محترمہ بے نظیر بھٹو کی شخصیت کے وہ پہلو جو آپ نہیں جانتے

Spread the love
صاحب مضمون بشیر ریاض

بشیر ریاض کا شمار محترمہ بے نظیر بھٹو کے سب سے قریبی اور بااعتماد ساتھیوں میں ہوتا ہے انہوں نے محترمہ کے ساتھ ایک طویل عرصہ بسر کیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر انہوں نے خصوصی مضمون قارئین کی نظر کیا ہے جس پر ہم ان کے مشکور ہیں

21جون 1953ء مسلم دنیا کی پہلی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کا یوم پیدائش ہے۔ انہیں یاد کرتے ہوئے جہاں ان کی شہادت کے زخم ہرے ہوتے ہیں وہاں کچھ ایسے لمحے بھی یادداشت میں ابھر آتے ہیں جن کے ساتھ ان کی شفقت اور اپنائیت جڑی ہوئی ہے۔

70کلفٹن میں ابھی شام کے سائے گہرے ہونے شروع ہوئے تھے کہ لاہور سے خواجہ طارق رحیم فون پر بے نظیر بھٹو کو اطلاع دیتے ہیں کہ ان کے انتہائی قریبی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ جنرل ضیاء الحق کا طیارہ ریڈار سے غائب ہوگیا ہے۔ بے نظیر بھٹو نے جب ان سے استفسار کیا کہ اس کا کیا مطلب لیا جائے تو خواجہ طارق رحیم کا جواب تھا کہ جنرل ضیاء الحق کا قصہ ختم۔ اس کے بعد توٹیلی فونوں کا تانتا بندھ جاتا ہے۔ آدھے گھنٹے بعد بھٹو خاندان کے دیرینہ دوست اور ممتاز صحافی محمود شام تصدیق کرتے ہیں کہ جو فوجی طیارہ گم ہوا تھا وہ بہاولپور کے قریب حادثے کا شکار ہوگیا ہے اور اس میں سوار جنرل ضیاء الحق سمیت سارے مسافر ہلاک ہوگئے ہیں۔

70 کلفٹن کے باہر ضیاء دور میں کوڑے کھانے‘ جیلوںمیں تشدد برداشت کرنے اور برسوں سے روزگار کے لیے دربدر پھرنے والے کا رکن جذبات سے مغلوب تھے۔ ان میں سے چند کے ہاتھوں میں مٹھائی کے ڈبے بھی تھے۔ بے نظیر بھٹو یہ سن کر کہ 70کلفٹن کے باہرمٹھائیاں تقسیم ہو رہی ہیں اور سڑکوں پر جشن کا سماں ہے۔ ڈرائنگ روم سے نکل کر70 کلفٹن کے مین گیٹ پر آ جاتی ہیں’’ہمارا مذہب اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم کسی کی موت پر خوشیاں منائیں۔‘‘ بے نظیر بھٹوانتہائی سختی سے کارکنوں کو ہدایت کرتی ہیں کہ مگر بی بی انہوں نے بھٹو صاحب ……’’ہم انتقام کی سیاست میں یقین نہیں رکھتے۔‘‘ بے نظیر بھٹوایک بار پھر بڑی سختی سے کہتی ہیں۔

’’دختر مشرق‘‘ میں بی بی نے طن واپسی کے موقع پر میرے سمیت اپنے کچھ رفقاء کے متعلق فکرمندی کا اظہارکرتے ہوئے لکھا!

’’ناہید‘ بشیر ‘ دارا میرے قریب کھڑے رہو‘‘ میں نے ان ہم سفروں کو کہا جن کے بارے میں ہمیں تنبیہ کی گئی تھی کہ انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔ یہ بھی ایک مضحکہ خیز بات تھی کہ میرے حامیوں نے میرے گرد میری حفاظت کے لیے گھیرا ڈال لیا اور میں نے ان کی حفاظت کے لیے انہیں اپنے نزدیک رکھا۔ ’’ہم تمہاری حفاظت کی ضمانت ہیں‘‘ پریس کے نمائندوں نے کہا۔ لیکن دراصل لوگوں کا بے پناہ ہجوم ہی ہماری حفاظت کا ضامن ثابت ہوا۔ امیگریشن حکام ایئرپورٹ سے ہمیںجلدی چھٹکارہ دلانے کے لیے پریشان تھے اور انہوں نے طیارے ہی میں آکر ہمارے تمام پاسپورٹوں پرجلدی جلدی مہریں ثبت کرکے اپنی کارروائی انجام دی۔

میں گھر میں آگئی تھی۔ جب میں نے پاک سرزمین پر قدم رکھا تومیں اپنے قدموں کے نیچے اپنی زمین کا احساس کرنے کے لیے رکی اور ہوا میں گہرا سانس لیا جس کا میں خود ایک حصہ تھی۔‘‘

70 کلفٹن میں ایک شام اپنی بے تکلف سہیلیوں کے جھرمٹ میں گھری بے نظیر بھٹو نے اچانک مجھ سے سوال کیا۔ کیا مجھے شادی کرلینا چاہیے۔ ’’ہاں آپ کو شادی کرلینی چاہیے۔‘‘ میرا بے ساختہ جواب تھا‘ اس وقت تک مجھے یہ علم نہیں تھا کہ وہ کس سے شادی کررہی ہیں۔ میرے خیال میں ایک خاتون سیاسی رہنما کے لیے سیاسی اور ذاتی زندگی میں تحفظ اور سماجی مرتبے کے لیے پاکستانی معاشرے میں شادی ناگزیر ہے۔

جولائی1977ء کے بعد سے بے نظیر بھٹواور ان کے خاندان کو پے درپے جن المناک حالات‘ واقعات اور سیاسی بحران سے گزرنا پڑا اس میں بے نظیر بھٹوکی شادی اتنی آسان اور معمول کی بات نہیں تھی جو عموماً پاکستانی معاشرے میں دیگر لڑکیوں کے لیے ہوتی ہے۔بھٹو صاحب کی پھانسی‘ شاہنواز بھٹو کی ناگہانی موت‘ بیگم نصرت بھٹو کی بیماری اورمیر مرتضیٰ بھٹوکی پرخطر جلاوطنی اور خود بے نظیر بھٹو کی مسلسل نظربندی اور جلاوطنی میں اتنا سکون اور وقت ہی نہیں ملا کہ وہ اپنی ذاتی زندگی کے بارے سوچ پاتیں۔

جب صنم بھٹو کی شادی ہوئی تھی تو بیگم بھٹو اور بے نظیر بھٹو دونوں جیل میں نظربند تھیں اور انہیں شادی میں پیرول پررہائی ملی تھی۔ مرتضیٰ اور شاہنواز کی شادیاں کابل میں ہوئی تھیں جو ان کے لیے کسی خوشی کے بجائے بعد میں ایک بڑے صدمے کا باعث بنیں۔ بے نظیر بھٹوکی شادی نسبتاً بہتر ماحول میں ہورہی تھی جس سے بھٹو خاندان اور ان کے قریبی دوست بہت خوش تھے۔ شادی کی تقریب کا سب سے بڑا اور عوامی اجتماع پیپلزپارٹی کے قدیم سیاسی گڑھ لیاری کے ککری گرائونڈ میں ہوا۔شادی کی رات سارا لیاری روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ بے نظیر بھٹوکی شخصیت کا یہ بھی ایک دلکش پہلو تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی کی اس بڑی خوشی کے موقع پر لیاری کے عوام سے اس منفرد انداز میں اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کیا کہ ساری دنیا سے آئے ہوئے مہمانوں اور میڈیا نے لیاری کے عوام کی مہمان نوازی کالطف اٹھایا۔

اس خصوصی تقریب میں صرف ان غیرملکی صحافیوں کو مدعو کیا گیا تھا جو بی بی کے ذاتی دوست بھی تھے جن دوسرے ملکی و غیرملکی اخبارات سے منسلک صحافیوں کوشادی میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا تھا‘ ان کا انتظام 70 کلفٹن سے ملحق ایک وسیع لان میں تھا۔شادی میں شر کت کے لیے ہندوستان کے ممتاز صحافیوں کے علاوہ فلم اسٹار سنیل دت بھی آئے تھے۔ سنیل دت کی بیگم (مشہورفلم اسٹار) نرگس سے بھٹو صاحب کے گھرانے کے دیرینہ تعلقات تھے۔بھٹوصاحب کی پھانسی کے وقت جب میں سرینگر گیا تھا تو سنیل دت اور نرگس نے مجھے خاص طور پر بیگم بھٹو کے لیے تعزیتی پیغام دیاتھا۔ سنیل دت کو ایئرپورٹ سے لانے کی میری ہی ذمہ داری تھی۔

ضیاء الحق کے سارے دور میں اپوزیشن کے قائد کی حیثیت سے غیرملکی میڈیا بے نظیربھٹوکو بڑی اہمیت دیتاتھا۔ وزیراعظم بننے کے بعد فارن میڈیا کے لیے اب اس بات میں بڑی اہمیت تھی کہ کسی اسلامی ملک میں پہلی بارایک مسلمان خاتون وزیراعظم کاروبار حکومت چلا رہی ہیں۔ بے نظیر بھٹو کے وزیراعظم بنتے ہی غیرملکی میڈیا نے اسلام آباد پر یلغار کردی۔

ایک صبح جب ہم ہیلی کاپٹر پر مری جا رہے تھے تو وزیراعظم نے دوران سفر مجھے کہا کہ وہ میرے لیے کچھ سوچ رہی ہیں۔ میں نے برجستہ کہا۔ بی بی! آپ وزیراعظم ہیں تو میں خود کو وزیراعظم سمجھتا ہوں اور میرے لیے یہی احساس کافی ہے۔ بی بی کی شخصیت بطور سیاسی لیڈر‘ ایک ماں اور خاتون کے اکثر زیربحث رہی لیکن اپنے رفقا کے ساتھ ان کا محبت بھرا سلوک ایک منفرد پہلو ہے۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے۔

آج پاکستان کی تاریخ ساز رہنما دخترِ مشرق محترمہ بے نظیر بھٹوشہید کی 66 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ بی بی شہید بھرپور شخصیت کی حامل باوقار اور درویش صفت خاتون تھیں انہوں نے پاکستانی خواتین کو وقار سے سرفراز کیا۔ دنیا میں بی بی شہید کی شناخت ایک بہادر، دلیر، شفیق اور خوبصورت خاتون کی ہے۔ بی بی شہید کی عظمت ہمارے دلوں پر ثبت ہے۔ ہمارے دل ان کی یاد سے دھڑکتے ہیں۔ وہ ہمارے خیالوں کی زینت ہیں۔ بی بی شہید نے اپنی جدوجہد میں جس حالات کا سامنا کیا ہے۔

وہی فصل گل، وہی صیاد
محترمہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ پر تمام کارکنان کو مبارکباد

Please follow and like us:

Leave a Reply