ان چیزوں کا ذکر جن پر حکومت ٹیکس لگانا بھول گئی ہے

Spread the love

ہمارے ایک قاری جناب محمد اکمل نے بجٹ کے تناظر میں لکھی گئی شہزاد قیس کی یہ غزل ارسال کی جس میں بہت عمدہ تجاویز رکھی گئی ہیں۔ ان کے علاوہ ابھی چند چیزیں ہیں جن کا تذکرہ کرنا شاعر بھول گیا ہے اس پر میں چند دن میں اپنے کالم میں روشنی ڈالوں گا۔

اَبر کے چاروں طرف باڑ لگا دی جائے
مفت بارِش میں نہانے پہ سزا دی جائے

سانس لینے کا بھی تاوان کیا جائے وُصول
سبسِڈی دُھوپ پہ کچھ اور گھٹا دی جائے

رُوح گر ہے تو اُسے بیچا ، خریدا جائے
وَرنہ گودام سے یہ جنس ہٹا دی جائے

قہقہہ جو بھی لگائے اُسے بِل بھیجیں گے
پیار سے دیکھنے پہ پرچی تھما دی جائے

تجزیہ کر کے بتاؤ کہ منافع کیا ہوگا
بوندا باندی کی اَگر بولی چڑھا دی جائے

آئینہ دیکھنے پہ دُگنا کرایہ ہو گا
بات یہ پہلے ، مسافر کو بتا دی جائے

تتلیوں کا جو تعاقب کرے ، چالان بھرے
زُلف میں پھول سجانے پہ سزا دی جائے

یہ اَگر پیشہ ہے تو اِس میں رِعایت کیوں ہو
بھیک لینے پہ بھی اَب چنگی لگا دی جائے

کون اِنسان ہے کھاتوں سے یہ معلوم کرو
بے لگانوں کی تو بستی ہی جلا دی جائے

حاکمِ وَقت سے قزاقوں نے سیکھا ہو گا
باج نہ ملتا ہو تو گولی چلا دی جائے

کچی مِٹّی کی مہک مفت طلب کرتا ہے
قیس کو دَشت کی تصویر دِکھا دی جائے

Please follow and like us:

Leave a Reply