307

24 جون کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

24 جون کے واقعات

واقعات

1688ء فرانس نے جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا

1901ء کو پیرس میں ایک نوجوان ہسپانوی مصور پابلو پکاسو کی پہلی نمائش نے مصوروں اور نقادوں کو حیران کر دیا

1910ء کو جاپان نے کوریا پر حملہ کر دیا

1981ء کو اسرائیلی رہنما موشے دایان نے پہلی بار اعلان کیا کہ اسرائیل ایٹم بم بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

1985ء خلائی شٹل جی اکیاون نے کامیابی سے مشن مکمل کیا،جس میں پہلے مسلمان عرب شخصیت سلطان بن عبد العزیز السعود نے سفر کیا

2008ء عراق میں علی حسن الماجد (کیمیکل علی )کو ایک لاکھ اسی ہزار کردوں کی ہلاکت میں ملوث ہونے پر پھانسی دے دی گئی

ولادت

1893ء بچوں کے تفریحی پروگرام بنانے والے ادارے والٹ ڈزنی کے شریک بانی اور صنعتکار رائے اوڈزنی

1897ء ہندوستانی کلاسیکی گلوکار اومکار ٹھاکر

1915ء سر فریڈ ہوئل ایف آر ایس ایک انگریز ماہر فلکیات جو بنیادی طور پر اپنے نظریۂ تاریک جوہری ترکیب سے جانا جاتا ہے، بلکہ دیگر سائنسی معاملات پر ہوئل کے اکثر متنازع موقف بھی اس کی وجۂ شہرت ہیں —اس کے متنازع بیانات نے اس کی شخصیت کا ہمیشہ منفی پہلو پیش کیا۔ مثال کے طور پر اس نے بغیر کسی ثبوت کے دعویٰ کیا کہ نیچرل ہسٹری میوزیم میں آرکیو ٹیرکس کے فوسل جعلی ہیں۔ عجائب گھر کے منتظمین کو وضاحت پیش کرتے کرتے بہت دن لگ گئے کہ ایسا نہیں ہے۔ اس کا یہ بھی خیال تھا کہ زمین پر حیات اور اکثر بیماریاں جیسا کہ انفلوئنزا اور ببونک طاعون بھی خلا سے آئے ہیں۔ ایک بار اس نے دعویٰ کیا کہ انسانی نتھنے نیچے کی طرف اس لیے ہیں کہ خلا سے آنے والے جراثیم سے بچاؤ ہو سکے۔ اسی نے ریڈیو پر بات کرتے ہوئے پہلی بار 1952ء میں بگ بینگ کی اصطلاح استعمال کی۔ اسی نے بتایا کہ طبعیات کا ہمارا علم ہرگز یہ بات نہیں بتا سکتا کہ کیسے تمام مادہ ایک جگہ جمع ہوا اور پھر ڈرامائی انداز میں پھیلنا شروع ہو گیا۔ اس کا خیال تھا کہ کائنات سٹیڈی سٹیٹ ہے یعنی ایسی کائنات جو مستقل طور پر پھیل رہی ہے اور پھیلتے ہوئے مزید مادہ پیدا کرتی جا رہی ہے۔ ہوئل نے ہی یہ بات بتائی کہ اگر ستارے اندر کی جانب پھٹیں تو بے انتہا حرارت پیدا ہوگی جو 10 کروڑ ڈگری سے بھی زیادہ ہوگی جس سے بھاری عناصر کی پیدائش کا عمل شروع ہوگا۔ ا س عمل کو نیوکلیو سنتھسیز کہتے ہیں۔ 1957 میں ہوئل نے دیگر سائنس دانوں کی مدد سے ثابت کیا کہ سپر نووا کے پھٹنے کے دوران میں کیسے بھاری عناصر پیدا ہوتے ہیں۔ اسی کام پر اس کے ایک ساتھی فاؤلر کو نوبل انعام ملا۔ ان کا انتقال – 20 اگست 2001 کو ہوا۔

1916ء سلوی روضہ شقیر ایک لبنانی نقاش اورمجسمہ ساز تھی۔ وہ لبنان میں تجریدی آرٹ کی پہلی آرٹسٹ مانی جاتی ہیں۔ ان کا انتقال – 26 جنوری 2017 کو ہوا۔

