مظفر حسین شمیم نے اُن سے کرایا۔ یہ بھی حسرت صاحب کے مقابلے میں کم عجیب و غریب شخصیت نہیں رکھتے۔ میں بیمار تھا۔ شمیم صاحب کی وساطت سے مجھے ہفتہ وار’’پارس‘‘ میں جس کے مالک کرم چند تھے، ملازمت مل گئی۔ تنخواہ چالیس روپے ماہوار مقرر ہوئی مگر ایک مہینے میں بمشکل دس پندرہ روپے ملتے تھے۔شمیم صاحب اور میں ان دنوں دوپہر کا کھانا عرب ہوٹل میں کھاتے تھے۔

ایک دن میں نے اس ہوٹل کے باہر تھڑے پر وہ ٹوکرا دیکھا جس میں بچا کھچا کھانا ڈال دیا جاتا تھا۔ اس کے پاس ایک کتا کھڑا تھا۔ ہڈیوں اور تڑی مڑی روٹیوں کوسونگھتا، مگر کھاتا نہیں تھا۔ مجھے تعجب ہوا کہ یہ سلسلہ کیا ہے۔

شمیم صاحب نے جب حسرت صاحب سے میرا تعارف کرایا اور ادھر ادھر کی چند باتیں ہوئیں، تو میرے استفسار پر بتایا کہ اس کتے کی محبت ایک سانڈ سے ہے۔ مجھے بہت حیرت ہوئی لیکن میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ان دو حیوانوں میں دوستی تھی۔ سانڈ ساڑھے بارہ بجے دوپہر کو خراماں خراماں آتا، کتا دم ہلا ہلا کر اس کا استقبال کرتا اور وہ ٹوکرا جس کا میں ذکر کر چکا ہوں، اس کے حوالے کردیتا۔ جب وہ اپنا پیٹ بھر لیتا جو کچھ باقی بچ جاتا اس پر قناعت کرتا۔

اس دن سے اب تک میری اور حسرت صاحب کی دوستی، اس سانڈ اور کتے کی دوستی ہے۔ معلوم نہیں حسرت صاحب سانڈہیں اور میں کتا۔ مگر ایک بات ہے کہ ہم میں سے کوئی نہ کوئی سانڈ اور کتا ضرور ہے لیکن ہم میں اکثر لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں جو ان دو حیوانوں میں شاید نہ ہوتی ہوں۔

حسرت صاحب بڑی پیاری شخصیت کے مالک ہیں۔ میں ان سے عمر میں کافی چھوٹا ہوں لیکن میں انہیں بڑی بڑی مونچھوں والا بچہ سمجھتا ہوں۔ یہ مونچھیں صلاح الدین احمد صاحب کی مونچھوں سے بہت ملتی جلتی ہیں۔

حسرت صاحب کہنے کو تو کشمیری ہیں مگر اپنے رنگ اور خدوخال کے اعتبار سے معلوم نہیں کس نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ فربہ اندام اور خاصے کالے ہیں۔ معلوم نہیں کس اعتبار سے کشمیری ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں؟

ویسے مجھے اتنا معلوم ہے کہ آپ آغا حشر کاشمیری کے ہم جلیس تھے۔ علامہ اقبال سے بھی شرفِ ملاقات حاصل تھا جوکشمیری تھے۔ خاکسار بھی ہیں جس سے ان کی’’سانڈ اور کتے‘‘ کی دوستی ہے لیکن اس کے باوجود اگر یہ ثابت کرنا چاہیں کہ خالص کشمیری ہیں تو کوئی کشمیری نہیں مانے گا۔حالانکہ انہوں نے کشمیر پر ایک کتاب بھی لکھی ہے۔

یہ کتاب میں نے پڑھی ہے۔ میں عام طور پربڑا برخود غلط انسان متصور کیا جاتا ہوں لیکن مجھے ماننا پڑتا ہے اور آپ سب کے سامنے حسرت صاحب بڑی دلفریب اندازِ تحریر کے مختار اور مالک ہیں۔ بڑی سہلِ ممتنع قسم کے فقرے اور جملے لکھتے ہیں۔ پر ان کی ان پیاری تحریروں میں مجھے ایک بات کھٹکتی ہے کہ وہ ہمیشہ استادوں کا طریقہ تعلیم استعمال کرتے ہیں۔ ان کے بے شمار شاگرد موجود ہیں جو شاید ان کے علم میں نہ ہوں مگر ان کی خواہش ہے کہ وہ ہر بچے، نوجوان اور بوڑھے پر رعب جمائیں اور اس کا کاندھا تھپکا کر اسے یہ محسوس کرنے پر مجبور کریں کہ وہ ان کا برخوردار ہے۔۔۔۔۔۔ مجھے ان کی طبیعت کا یہ رخ سخت ناپسند ہے، اسی وجہ سے میری اور ان کی لڑائی ہوتی رہی ہے۔

مجھے ان کا برخوردار ہونے میں کوئی عذر نہیں۔ میں آپ سب کے سامنے یہ اعتراف کرنے کے لئے تیار ہوں کہ میں صرف برخوردار ہی نہیں، برخوسوار بھی ہوں لیکن وہ مجھ پررعب نہ ڈالا کریں۔ میں ان کی دل سے عزت کرتا ہوں۔ جب سے ’’نوائے وقت‘‘ میں ان کے ’’حرف و حکایت‘‘ کا کالم چھپنا بند ہوا ہے۔ میں یوں محسوس کرتا ہوں جیسے مجھے صبح کی چائے نہیں ملی جو میرے لیے بہت ضروری ہے۔ ’’حرف و حکایت‘‘ کا کالم میرا خیال ہے انہوں نے ’’امروز‘‘ میں لکھنا شروع کیا تھا۔ اس روزنامے کی تخلیق و تولید میں ان کا بڑا حصہ تھا۔ فیض صاحب( جو ان دنوں راولپنڈی سازش کیس کے سلسلے میں قید ہیں) اور حسرت دونوں مل کر گھنٹوں اس نئے پرچے کی تشکیل کے متعلق سوچا کرتے تھے۔ حسرت صاحب کہنہ مشق صحافی تھے اور فیض احمد فیض ان کے مقابلے میں طفل مکتب۔ بہر حال ان دونوں نے مل کر ایک ایسے روزنامے کا نمونہ تیار کیا، جو دوسرے پرچوں نے نقل کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ’’امروز‘‘ کا ہفتہ وار علمی و ادبی ایڈیشن بھی مرتب کرنا شروع کیا جس میں پہلی مرتبہ ملک کے تمام اہل قلم حضرات نے اپنی نگارشات طباعت کے لئے دیں۔

’’امروز‘‘ میں اب حسرت صاحب نہیں ہیں۔ اس کا ناک نقشہ وہی ہے جو انہوں نے ہاتھ سے بنایا تھا مگر افسوس ہے کہ اس کو یہ حسرت ہے کہ اس میں حسرت نہیں ہے۔ ’’حرف و حکایت‘‘ کا کالم جو ان کی واحد ملکیت تھا۔ اب اس پر ایک صاحب کی جن کا قلمی نام’’پنج دریا‘‘ ہے، اجارہ داری ہے۔ ایمان کی بات ہے کہ جو’’سند جہاد جہازی‘‘ لکھ سکتا ہے، جو سلیقہ اور قرینہ اسے نصیب ہے وہ پنج دریا کے فلک کو بھی نصیب نہیں ہے۔

مجھے قطعی طور پر معلوم نہیں لیکن میرا خیال ہے کہ روزنامہ میں (خصوصاً پنجاب میں) مزاحیہ اور فکاہیہ مولانا ظفر علی خاں نے شروع کیا تھا جو بعد میں مولانا چراغ حسن حسرت کی ہلکی پھلکی اور شگفتہ ظرافت کی ملکیت بن گیا۔

عبدالمجید سالک صاحب کو حسرت صاحب کے مقابلے میں فکاہی کالموں کے سلسلے میں پیش کیا جاسکتا ہے لیکن ان دونوں میں بہت بڑا تفاوت ہے۔ سالک ٹھیٹ امریکیوں کے مانند پھکڑ باز ہیں۔ حسرت انگریزوں کی طرح کھل کرہنسنے ہنسانے والا۔ مجھے سالک زیادہ پسند ہیں اس لیے کہ پنجابی ہونے کی حیثیت سے میں خود بہت بڑا پھکڑ باز ہوں۔

حسرت صاحب تحریرو تقریر کے معاملے میں بڑے محتاط ہیں۔ ہمیشہ زبان کی الجھنوں میں گرفتار رہیں گے۔ اس کی باریکیوں کے متعلق غور و فکر کریں گے لیکن ان کی تحریروں میں مجہول اور تابع مجہول کی تکرار مجھے ہمیشہ کھٹکتی رہتی ہے۔ معلوم نہیں وہ کس مجہول کے تابع ہیں؟ حسرت صاحب نے چند کتابیں لکھی ہیں جن کا اردہ ادب میں کوئی مقام نہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے کبھی اس طرف رجوع ہی نہیں کیا۔ اس کی ساری عمر کاروباری زندگی میں گزری ہے۔ جہاں تک مجھے علم ہے ان کی بے شمار تصنیفات ہیں جو ان کے نام سے شائع نہیں ہوئیں۔ انہوں نے سکولوں کے لئے کئی نصاب لکھے ہوں گے جن پربحیثیت مصنف کے کسی پبلشر کا نام درج ہوگا۔

مجھے اس بات کا بڑا افسوس ہے کہ انہوں نے کبھی اس بارے میں نہیں سوچا کہ اردو ادب کو ان سے کتنی توقعات ہیں۔ وہ روپیہ وصول کرتے ہیں اور ادب کو جہنم میں جھونک دیتے ہیں ورنہ جیسا کہ مجھے قطعی احساس ہے کہ اگر وہ محض کالم نویسی نہ کریں، زیادہ گپ بازیوں اور اپنے سے چھوٹے ادیبوں کو اپنی خداداد قابلیت سے مرعوب کرنے کی کوشش نہ کریں تو وہ سعادت حسن منٹو سے چار قدم آگے ہوتے۔

میرے اس مضمون کا عنوان’’شیردارم شکرک‘‘ ہوتا اس لیے کہ چراغ حسن حسرت کا ہم وزن ہے۔ ان کا دودھ ان کی تحریر ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت میٹھا ہے، اپنے متعلق میں بیان کر چکا ہوں کہ وہ مجھے یہ دودھ مینگنیاں ڈال کر دیتے رہے ہیں۔

آج سے غالباً بیس برس پہلے کا ذکر ہے جب میں نے نیا نیا لکھنا شروع کیا تھا۔ ان دنوں میں نے ’’ہمایوں‘‘ اور’’عالمگیر‘‘ کے روسی ادب نمبر مرتب کئے تھے۔ حسرت صاحب اُ ن دِنوں غالباً’’زمیندار‘‘ یا’’احسان‘‘ میں ملازم تھے، اپنے فکاہی کالم میں اس کا ذکرکرتے ہوئے لکھا ’’منٹو آج کل کھٹ بنوں کی طرح صدا لگاتا پھرتا ہے کہ روسی نمبر نکلوا لو، یا فرانسیسی نمبر نکلوا لو ۔۔۔۔۔۔ دوسرے الفاظ میں یہ کھٹ بنوں کی مخصوص صدا تھی ۔۔۔۔۔۔’’منجی پیڑھی ٹھکالو۔‘‘

یہ پڑھ کر میں نے لطف اٹھایا مگر کباب بھی ہوا بہر حال جب تک حسرت صاحب زندہ ہیں (اور میری دعا ہے کہ کم از کم میری حیات تک زندہ رہیں) میں لطف اٹھاتا رہوں گا اور کباب بھی ہوتا رہوں گا۔ معاف کیجئے گا مجھے شاعری سے کوئی شغف نہیں لیکن مجھے حسرت صاحب کے ایک دور دراز کے رشتے دار غنی کاشمیری کا ایک شعر یاد آگیا ہے۔

کدام سوختہ جاں دست زو بد امانت
کہ از لباسِ تو بوئے کباب می آید

میرا خیال ہے کہ یہ حسرت صاحب کی سوختہ جاں ہے جس نے غریب ہوٹل میں کباب کھاتے ہوئے میرے دامن پر ہاتھ رکھ دیا کہ اب کباب ہونا میرے لیے ہر روز کی بات بن گیا ہے۔

غنی کاشمیری کا ذکر آیا ہے تو میں آپ کو یہ بھی بتادوں کہ حضرت صاحب اپنی عام گفتگو میں بڑے بڑے شعراء کے نام صرف اس غرض سے لیا کرتے ہیں کہ سننے والے ان کے رعب کے نیچے دب جائیں۔ ان کا ایسے موقعوں پر ایک خاص لب و لہجہ ہوتا ہے جس کی نقل میں کرسکتا ہوں مگر یہ موقع محل نہیں اس لیے مجھے صرف یہ مضمون پڑھنا ہے۔ ان کا اندازِ گفتگو ویسے سارے لاہورمیں مشہور ہے ۔ انگوٹھے کے ساتھ والی دو انگلیوں میں سگریٹ دبا کر وہ ٹانگے والوں کے انداز میں زور کا کش لگائیں گے اور پوچھیں گے’’مولانا آپ نے فانی کا مطالعہ کیا ہے؟‘‘

اور اگر آپ میری طرح کم تعلیم یافتہ ہیں اور آپ کو فارسی سے کوئی شُدبُد نہیں تو آپ مولانا چراغ حسن حسرت کے سامنے بالکل ایک چغد کی حیثیت میں بیٹھے ہوں گے پھر وہ آپ کو اور زیادہ چغد بنانے کے لئے فردوسی، سعدی، حافظ اور غالب کا فارسی کلام سنائیں گے اور آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوگی کہ خود کشی کرلیں۔

میں نے اب تک خود کشی نہیں کی اس لیے کہ میں حسرت صاحب کی رگ رگ کو پہچانتا ہوں۔ مجھے اس کا احساس ہے کہ وہ بڑی قابل شخصیت کے مالک ہیں لیکن میں خود کو بھی کسی حد تک قابل سمجھتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں اب تک زندہ ہوں۔

حسرت صاحب کے متعلق یہ کہنا کہ وہ مردم کُش ہیں، سراسر غلط ہوگا لیکن ان کے کردار میں عجیب و غریب چیز یہ ہے کہ وہ جلا کر مارتے ہیں اور مار کر جلاتے ہیں۔ مجھے انہوں نے کئی مرتبہ موت کے گھاٹ اتارا ہے اور کئی بار اپنے اعجاز سے زندہ کیا ہے۔

ہم دونوں شرابی ہیں لیکن ہم میں کچھ فرق ہے۔ وہ سمجھتے ہیں یا دوسروں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ان کی بیگم کو ان کی شراب نوشی کا کوئی علم نہیں۔ یہاں یہ عالم ہے کہ دنیا جانتی ہے کہ میں پیتا ہوں اور اس دنیا میں میری رفیقہ حیات بھی شامل ہے۔

میں آپ کو ایک دلچسپ لطیفہ سناؤں۔ دہلی میں ہم دونوں آل انڈیا ریڈیو سٹیشن میں ملازم تھے اور اکثر اکٹھے پیا کرتے تھے۔ ان دنوں آپ نے شادی کی تھی۔ میرے اور ان کے گھر میں زیادہ فاصلہ نہیں تھا اس لیے وہ ہمارے یہاں قریب قریب ہرروز آتے جاتے تھے۔ میری بیوی جانتی تھی کہ میں پیتا ہوں لیکن حسرت صاحب کی بیگم صاحبہ یکسر منکر تھیں کہ وہ پیتے ہیں حالانکہ یہ کھلی ہوئی حقیقت تھی کہ وہ پیتے ہیں اور بیچ کھیت پیتے ہیں مگروہ فراڈ کرتے تھے، گھر میں رات کو ایک دو بجے کے قریب جاتے جب کہ سب سو رہے ہوتے۔

ایک دن میں نے شرات کی۔ ان کی بیگم صاحبہ ہمارے گھرمیں تھیں۔ میں اور حسرت صاحب’’بھولا رام اینڈ سز‘‘ کے شراب خانے میں پی رہے تھے کہ مجھے اپنی بیوی کی طرف سے ایک چِٹ ملی، جس میں یہ پوچھا گیا تھا کہ حسرت صاحب کہاں ہیں۔ میں نے جواباً لکھ دیا کہ وہ میرے ساتھ شراب خانے میں موجود ہیں ۔۔۔۔۔۔لیکن یہ حسرت صاحب کا کمال ہے کہ ان کی بیگم نے میری اس تحریر پر یقین نہ کیا۔

انہی دنوں کی بات ہے، بھولا رام کے شراب خانے میں ہم سب فیض، دوندر ستارتھی، محمد حسین ریڈیو آرٹسٹ اور احمد ندیم قاسمی صاحب بیٹھے تھے کہ میری حسرت صاحب سے چخ ہوگئی، وہ حسبِ معمول مجھ پر رعب بگھارنے لگے۔ میں نے چڑ کر ان سے کہا کہ میرے نزدیک ان کی حیثیت صرف ایک لغت کی سی ہے۔ جس کے اوراق پلٹ کر آدمی کسی لفظ کے معنی دیکھتا ہے اور پھر اسے طاق پر رکھ دیتا ہے۔ وہ بہت ناراض ہوئے اس لیے کہ میرا یہ جملہ ان کی شخصیت پر بہت بڑا حملہ تھا۔ اسی دوران میں مختلف غیر ملکی مصنفوں کی بات چل نکلی ۔۔۔۔۔۔ مجھے سامرسٹ مام پسند تھا۔ میں نے اس کا نام جب بار بار لیا تو مولانا چراغ حسن حسرت صاحب نے پنجابی محاورے کے مطابق’’میرا گڈا بنھ دتا‘‘۔۔۔۔۔۔ اگر ان کا یہ کالم میرے پاس موجود ہوتا، تو یقیناً آپ کی خدمت میں پیش کردیتا۔ اسے پڑھ کر میں بہت کباب ہوا تھا۔

دیوان سنگھ مفتون کا یہ کہنا ہے کہ اگر میں کسی کے خلاف کچھ لکھوں اور وہ اسے پڑھ کر رات کو آرام و اطمینان سے سو جائے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ مجھے بڑی شکست ہوئی ہے۔ حسرت صاحب کو میرے معاملے میں کبھی شکست نہیں ہوئی اس لیے کہ ان کی تحریروں نے جو مجھ سے متعلق ہیں، ہمیشہ مجھ پر راتوں کی نیند حرام کی ہے۔۔۔۔۔۔ خدا انہیں زندہ رکھے تاکہ میں غالب کے اس مصرعہ کا مطلب اچھی سمجھ سکوں کہ

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

اختر شیرانی، حسرت صاحب کے دوست تھے۔ وہ کثرت شراب نوشی کے باعث مر گئے۔ باری صاحب تھے (جوخود کو انقلابی ادیب کہتے تھے) ان کو معلوم نہیں، شراب نوشی کی کثرت یا قلت سے دل کا عارضہ ہوا اور اللہ کو پیارے ہوگئے۔ جو معلوم نہیں پانی بھی پیتا ہے یا کہ نہیں۔ میں شدید طورپر بیمار ہوا اور تین مہینے میو ہسپتال میں رہ کربھی جانبر رہا۔

علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز تھا ساقی

لیکن ڈاکٹر پیرزادہ صاحب کچھ اور علاج کرتے رہے بہر حال میں بچ گیا۔ حسرت صاحب کے معالج بھی غالباً پیر زادہ صاحب تھے۔ علاج ان کا وہی آبِ نشاط انگیز تھا مگر وہ شاعر اور ادیب نہیں محض ڈاکٹر ہیں اس لیے انہوں نے ان کو موت کے منہ سے بچا لیا جو بہت غیر شاعرانہ ہے۔ حسرت صاحب میو ہسپتال میں دو اڑھائی مہینے رہ چکے ہیں ان کو جہاں تک میری معلومات کا تعلق ان’’ کو رونری تھرومبوسیس‘‘ کا عارضہ لاحق تھا۔ جب میں ہسپتال میں داخل ہوا تو پیر زادہ صاحب نے یہ تشخیص کی تھی کہ مجھے’’سورأس لور‘‘ کی شکایت ہے۔ بہر حال ہم دونوں ایک ہی’’خانہ خراب‘‘ چیز کے شکار ہیں۔

سردیوں کی بات ہے، جب وہ میو ہسپتال میں تھے۔ مجھے وہاں سے نکلے ہوئے قریب قریب تین مہینے گزر چکے تھے۔۔ جب میں نے ایک روز ’’نوائے وقت‘‘ میں پڑھا کر مولانا دل کے مرض میں گرفتار ہیں تو مجھے بڑا تعجب ہوا کہ جہاں تک کی رعایت سے محبت کا تعلق ہے وہ کبھی گرفتار نہیں ہوسکتے۔ (ہوسکتا ہے ان کے متعلق میرا نظریہ غلط ہو)

جب وہ ہسپتال میں داخل ہوئے تو اس سے پندرہ بیس روز پیشتر میری ان کی ملاقات ہوئی۔ غالباً’’ ادارہ فروغ اردو‘‘ میں، ان سے چند روز پہلے ہی میں نے تھوڑی تھوڑی پینا شروع کردی تھی اور وہ بھی ڈر ڈر کے۔ مولانا ملے۔ ان سے اِدھر اُدھر کی باتیں ہوئیں، ہم میو ہسپتال کے پاس پہنچے تو میں نے ان سے عرض کیا’’بوندا باندی ہورہی ہے۔ آج کوئی پروگرام ہونا چاہیے۔‘‘

انہوں نے مجھے بہت ڈانٹا۔ میری صحت کے پیش نظر ایک لمبا چوڑا لیکچر دیا لیکن آخر کار میرے پینے پر رضا مند ہوگئے اور نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ وہ میو ہسپتال میں داخل ہوئے اور دو اڑھائی مہینے تک وہاں مقیم رہے۔

میں ان کا بہت عقیدت مند ہوں۔ ایک مرتبہ میں نے تہیہ کیا کہ ان کے پاس جاؤں گا لیکن راستے میں ایک نرس مل گئی، اس سے بات چیت ہوئی تو میں نے محسوس کیا کہ اس نے سمجھ لیا کہ میرے منہ سے ’’آئیڈو فارم‘‘ کی بُو آرہی ہے اس لیے میں وہاں سے بھاگ گیا اور ایسا بھاگا کہ پھر میو ہسپتال کا رخ نہ کیا۔

حسرت صاحبِ بفضل خدا اب تندرست ہیں۔ میں تو میو ہسپتال کے جنرل وارڈ میں رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس دولت ابھی تک موجود ہے جو شاید انہوں نے اپنی’’میجری‘‘ کے زمانے میں کمائی ہوگی اس لیے کہ وہ’’فیملی وارڈ‘‘ میں رہے۔ بہر حال اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ پینا چھوڑتے ہیں یا نہیں۔

یہ مضمون نامکمل ہے اس لیے کہ میں نے افراتفری میں لکھا ہے۔

اس مضمون کا پہلا حصہ جو آپ نے پڑھا ہے، میں نے بڑی رواداری میں لکھا تھا۔ میں نے صبح اخباروں میں دیکھا کہ حسرت صاحب کے صحت یاب ہونے کی خوشی میں (اردو ادب کے اور مولانا کے دوست وائی۔ ایم۔ سی۔ اے میں ایک جلسہ کررہے تھے۔ حسرت صاحب سے چونکہ مجھے عقیدت ہے اور میں جانتا ہوں کہ وہ مجھے اپنا عزیز سمجھتے ہیں اس لیے میں نے اپنا فرض سمجھا کہ ان کے بارے میں جو میرے احساسات ہیں، قلم بند کروں اور اس جلسے میں حاضرین کو پڑھ کر سناؤں۔

چنانچہ میں قلم اٹھانے سے پہلے، محمود نظامی صاحب(ریجنل ڈائریکٹر ریڈیو، پاکستان، لاہور) کو ٹیلی فون کیا اور ان سے دریافت کیا کہ اگر حسرت صاحب کے بارے میں کچھ کہنا چاہوں تو کیا مجھے اس کی اجازت ہوگی۔ انہوں نے حسب معمول اپنی فارغ البالی سے کام لیتے ہوئے کہا۔ تمہیں کون روک سکتا ہے، آؤ اور پڑھو۔

مصیبت یہ تھی کہ مجھے اسی دن لاہور ریڈیو اسٹیشن سے سات بجے اپنا تازہ افسانہ براڈ کاسٹ کرنا تھا اور حسرت صاحب کی صحت یابی سے متعلق جلسہ ساڑھے چھ بجے شروع ہونا تھا۔ میں نے عشرت رحمانی صاحب(اسسٹنٹ ریجنل ڈائریکٹر) سے مشورہ کیا۔ انہوں نے ازراہ عنایت فرمایا کہ تم کچھ فکر نہ کرو۔ یہاں افسانہ پڑھو۔ باہر موٹر کھڑی ہے، وہ تمہیں وائی۔ ایم۔ سی۔ اے پہنچا دے گی۔

اسی دن ایک اور مصیبت مجھ پر آئی کہ افراتفری کے عالم میں جب میں نے حسرت صاحب کے متعلق اپنے احساسات کا غذ پر گھسیٹے تو ساڑھے تین بجے کے قریب کامریڈ سبط حسن تشریف لے آئے۔ آپ نے اس خیال کے پیش نظر کہ میں اگر بیٹھا رہاتو ضرورت سے زیادہ پینا شروع کردوں گا، مجھ سے اپنے بڑے پیارے انداز میں فرمایا کہ میں ان کے ساتھ انجمن ترقی پسند مصنفین کی ہفتہ وار میٹنگ میں چلوں۔

میں نے اپنی بیوی کو ساتھ لیا کہ آج کل وہ مجھے کہیں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتی۔ ہم نقی بلڈنگ کے ایک کمرے میں داخل ہوئے جہاں سوویٹ کلچر ایسوسی ایشن کا دفتر ہے۔ بڑا تیسرے درجے کا۔۔۔۔۔۔ یہ جملہ معترضہ تھا، میں نے حسب عادت یہ زیادتی کی کہ سبط حسن صاحب کو صدارت کے لیے مجبور کیا پھر ان پر زور دیا کہ جو خط انہوں نے میری درخواست پر میرے نام لکھا تھا، پڑھیں۔ اس کے بعد برادرم احمد ندیم قاسمی سے بھی یہ سلوک کیا۔ چنانچہ انہوں نے با صد دلِ ناخواستہ وہ مضمون پڑھ کے سنایا جو انہوں نے میرے بارے میں’’دو شخصیتیں‘‘ کے عنوان سے تحر یر فرمایا تھا۔ اس کے بعد سب سے بڑی زیادتی میں نے یہ کی کہ حسرت صاحب کے متعلق اپنے تاثرات حاضرین کو جن کی تعداد تیس چالیس سے زیادہ نہیں تھا، سنا دیا اور یہ میٹنگ اس لیے پھُسپھسی رہی کہ اس میں صرف میرا نام گونجتا رہا۔ حالانکہ مجھے اس بات کا زُعم ہے کہ جہاں میرا نام لیا جائے وہاں اور کچھ نہیں تو ایک لحظے کے لئے ہنگامہ برپا ہونے کے آثار ضرور پیدا ہو جاتے ہیں۔

لیکن مجھے اپنے اس زُعم کے بارے میں زیادہ دیر تک مایوسی نہ ہوئی۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کی میٹنگ سے فارغ ہو کر ریڈیو اسٹیشن پہنچا۔ میری بیوی اور شاد امرتسری دونوں مجھے مناسب و موزوں ہدایات دینے کیلئے’’ کمرہ نشر‘‘ میں موجود تھے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ میری گاڑی پٹڑی سے اتر گئی اور افسانے کا ایک پورا پیرا براڈ کاسٹ ہونے سے رہ گیا۔

حسرت صاحب پر میں نے جو مضمون لکھا تھا، وہ شاید سلیم شاہد صاحب کے حوالے کردیا تھا تاکہ وہ اسے سنسر کرلیں اور عبداللہ بٹ صاحب کو بھی دکھالیں۔ میری تحریروں پر اکثر لوگوں کو اعتراض ہوتا ہے۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ بدمزگی پیدا ہو ۔۔۔۔۔۔ لیکن ہوئی اور ایک ننھے ہنگامے کا باعث بنی۔

ریڈیو اسٹیشن سے میں سیدھا وائی، ایم، سی، اے پہنچا۔ ہال میں سو ڈیڑھ سو آدمی تھے۔ ہم پچھلے بنچوں پر بیٹھ گئے۔ میں نے فوراً عبداللہ بٹ سے پوچھا کہ آیا مجھے اپنا مضمون پڑھنے کی اجازت ملے گی۔ انہوں نے فرمایا کہ ریڈیو آرٹسٹ، حسرت صاحب کی غزل گانے سے فارغ ہو جائے تو تمہاری باری آئے گی۔ مضمون میرے پاس نہیں تھا۔ معلوم ہوا کہ صاحب صدر میر قیوم ایم۔ ایل۔اے کی تحویل میں ہے۔

گانے کے آخری بول ختم ہوئے تو میں ڈائس پر پہنچا۔ صاحب صدر نے مضمون میرے حوالے کیا۔ میں نے ایک نظر حسرت صاحب کی طرف دیکھا۔ ان کی بڑی بڑی مونچھیں ویسی کی ویسی تھیں مگر بے حد لاغر تھے۔ پھولوں کے ہاروں سے لدے پھندے ایک ایسے بوڑھے دولہا دکھائی دے رہے تھے جنہیں پانچویں، چھٹی شادی کرانے کا شوق چڑھ آیا ہو۔

اردو صحا فت سے حسرت صاحب کا رشتہ بہت مضبوط ہے۔ وہ خدانخواستہ مر بھی جائیں تو مزاح نگاری ساری عمر عدت میں گزار دے گی۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ انہوں نے اپنا یہ جلوس نکالنے یا اپنا جلسہ کرانے کا تکلف کیوں کیا۔ وہ اس سے بالاتر ہیں۔

بہر حال میں نے دل ہی دل میں اس بات کا افسوس کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کی شدید علالت کے دوران میں عیادت کے لئے نہ گیا، اپنا مضمون پڑھنا شروع کیا۔

حسرت صاحب اپنے موڈ میں نہیں تھے شاید تعریفوں کی بھر مار اور پھولوں کے بوجھ سے ان کی طبیعت مکدر ہو چکی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس سعادت مند کے احساسات کو بھی جو کافی بے تکلف تھے، گوارا نہ کیا۔ جب میں ایک صفحہ پڑھ چکا تھا تو انہوں نے مجھے اور صاحب صدرکو مخاطب کرکے کہنا شروع کیا کہ یہ کیا بکواس ہے۔

بکواس تو میں عام کرتا ہوں لیکن جہاں تک حسرت صاحب کا تعلق ہے۔ ان کے متعلق میں کبھی بکواس نہیں کرتا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ میں نے ان کے کردار و اطوار کے متعلق چند ایسی باتیں اپنے ٹھیٹ افسانوی مگر صاف گو انداز میں بیان کردی ہیں جو ان کی طبع نازک پر بار گزری ہوں لیکن میرے پھکڑ پن کے پیش نظر اور اس محبت کو سامنے رکھتے ہوئے جو مجھے ان سے ہے اور یقیناً ان کو بھی ہے، مجھے معاف کردینا چاہیے تھا۔

جب میں نے دیکھا کہ ان کی خفگی زیادہ شدت اختیار کرگئی ہے تو میں نے صاحب صدر سے کہا۔’’اگر حسرت صاحب چاہیں تو اپنا مضمون پڑھنا بندکردیتا ہوں۔‘‘ مگر انہوں نے ارشاد فرمایا کہ’’نہیں مضمون پڑھنا جاری رکھو۔‘‘

سخت گرمی تھی، کچھ حسرت صاحب کے مزاج کی بھی۔ میں پسینے میں شرابور تھا۔ مضمون ختم ہوا تو میں نے حسرت صاحب کے پاس فرش پر بیٹھ کر معذرت چاہی لیکن اس وقت وہ درگزرکرنے یا میرے احساسات کے خلوص کو ماننے کے لئے تیار نہیں تھے ۔۔۔۔۔۔ میں نے کہا، ہٹاؤ یہ شخص اگر نہیں مانتا تو نہ مانے ۔۔۔۔۔۔ اور اسٹیج سے اتر کر مصور پاکستان جناب عبدالرحمن چغتائی صاحب کے پاس بیٹھ گیا۔ انہوں نے کمال شفقت سے میرا تکدر دور کیا۔ اسکے بعد میں وہاں سے چلا گیا۔

دوسرے روز سننے میں آیا کہ سعادت حسن منٹو کی وائی، ایم سی، اے میں حجامت ہوتے ہوتے رہ گئی کیوں کہ حسرت صاحب کے مداحوں کو میری ہرزہ سرائی بالکل پسند نہیں آئی تھی۔ ایک بیان یہ بھی ہے کہ وہاں کچھ مداح میرے بھی تھے جو ہر اس شخص کی حجامت کرنے کیلئے تھے جو میری حجامت پر آمادہ ہوتا ۔۔۔۔۔۔ اگر یہ دونوں باتیں درست ہیں تو مزا آجاتا ہے۔ اس جلسے میں جتنے بھی اصحاب تھے، ان کی مفت میں حجامت ہو جاتی ۔۔۔۔۔۔ اور میں تو چچا غالب کا یہ شعرپڑھ کر ان تمام حجاموں کو سناتا۔

ہوسِ گل کا تصور میں بھی کھٹکا نہ رہا

عجب آرام دیا اس بے پروبالی نے مجھے

لوگوڈ کا یہ بھی کہنا ہے کہ مجھے ایسے موقع پر جب کسی عظیم شخصیت کی’’برسی‘‘ (معلوم نہیں یہ لفظ کیوں استعمال کیا گیا تھا) منائی جارہی تھی، ایسا مضمون جو تقدیس کے معیار پر پورا نہیں اترتا تھا، ہرگز ہرگز پڑھنا نہیں چاہیے تھا۔

یہ ایک ایسی بات ہے جس کے متعلق بہت کچھ کہا سُنا جاسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔ حسرت صاحب کی تقدیس کسی ولی یا پیغمیر کی تقدیس نہیں ہوسکتی۔ ان کی شخصیت سے ان کی صحافت نگاری اور مزاح نویسی ہی سے کسی کو عقیدت ہو سکتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جس طرح مجھے کئی لوگ محض باتیں بنانے والا سمجھتے ہیں اور افسانہ نگار نہیں مانتے، ان کو بھی چند لوگ محض ایک کالم نگار سمجھتے ہوں مگر اس میں خفا ہونے کیا بات ہے۔

انسان وہی ہے جو کچھ کہ وہ ہے، اس کا رتبہ وہی ہے جو اس نے خود اپنے لیے قائم کیا ہے۔۔۔۔۔۔ دنیا جائے جہنم میں، اگر سعادت حسن منٹو، حسرت صاحب کے متعلق چند باتیں ایسی کہہ دیتا ہے جو سچی ہونے کے باعث کڑوی ہیں یا جھوٹی ہونے کی وجہ سے کسیلی تو اس پر اتنی ناک بھوں تو نہیں چڑھانی چاہیے کہ اپنا حلیہ ہی بگڑ جائے۔

ہر انسان کو جو ادب یا صحافت کے میدان میں آتا ہے، معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کا واحد مالک نہیں ہوتا۔

میں تو خیر افسانہ نگار ہوں، بہت سے جیتے جاگتے، چلتے پھرتے کرداروں کو فرضی نام دے کر ان کی کہانیاں لکھتا رہتا ہوں لیکن حسرت صاحب کو جوہرروز کالم نویسی کرنا پڑتی ہے، اس کو ان میں تمام سیاسی اور تجارتی شخصیتوں کے اصل نام لکھنے پڑتے ہیں اس لیے کہ اس کے بغیر کوئی اور چارہ ہی نہیں۔

میرے مقابلے میں وہ بہت بڑے’’پگڑی اچھال‘‘ ہیں۔ اس فن میں انہیں کافی مہارت حاصل ہے لیکن ایک بات اُنہیں بھولنا نہیں چاہیے کہ سو سُنار کی اور ایک لوہار کی۔۔۔۔۔۔ میں لوہار نہیں ہوں،سُنار ضرور ہوں، مجھے حسرت ہے کہ اُن کو میرا یہ’’سنار بننا‘‘ کیوں پسند نہ آیا۔

مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس جلسے میں جوکہ اب میری وجہ سے کافی حد تک بدنام ہو چکا ہے۔ خان بہادر عبدالرحمن چغتائی نے ایک دُعا پڑھی۔ میرے ایک دوست نے مجھ سے کہا کہ تمہیں مضمون کے بجائے ایک اور دعا پڑھ لینی چاہیے۔

میں حسرت صاحب کی طرح فارسی اور عربی کا عالم نہیں۔ بہر حال کفارے کے طور پر جو دعا میری زبان پر آئی ہے، یہاں لکھے دیتا ہوں۔’’خدا وند۔۔۔۔۔۔ نہ تو کھاتا ہے نہ پانی پیتا ہے۔۔۔۔۔۔ تیرا وجود ہے بھی اور نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ یہ کیا مصیت ہے تیری دنیا میں ہم کھاتے بھی ہیں اور پیتے بھی ۔۔۔۔۔۔ پانی بھی اور شراب بھی ۔۔۔۔۔۔ تیرا ایک بندہ چراغ حسن حسرت ہے جو صحافت کا چراغ ہے۔ اس کو پینے پلانے کی لَت ہے جس طرح مجھے ہے۔ ہم دونوں بُرے آدمی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔۔ کہ لیکن مطلب بیان کرنے کی کیا ضرورت ہے، تُو سب باتیں جانتا ہے ۔۔۔۔۔۔ پھر یہ کیا ظلم ہے کہ آئے دن تُو ہمیں بیمارکردیتا ہے ۔۔۔۔۔۔ خدا کی قسم یہ اچھی باتیں نہیں ۔۔۔۔۔۔ میں نے تیری ہی قسم کھائی ہے، اگر کسی اور کی کھائی ہوتی تو تُو میرا بیڑا غرق کردیتا، نماز کبھی میں نے پڑھی ہے نہ میرے محترم دوست حسرت صاحب نے، بہر حال ہم تیرے قائل ضرور ہیں اس لیے کہ تُو ہمیں شدید طور پر بیماری میں مبتلا کرکے پھر اچھا کردیتا ہے لیکن یہ سلسلہ ٹھیک نہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تُوہمیں حیات جاوداں عنایت فرما۔ میری صرف یہ درخواست ہے کہ تو مجھے ایک سال کے اندر اندر مار دے، لیکن حسرت صاحب کو کم از کم بیس برس اور زندہ رکھ تاکہ وہ اس دوران بھی لوگوں کو یقین دلاتے رہیں کہ انہیں رختِ رز سے کوئی واسطہ نہیں۔

حسرت صاحب کو اگر تُو نے بیس برس اور زندگی عطا فرمادی۔ تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ وہ تیرا جغرافیہ لکھ دیں گے جو تُو اپنے آسمانوں کے سکولوں میں نصاب مقرر کرسکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ رائلٹی مجھے ملے۔

تو عالم الغیب ہے ۔۔۔۔۔۔ میری سفارش کے متعلق تو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے، اس سے زیادہ میں اور کچھ کہنا نہیں چاہتا اس لیے کہ شاید تُو میرا اسی وقت ٹینٹوا دبا دے، جس کو دبانے کی حسرت، حسرت صاحب کو اب تک رہی ہے۔‘‘

اے اللہ میاں ۔۔۔۔۔۔ حسرت صاحب کو موسیواسٹالن بنا دے تاکہ وہ اس آمر کی طرح آہنی پردے کے پیچھے اپنی من مانی کرتے رہیں، اس کے علاوہ یہاں کے جتنے کمیونسٹ ہیں، ان کے تابع ہیں اور ان کے گُن گاتے ہیں۔

اگر تُو انہیں کامریڈ اسٹالن نہیں بنا سکتا (اس لیے کہ یہ تیرے لیے بھی کسی قدر مشکل ہے تو نہیں مرزا محمود بنا دے تاکہ وہ اپنی ایک امت بنا سکیں۔ احمد بشیر( جو آج کل خاکے لکھتا پھرتا ہے) ان کے سکتر ہوں تاکہ ان سے ناراض ہونے پر وہ ایک اور خاکہ لکھ سکے۔

’’یہ بھی نہیں کرسکتا تو انہیں سعادت حسن منٹو بنا دے۔‘‘ یہ بددُعا، دُعا سے چھوٹی ہے لیکن کافی جامع ہے۔

حسرت کے متعلق اور بہت کچھ کہنے کو جی چاہتا ہے مگر ڈر ہے کہ وہ اور زیادہ ناراض نہ ہو جائیں لیکن میں بھی ایک ہی حضرت ہوں۔ چلتے چلتے آپ کو ان کے متعلق ایک لطیفہ سنائے دیتا ہوں۔

بہت دنوں کی بات ہے، آپ’’امروز‘‘ کے ایڈیٹر تھے۔ میں اور’’نیا ادارہ‘‘ کے مالک چوہدری نذیر ان سے ملنے گئے۔ چوہدری صاحب نے ان کو کچھ رقم پیشگی کے طور پر دے رکھی تھی کہ وہ ان کو ایک کتاب لکھ کر مرحمت فرمائیں۔ باتوں باتوں میں چوہدری صاحب نے اس کا ذکر کیا۔ حسرت صاحب کو یہ بات اس قدر ناگوار گزاری کہ تمام پبلشروں کی ہشت بشت کو بے نکت سنانا شروع کردیں، مجھے تاؤ آگیا۔ چنانچہ حسرت صاحب کی ان’’بے نکتیوں‘‘ کو مستعار لے کر (ان کی اجازت کے بغیر) ان کے حق میں زیادہ سے زیادہ بیس پچیس سانسوں کے اندر اندر استعمال کردیں۔ حسرت صاحب کی زندگی میں شاید یہ پہلا موقع تھا کہ کسی بدتمیز انسان نے ان سے ایسی بدتمیزی کی تھی۔ ان کے لیے یہ اتنا بڑا صدمہ تھا کہ منہ سے ایک لفظ بھی باہر نکال نہ سکے۔ میں خاموش ہوا، تو ان کو فوری طور پر اس بات کا بڑی شدت سے احساس ہوا کہ میں نے ان کی توہین کی ہے۔ میں اٹھ کر جانے ہی والا تھا کہ انہوں نے اپنے مخصوص لب ولہجے میں کہا۔ ’’مولانا ۔۔۔۔۔۔ ذرا بیٹھئے۔‘‘

میں ذرا کیسے بیٹھتا۔ مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ گفتگو کے ہر معاملے میں ان کی لغت میری ڈکشنری پر بھاری ہے۔ چنانچہ میں نے ان سے عرض کیا، حسرت صاحب معاف فرمائیے۔ میں اب یہاں ایک منٹ بھی نہیں بیٹھ سکتا۔۔۔۔۔۔ میرا غصہ فرو ہو چکا ہے، آپ کے غصے کا پارہ چڑھ رہا ہے۔ میں گدھا ہوں، اگر آپ کو موقع دوں کہ آپ مجھے گالیاں دے سکیں۔۔۔۔۔۔ سلام علیکم۔‘‘ یہ کہہ کر میں چل دیا۔ بعد میں سُنا کہ وہ رات بارہ بجے تک اندر ہی اندر کھولتے رہے۔

مجھے اس کا کامل احساس ہے کہ حسرت صاحب ایسے بزرگیت پسند بزرگ کے ساتھ میں نے بہت زیادتی کی لیکن ہر انسان کو ایسے مواقع ضرور بہم پہنچانے چاہئیں کہ وہ تھوڑی دیر کے لیے اندرہی اندرکھولے اور بس کھولتا رہے۔ میں سمجھتا ہوں، اس عمل سے آدمی سنورتا ہے، نکھرتا ہے۔۔۔۔۔۔جس طرح بھٹی چڑھایا ہوا کپڑا۔

اب میں آپ کو حسرت صاحب کا ایک اور پہلو دکھاتا ہوں جو بے حد شرف اور دوست پرور ہے۔۔۔۔۔۔ ان سے میرے تعلقات بظاہر کشیدہ ہوچکے تھے۔ مجھ پر افسانہ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ کے سلسلے میں مقدمہ چل رہا تھا۔ فیصلہ ہوا تو مجسٹریٹ صاحب نے مجھے تین سو روپے جرمانہ اور تین ماہ قید با مشقت کا حکم سنایا۔ اس کی خبر اخباروں میں شائع ہوئی تو حسرت صاحب نے کمال شفقت سے مجھے ایک رقعہ لکھا۔ جس میں یہ جذبہ مرقوم تھا کہ مجھے آپ کی سزا پر بہت افسوس ہے، اگر میں آپ کی کوئی خدمت کرسکوں تو حاضر ہوں۔‘‘

مجھے تو سزائیں ملتی رہیں گی اور حسرت صاحب افسوس کرتے رہیں گے لیکن یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم دونوں اس ملک میں جو پہلے ہندوستان تھا اور اب پاکستان، ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں اور تادم آخر بھگتے رہیں گے۔۔۔۔۔۔ ہمارے اپنے آدمی دم تحریر موجود ہوتے ہیں مگر ان فرشتوں کو کیا کہئے جن کے کہے پر ہم پکڑے جاتے ہیں۔

Leave a Reply