ہم سفر (ڈاکٹر شاکرہ نندنی)

Spread the love

مجھے مت جانے دو ،روک لو مجھے، میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا، گر……اگر میں چلی گئی تو تم لوگوں کا ساتھ کون دے گا؟ تمہاری اصلاح کون کرے گا؟ تمہیں شرمندگی سے کون بچائے گا؟کتنی بے دردی سے تم لوگ مجھے ……روک لو ……ر……و……ک……لو دیکھو ایسا نہ کرو ……میرے ساتھ رہنے پر تمہیں کسی طرح کا نقصان بھی تو نہیں ہے پھر ……پ ……ھ……ر……!! ایسا نہ کرو۔

مجھے تم سے اس بے وفائی کی امید بالکل نہیں تھی ……ہر گز نہیں ……میں ہر موقع پر تمہاری ہم راہ بنی، تمہاراساتھ دیا، دوسروں کی نظروں میں تمہیں اعلی مقام عطا کیا پھر بھی……!! اگر میں چلی گئی تو تم برباد ہو جاؤ گے ۔

سمجھے……! برباد……!

میرے بغیر تمہاری زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے۔

تم آج جس غرور اور شان کے ساتھ زندگی گزار رہے ہو اس کی آسائشیں میں نے ہی دی ہیں تمہیں۔ میں نے تمہارا قدم قدم پر ساتھ دیا ، تمہیں سوچنے کی ہمت دی ……صلاحیت دی اور تم……!

”مت جانے دو مجھے……“

”مت ……جانے دو۔“

”میں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہوں“

”روک لو مجھے……روک لو……“

”مت ……ج……جہ……“

یہ کہہ کر وہ نڈھال ہو گئی ۔

آخر کب تک چیختی رہتی ……؟

انسان کی فطرت کے آگے وہ مجبور تھی،

کیونکہ وہ جب چاہے اس کو روند کر جا سکتا ہے

وہ کوئی اور نہیں !!

مجبور انسانیت ہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply