237

25 جون کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

25 جون کے واقعات

واقعات

1654ء برطانیہ اور ڈنمارک کے درمیان تجارتی معاہدے پر دستخط ہوئے

1911ء اٹلی نے ترکی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا

1961ء عراق کی جانب سے کویت کو عراق کا حصہ ہونے کا دعوی تاہم کویت نے انکار کر دیا

1984ء مصر اور اردن کے درمیان دوبارہ سفارتی روابط قائم ہوئے

ولادت

1244ء ابن الفوطی یا ابن الصابونی، عراقی مسلمان محدث، فلسفی، ماہر فلکیات اور مؤرخ تھے۔ اُن کی وجہ شہرت اُن کی تصنیف مجمع الآداب فی معجم الاسماء و الالقاب ہے۔ ان کا انتقال 12 جنوری 1323ء کو ہوا۔

1728ء شاہ عالم ثانی مغلیہ سلطنت کے سولہویں شہنشاہ تھے جنہوں نے 1760ء سے 1806ء تک بحیثیتِ مغل شہنشاہ ہندوستان پر حکومت کی۔ شاہ عالم مغلیہ سلطنت کے عہدِ زوال کا آخری با اَثر مغل شہنشاہ تھا جس کی دورِ حکومت میں مغلیہ سلطنت میں خود مختار ریاستوں اور سلطنتوں کا قیام عمل میں آیا اور مغلیہ سلطنت کی حدود سمٹ کر دہلی تک محدود ہوچکی تھیں۔ شاہ عالم کے آخری دور میں یہ مقولہ مشہور ہوچکا تھا کہ: “حکومت شاہ عالم، از دہلی تا پالم” (پالم دہلی کا قریبی علاقہ ہے)۔ ان کا انتقال 19 نومبر 1806ء کو ہوا۔

1864ء الٹر ہرمن نرنسٹ ایک جرمن فزیکل کیمسٹری اور طبیعیاتدان تھا۔ انھیں تھرموڈائینامکس کے حوالے سے قانون، نرنسٹ لالٹین، نرنسٹ مساوات، نرنسٹ گلوور، نرنسٹ افیکٹ، نرنسٹ گرمی تھیورم، نرنسٹ پوٹینشل، نرنسٹ-پلانک مساوات کے بارے میں کھوج کیا۔ انھیں 1920 میں کیمسٹری دا نوبیل انعام دیا گیا۔ ان کا انتقال 18 نومبر 1941 کو ہوا۔

1894ء نازلی صبری شاہ فواد اول کی دوسری بیوی اور 1919 سے 1936 مصر کی ملکہ تھی۔ اس کے بیٹے نے یکم اگست 1950 کو مصر میں اس کے حقوق اور اس کے لقب سے محروم کر دیا جس کی وجہ اس کی بیٹی شہزادی فتحیہ کی ریاض اُغالی سے شادی تھی۔ ایک دوسری وجہ اس کا اسلام سے منحرف ہو کر مسیحیت قبول کرنا تھا۔ اس کا مسیحی نام میری الزبتھ تھا۔ 1976 میں اس نے مصری صدر انور سادات کو ایک درخواست بھیجی جس میں انہیں مصری پاسپورٹ دینے اور مصر واپس کی اجازت شامل تھی۔ جس روز وہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے واپس جا رہے تھے، اس کی بیٹی کو اس کے سابق شوہر ریاض اُغالی نے قتل کر دیا جو ان کے مصر واپسی میں رکارٹ بنا۔ آخر کار وہ اپنی بیماری کی وجہ سے امریکہ میں رہنے لگی۔ وہ لاس اینجلس، کیلی فورنیا میں29 مئی 1978 میں انتقال کر گئی۔

1900ء لوئس ماؤنٹ بیٹن المعروف لارڈ ماؤنٹ بیٹن برطانوی سیاست دان،برطانوی بحری فوج کا افسر اورمتحدہ ہندوستان کا آخری جبکہ آزاد بھارت کا پہلا وائسرائے تھا۔ اس کا انتقال 27 اگست 1979 کو ہوا۔

1907ء جے ہنس ڈی ہنسن ایک مغربی جرمنی کے طبیعیات دان اورنوبل انعام برائے طبیعیات جیتنے والے طبیعیات دان تھے۔ انہوں نے یہ انعام 1963 میں یوجین پاول وگنر اورماریہ جیوپرٹ مئیر کے ساتھ مشترکہ جیتا جس کی وجہ نیوکلیئر شیل کی ساخت کے حوالے سے کی گئی دریافتیں تھی۔ ان کا انتقال 11 فروری 1973 کو ہوا۔

1911ء ولیم ہورڈ سٹینایک امریکی کیمیاء دان تھے جنھوں نے ایک انزائم رائبونیوکلاس پرکام کے صلے میں انھیں نوبیل انعام برائے کیمیاء 1972ء میں دیا گیا۔ انھیں یہ انعام سٹینفورڈ موری اورکرسچن بی اینفنسن کے ساتھ مشترکہ طور دیا گیا۔ ان کا انتقال 2 فروری 1980 کو ہوا۔

1924ء مدن موہن کوہلی ہندوستانی فلموں کے بہترین موسیقاروں میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے فلم کے لیے بہترین موسیقی ترتیب دی۔

یہ بھی پڑھیں

1928ء الیکزی الیکزیوچ ابریکوسو امریکا کے ایک طبیعیات دان تھے۔ انہوں نے طبیعیات کا نوبل انعام بھی جیتا تھا۔ یہ انعام 2003 میں انہوں نے اپنے ہم وطن سائنس دان وائٹلی گنزبرگ اور برطانوئی سائنس دان انتھونی جیمز لگٹ کے ہمراہ سوپر کنڈکٹیویٹی اور سوپر فلوئڈ کے مفروضے پر کرنے پر حاصل کیا تھا۔ ان کا انتقال 29 مارچ 2017 کو ہوا۔

1946ء ڈاکٹر معین الدین عقیل، پاکستان کے پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے نامور نقاد، محقق اور اردو کے پروفیسر ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اردو کی تدریس میں گزارا اور اٹلی، جاپان اور پاکستان کی مختلف جامعات میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ ان کی تصنیف جنگ آزادی میں اردو کا حصہ کافی شہرت رکھتی ہے۔

1949ء عبداللہ حکیم کوئیک، شمالی امریکہ سے تعلق رکھنے والے ایک امام، مؤرخ ہیں۔ وہ کیمبرج، میساچوسٹس، ریاستہائے متحدہ امریکہ میں پیدا ہوئے اور بوسٹن میں پلے بڑھے۔ وہ 1970ء میں کینیڈا میں حلقہ اسلام داخل ہوئے۔ 1979ء میں انہوں نے جامعہ اسلامیہ، مدینہ منورہ سے بیچلرز ڈگری حاصل کی۔ وہ امریکہ کے ان دو طالب علموں میں شامل ہیں جنہیں اجازہ عطا کیا گیا۔ انہوں کے ماسٹرز اور پی ایچ ڈی جامعہ ٹورانٹو سے حاصل کی۔ وہ اسلامک انسٹیٹیوٹ آف ٹورنٹو کے سینئر لیکچرر ہیں۔

1957ء حافظ زبیر علی زئی عالمِ اسلام کے ایک نامور محدث تھے اور چودھویں صدی میں علم حدیث اور جرح وتعدیل کے امام تھے۔ ان کا انتقال 10 نومبر 2013 کو ہوا۔

1974ء بالی وڈ اداکارہ کرشمہ کپور کا یوم پیدائش

وفات

884ء بکار بن قتیبہ یا قاضی بکار، فقہ حنفی کے متبحر عالم، قاضی، محدث اور مصر کے قاضی القضاۃ تھے۔ قاضی بکار کا نام بکار بن قتیبہ ہے جبکہ نسب یوں ہے: بکار بن قتیبہ بن عبیداللہ بن بشیر بن عبیداللہ بن ابی بکرۃ الثقفی البکراوی۔ ابن حبان کے مطابق قاضی بکار ایک ثِقہ عالم اور محدث تھے اور ابوبکرہ کی کنیت سے مشہور تھے۔قاضی بکار نے فقہ کی تحصیل ہلال بن یحییٰ الرائی اور عیسیٰ بن ابان سے کی جبکہ علم حدیث امام ابوداؤد طیالسی، یزید بن ہارون، صفوان بن عیسیٰ، عبدالصمد بن عبدالوارث اور مؤمل بن اسماعیل العدوی اور امام الحافظ عبد الصمد بن عبد الوارث التنوری سے حاصل کیا۔ بصرہ میں کثیر محدثین عظام سے شرفِ تلمذ حاصل کیا۔ قاضی بکار سے روایت کرنے والوں میں امام ابوعوانہ اسفرائینی، امام ابن خزیمہ، عبداللہ بن عتاب الرفتی، یحییٰ بن صاعد، ابن جوہا، امام ابو جعفر طحاوی اور کثیر محدثین عظام شامل ہیں۔ قاضی بکار کی پیدائش 182ھ مطابق 798ء میں بصرہ میں ہوئی۔

1599ء صاحب جمال بیگم شہزادہ نور الدین محمد سلیم کی تیسری بیوی تھی، یہی شہزادہ سلیم بعد میں مغل شہنشاہ جہانگیر بنا۔

1861ء عبد المجید اول 23 اپریل 1823ء کو پیدا ہوئے۔ سلطنت عثمانیہ کے 31 ویں سلطان تھے جنہوں نے 2 جولائی 1839ء کو اپنے والد محمود ثانی کی جگہ تخت سلطانی سنبھالا۔ ان کا دور حکمرانی قوم پرستوں کی تحریکوں کے آغاز کا زمانہ تھا۔ سلطان نے “عثمانیت” ( Ottomanism) کے فروغ کے ذریعے قوم پرستی کو روکنے کی ناکام کوشش کی حالانکہ انہوں نے نئے قوانین اور اصلاحات کے ذریعے غیر مسلم اور غیر ترک اقوام کو عثمانی معاشرے میں ضم کرنے کی بھرپور سعی کی۔ انہوں نے مغربی یورپ کی اہم سیاسی قوتوں برطانیہ اور فرانس کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے اور انہی اتحادیوں کے ذریعے روس کے خلاف جنگ کریمیا لڑی۔ 30 مارچ 1856ء کو معاہدۂ پیرس کے ذریعے سلطنت عثمانیہ کو یورپی اقوام کا باقاعدہ حصہ قرار دیا گیا۔ عبد المجید کی سب سے بڑی کامیابی تنظیمات کا اعلان اور نفاذ تھا جس کا آغاز ان کے والد محمود ثانی نے کیا تھا۔ اس طرح 1839ء سے ترکی میں جدیدیت کا آغاز ہو گیا۔

1971ء جان بویڈاور، جو کہ1935ء سے 1949ء تک سر جون بوائڈ اور کے نام سے جانے جاتے تھے۔ سکاچ ٹیچر، معالج، ،حیاتیاتدان اور سیاست دان تھے جنھوں نے نوبل امن انعام حاصل کیا۔ انھیں یہ انعام غزائیات میں انکی سائنسی تحقیق پر دیا گیا۔ وہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے پہلے ڈائریکٹر جنرل تھے۔ وہ 23 ستمبر1880ء کو پیدا ہوئے۔

1995ء ارنسٹ والٹن ایک آئر رلینڈ کے طبیعیات دان اورنوبل انعام برائے طبیعیات نوبل انعام جیتنے والے سائنس دان تھے۔ انھوں نے یہ انعام 1951ء میں پیڑ زیمین کے ساتھ مشترکہ جیتا ،جس کی ایٹامک نیوکلس کی ایٹمی ذرات کے ذریعے ٹرانس میوٹیشن کرنے میں ان کے قابل قدر کارنامے تھے۔ وہ 6 اکتوبر 1903 کو پیدا ہوئے۔

2008ء بھارت کے ممتاز سیاست دان، سابق رکن پارلیمان اور سیاسی جماعت انڈین یونین مسلم لیگ کے صدر۔ 15 اگست 1933 کو بمبئی میں پیدا ہوئے۔ مسلم لیگ کے ذریعے سیاسی کیرئیر شروع کرنے والے مرحوم بنات والا 1977ء میں لوک سبھا میں پہلی مرتبہ رکن پارلیمان منتخب ہوئے اور 1999ء تک وہ سات بار کیرلا کے ایک مسلم اکثریتی حلقے پونّانی سے پارلیمانی نمائندگی کرتے رہے۔ بنات والا ایک بہترین مقرر تھے اور پارلیمان میں اکثر مسلمانوں کے مسائل پر آواز اٹھاتے تھے۔ بابری مسجد کے انہدام اور مسلمانوں کے حقوق کے حوالے سے انہوں نے زبردست مہم چلائی تھی۔ مشہور شاہ بانو مقدمہ اور مسلم پرسنل لا پر بھی انہوں نے پارلیمنٹ میں اپنی آواز بلند کی تھی۔ 25 جون بروز بدھ 2008ء میں 74 سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے ممبئی میں انتقال کر گئے۔

2009ء مائیکل جیکسن – امریکی فنکار

تعطیلات و تہوار

1991ء کروشیا اور سلوینیا نے یوگوسلاویہ سے آزادی کا اعلان کیا

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

25 جون کے واقعات, 25 جون کے واقعات, 25 جون کے واقعات

اپنا تبصرہ بھیجیں