مزاح نگار و شاعر چراغ حسن حسرت کی 64 ویں برسی ہے

Spread the love

لاہور(طاہر گورداسپوری) چراغ حسن حسرت اردو کے ممتاز مزاح نگار، شاعر، ادیب اور صحافی تھے۔ 1904ء میں بمیار ضلع پونچھ (کشمیر) میں پیدا ہوئے۔ حصول تعلیم کے بعد انہوں نے کلکتہ میں اخبار نویسی کا کام شروع کیا اور اخبار (نئی دنیا) کے ذریعہ ایک مزاح نگار کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ اس کے بعد لاہور آ گئے اور متعدد اخبارات سے وابستہ رہے جن میں آفتاب، زمیندار، شہباز، احسان امروز اور نوائے وقت کے نام سرفہرست تھے۔

مولانا چراغ حسن حسرت کا شمار اردو کے صف اول کے طنز نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ “سند باد جہازی” کے نام سے فکاہیہ کالم لکھا کرتے تھے۔ قبل ازیں وہ اپنے کالموں میں کولمبس کا قلمی نام بھی استعمال کرتے رہے۔ حسرت نے ایک ہفت روزہ رسالہ (شیرازہ) بھی جاری کیا۔ اس کے بیشتر مضامین مزاحیہ ہوا کرتے تھے لیکن بہت جلد اسے چھوڑ کر ریڈیو میں ملازم ہو گئے۔ کچھ دنوں محکمہ پنچایت پنجاب کے ہفت روزہ ترجمان کی ادارت سنبھال لی۔

دوسری جنگ عظیم میں فوجی اخبار سے وابستہ ہو ئے اور میجر کے عہدے تک جا پہنچے۔ فوجی ملازمت کے سلسلہ میں برما اور ملایا بھی جانا پڑا۔ قیام پاکستان کے بعد (امروز) کی ادارت سنبھال لی۔ لیکن بہت جلد یہ ملازمت ترک کرکے ریڈیو پاکستان میں قومی پروگرام کے ڈائریکٹر ہو گئے۔ حسرت 26 جون 1955ء میں لاہور میں انتقال کر گئے اور میانی صاحب لاہور کے قبرستان میں پیوند خاک ہوئے۔ آج کی اشاعت میں چراغ حسن حسرت کی شاعری، خاکہ اور مضمون خاص ان کو خراج تحسین کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply