239

21 جون کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

21 جون کے واقعات

واقعات

1661ء روس اور سوئیڈن نے امن معاہدے پر دستخط کیے

1940ء جنگ عظیم دوم: فرانسیسی افواج نے جرمنی کے سامنے ہتھیار ڈالے

1945ء جنگ عظیم دوم Battle of Okinawa کا اختتام

ولادت

1905ء ژاں پال سارتر یا ژاں پال سارت یا ژاں پال ساختخ ایک مشہور فرانسیسی فلسفی تھے۔ ان کا انتقال 15 اپریل 1980 کو ہوا۔

یہ بھی پڑھیں

1914ء ولیم وکری کینیڈآ ماہر اقتصادیات ہیں اقتصا دیات میں ان کی کام کی اہمیت کو دیکھ کر 1996 میں انھیں اور جیمز مرلیسکو نوبل میموریل انعام برائے معاشیات مشترکہ طور پر دیا گیا۔ ان کا انتقال 11 اکتوبر 1996 کو ہوا۔

1953ء بے نظیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔ پہلی بار آپ 1988ء میں پاکستان کی وزیر اعظم بنیں لیکن صرف 20 مہینوں کے بعد اس وقت کے صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے بدعنوانی کا الزام لگا کر اپنے خصوصی اختیارت سے اسمبلی کو برخاست کیا اور نئے الیکشن کروائے۔ بے نظیر بھٹو کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی بڑی صاحبزادی سابق وزیر اعظم بے نظیربھٹو 21 جون، 1953ء میں سندھ کے مشہور سیاسی بھٹو خاندان میں پیدا ہوئیں۔

1957ء پہلے صبا پرویز کے نام سے مشہور تھی۔ اب صبا حمید نام ہے۔ وہ21 جون،1957ء کو پیدا ہوئی، پاکستان کے ٹی وی ڈراموں میں کام کرتی ہیں۔ مشہور کالم نگار حمید اختر کی بیٹی ہیں۔

1982ء لیڈی ڈیانا کے بیٹے ولیم کا یوم پیدائش

وفات

1527ء یورپ کا ممتاز سیاسی مفکر نکولو مکیاویلی 3 مئی 1459ء کو اٹلی کے شہر فلورنس (فیرنزے) میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ متوسط طبقے مگر اشراف کے گھرانے سے تھا اور وکالت کرتا تھا۔ مکیاویلی کا دور دراصل یورپی ممالک کی باہمی رقابت، محلاتی سازشوں اور سیاسی تبدیلیوں کا ہے۔ اس کے دور اندیش اور حساس ذہن نے ان سب کا زبردست اثر قبول کیا۔ اس نے سیاسیات پر اپنے تاثرات کو عقلیت کی کسوٹی پر پرکھ کر ریاست کے عروج و زوال کے اسباب بیان کیے اور1513ء میں (Il Principe) ’’بادشاہ‘‘ جیسی یگانہ روزگار کتاب لکھی۔ اپنی تحریروں میں مکیاویلی نظریہ جبر کا قائل نظر آتا ہے۔ وہ اس بات سے انکاری ہے کہ ریاست کا مقصد نیکی یا آذادی کا حصول ہے۔ وہ سیاسی مصلحتوں، سازشوں اور منافقت کو کامیاب ریاست کے اصول قرار دیتے ہوئے نہیں شرماتا۔ عرصے تک مکیاویلی کے نظریات اسی باعث حکمائے سیاست و کلیساء کی نفرت کا نشانہ بنے رہے۔ یورپ کی نشاۃ ثانیہ میں مکیاویلی کے بے لاگ اور تلخ حقیقتوں پر مبنی تحریروں کا بڑا ہاتھ ہے۔ دراصل اسی نے علم سیاسیات کو عملی بنیادوں پر وضع کیا۔1527ء میں اس فطین سیاسی حکیم کا فلورنس میں انتقال ہوا۔ وہ 3 مئی 1469 کو پیدا ہوا۔

1957ء جوہنس سٹارک جرمنی کے ایک طبیعیات دان تھے، جنھیں 1919ء میں نوبل انعام برائے طبیعیات دیا گیا جس کی وجہ کینال ریز میں ڈوپلر ایفکٹ اور مقناطیسی میدان میں اسپیکٹرل لائن کے مڑ جانے کی دریافت تھی۔ وہ 15 اپریل 1874 کو پیدا ہوئے۔

2011ء خواجہ پرویز ایک مایہ ناز پاکستانی فلمی نغمہ ساز غنائی شاعر اور نغمہ نگار تھے جنہوں نے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کی فلموں کے لیے موسیقی دی۔ ان کا پیشہ ورانہ کیریئر 40 سال پر محیط ہے۔ وہ 28 دسمبر 1932ء کو پیدا ہوئے۔

2018ء جمشید مارکر، ہلال امتیاز پاکستانی سفیر تھے۔ ان کا قابل ذکر دور 17 ستمبر 1986ء تا 30 جون 1989ء تک تھا جب وہ وزیر اعظم محمد خان جونیجو اور بینظیر بھٹو کے دور میں سفیر برائے ریاست ہائے متحدہ رہے۔ انھوں نے افغانستان سے روس کی بے دخلی کے لیے گفت و شنید کی۔ 1995ء سے 2005ء تک، ایکیرڈ کالج، سینٹ پیٹرزبرگ، فلوریڈا میں بین الاقوامی تعلقات میں سفارت کا مضمون پڑھاتے رہے۔ 2003ء میں، مارکر کو صدر پاکستان پرویز مشرف نے ہلال امتیاز عطا کیا۔ وہ 24 نومبر 1922ء کو پیدا ہوئے۔

تعطیلات و تہوار

موسیقی کا عالمی دن

انسانیت کا عالمی دن

21 جون کے واقعات

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں