90 کلو کی دلہن

Spread the love
سیمیں درانی

کل صبح جو آنکھ کھلی تو فیسبک کی منٍڈیروں پہ جھانکنا شروع کردیا۔ اب فیسبک ایک پنڈ ہے اور ہم۔سب دوسرے کی منڈیروں سے خبریں اور چسکے اٹھاتے پھرتے ہیں۔ ایک خوبصورت دلہن پہ نظر پڑی تو لکھا تھا 90 کلو کی 65 سالہ دلہن۔مجھے نہ تو وہ 90 کلو کی دکھی نہ 65 سال کی۔ مارے تجسس عینک لگا کر غور کیا تو اداکارہ انجمن کی شادی کی تصاویر نکلیں۔ مجھے حیرت صرف 90 کلو وزن پہ تھی۔ کیونکہ انجمن ایک عام جسمانی ساخت کی عورت محسوس ہوئی جیسا کہ ہماری پاکستانی خواتین کا اس عمر میں ہونا ناممکن ہے۔

نیچے کمنٹس سیکشن میں سب سے زیادہ سڑاپا خواتین کو تھا۔ دوسری شادی کی۔۔ تو دلہن کیوں بنی۔ سادگی سے نکاح کر لیتی۔ کچھ کو حق مہر پہ اعتراض تھا کہ کنواری تو نہ تھی کہ حق مہر اتنا لکھوا لیا۔ کچھ کا خیال تھا کہ پہلی کے حق پہ ڈاکہ ڈالا گیا۔ مجھے حیرت نہیں افسوس ہوا کہ عورت ہی عورت سے اتنی دشمنی و عناد لئے کیوں بیٹھی ہے۔

یاد رکھیے۔ بچے ساتھی نہیں ہوتے۔ اسنے اپنے بچوں کے فرائض سے سبکدوش ہوکے یہ قابل تحسین قدم اٹھایا۔ کیا ایک بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کا نکاح سات پردوں میں چھپ کے ہونا چاہیے یا وہ کسی موٹی آسامی کی رکھیل بن کے بچے پالے۔ شاید ہمارا معاشرہ ستی کی رسم لاگو کرنا چاہتا ہے یا گنجی سفید لباس میں ملبوس عورتیں جن کو آٹے کی ایک بوری دیتے. وقت گروپ فوٹو لیکر سوشل میڈیا پہ لگائی جائے اور لگے ہاتھوں اسکے بستر تک رسائی ہو تو آم کے آم گٹھلیوں کے دام۔

انجمن۔ تم نے اس، معاشرے کے غلیظ منہ پہ جو طمانچہ مارا ہے میرا اس سے عورت ذات پہ مان بڑھ گیا۔ کیا عورت دوسری تیسری شادی نہیں کر سکتی۔ کیا وہ دوبارہ شادی پہ دلہن نہیں بن سکتی۔ کل سے میں اس مردار خور معاشرے کی بکواس پڑھ رہی ہوں خاص طور پہ ان عورتوں کی جو لہسن ادرک کی بدبو دار سڑانڈ کی ذہنیت کی مالک ہیں۔ کچھ ایسی ہیں جو شادی شدہ مردوں کو پھنسائے انکی پہلی بیویوں کی نیندیں حرام کرکے انکی آدھی تنخواہ پہ حرام کرتی ہیں۔ تم نے جو بھی کیا عیں مزہبی اور عورت کو عطا کیے گئے حقوق کے مطابق کیا۔ مگر اس معاشرے کے چمونے اب اسکی زبان میں بول رہے ہیں۔

خوش رہو۔ آباد رہو۔ ڈٹی رہو۔

مجھے امید ہے کی کنویں کی مینڈکیاں اب کچھ ہمت پکڑ کر کنویں سے باہر نکل کر ایک نئی اڑان کی ہمت باندھیں گی۔

Leave a Reply