تھپڑ ……. فیصل آباد سے کراچی تک

Spread the love

ادارہ صرف اردو ڈاٹ کا کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز خاں فاران کے ساتھ ٹی وی پروگرام میں پی ٹی آئی کے گماشتے کی طرف سے کی جانے والی دہشت گردی کی پرزور مذمت کرتا ہے اور عمران خان سے گزارش کرتا ہے کہ اپنی پارٹی کو غنڈہ گردی سے روک کر ثابت کریں کہ حقیقی طور پر وہ ملک کے وزیر اعظم اور پارٹی کے سربراہ ہیں۔

جب ایک وفاقی وزیر نے ایک صحافی کے منہ پر تھپڑا مارا تھا تو ”گلوبل پِنڈ“ میں دہائی دے دے کر کہا گیا تھا کہ یہ تھپڑ اس معاشرے کے منہ پر مار گیا ہے عدم برداشت جس کا راستہ اور تشدد منزل ہے ، بھلے تب میرا موقف تھا کہ صحافی نے بھی حدودو قیود کا خیال نہیں رکھا جبکہ یہ اس کے فرائضِ منصبی پیشہ ورانہ گھٹی میں شامل ہے لیکن جو ردِ عمل وفاقی وزیر نے دیا وہ بھی قابلِ ستائش نہیں بلکہ قابلِ مذمت ہے ۔ یہ تھپڑ سیاست نے صحافت کے منہ پر مارا تھا اور صحافت نے سیاست کو گالی دی تھی حالانکہ دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے ، پاکستان نے صحافیوں نے کی نمائندہ تنظیم پی ایف یو جے نے سنہ انیس سو پچاس میں ہی تحریری طور پر طے کرلیا تھا کہ وہ ملک میں جمہوریت (سیاست) کی امیں ، علمبردار اور پہریدار رہے گی ، یہ پہرا دینے والے کمر پر کوڑوں کے تمغے بھی سجائے پھرتے ہیں اور کوڑے مارنے والے پوری دنیا میں رسوائی کی کالک مل کر پھرے جن کی ہر سطح پر مذمت کی گئی ۔

سیاست اگر صحافت کے منہ پر تھپڑ مارتی ہے تو اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہو گا کہ مالی اپنے ہی چمن کے خار سے تار تار ہوجائے ، ہاں! لٹیرا تو پھول توڑنے والے کو منع کرنے پر اپنے غضب کا نشانہ بنا سکتا ہے کہ اس کا طریقہ ، اصول اور قانون یہی ہے ۔ سیاست میں آنے یا لائے جانے والوں کی تربیت کسی نہیں کی ، انہیں جہاں سے ، جس طرح سے لایا جاتا ہی ویسی ڈیوٹی بھی سونپ دی جاتی ہے ۔

بدلتے ہوئے حالات میں کئی بار میں اپنے ساتھیوں اور قائدین سے گزارش کرچکا ہوں کہ اب ہمیں بھی تھوڑا سا رستہ بدلنے کی ضرورت ہے ، ہمیں جمہوریت اور دوسروں کی آزادی سے زیادہ اپنے ساتھیوں کے روزگار اور ، وقار اور زندگی کے تحفظ پر توجہ دینی چاہئے ، ہم وہ ماں نہ بنیں جو صعوبتیں اٹھا کر بیٹے کو تھانیدار بنواتی ہے اور وہی تھایندار پہلا ڈنڈا ماں کے پیٹھ پر مارتا ہے ۔

ہمیں ایسے بچے کو اپنا لاڈلا نہیں بنانا چاہئے نہ ہی لاڈ لڈانے چاہئیں بلکہ کھلے لفظوں میںان کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرنے چاہیے جن کے بارے میں بچپن میں کہا جاتا تھا کہ زبان چالیس دن ناپاک رہتی ہے اور ان کا خاص خیال بھی رکھنا چاہئے جو ماں کے فرمانبردار اور معاشرے کے ہمدرد ہیں ۔

ٹی وی سکرین سے شروع ہونے وا لا اختلافِ رائے پہلے مخالفت اور اب دشمنی میں بدلنے جارہا ہے، یہی بات ”گلوبل پِنڈ“ میں کیے جانے والے ”جاگتے رہنا بھائیو‘‘ کے اعلان میں کہی گئی تھی۔ جس پر اگلوں کی طرح اب کے لوگوں نے بھی کان دھرنے کی زحمت گوارہ نہ کر کے اپنے سابق ریکارڈ کا پامال نہیں ہونے دیا۔ اور پنڈال سے یہ تشدد ٹی وی سکرین پر پہنچ گیا ہے۔ یہاں بھی ایک سیاستدان ایک سینئر صحافی بلکہ صحافیوں کے منتخب لیڈر امتیاز خاں فاران (صدر کراچی پریس کلب) گتھم گتھا ہوگئے، گلیاں بکی گئیں ، دلچسپ بات یہ ہے کہ جب دو لوگ گتھم گتھا تھے تو کچھ دیر تک کچھ لوگ تماشا دیکھتے رہے۔

درحقیقت جاننے کی یہ ضرورت ہے کہ یہ لڑائی کیوں ہوتی ہے؟ ازل سے یہ بات طے شدہ ہے کہ انسان گالی اس وقت ہی دیتا ہے جب اس کے پاس دلیل کا فقدان ہوتا ہے اس کا تعلق خواہ کسی بھی شعبے سے ہو اور عدم برداشت کے اس معاشرے میں گالی سے بات گولی تک پہنچ جاتی ہے۔

اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ ہمارے معاشرے میں سیاستدان کہلانے والوں کی کسی بھی سطح پر کوئی بھی تربیت نہیں ہوئی، بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ موجودہ زمانے میں آنے والے سیاستدانوں کی تو گھر کی سطح پر بھی تربیت کا اہتمام نہیں ہوا مگر میں اس بات سے نہ صرف اختلاف کرتا ہوں بلکہ شدید احتجاج بھی کرتا ہوں کہ کسی کی بدزبانی یا غیر شائستہ رویے کا ذمہ دار کسی طور پر گھر والوں کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ماں باپ کیسے بھی ہوں اپنے بچے کی بہترین تربیت کرنا چاہتے ہیں بلکہ مثالی تربیت مگر بسا اوقات بچے کچھ وقت گھر سے باہر خرچ کرنے لگ جاتے ہیں، بہر کیف تربیت کے حوالے سے کچھ صحافی کہلوانے والوں کی خاص طور پر چھاتہ برداروں کی تربیت میں بھی کہیں سقم ہے۔

مگر یہاں تو صحافیوں کے ایک لیڈر اور سلجھے ہوئے شخص کے ساتھ ہاتھا پائی کی گئی ہے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی ہیں، امتیاز فاران پہلی بار کراچی پریس کلب کے صدر نے بنے، وہ اس سے پہلے بھی کراچی پریس کلب کے ساتھ ساتھ پی ایف یو جے میں منتخب ہوتے رہے ہیں انہوں نے سالہا سال اساتذہ سے پرنٹ میڈیا میں صحافتی تربیتی کی مار کھائی ہے اوراپنے پیشے کے وقار کا شعور رکھتے ہیں۔ دوسرے صاحب کو شعور کون دے گا؟ اس کی جماعت، استاد، مانیٹر، ماسٹر۔۔۔؟
جمہوریت سے تھپڑ کرسی کا استاد کون ہے؟ کس کا رواج ہے؟ کیا پیغام ہے؟ کیا تربیت ہے؟ درپردہ چہرے اور پلان کیا ہیں؟
یہ جو کچھ ہورہا ہے انتہائی شرمناک اور توجہ طلب ہے، اس کے سامنے سبھی کو مل بیٹھ کر سوچ بچار سے پل باندھنا ہوگا ورنہ کسی دن نوبت سکرین پر ہی قتل و غارت تک پہنچ جائے گی۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس سلسلہ میں سب سے پہلا قدم اور جملہ تو میزبان کی طرف سے اٹھایا جانا چاہیے تھا۔ میزبان کے ہوتے ہوئے ایسی صورت پیدا ہو جائے تو اس پر انتہائی ادب احترام سے افسوس کا صیغہ ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply