301

انشا جی کا تیسرا مجموعہ کلام، میں اور چوہدری محمد عمر سلیم

Spread the love

آج ابن انشا جی کی سالگرہ تھی اور کچھ مصروفیت اور جالینی نظام کی سستی کے باعث میں انشا جی کو خراج تحسین پیش نہ کر سکا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بروقت خراج تحسین پیش نہ کر سکا تو انشا جی کے ایک چاہنے والے نے امریکہ سے ایک خفگی کا اظہار کیا کہ ان کی سالگرہ پر کچھ پیش نہیں کیا گیا تو میں نے جو کچھ یاد تھا وہ قلم بند کر دیا۔ چوہدری عمر سلیم کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر دنیا میں ابن انشا کا صرف ایک چاہنے والا رہ جائے تو آپ بے دھڑک اس خالی جگہ پر چوہدری محمد عمر سلیم کا نام لکھیں گے تو پاس ہو جائیں گے۔

از قلم: محمد مدثر بھٹی

انشا جی کا پہلا مجموعہ کلام چاند نگر تھا جو 1955 میں پہلی بار شائع ہوا۔ یہ اس دور کی بات تھی جب انسان کے قدم چاند پر نہ پہنچے تھے انشا جی یہ اس زندگی کے خاکے ہیں جو میں نے اٹھائیس برس میں بسر کی ہے گرجا کا گھڑیال جو دو بجاتا ہے گاڑی کی سیٹی جو گونج اٹھتی ہے ریل کی پلیا بھی کہ مضافات میں نظر آتی ہے اور چاند۔۔۔ آبادیوں اور ویرانوں کا چاند۔۔۔ یہ سب ماضی کی کھونٹیاں ہیں جن پر میں نے یادوں کے پیراہن لٹکا رکھے ہیں اب آپ میراساتھ چھوڑ کر اس چاند نگر کی سیر کیجئے اور میں نے اسے تلابخلی دے کر کسی نئے سفر پر نکلوں گا نہ مجھے اپنا حسن کا ایلڈوریڈو ملا ہے نہ زندگی کا شہر تمنا۔ ۔ ۔ میری منزل چاند کی پہاڑیوں کے ادھر سایوں کی وادی طویل میں ہے اس سے واپسی ہوئی تو جو کچھ دامن میں ہو گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کلیاں، کانٹے، یا غبار، وہ پیش کروں گا۔

لیکن چاند کی پہاڑیوں سے انشا جی واپس لوٹے تو انسان کے قدم چاند پر پہنچ چکے تھے لیکن نیچے دھرتی کا احوال وہی تھا جو کچھ چاند نگر کے دیباچے میں لکھا تھا اور وہ آج بھی ہے دھرتی اور دھرتی والوں کے مسئلے وہی ہیں جنگ و امن، امارات و احتیاج، استعمار و محکومیت یہاں ملک تو آزاد ہو رہے ہیں لیکن انسان آزاد نہیں ہو رہے۔ اپنے دو سرے مجموعے ’اس بستی کے ایک کوچے میں جو ۶۷ء میں طبع ہوئی، کے دیباچے میں انشا جی لکھتے ہیں ’ایک طرف اسباب دنیا کی فراوانی ہے غلے کے گودام بھرے ہیں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں دوسری طرف حبشہ اور چڈاریٹڑ کی جھلسی ہوئی ویرانی میں انسان اناج کے ایک دانے کے لئے جانوروں کاسوکھا گوبر کرید رہا ہے اور ہزاروں لاکھوں لوگ تپتے تانبے کے آسمان تلے ایڑیاں رگڑتے دم توڑ رہے ہیں

شاعر اور ادیب کا ضمیر عالم کی آواز کہلاتا ہے، اپنی ذات کے خول میں دم سادھے بیٹھا ہے احتجاج کی منحنی صدا بھی نہیں۔ ایسے میں ذاتی جوگ بجوگ کی دھوپ چھاؤں کا یہ مرقع پیش کرتے ہوئے ہم کیسے خوش ہو سکتے ہیں یہ ہمارے پچھلے بیس سال کا نامۂ اعمال ہے اب پڑھنے والا بھی حکم صادر کرے انشا جی کے دونوں مجموعۂ کلام کے درمیان بیس سال کا وقفہ تھا۔


میں نے انشا جی کی دو کتب کا مطالعہ کیا تو بہت لطف و سرور کی کیفیت سے دوچار ہوا مگر جب ان کی تیسری کتاب ’’دل وحشی‘‘ پڑھی تو اس میں کچھ عجیب سا احساس تھا جیسے وہ لفظ اور ان کا رنگ و آہنگ اجنبی و غیر مانوس ہوں، غیر احساس اور غیر محسوس دونوں طرح سے مجھے لگتا تھا کہ جیسے یہ مسودہ نامکمل ہے یا پھر اس کی حالت زار ترتیب سے لگتا تھا کہ مسودہ شاعر نے کسی قدر بے دلی اور اجلت میں مرتب کیا ہے اس میں وہ اہتمام نہیں ملتا جو چاند نگر اور دل وحشی میں ملتا ہے۔ اس بارے میں میں نے بہت کوشش کی کہ کسی فورم پر اظہار کر سکوں مگر میں جرات نہیں کر سکا، البتہ اس بارے میں میں نے ایک مرتبہ اپنے ایک ساتھی قلم کار طاہر اصغر اور مرحوم آفتاب کاوش سے تذکرہ کیا جس پر دونوں نے اول تو کہا کہ یہ میرا وہم سا ہے۔


بیسویں صدی دم توڑ رہی تھی بلکہ آخری سانسیں لے رہی تھی میں ان دنوں روز نامہ دن میں بطور ترجمہ نگار کام کر رہا تھا اور کاوش مرحوم میگزین ایڈیٹر تھے وہ ایک شام میرے کمرے میں آئے اور صرف اتنا کہا ’’یار میں نے کتاب پڑھی ہے کچھ بات ہے ضرور‘‘اتنا کہہ کر انہوں نے پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا کیونکہ ان کو سگریٹ کے دھویں سے کچھ پریشانی ہوتی تھی اور میرا کمرہ سگریٹ پینے والوں کی آمجگاہ تھا۔
پھر کیا ہوا، چاند نے کتنی منزلیں طے کیں نکلا، چکا ڈوب گیا مگر مجھے اس بارے میں کبھی خیال نہیں آیا پھر زمانے کی بھیڑ میں گم ایک طویل مدت گزر گئی، ایک گرم دوپہر لاہور اکیڈمی کے مالک طاہر سردار چوہدری سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے دل وحشی کے معلق سا ہونے کا ذکر کیا تو انہوں نے بتایا کہ جب دل وحشی شائع ہوئی تو اس وقت انشا جی کوچ کر چکے تھے۔ یعنی وہ ہمارے درمیان موجود نہیں تھے۔ وہ چاند کی پہاڑیوں کے ادھر سایوں کی وادی طویل میں اتنی دور نکل گئے کہ واپسی کا امکان ہی نہیں۔ ان کے کاغذات میں سے ایک بیاض بھی ملی تھی جس کا عنوان دل وحشی تھا۔ شاید انہوں نے اپنے تیسرے مجموعہ کلام کا عنوان سوچا تھاسو اب یہ مجموعہ اسی نام سے شائع ہوا۔ اس مجموعہ کلام میں جو غزلیں، نظمیں، شائع کی ہوئی ہیں وہ انشا جی کی بیاض میں اسی طرح ملی تھیں، ہو سکتا ہے ان کا ارادہ نظر ثانی کرنے کا ہو لیکن زندگی نے مہلت نہ دی ہمیں یہ جس حالت میں ملی تھیں اسی صورت میں شائع کر دی ہیں۔ بہت سی نظمیں۔ غزلیں، نامکمل ہیں ممکن ہے خام صورت میں ہوں۔ کچھ کے صرف ایک دو شعر ہی کہے گئے ہیں ………… یہ اشعار جو ہمیں ملے انشا جی نے مختلف ادوار میں کہے۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ قاری کو اس میں پہلے دور کی تازگی محسوس ہو۔ رہی رومانویت اور پرانے موسموں کی خوشبو جو چاند نگر کا خاصا ہیں اور کہیں اس پختگی کا احساس ہو جو اس بستی کے ایک کوچے میں پائی جاتی ہے لیکن مجموعی طور پر آپ کو اس میں انشا جی کا تیسرا رنگ نظر آئے گا اس میں انہوں نے اپنے جوگ بجوگ کی دھوپ چھاؤں کا مرقع ہی نہیں انسانی زندگی کی دھوپ چھاؤں کا مرقع بھی پیش کیا ہے۔


طاہر سردار سے گفتگو کے بعد میں پھر اس بات کو بھول گیا تھا۔ مگر آج جس وقت میں یہ مضمون لکھ رہا ہوں کچھ دیر قبل میرے انتہائی ناقد دوست اور انشا جی کے ممدوح خاص چوہدری عمر سلیم نے طعنے دے کر کہا کہ انشا جی کی سالگرہ گزر گئی مگر اس پر کچھ بھی نہیں لکھا، تو مجھے یہ سارے واقعات یاد آگئے تو ان کی محبت کے پیش نظر رقم کر دیئے ہیں۔ تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں