102

23 جون کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1757ء معرکۂ پلاسی۔ 3 ہزار انگریزی سپاہیوں نے نواب سراج الدولہ کے 50 ہزار سپاہیوں کو شکست دی ۔

1868ء ٹائپ رائٹر کے موجد کرسٹوفر لیتھم شولر نے اس ایجاد کو اپنے نام کروایا۔

1956ء کو مصر کی عوام نے بھاری اکثریت سے جمال عبد الناصر کو جمہوریہ مصر کا پہلا صدر منتخب کیا۔ اپنے اقتدار کے 18 برسوں میں ناصر کو بے پناہ عوامی مقبولیت حاصل ہوئی۔

1985ء ائیر انڈیا کا جیٹ طیارہ مونٹریال، ٹورونٹو، لندن انڈیا جاتے ہوئے حادثہ کا شکار ہوا اور اس میں سوار تمام 329 مسافر جاں بحق ہو گئے۔ اس تلاشی میں کینیڈا کی انتظامیہ نے جہاز میں سے تین مشتبہ پیکٹ اتارے تھے۔ طیارہ آئر لینڈ کے ساحلوں کے قریب فضا میں ہی تباہ ہو گیا جب وہ لندن کے ہیتھرو ائر پورٹ سے صرف 45 منٹ کی مسافت پر تھا۔ ممکنہ طور پر کارروائی سکھ علیحدگی پسندوں کی جانب سے جہاز میں بم رکھ کر کی گئی۔

1993ء کو جرمنی کے شہر برلن میں امریکی افواج 48 برس قیام کرنے کے بعد واپس چلی گئی۔

2007ء کراچی میں شدید بارش سے دوسوتیس افراد ہلاک ہوئے

2008ء پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف کو انتخابات کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا

2017ء پاکستان میں دھماکے (جون 2017ء)

ولادت

1889ء انا اخماتووا (روسی شاعرہ) بین الاقوامی شہرت یافتہ روسی شاعرہ ہیں جنہیں روس میں اور دوسرے ممالک میں غنائی شاعری کے لیے بڑی شہرت و مقبولیت حاصل ہے

1907ء جیمز میڈے براطانوئی ماہر اقتصادیات تھے اقتصا دیات میں انکی کام کی اہمیت کو دیکھ کر 1977میں انھیں اور برٹل ہلنکو نوبل میموریل انعام برائے معاشیات مشترکہ طور پر دیا گیا۔

1912ء ایلن تورنگ ایک انگریز سائنسدان اور ریاضی دان تھے، جنہوں نے عالمی جنگ دوم کے دوران جرمن فوج کے پیغاموں کا رمز توڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ کمپیوٹر سائنس کی نشو و نما میں بہت اثر انداز تھے اور مفروضاتی کمپیوٹر سائنس اور مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹیلیجنس) کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔

1925ء اولیور سمیتھز برطانیہ میں پیدا ہونے والے ایک امریکی جینیات دان تھے جنھوں نے 2007ء کا نوبل انعام حاصل کیا تھا۔

1937ء مارٹی اہتیشری فن لینڈ کے ایک سیاست دان او ر10 ویں صدر تھے، جن کی امن کی خدمات کودیکھ کر2008ء میں انھیںنوبل امن انعام کا حقدار قرار دیا گیا۔
1955ء میجر جنرل اطہر عباس بین الخدماتی تعلقات عامہ کے سابقہ ڈائریکٹر جنرل اور 2015ء سے یوکرین میں پاکستان کے سفیر ہیں۔

وفات

1761ء بالاجی باجی راؤ جو نانا صاحب کے نام سے معروف ہیں، ہندوستان کی مرہٹہ سلطنت کے پیشوا (وزیر اعظم) تھے۔ نانا صاحب کے دور اقتدار میں مرہٹہ سلطنت کے چھترپتی کٹھ پتلی بنا دیے گئے تھے اور ان کے اختیارات محدود ہو کر پيشواؤں کے ہاتھوں میں جا چکے تھے۔ اسی عرصے میں مرہٹہ سلطنت ایک متحدہ مملکت کی بجائے وفاق میں تبدیل ہونے لگی تھی، خصوصاً ہولکر، شندے اور ناگپور کے بھوسلے خاصے طاقتور بن کر ابھر رہے تھے۔ بالاجی راؤ کے دور اقتدار میں مرہٹہ سلطنت کی فتوحات اپنے آخری حدود تک جا پہنچی تھی لیکن اس وسیع سلطنت کے بڑے حصہ پر سرداروں کا عمل دخل ہو چلا تھا جن کی لوٹ مار سے رعایا سخت پریشان تھی۔ پانی پت کی شکست نے مرہٹوں کو سخت نقصان پہنچایا، خصوصاً پیشوا بالاجی راؤ کو زبردست دھچکا لگا تھا۔ انہیں 24 جنوری 1761ء بھیلسا میں اس شکست کی اطلاع ملی۔ اس جنگ میں متعدد بڑے جرنیلوں کے ساتھ ان کا بیٹا وشواس راؤ بھی کام آگیا تھا۔ کچھ ہی مہینوں بعد 23 جون 1761ء کو بالاجی وفات پاگئے اور ان کے بعد ان کا بیٹا مادھو راؤ اول پیشوا مقرر ہوئے۔ اتفاقاً اپنی وفات سے چار ماہ قبل نانا صاحب پیشوا نے آٹھ یا نو سالہ بچی سے شادی بھی کی تھی۔

1980ء کو بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے بیٹے سنجے گاندھی ایک فضائی حادثے میں جاں بحق ہوئے۔ ان کا بیٹا ورون گاندھی اور بیوی مانیکا گاندھی بی جے پی کے رکن ہیں۔

تعطیلات و تہوار

دنیا بھر میں باپ کا عالمی دن منایا جاتا ہے

1991ء مالدیپ نے آزادی کا اعلان کیا

اپنا تبصرہ بھیجیں