1924ء ـ غلام مصطفیٰ قاسمی (پاکستان کے ممتاز عالم دین، مفسر، مورخ اور ماہر تعلیم) بمقام ضلع لاڑکانہ، پاکستان۔ انہیں عربی، فارسی، اردو اور سندھی پر عبور حاصل تھا اور انہوں نے ان زبانوں میں چالیس سے زائد کتابیں لکھیں۔ انہوں نے سندھ کے دینی پس منظر پر بڑی تحقیق کی اور سندھ کے پرانے مذہبی علما خاص طور پر مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی، مخدوم محمد ابراہیم ٹھٹوی،مخدوم محمد جعفر بوبکائی اور قاضی محمد اکرم کی سندھی اور فارسی تحریروں کو اردو میں ترجمہ کیا اور ان کی اشاعت کا بندوبست کیا۔ اس کے علاوہ مخدوم نوح ہالائی کے فارسی ترجمہ قرآن کو مفید حواشی کے ساتھ مدون کیا تھا۔ ان کی تحقیقی و علمی تصانیف کی فہرست طویل ہے۔ انہوں نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کی شرح بھی کتابی شکل میں لکھی۔ حکومت پاکستان نے ڈاکٹرغلام مصطفی قاسمی کو 1987ء میں ستارۂ امتیاز سے نوازا۔ فلسفے میں وہ مولانا عبیداللہ سندھی کے پیروکار تھے اور مولاناعبیداللہ سندھی اور شاہ ولی اللہ کی تعلیمات کو پھیلانے کے لیے کوشاں رہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے شاہ ولی اللہ اکیڈمی قائم کی جس کے زیر اہتمام کئی مذہبی کتابیں شائع کی گئیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے قرآن شریف کی تفسیر سندھی زبان میں لکھی۔ آپ عرصے تک سندھ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والے اسکالرز کے نگران بھی رہے اور ان کی زیر نگرانی سندھ کی کئی نامور شخصیات نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، جن میں مشہور ماہر لسانیات و مورخ ڈاکٹر غلام علی الانا بھی شامل ہیں۔ غلام مصطفیٰ قاسمی شاہ ولی اللہ اکیڈمی، حیدرآباد کے تحقیقی مجلہ الرحیم کے مدیر بھی رہے۔ 9 دسمبر 2003ء کو نامور عالم دین، محقق، مصنف، شیخ الحدیث علامہ ڈاکٹر غلام مصطفی قاسمی حیدرآباد، سندھ، پاکستان میں وفات پاگئے۔ آپ حیدرآباد، سندھ میں غلام نبی کلہوڑو کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔

1924ء ماسٹر تارا سنگھ سکھوں کا مشہور لیڈر تھا۔ شرومنی اکالی دل کا صدر بھی تھا۔ ضلع راولپنڈی میں اسکول ماسٹر تھا۔ آہستہ آہستہ اکالی پارٹی کا سر کردہ بن گیا۔ 1947 میں تقسیم ہند کے موقع پر امرتسر چلا گیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک دفعہ آزاد سکھ اسٹیٹ بنانے کا مشورہ دیا تھا۔ پہلے تو تارا سنگھ کے ذہن میں یہ بات نہ سمائی لیکن بعد میں آزاد صوبہ بنانے کا حامی ہو گیا۔ اور آئے دن اس کوشش میں لگا رہا۔ لیکن بھارتی حکومت ایسی کوششوں کو ٹھکراتی رہی۔ سکھوں میں پھوٹ پیدا ہوجانے کی وجہ سے اس کی تحریک کامیاب نہ ہو سکی۔سکھ ریاست کے قیام کے لیے جدوجہد جاری رکھی لیکن کامیاب نہ ہو سکا۔ آخر کار 22 نومبر 1967 میں وفات پا گیا۔

1927ء فریڈرک رینزل، امریکہ کے طبیعیات دان تھے۔ انھوں نے طبیعیات کا نوبل انعام بھی جیتا یہ انعام 1995ء میں انھوں نے اپنے ہم وطن سائنس دان فریڈرک رینز نیوٹرینو کو جانچنے اور لپٹون فزکس میں اولین تجرباتی افعال پر یہ انعام ملا۔ ان کا انتقال 30 ستمبر 2014 کو ہوا۔

1938ء سلطان محمد یا سلطان راہی پاکستان کے ایک بہت مقبول فلمی اداکار تھے۔ انہوں نے زیادہ تر پنجابی فلموں میں اداکاری کی۔ سلطان راہی نے اپنی فلمی زندگی میں 700 سے زیادہ پنجابی اور اردو فلموں میں کام کیا۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز کی کتاب میں بھی ان کا نام درج ہے۔ سلطان راہی نے 9 جنوری 1996ء تک پاکستانی فلمی صنعت پر چھائے رہے۔ انہیں جی ٹی روڈ پر گولی مار دی گئی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ ان کے قاتل آج تک نہیں مل سکے۔

1953 ولیم ای مورنر امریکہ کے ایک کیمیادان ہیں انکی خدمات کے اعتراف طور پر2014میں انھیں کیمیاکا نوبل انعام ملا۔ اسٹیفن ہیل، ایرک بیٹزگ اور ولیم موئرنرنے مائیکرو اسکوپ کے ذریعے اشیا کو دیکھنے کے مروجہ طریقے کو اس حد تک بہتر بنایا ہے کہ اب اس کے ذریعے خَلیات کی اندرونی ساخت کو کہیں بڑے سائز میں اور کہیں زیادہ صاف اور واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل کہا جاتا تھا کہ مائیکرو اسکوپ کی دنیا میں مزید جدت کی گنجائش نہیں ہے اور آپٹیکل مائیکرو اسکوپی ایک خاص سطح سے آگے نہیں جا سکتی ہے۔ ’’اس مرتبہ کے نوبل انعام کا تعلق اُس جدت سے ہے، جس کی وجہ سے عام مائیکرو اسکوپ ایک نینو اسکوپ میں تبدیل ہو گئی ہے۔

1979ء سمیرہ عزیز ایک سعودی ذرائع ابلاغ سے جڑی ہوئی شخصیت، صحافیہ، فلمی ہدایت کار اور ناول نگار ہے۔ وہ جدہ میں قیام پزیر سعودی شہری ہے۔ وہ ثنا سولکر پروڈکشن کی مالک ہے جو بالی وڈ اور بھارت کا پہلا پروڈکشن ہاؤز ہے۔ وہ ریڈیو پر مرحبا ویتھ سمیرہ عزیز نام کے ایک ہفتہ وار شو کو پیش کرتی ہے جو ایشین ریڈیو لائیو، مملکت متحدہ سے نشر ہوتا ہے۔ وہ سعودی گزٹ میں سینئر بین الاقوامی صحافیہ کے طور پر کام کر چکی ہیں۔ آج کل وہ ایشین انفارمیشن ایجنسی (اے آئی اے) کی صدر ہیں، جو ایک عالمگیر خبروں فراہم کرنے والا ادارہ ہے۔ وہ سماجی، تارکین وطن، جانوروں سے متعلق اور خواتین سے متعلق قومی اور بین الاقوامی فورموں اپنے خیالات کا اظہار کر چکی ہیں۔ وہ سعودی عرب میں پہلی اردو ناول نگار کے طور پر شہرت رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ انسانیت دوست کاموں میں بھی پیش پیش رہتی ہیں۔

وفات

1562ء ماہم انگہ جو مغل روایات میں مشہور ہے، مغل شہنشاہ اکبر اعظم کی دائی ماں کہلاتی ہے۔شیر شاہ سوری نے جب سلطنت سنبھالی تو ہمایوں کو اپنے اہل خانہ سمیت ملک بدر کیا، ہمایوں کبھی ایک جگہ اور کبھی دوسری جگہ پناہ لیتا تھا اس لیے اکبر کی کفالت حمیدہ بیگم نے ماہم انگہ کو سونپی اور بچپن میں ساری تربیت ماہم انگہ نے کی۔ اس لیے اکبر انہیں بڑی امی کے نام سے پکاراکرتا تھا اور اپنی دوسری ماں کا درجہ دیتا تھا۔ پاکیزہ خاتون تھی۔ ان کے بطن اس ادھم خان پیدا ہوا۔ عظیم مغل کمانڈر بیرم خان کے وفات کے بعد ریاستی امور ماہم انگہ نے سنبھالے۔ مغل سلطنت میں ان کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔

1564 محمود غزنوی کے عہد میں ہندوستانی ریاست کالنجر سے تعلق رکھنے والی اور آرٹ کی دلدادہ رانی درگا وتی

1778ء وارث شاہ پنجابی کی ہیر وارث شاہ مشہور زمانہ تصنیف ”ہیر“ کے خالق اور پنجابی زبان کے عظیم صوفی شاعر ہیں۔

2000ء صادق حسین قریشی مارچ 1974ء تا 13 مارچ 1975ء تک پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گورنر رہے۔ وہ 25 جولائی 1927 – کو پیدا ہوئے۔

تعطیلات و تہوار

بہائی فرقے کا رحمۃ کا تہوار

24 جون کے واقعات

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں