26 جون کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1976ء – بغیر سہارے کے قائم بلند ترین مینار سی این ٹاور کی تعمیر مکمل ہوئی۔

2004ء – سابق وزیر اعظم پاکستان میر ظفر اللہ خان جمالی وزارت عظمی کے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

1975ء بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے ملک میں آمرانہ اور جابرانہ قوانین نافذ کیے۔[1]

1786ء برطانیہ اور فرانس کے درمیان تجارتی معاہدے پر دستخط ہوئے .[1]

ولادت

1564ء شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی ان کا پورانام شیخ احمد سر ہندی ابن شیخ عبد الا حد فاروقی دسویں صدی ہجریکے نہایت ہی مشہور عالم و صوفی تھے۔ جو مجدد الف ثانی اور قیوم اول سے معروف ہیں۔ ان کا انتقال 10 دسمبر 1624ء کو ہوا۔

1873ء گوہر جان معروف ہندوستانی کلاسیکی گلوکارہ اور رقاصہ تھیں۔ وہ گراموفون کمپنی آف انڈیا کے 78 آر پی ایم ریکارڈ پر کے لیے گانا ریکارڈ کروانے والی پہلی ہندوستانی گلوکارہ ہیں۔ انہوں نے ‘کلکتہ کی پہلی رقاصہ’ کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے۔ انہوں نے بنگالی،ہندی،گجراتی، تمل، مراٹھی، پشاوری، عربی، فارسی، پشتو، انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں اور متعدد اصناف موسیقی میں اپنی گائیکی ریکارڈ کروائی۔ گوہر جان بادشاہ جارج پنجم، نواب واجد علی شاہ اور کرشنا راجا واڈیار چہارم والئ میسور سمیت متعدد امرا کے دربار کے ساتھ وابستہ رہیں۔ ان کا انتقال 17 جنوری 1930 کو ہوا۔

1892ء امریکن مصنف اور نوبل انعام یافتہ پرل ایس بک

1894ء پیوٹر لیونڈیوچ کیپٹسہ سویت روس کے ایک طبیعیات دان تھے انھیں 1978 میں طبیعیات کا نوبل انعام دیا گیا جس کی وجہ انکی جانب سے کم درجہ حرارتی طبیعیات میں انکی دریافتیں تھیں۔ یہ انعام انکے ساتھ دو امریکی سائنسدانوں کو بھی دیا گیا جو رابرٹ وڈرو ولسن اور ارنو الن پنزاس تھے۔ ان کا انتقال 8 اپریل 1987ء کو سکتہ کی وجہ سے ہوا۔

1895ء اگور ٹام سویت یونین کے ایک طبیعیات دان تھے جنھیں چیریکو اثر کی ایجاد اور اس پر کے گئے انکے کام پر 1958 میں انھیں انکے دو ہم وطنوں پاول ایکزوچ چیرنکو اور للوا فرانک کے ہمراہ مشترکہ طور پر نوبل انعام برائے طبیعیات دیا گیا۔ ان کا انتقال 12 اپریل 1971ء کو ہوا۔

1927ء پروفیسر عبد الغفور احمد ممتاز دانشور، سیاست دان اور نائب امیرجماعت اسلامی پاکستان تھے۔ 23برس کی عمر میں جماعت اسلامی پاکستان کے رکن بنے مدت دراز تک جماعت اسلامی کراچی کے امیر رہے۔1978 ء سے لے کر1979ء تک آپ محض پاکستان قومی اتحاد کی قیادت میں وفاقی وزیر صنعت رہے۔ پروفیسر صاحب نے اپنی اس دور وزارت کو اپنی زندگی کا تاریک باب قرار دیا ہے۔ بعد ازاں 1988 ء سے لے کر1992 ء تک اسلامی جمہوری محاذ کے سیکرٹری جنرل کے طور پرکام کیا۔ اپنے طویل سیاسی سفر میں وہ متعدد بار گرفتار ہوئے۔ گرفتاری کا طویل ترین دورانیہ نومہینے کا وہ عرصہ ہے جب جماعت اسلامی کو غیر قانونی قرار دیاگیا تھا اور پھر سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسے بحال کیا تھا۔ پروفیسر غفوراحمد پانچ کتابوں کے مصنف ہیں جوپاکستانی سیاست سے متعلق ہیں۔ 26 دسمبر 2012ء کو کراچی میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔

1930ء معین الدین احمد قریشی جنہیں معین قریشی کے نام سے جانا جاتا ہے پاکستان کے نگران وزیر اعظم تھے۔ معین قریشی نے پنجاب یونیورسٹی سے معاشیات میں ایم اے کیا اور انڈیانا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔ آپ 18 جولائی، 1993ء سے 19 اکتوبر 1993ء تک نگراں کار وزیر اعظم رہے۔ انھوں نے سنہ 1993 میں نواز شریف کی پہلی حکومت کے خاتمے کے بعد نگراں وزیر اعظم کی ذمہ داری نبھائی۔ وہ سنہ 1960 میں گھانا حکومت کے معاشی مشیر اور 1974 سے 1977 تک انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ بھی رہے معین قریشی سنہ 1981 سے 1987 تک عالمی بینک کے سینئر وائس پریزیڈنٹ آف فنانس بھی رہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کو عالمی مالیاتی اداروں کے کہنے پر کچھ معاشی اصلاحات کے نفاذ کے لیے انہی اداروں کے کہنے پر وزیر اعظم کا عہدہ عنایات ہوا تھا، جنرل سیل ٹیکس انہی کی لائی ہوئی سوغات ہے اس کے علاوہ دیگر بہت سے ٹیکس اور اصلاحات نافذ کیں انہوں نے پاکستان میں رہنا پسند نہیں کیا وزارت عظمی سے قبل اور مابعد وہ پاکستان میں نہ تو رہے اور نہ ہی یہاں آنا پسند کرتے تھے پاکستانی عوام اور خواص کی ایک بہت بڑی جماعت ان کو باقاعدہ غلیظ گالیاں نکالتی ہے جہاں کہیں معین قریشی کا ذکر ہو لوگ لازم ان پر تبرا کہتے ہیں۔ نومبر 2016 میں 86 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

1947ء گلبدین حکمتیار افغان سیاسی جماعت حزبِ اسلامی کے بانی اور فعال رہنما ہے۔ آپ نے افغان جہاد میں روس کے خلاف جنگ میں حصّہ لیا اور بلا آخر کامیابی حاصل کی۔ امریکہ کی افغانستان آمد کے بعد، دیگرافغان مجاہدین رہنماؤں کے برخلاف انھوں نے امریکہ کے خلاف اعلانِ جنگ کیا۔ اور حکومت میں حصّہ لینے سے گریز کیا۔ جس کی بنا پرامریکہ نے انھیں دہشت گرد قرار دیا اور اس کی سیاسی جماعت حزبِ اسلامی کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا۔ اس کے بعد امریکہ سے صلح صفائی ہو جانے کے بعد انہیں دوبارہ دہشت گرد سے مجاہد اسلام کا درجہ مل گیا جبکہ دیگر تمام لوگ جنہوں نے اپنے سابق آقا امریکہ کے سامنے دوزانوں ہونے سے انکار کیا ان کو دہشت گرد قرار دے کر مار دیا گیا۔ البتہ گلبدین حکمتیار کو اب قومی دھارے میں شامل کر لیا گیا ہے۔

1969ء محمد فروغ نسیم ایک پاکستانی قانون دان اور سیاست دان 2018 کے الیکشن میں وہ پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور اس اس وقت عمران خان کی کابینہ میں وزیر قانون و انصاف ہیں۔

1983ء فہد مصطفیٰ ایک پاکستانی ٹی وی اداکار، پروڈیوسر، میزبان اور ماڈل ہیں۔ انہوں نے کئی ڈراموں اور فلموں میں کام کیا ہے۔

وفات

1943ء کارل لینڈ سٹینر ایک آسٹریائی و امریکی حیاتیاتی کیمیادان اور ماہر معالج تھے جنھوں نے طب و فعلیات کا نوبل انعام 1930 میں جیتا تھا۔ ان کا کام خون کے مختلف اہم گروپ کو علیحدہ کرنے کے حوالے سے تھا۔ کارل لینڈ سٹینر آسٹریا کے رہنے والے تھے آپ نے سال 1897ء میں خون میں اے، بی، او بلڈ گروپس سسٹم دریافت کر کے نوبل پرائز حاصل کیا۔ یہی وجہ ہے کہ کارل لینڈ سٹینر کی سالگرہ کے دن ورلڈ بلڈ ڈونرزڈے منایا جاتا ہے۔ 1840ء میں جیکب ہینز نے انسانوں میں پولیو نامی مرض کا انکشاف کیا۔ تاہم 1908ء میں کارل لینڈ سٹینر نے پولیونامی مرض کی تصدیق کی اور اس بیماری کے پھیلنے کا سبب ایک وائرس قرار دیا۔ جس کو پولیو وائرس کا نام دیا گیا۔ وہ 14 جون 1868 کو پیدا ہوئے۔

1963ء عبد السمیع پال اصل نام ہے۔ اردو شاعر۔ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ تعلیم سے فارغ ہو کروکالت کرنے لگے۔ 1929 میں فلسفے میں ایم اے کیا۔ 1956ء میں سرکاری وکیل کے عہدے سے ریٹائر ہو کر لاہور میں اقامت اختیارکر لی۔ گیارہ برس کی عمر سے ہی شعر کہنے لگے تھے۔ کلام کے مجموعے جام صہبائی، خمستان، جام طہور، راحت کدہ، روح صہبائی اور بامِ رفعت کے نام سے چھپ چکے ہیں۔ وہ 28 دسمبر 1901 میں پیدا ہوئے۔

2004 ء یش جوہر انڈین فلم پروڈیوسر اور دھرما پروڈکشن کے بانی

1955ء چراغ حسن حسرت اردو کے ممتاز مزاح نگار، شاعر، ادیب اور صحافی تھے۔ 1904ء میں بمیار ضلع پونچھ (کشمیر) میں پیدا ہوئے۔ حصول تعلیم کے بعد انہوں نے کلکتہ میں اخبار نویسی کا کام شروع کیا اور اخبار (نئی دنیا) کے ذریعہ ایک مزاح نگار کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ اس کے بعد لاہور آ گئے اور متعدد اخبارات سے وابستہ رہے جن میں آفتاب، زمیندار، شہباز، احسان امروز اور نوائے وقت کے نام سرفہرست تھے۔ مولانا چراغ حسن حسرت کا شمار اردو کے صف اول کے طنز نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ “سند باد جہازی” کے نام سے فکاہیہ کالم لکھا کرتے تھے۔ قبل ازیں وہ اپنے کالموں میں کولمبس کا قلمی نام بھی استعمال کرتے رہے۔ حسرت نے ایک ہفت روزہ رسالہ (شیرازہ) بھی جاری کیا۔ اس کے بیشتر مضامین مزاحیہ ہوا کرتے تھے لیکن بہت جلد اسے چھوڑ کر ریڈیو میں ملازم ہو گئے۔ کچھ دنوں محکمہ پنچایت پنجاب کے ہفت روزہ ترجمان کی ادارت سنبھال لی۔ دوسری جنگ عظیم میں فوجی اخبار سے وابستہ ہو ئے اور میجر کے عہدے تک جا پہنچے۔ فوجی ملازمت کے سلسلہ میں برما اور ملایا بھی جانا پڑا۔ قیام پاکستان کے بعد (امروز) کی ادارت سنبھال لی۔ لیکن بہت جلد یہ ملازمت ترک کرکے ریڈیو پاکستان میں قومی پروگرام کے ڈائریکٹر ہو گئے۔ حسرت 26 جون 1955ء میں لاہور میں انتقال کر گئے اور میانی صاحب لاہور کے قبرستان میں پیوند خاک ہوئے۔ آج کی اشاعت میں چراغ حسن حسرت کی شاعری، خاکہ اور مضمون خاص ان کو خراج تحسین کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور صحافی چراغ حسن حسرت

تعطیلات و تہوار

تشدد سے متاثرہ لوگوں کی حمایت کا عالمی دن

پوری دنیا میں انسداد منشیات کا عالمی دن

رومانیہ میں قومی پرچم کا دن

مڈغاسکر کا قومی دن فرانس سے 1960 میں آزادی

تھائی لینڈ میں سنتھورن پاؤ کا دن

Please follow and like us:

Leave a Reply