228

22 جون کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

22 جون کے واقعات

واقعات

1633ء رومی عدالت نے فلکیات دان گلیلو سے نظام شمسی کے حوالے سے ان کے نظریات کو ختم کرنے کا حکم دیا اور قصوں کے کے مطابق انھوں نے سرگوشی میں یہ بات کہی” یہ تو اب بھی گھوم رہی ہے”۔

1978 – پلوٹو کا ایک ذیلی سیارہ دریافت امریکن سیارہ شناس جیمس ڈبلو کرسٹی نے دریافت کیا جس کانام Charon ہوا

2009ء فلمی (نگیٹو) فوٹو گرافی کی دنیا پر 74 برس راج کرنے والی کمپنی ایسٹرن کوڈک کمپنی نے اپنی مصنوعات بند کرنے کا اعلان کیا۔ جس کی وجہ تھی ڈیجیٹل تصاویر کی ٹیکنالوجی ۔

2012ء ایک ترکی لڑاکا طیارہ مک ڈونل ڈوگلس ایف 4 فینٹم کو شامی ایئر فورس کی طرف سے مار گرایا گیا جس کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہو گئے

2012 -راجہ پرویز اشرف، پاکستان کے 17 ویں وزیر اعظم مقرر۔

ولادت

1896ء وقار انبالوی، اردو زبان کے پاکستانی شاعر، افسانہ نگار، صحافی تھے۔ وقار انبالوی 22 جون، 1896ء کو موضع چنار تھل، ضلع انبالہ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام ناظم علی تھا۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا اور لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے۔ ان اخبارات میں 1939ء سے 1946ء تک روزنامہ احسان لاہور کے ایڈیٹر رہے۔ 1947ء سے 1949ء تک روزنامہ سفینہ لاہور کے مدیر، 1952ء سے 1956ء تک روزنامہ وفاق کے ایڈیٹر رہے۔ روزنامہ نوائے وقت میں قطعہ نگاری اور فکاہیہ کالم نگاری 1956ء سے 1988ء تک جاری رکھی۔ وقار انبالوی کی شاعری اور افسانوں کے کئی مجموعے شائع ہوئے۔ ان کی تصانیف میں شاعری کے مجموعے آہنگ رزم، ‘زبان حال اور افسانوی مجموعہ دیہاتی افسانے شامل ہیں۔ وقار انبالوی 26 جون، 1988ء کو وفات پاگئے اور سہجووال، شرقپور، ضلع شیخوپورہ، پاکستان میں سپردِ خاک ہوئے۔

1932ء بالی وڈ کے منفی رول کرنے والے مشہور اداکار۔ اپنی فلمی زندگی کا آغاز انیس سو اکہتر میں فلم ’ ریشما اور شیرا‘ سے کیا۔ وہ آرٹ فلموں کے مشہوراداکار اوم پوری کے بھائی تھے اور ابتدائی طور پر فلموں میں ہیرو کے طور پر کام کرنا چاہتے تھے لیکن پروڈیوسرز نے انہیں ولن کے روپ میں کاسٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ بالی وڈ میں فلمی ولن کے کردار کے طور پر انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا کئی برسوں تک منوایا۔ انیس سو ستاسی میں بننے والی فلم ’ مسٹر انڈیا‘ میں اپنے ایک کردار ’ موگامبو‘ کی وجہ سے امریش پوری کو لا زوال شہرت ملی۔ اس کے علاوہ انہیں اسی اور نوے کی دہائی میں فلم ’ودھاتا‘، ’پھول اور کانٹے‘ اور ’ دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ کے حوالے سے بھی خاصی شہرت حاصل ہوئی۔ دسمبر میں ریلیز ہونے والی فلم ’ ہلچل‘ ان کی آخری بڑی فلم تھی۔ امریش پوری نے ہالی وڈ کی متعدد فلموں میں بھی کام کیا جن میں انیس سو چوراسی میں ہالی وڈ کے مشہور ہدایتکار سٹیون سپیلبرگ کی فلم ’ انڈیانا جونز اینڈ دی ٹیمپل آف ڈوم‘ کے سبب انہیں بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل ہوئی۔ امریش پوری نے رچرڈ اٹینبرا کی فلم ’ گاندھی‘ میں ایک عام کردار ادا کیا۔12 جنوری 2005 کو دماغ کی شریان پھٹ جانے کی وجہ سے بمبئی میں انتقال ہوا۔

1939ء عادا یونات، اسرائیلی ماہر قلمیات ہیں جو رائبوسوم (ribosome) کی ساخت پر کام کرنے والی اولین بانی سائنس دان ہیں۔ وہ اس وقت ویزمین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے ہیلن اور ملٹن سینٹر برائے بائیو مالیکیولر اسٹرکچر اسمبلی کی ڈائریکٹر ہیں۔ 2009 میں انہیں وینکٹ رامن رامکرشنن اور تھامس اے۔ اسٹیٹز کے ساتھ کیمیا میں رائبوسوم (ribosome) کی ساخت اور کارگزاری پر تحقیق پر نوبل انعام ملا۔ یہ اسرائیل کے دس نوبل انعام یافتہ افراد میں پہلی اسرائیلی خاتون ہیں جنہیں نوبل انعام ملا، مڈل ایسٹ سے پہلی خاتون جنہیں سائنس میں نوبل انعام ملا اور 45 سال میں کیمیا میں نوبل انعام جیتنے والی پہلی خاتون بھی۔

1943ء جان مائیکل کوستیلتز ایک برطانوئی /امریکی طبیعیات کے شعبے (condensed-matter) سے تعلق رکھنے والے ایک طبیعیات دان ہیں۔ وہ 2016 کے طبیعیات کے نوبل انعام بھی وصول کر چکے ہیں جس کی وجہ انھیں اور ان کے ساتھی سائنسدانوں کی جانب سے مادے کی بدلتی حالتوں میں ان کے اشکال کی تبدیلی کو سامنے لانا تھا۔

1964ء ڈین براؤن، ایک امریکی مصنف ہیں، جو جاسوسی، سنسنی خیز فکشن ناول نگار ہیں اور سال 2003ء میں لکھے گئے بیسٹ سیلر ناول ڈاونچی کوڈ سے پہچانے جاتے ہیں۔ ڈان براؤن کے ناول زیادہ تر کھوج پر مشتمل ہوتے ہیں، جس میں خفیہ علامات نگاری، چابیاں، پہیلیاں، علامات، کوڈ اور سازشی نظریات کی آمیزش ہوتی ہے۔ ان کی کتابیں 52 زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہیں اور 2012ء تک 2 کروڑ کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں۔ ان میں سے دو ناول، ڈاونچی کوڈ اور اینجلز اینڈ ڈیمنز پر ہالی وڈ میں فلم بنائی جاچکی ہے۔ اس وقت ڈان براؤن محض چھ ناول لکھنے کے باوجود بیسٹ سیلر مصنفین کی لسٹ میں بارہویں نمبر پر ہیں۔ وکی پیڈیا کے 2008 کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے 20 بااثر ترین افراد میں بیسویں نمبر پر شہرہ آفاق امریکی ناول نگار ڈین براؤن ہیں

1956ء شاہ محمود قریشی پاکستانی سیاست دان اور ملتان میں ایک خانقاہ کے گدی نشین ہیں، پیپلز پارٹی کے دور میں پنجاب کے وزیر خزازنہ رہے، رداری حکومت میں پاکستان کے وزیر خارجہ رہے 31 مارچ 2008ء تا فروری 2011ء پیپلز پارٹی کے فعال رکن رہا۔ زرداری حکومت سے بدظن ہو کر وزارت سے استعفی دے دیا اور بالآخر نومبر 2011ء میں زرداری جماعت اور پارلیمان سے بھی مستعفی ہو گئے۔ اور پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس وقت وہ عمران خان کی کابینہ میں وزیر خارجہ پاکستان کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

