میرامنہ، میرا تھپڑ

Spread the love

ملک میں نئے مالی سال کے بجٹ نے عام آدمی کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ وہ زندہ کیسے رہ سکتا ہے، کیا کسی بچے کو سکول سے اٹھا کر چائے والے کا ’چھوٹا بنادے یا کسی مستری کو ’استاد جی‘ کہنے والا۔ کیا ایک بچے کو سکول سے اٹھانے کے بعد دوسرے بچے تعلیم جاری رکھ سکیں گے ؟ اس کا جواب ابھی اس کے پاس نہیں یہاں تک کہ ملک چلانے کی منصوبہ بندی کرنے والے وزیر، اقصادی پالیسیاں بنانے والے ماہرین اور روٹی کپڑا مکان، قسمت و تقدیر بدلنے، تبدیلی کا نعرہ لگانے والے سیاستدان بھی جواب سے عاری ہیں ۔ بجٹ پر بحث کرنے والے اس کی تعریف کریں گے یا تنقید کریں گے، اصلاحی گفتگو کرنے والوں کو نہ سکرین اور نہ ہی کاغذ دستیاب ہے، ملک میں ذرائع ابلاغ صرف’ حامی اور مخالف‘ ہیں، صحافت صرف اس حد تک ہے کہ صحافت کی آزادی کا نعرہ لگا کر مادر پدر آزادی حاصل کی جائے جیسا کہ پون صدی کی تاریخ میں سادہ لوح کارکنوں نے تحریکیں چلائیں، جان و مال داؤ پر لگائے، کوڑے کھائے اور فاقوں سے پیٹ بھرا۔ کہا جارہا ہے کہ بجٹ عالمی مالیاتی اداروں کی ہدایت پر ان کے ہی کارندوں نے بنایا ہے، ایسا ہی مان لینا چاہئے اور صرف ایک سوال کیا جانا چاہئے کہ کونسا بجٹ ایسا تھا جو عالمی اداروں کی مرضی کے برعکس خالص عوام کی فلاح اور بہود کیلئے بنایا گیا تھا؟ کس نے کب بنایا تھا؟ عوام کو کیا فائدہ پہنچا تھا؟ کون سا بجٹ ہے جس میں قومی خسارہ کم کرنے کے لئے بینکوں کے قرضے ہڑپ اور معاف کروانے والوں کے پیٹ چاک کرکے غریب کا ننگا پیٹ ڈھانپنے کی کوشش کی گئی۔؟ کیا حکومت اب تک لئے جانے والے عالمی قرضوں اور قومی بینکوں سے جاری ہونے والوں قرضوں کے استعمال اور واپسی کی دیانتدارانہ کوئی رپورٹ شائع کرسکتی؟ کیا فرانزک آڈٹ کروایا جاسکتا ہے؟ جوا ہاں میں نہیں ملے گا کیونکہ قرضے ہڑپ کرنے والے سبھی ایک ہیں، اگر سیاستدان ہیں تو ہر حکومتی پارٹی کا حصہ ہیں، بیورو کریٹ ہیں تو ہر حکومت کی آنکھ کا تارا ہیں یا رہے ہیں، سیکیورٹی وعسکری اداروں کے لوگ ہیں تو وہ سیاست میں آچکے ہیں یا بیرون ملک مقیم ہیں۔ سیٹھ ہیں تو اشاعتی نشریاتی ادارے کا مالک یا ملک کی اکانومی پر اثر اندا ہیں اور ان کااحتساب موجودہ نام میں ممکن دکھائی نہیں دیتا، سرمایہ کار، تاجر، صنعتکار بھی وہ طقہ ہے جو مر گئے مرگئے کی رٹ لگاتا ہے لیکن تجویوں کے پیٹ میں گیس مسلسل بھری جارہی ہے، لینڈ اور منشیات مافیا کے ساتھ ساتھ انسانی سمگلنگ اورجسم فروش طبقہ الگ سے راج کررہا ہے ۔ انصاف کیسے ملتا ہے یہ انصاف لینے کے لئے نکلنے والا جانتا ہے۔

بجٹ کس کے لئے بنتا ہے؟ جی ہاں! بجٹ صرف مہنگائی کے لئے بنتا ہے، عام آدمی بجٹ کی خبر سن کر کانپ اٹھتا ہے، ذخیرہ اندوز بھنگڑے ڈالتا ہے، بجٹ میں یا تو سرکاری وسائل سرکاری اداروں کی تنخواہوں اور تھوڑے بہت ترقیاتی کاموں کیلئے مختص ہوتے ہیں جن میں کئی حصے دار ہوتے ہیں، یا پھر نئے ٹیکس لگائے جاتے ہیں جو کسی نہ کسی صورت میں عام آدمی نے ادا کرنے ہوتے ہیں ۔ عام آدمی کا کیا حال ہے، یہ جاننا خیالِ باطل سمجھا جاتا ہے۔ پنجاب کا بجٹ پیش ہونے کے بعد میں نے کچھ وزرا اور حکومتی اراکین سے بات کی تو آف دی ریکارڈ وہ توبہ توبہ اور آن دی ریکارڈ بلے بلے بہت اعلیٰ بجٹ کہتے نہیں تھکتے تھے۔ یہ معاشرے کے مجموعی رویے کی عکاسی ہے جسے ڈکشنری میں منافقت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

بجٹ سے زیادہ توجہ سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے صاحبزادے اور سابق وزیر اعظم نوازشریف کی صاحبزادی کی ملاقات اور ان میں ہونے والے اتفاقِ رائے پر ہے، دونوں کے والد ان دنوں جیل میں ہیں، جیل ان کے لئے اس حد تک جیل ہے کہ وہاں ان کا سو فیصد راج نہیں ہے۔ ابھی ممکنہ طور جیل جانے والوں کی لمبی فہرست ہے، ان کی بھی فہرست طویل ہے جنہیں جیل میں ہونا چاہئے لیکن انہوں نے عوام کو کھلی جیل میں قید کررکھا ہے خود ٹھاٹھ میں ہیں۔

بلاول اور مریم میثاقِ جمہوریت کو یاد کرکے مسکراتے دکھائے گئے ہیں جبکہ جمہوریت پسند ابھی تک میثاقِ جمہوریت کو ٹھڈے مار ے جانے پر نوحہ کناں ہیں۔ بلاول کو مریم نے ویر اور بلاول نے مریم کو آپی کہا یا نہیں لیکن انہی دیواروں نے آصف علی زرداری اور نواز شریف کو ایک دوسرے کا چھوٹا اور بڑا بھائی کہتے ضرور سنا تھا، پھر بھائی کو سڑکوں پرگھسیٹ کر پیٹ پھاڑ کر قوم کی لوٹی ہوئی دولت اور سرے محل کی اینٹیںقومی خزانے میں جمع کروانے کے بڑے دوعوے سنے گئے تھے، اسی بھائی کو جس کی زبان اپنے دور میں(بقول آصف علی زراری) زبان کاٹی گئی تھی۔ پھر اس ملاقات میں کیا طے پایا کیا عملدرآمد ہوگا َ کیا ان پارٹیوں (باقی جماعتیں بھی) نے سیاسی کارکن پیدا کیے یا سیاسی کارکنوں کی لاشیں گرائیں؟ سٹوڈنٹس یونین کے الیکشن کروائے جبکہ یہ ان کے اختیار میں، یہ سیاسی کارکنوں اور مستقبل کی قیادت کی نرسری ہیں، اگر ملک میں سیاسی کارکن پیدا کیے ہوتے تو جس طرح کا بجٹ پیش کیا گیا ہے اب تک سیاسی شعور اس بجٹ کا حشر نشر کرچکا ہوتا بلکہ کوئی ایسا بجٹ پیش کرنے کی گستاخی ہی نہ کرتا۔

بجٹ پر عام آدمی کے جذبات کی ترجمانی کے بجائے دوسرا شور ایک وفاقی وزیر اور ایک صحافی کے جھگڑے کا ہے اور اسے صحافیوں کی طرف سے صحافت کی آزادی اور صحافیوں پر حملہ قراردیا جارہا، وفاقی وزیر کا صحافی کوتھپڑ مارنا کسی صورت قابلِ قبول اور لائقِ تحسین نہیں بلکہ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، کسی وزیر کا یہ طرزِ عمل پورے معاشرے کے لئے لمحہ فکریہ ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی سوچنا چاہئے کہ عد م برداشت کہاں تک پہنچ گئی ہے؟ صحافی کو تھپڑ مارا کیوں گیا؟ ایسے اسباب ہیں جن کا جائزہ پریس کونسل آف پاکستان میں لیا جانا چاہئے بلکہ اس کے لئے جوڈیشل کمیشن بننا چاہئے اور پی ایف یو جے کو خود بھی بلا تعصب جائزہ لینا چاہئے ورنہ بات دور تلک جائے گی اور ایسے واقعات معمول بن جائیں گے، شامت آئی آئے گی جو بے نوا ہیں، کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ جب ایک اخبار کے مالک نے ایک کارکن کو تھپڑ مارا تو اس کا کسی نے کیا بگاڑ لیا تھا؟ کارکن کو کیا انصاف ملا تھا؟ جبکہ اس کا رکن کا قصور یہ تھا کہ اس نے دفتری اوقات کے بعد اپنا موبائل فون بند کیا تھا؟ یہ واقعہ ہرگز رونا نہ ہوتا اگر میڈیا انڈسٹری میں’’جنگ اور خبریں‘ گروپ میں گلوچ کے سامنے پل باندھا گیا ہوتا۔ جہاں تک وزیر کا صحافی کو تھپڑ مارنے کا سوال ہے تو کیا کبھی صحافتی تنظیموں نے سکرین پر کی جانےوالی گفتگو کا جائزہ لے کر اس کی اصلاح کی کوشش کی ہے؟

بنیادی طور پر تھپڑ اور اس کے بعد اٹھنے والا سوال صحافیوں کی اشرافیہ کا ہے۔ کیا صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے منہ پر اس سے بڑا طمانچہ کوئی ہوسکتا ہے کہ حکومت نے میڈیا مالکان کو اربوں روپے کے جو واجبات ادا کیے ہیں، اس ادائیگی کے بعد کیا کارکنوں کی تنخواہیں ادا کر دی گئی ہیں؟ اربوں روپوں کی یہ ادائیگی فرانزک آڈٹ کے بغیر کی گئی ہے کیونکہ میڈیا مالکان نے غیر اخلاقی اور غیر قانونی طور پر کارکنوں کی تنخواہیں روک رکھی تھیں اور حکومت کارکنوں کا دباؤ محسوس کررہی تھی۔ ان کارکنوں کاپرسان حال کون ہے؟ لاکھوں روپے کمانے والے ؟ صحافتی تنظیموں میں ایک بڑی تقسیم اشرافیہ اور مالکان کے کارندوں کی وجہ سے ہے۔ مستقبل میں یہ تقسیم مزید ہوگی، حکومت نے کارکنوں کے دباؤ میں آکر واجبات کی ادائیگی کرکے کچھ مالکان کے ساتھ خصوصی تعلقات بذریعہ خصوصی وزیر اطلاعات (مشیراطلاعات فردوس اعوان) خوشگوار بنانے کی کوشش کی ہے جس کے نتیجے میں میڈیا کنٹرول

پالیسی پر آسانی سے عمل ہوگا جبکہ میڈیا کارکنوں کو میڈیا کنٹرول پالیسی کےخلاف صحافت کی آزادی پر حملے کے نام پر اکسایا جائے گا بلکہ اکسایا جارہا ہے، بھلا ایک کارکن کو میڈیا کنٹرول کا کیا فائدہ اور نقصان ہوسکتا ہے جبکہ میڈیا پر مکمل کنٹرول اور سخت ترین سنسر تو میڈیا مالکان کے مفادات کا ہے، یہ سنسر بڑی سے بڑی خبر کھا جاتا ہے۔

اب تو میڈیا مالکان کو صرف ان اینکرز اور رپورٹرز کی ضرورت ہے جو صحافت سے زیادہ میڈیا مالکان اور کچھ خاص لوگوں کے مفادات کا تحفظ کرسکیں جیسا کہ ہو رہا ہے اور اخبارات کے ساتھ ساتھ سکرین پر روز دکھائی دیتا ہے۔ وفاقی وزیر کا صحافی کے منہ پر تھپڑ درحقیقت میڈیا مالکان اور مخصوص افراد کو صحافت کی آزادی کے نام پر حاصل مادر پدر آزادی کا نتیجہ ہے، اور وفاقی وزیر کا طرزِ عمل طاقت سے جواب جواب دینے کا عملی اظہار ہے۔ یہ صحافت کی آزادی کا معاملہ ہے اور نہ ہی صحافیوں پر حملہ ہے۔۔ یہ مفاد پرست مافیا کے دو کارندوں کا جھگڑا ہے، جس سے عام عامل صحافیوں کا الگ رہنا ہی بہتر ہوگا۔ جن عامل صحافیوں اور عام میڈیا کارکنوں کو اس بات سے اتفاق نہیں وہ ذرا کوئی ایسی مثال تو پیش کریں کہ جس صحافی کو تھپڑ مارا گیا ہے اس نے اپنے پروگرام میں کبھی کاکنوں کے مسائل پر، ان کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور بڑے پیمانے پر کی جانے والی چھانٹیوں پر کوئی پروگرام کیا ہو؟

ملک میں نئے مالی سال کے بجٹ نے عام آدمی کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ وہ زندہ کیسے رہ سکتا ہے، کیا کسی بچے کو سکول سے اٹھا کر چائے والے کا ’چھوٹا بنادے یا کسی مستری کو ’استاد جی‘ کہنے والا۔ کیا ایک بچے کو سکول سے اٹھانے کے بعد دوسرے بچے تعلیم جاری رکھ سکیں گے ؟ اس کا جواب ابھی اس کے پاس نہیں یہاں تک کہ ملک چلانے کی منصوبہ بندی کرنے والے وزیر، اقصادی پالیسیاں بنانے والے ماہرین اور روٹی کپڑا مکان، قسمت و تقدیر بدلنے، تبدیلی کا نعرہ لگانے والے سیاستدان بھی جواب سے عاری ہیں ۔ بجٹ پر بحث کرنے والے اس کی تعریف کریں گے یا تنقید کریں گے، اصلاحی گفتگو کرنے والوں کو نہ سکرین اور نہ ہی کاغذ دستیاب ہے، ملک میں ذرائع ابلاغ صرف’ حامی اور مخالف‘ ہیں، صحافت صرف اس حد تک ہے کہ صحافت کی آزادی کا نعرہ لگا کر مادر پدر آزادی حاصل کی جائے جیسا کہ پون صدی کی تاریخ میں سادہ لوح کارکنوں نے تحریکیں چلائیں، جان و مال داؤ پر لگائے، کوڑے کھائے اور فاقوں سے پیٹ بھرا۔ کہا جارہا ہے کہ بجٹ عالمی مالیاتی اداروں کی ہدایت پر ان کے ہی کارندوں نے بنایا ہے، ایسا ہی مان لینا چاہئے اور صرف ایک سوال کیا جانا چاہئے کہ کونسا بجٹ ایسا تھا جو عالمی اداروں کی مرضی کے برعکس خالص عوام کی فلاح اور بہود کیلئے بنایا گیا تھا؟ کس نے کب بنایا تھا؟ عوام کو کیا فائدہ پہنچا تھا؟ کون سا بجٹ ہے جس میں قومی خسارہ کم کرنے کے لئے بینکوں کے قرضے ہڑپ اور معاف کروانے والوں کے پیٹ چاک کرکے غریب کا ننگا پیٹ ڈھانپنے کی کوشش کی گئی۔؟ کیا حکومت اب تک لئے جانے والے عالمی قرضوں اور قومی بینکوں سے جاری ہونے والوں قرضوں کے استعمال اور واپسی کی دیانتدارانہ کوئی رپورٹ شائع کرسکتی؟ کیا فرانزک آڈٹ کروایا جاسکتا ہے؟ جوا ہاں میں نہیں ملے گا کیونکہ قرضے ہڑپ کرنے والے سبھی ایک ہیں، اگر سیاستدان ہیں تو ہر حکومتی پارٹی کا حصہ ہیں، بیورو کریٹ ہیں تو ہر حکومت کی آنکھ کا تارا ہیں یا رہے ہیں، سیکیورٹی وعسکری اداروں کے لوگ ہیں تو وہ سیاست میں آچکے ہیں یا بیرون ملک مقیم ہیں۔ سیٹھ ہیں تو اشاعتی نشریاتی ادارے کا مالک یا ملک کی اکانومی پر اثر اندا ہیں اور ان کااحتساب موجودہ نام میں ممکن دکھائی نہیں دیتا، سرمایہ کار، تاجر، صنعتکار بھی وہ طقہ ہے جو مر گئے مرگئے کی رٹ لگاتا ہے لیکن تجویوں کے پیٹ میں گیس مسلسل بھری جارہی ہے، لینڈ اور منشیات مافیا کے ساتھ ساتھ انسانی سمگلنگ اورجسم فروش طبقہ الگ سے راج کررہا ہے ۔ انصاف کیسے ملتا ہے یہ انصاف لینے کے لئے نکلنے والا جانتا ہے۔

بجٹ کس کے لئے بنتا ہے؟ جی ہاں! بجٹ صرف مہنگائی کے لئے بنتا ہے، عام آدمی بجٹ کی خبر سن کر کانپ اٹھتا ہے، ذخیرہ اندوز بھنگڑے ڈالتا ہے، بجٹ میں یا تو سرکاری وسائل سرکاری اداروں کی تنخواہوں اور تھوڑے بہت ترقیاتی کاموں کیلئے مختص ہوتے ہیں جن میں کئی حصے دار ہوتے ہیں، یا پھر نئے ٹیکس لگائے جاتے ہیں جو کسی نہ کسی صورت میں عام آدمی نے ادا کرنے ہوتے ہیں ۔ عام آدمی کا کیا حال ہے، یہ جاننا خیالِ باطل سمجھا جاتا ہے۔ پنجاب کا بجٹ پیش ہونے کے بعد میں نے کچھ وزرا اور حکومتی اراکین سے بات کی تو آف دی ریکارڈ وہ توبہ توبہ اور آن دی ریکارڈ بلے بلے بہت اعلیٰ بجٹ کہتے نہیں تھکتے تھے۔ یہ معاشرے کے مجموعی رویے کی عکاسی ہے جسے ڈکشنری میں منافقت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

بجٹ سے زیادہ توجہ سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے صاحبزادے اور سابق وزیر اعظم نوازشریف کی صاحبزادی کی ملاقات اور ان میں ہونے والے اتفاقِ رائے پر ہے، دونوں کے والد ان دنوں جیل میں ہیں، جیل ان کے لئے اس حد تک جیل ہے کہ وہاں ان کا سو فیصد راج نہیں ہے۔ ابھی ممکنہ طور جیل جانے والوں کی لمبی فہرست ہے، ان کی بھی فہرست طویل ہے جنہیں جیل میں ہونا چاہئے لیکن انہوں نے عوام کو کھلی جیل میں قید کررکھا ہے خود ٹھاٹھ میں ہیں۔

بلاول اور مریم میثاقِ جمہوریت کو یاد کرکے مسکراتے دکھائے گئے ہیں جبکہ جمہوریت پسند ابھی تک میثاقِ جمہوریت کو ٹھڈے مار ے جانے پر نوحہ کناں ہیں۔ بلاول کو مریم نے ویر اور بلاول نے مریم کو آپی کہا یا نہیں لیکن انہی دیواروں نے آصف علی زرداری اور نواز شریف کو ایک دوسرے کا چھوٹا اور بڑا بھائی کہتے ضرور سنا تھا، پھر بھائی کو سڑکوں پرگھسیٹ کر پیٹ پھاڑ کر قوم کی لوٹی ہوئی دولت اور سرے محل کی اینٹیںقومی خزانے میں جمع کروانے کے بڑے دوعوے سنے گئے تھے، اسی بھائی کو جس کی زبان اپنے دور میں(بقول آصف علی زراری) زبان کاٹی گئی تھی۔ پھر اس ملاقات میں کیا طے پایا کیا عملدرآمد ہوگا َ کیا ان پارٹیوں (باقی جماعتیں بھی) نے سیاسی کارکن پیدا کیے یا سیاسی کارکنوں کی لاشیں گرائیں؟ سٹوڈنٹس یونین کے الیکشن کروائے جبکہ یہ ان کے اختیار میں، یہ سیاسی کارکنوں اور مستقبل کی قیادت کی نرسری ہیں، اگر ملک میں سیاسی کارکن پیدا کیے ہوتے تو جس طرح کا بجٹ پیش کیا گیا ہے اب تک سیاسی شعور اس بجٹ کا حشر نشر کرچکا ہوتا بلکہ کوئی ایسا بجٹ پیش کرنے کی گستاخی ہی نہ کرتا۔

بجٹ پر عام آدمی کے جذبات کی ترجمانی کے بجائے دوسرا شور ایک وفاقی وزیر اور ایک صحافی کے جھگڑے کا ہے اور اسے صحافیوں کی طرف سے صحافت کی آزادی اور صحافیوں پر حملہ قراردیا جارہا، وفاقی وزیر کا صحافی کوتھپڑ مارنا کسی صورت قابلِ قبول اور لائقِ تحسین نہیں بلکہ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، کسی وزیر کا یہ طرزِ عمل پورے معاشرے کے لئے لمحہ فکریہ ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی سوچنا چاہئے کہ عد م برداشت کہاں تک پہنچ گئی ہے؟ صحافی کو تھپڑ مارا کیوں گیا؟ ایسے اسباب ہیں جن کا جائزہ پریس کونسل آف پاکستان میں لیا جانا چاہئے بلکہ اس کے لئے جوڈیشل کمیشن بننا چاہئے اور پی ایف یو جے کو خود بھی بلا تعصب جائزہ لینا چاہئے ورنہ بات دور تلک جائے گی اور ایسے واقعات معمول بن جائیں گے، شامت آئی آئے گی جو بے نوا ہیں، کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ جب ایک اخبار کے مالک نے ایک کارکن کو تھپڑ مارا تو اس کا کسی نے کیا بگاڑ لیا تھا؟ کارکن کو کیا انصاف ملا تھا؟ جبکہ اس کا رکن کا قصور یہ تھا کہ اس نے دفتری اوقات کے بعد اپنا موبائل فون بند کیا تھا؟ یہ واقعہ ہرگز رونا نہ ہوتا اگر میڈیا انڈسٹری میں’’جنگ اور خبریں‘ گروپ میں گلوچ کے سامنے پل باندھا گیا ہوتا۔ جہاں تک وزیر کا صحافی کو تھپڑ مارنے کا سوال ہے تو کیا کبھی صحافتی تنظیموں نے سکرین پر کی جانےوالی گفتگو کا جائزہ لے کر اس کی اصلاح کی کوشش کی ہے؟

بنیادی طور پر تھپڑ اور اس کے بعد اٹھنے والا سوال صحافیوں کی اشرافیہ کا ہے۔ کیا صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے منہ پر اس سے بڑا طمانچہ کوئی ہوسکتا ہے کہ حکومت نے میڈیا مالکان کو اربوں روپے کے جو واجبات ادا کیے ہیں، اس ادائیگی کے بعد کیا کارکنوں کی تنخواہیں ادا کر دی گئی ہیں؟ اربوں روپوں کی یہ ادائیگی فرانزک آڈٹ کے بغیر کی گئی ہے کیونکہ میڈیا مالکان نے غیر اخلاقی اور غیر قانونی طور پر کارکنوں کی تنخواہیں روک رکھی تھیں اور حکومت کارکنوں کا دباؤ محسوس کررہی تھی۔ ان کارکنوں کاپرسان حال کون ہے؟ لاکھوں روپے کمانے والے ؟ صحافتی تنظیموں میں ایک بڑی تقسیم اشرافیہ اور مالکان کے کارندوں کی وجہ سے ہے۔ مستقبل میں یہ تقسیم مزید ہوگی، حکومت نے کارکنوں کے دباؤ میں آکر واجبات کی ادائیگی کرکے کچھ مالکان کے ساتھ خصوصی تعلقات بذریعہ خصوصی وزیر اطلاعات (مشیراطلاعات فردوس اعوان) خوشگوار بنانے کی کوشش کی ہے جس کے نتیجے میں میڈیا کنٹرول

پالیسی پر آسانی سے عمل ہوگا جبکہ میڈیا کارکنوں کو میڈیا کنٹرول پالیسی کےخلاف صحافت کی آزادی پر حملے کے نام پر اکسایا جائے گا بلکہ اکسایا جارہا ہے، بھلا ایک کارکن کو میڈیا کنٹرول کا کیا فائدہ اور نقصان ہوسکتا ہے جبکہ میڈیا پر مکمل کنٹرول اور سخت ترین سنسر تو میڈیا مالکان کے مفادات کا ہے، یہ سنسر بڑی سے بڑی خبر کھا جاتا ہے۔

اب تو میڈیا مالکان کو صرف ان اینکرز اور رپورٹرز کی ضرورت ہے جو صحافت سے زیادہ میڈیا مالکان اور کچھ خاص لوگوں کے مفادات کا تحفظ کرسکیں جیسا کہ ہو رہا ہے اور اخبارات کے ساتھ ساتھ سکرین پر روز دکھائی دیتا ہے۔ وفاقی وزیر کا صحافی کے منہ پر تھپڑ درحقیقت میڈیا مالکان اور مخصوص افراد کو صحافت کی آزادی کے نام پر حاصل مادر پدر آزادی کا نتیجہ ہے، اور وفاقی وزیر کا طرزِ عمل طاقت سے جواب جواب دینے کا عملی اظہار ہے۔ یہ صحافت کی آزادی کا معاملہ ہے اور نہ ہی صحافیوں پر حملہ ہے۔۔ یہ مفاد پرست مافیا کے دو کارندوں کا جھگڑا ہے، جس سے عام عامل صحافیوں کا الگ رہنا ہی بہتر ہوگا۔ جن عامل صحافیوں اور عام میڈیا کارکنوں کو اس بات سے اتفاق نہیں وہ ذرا کوئی ایسی مثال تو پیش کریں کہ جس صحافی کو تھپڑ مارا گیا ہے اس نے اپنے پروگرام میں کبھی کاکنوں کے مسائل پر، ان کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور بڑے پیمانے پر کی جانے والی چھانٹیوں پر کوئی پروگرام کیا ہو؟

Please follow and like us:

Leave a Reply