1966 علامہ خادم حسین رضوی ان کا سیاست میں آنے کا سبب ممتاز قادری کی سزائے موت کو مانا جاتا ہے، انھوں نے بہت جلد اپنے سخت بیانات سے قدامت پسند طبقے میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ ان پر 2016ء میں توہین مذہب کے قانون کے حق میں ریلی نکالنے پر لاٹھی جارج کیا گیا اور انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ انہیں آج بھی پنجاب حکومت نے فورتھ شیڈول میں رکھا ہوا ہے جس کا مطلب ہے کہ انہیں اپنی نقل و حرکت کے بارے میں پولیس کا آگاہ رکھنا ہوتا ہے۔ 2017ء میں ایک پارلیمانی بل میں حکومت کی طرف سے قانون ختم نبوت کی ایک شق میں الفاظ بدلنے پر، انھوں نے سخت رد عمل کا اظہار کیا اور نومبر 2017ء میں فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا دے دیا۔ 25 نومبر کی صبح وفاقی پولیس اور رینجر نے ایک ناکام آپریشن کیا، جس میں کئی افراد زخمی ہوئے، ایک پولیس والے کی ہلاکت ہوئی۔ واقعے کے بعد ملک گھیر احتجاج شروع ہو گيا۔ اور 25 نومبر کو وزیر داخلہ نے فوج سے مدد طلب کر لی۔ خادم حسین رضوی پر عوامی مقامات پر مخالفین کو گالیاں دینے کے حوالے سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ایک ٹی وی بیان کے مطابق خادم حسین رضوی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے الفاظ اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن میں بیان فرمائے ہیں۔ خادم حسین رضوی کی جماعت کو الیکشن 2018 میں لوگوں نے ووٹ دیا اور وہ تیسری بڑی جماعت کے طور رپر سامنے آیا۔ مشہور زمانہ آسیہ مسیح توہین رسالت کیس میں آسیہ مسیح کے رہا کیے جانے کے خلاف خادم رضوی نے لوگوں کو احتجاج کی کال دی اور اپنے خطاب میں کہا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ واجب القتل ہیں جس کے بعد بہت سی ہنگامہ آرائی ہوئی اور ٹانگوں سے معذور خادم رضوی اور ان کے ایک ساتھی پیر افضل قادری کو گرفتار کر ان پر سنگین مقدمات کا اندراج کیا گیا ۔

وفات

1429ء جمشید بن محمود بن مسعود، غیاث الدین ان کا لقب ہے، آٹھویں صدی ہجری کے دوسرے حصے میں کاشان میں پیدا ہوئے۔ چنانچہ اس نسبت سے کاشانی یا کاشی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، اولغ بک کی دعوت پر سمرقند چلے گئے اور وہیں پر علومِ حساب، فلک اور طبیعیات میں ابھر کر سامنے آئے اور سمرقند میں ہی اپنی زیادہ تر تصانیف لکھیں۔ ابن مسعود کی وفات نویں صدی ہجری کے اوائل میں ہوئی۔ بہت ساری تصانیف چھوڑیں جن میں کچھ قابلِ ذکر یہ ہیں: کتاب زیج الخاقانی فی تکمیل الایلخانی، علمِ فلک پر “نزہہ الحدائق”، الرسالہ المحیطیہ، مثلثات میں “رسالہ الجیب والوتر”، “مفتاح الحساب” جس میں اعشاری کسور کا استعمال اور صفر کے فائدے بیان کیے گئے ہیں۔ ان کی پیدائش کا سال 1380 بیان کیا گیا ہے۔

1585ء محمد احمد بن سید عبد اللہ، سوڈان کی ایک معروف شخصیت ہیں جنہیں ملک میں تحریک اسلامی کا بانی تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہ انگریزوں اور مصریوں کی جارحیت کے خلاف جہاد اور شریعت اسلامی کے نفاذ کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہوئے۔ وہ 12 اگست 1844 کو پیدا ہوئے۔

1691ء سلیمان ثانی 1687ء سے 1691ء تک خلافت عثمانیہ کی باگ ڈور سنبھالنے والا سلطان تھا۔ وہ 15 اپریل 1642ء کو توپ قاپی محل، استنبول میں پیدا ہوا اور 1691ء میں اپنے انتقال تک عہدہ سلطانی پر موجود رہا۔ وہ محمد رابع کا چھوٹا بھائی تھا۔ اس کی زندگی کا بیشتر حصہ حرم میں گزرا۔ عثمانی سلطنت کے دور میں کئی شہزادوں کی طویل زندگیاں حرم میں گزریں تاکہ وہ سلطان کے خلاف بغاوت نہ کر سکیں۔ 1687ء میں اپنے بھائی کے تخت سے ہٹائے جانے کے بعد اقتدار پر بیٹھا۔ اس کے عہد میں زیادہ تر اختیارات صدراعظم احمد فاضل کوپریلی کے ہاتھ میں رہے۔ 1691ء میں ادرنہ محل میں انتقال کر گیا۔

1792ء محمد بن عبد الوہاب (پیدائش: 1703ء— وفات: 21 مئی 1792ء) عرب کے علاقے نجد کے ایک قصبہ العيينہ میں 1703ء میں پیدا ہوئے اسی سال دہلی میں شاہ ولی اللہ بھی پیدا ہوئے۔ وہ بڑے ذہین ،حافظے کے قوی اور بہترین انسان تھے۔ دس سال کی عمر میں قرآن حفظ کر لیا۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ جاکر قرآن و حدیث کی تعلیم حاصل کی۔ 1158ھ میں نجد کے ایک شہر درعیہ کے امیر محمد بن سعود (متوفی:1765ء) نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کرنے کا عہد کیا اور کتاب و سنت کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلنے پر آمادگی ظاہر کی۔ امیر محمد بن سعود کی مدد سے ان کی تحریک سارے نجد میں پھیل گئی اور امیر کی حکومت بھی شہر درعیہ سے بڑھ کر سارے نجد میں قائم ہو گئی۔ محمد بن عبد الوہاب نے پچاس سال تبلیغ کا کام انجام دینے کے بعد وفات پائی۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف تھے جن میں کتاب التوحید مشہور ہے۔ محمد بن عبد الوہاب کی تحریک نے اسلامی دنیا پر گہرا اثر ڈالا۔

1990ء الوا فرانک ایک سویت یونین کے طبیعیات دان اورنوبل انعام برائے طبیعیات نوبل انعام جیتنے والے طبیعیات دان تھے۔ انہوں نے یہ انعام 1958 میں پاول چینکوف اور اگور ٹام کے ساتھ مشترکہ جیتا جس کی وجہ چیرنکوف تابکاری کی دریافت تھی۔ وہ 10 اکتوبر 1908 میں پیدا ہوئے۔

2012ء ـ عبید اللہ بیگ (اُردو مصنف) بمقام کراچی، پاکستان

2016ء امجد فرید صابری پاکستانی صوفی قوال،نعت خواں اور گلوکار تھے۔ وہ صابری برادران ایک قوال گھرانے میں پیدا ہوئے اور غلام فرید صابری قوال کے بیٹے تھے۔ وہ 12 سال کی عمر میں ہی اپنے والد کے ساتھ سٹیج پر پرفارم کرتے آئے تھے۔ اس دوران میں وہ برصغیر کے معروف قوال بن کر ابھرے جو اکثر اپنے والد اور چچا کے لکھے ہوئے قوالی پڑتے۔ انہیں 22جون، 2016ء کو کراچی میں قتل کر دیا اس کی زمہ داری طالبان کے ایک دھڑے نے قبول کی۔ وہ 23 دسمبر 1976 کو پیدا ہوئے۔

22 جون کے واقعات

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں