چترال: جون میں برفباری اور مشتری پر 450 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آندھی کا کیا تعلق ہے

Spread the love

لاہور (صرف اردو ڈاٹ کام) مشتری ہمارے نظام شمسی کا سب سے بڑا اور سب سے پرانا سیارہ ہے، اب تک مشتری کے 79 چاند دریافت ہوچکے ہیں، لیکن ہمیں لگتا ہے کہ مشتری کے مزید چاند بھی ہوسکتے ہیں جنہیں دریافت کرنا باقی ہے، آج کل آپ کو رات کے 9 بجے آسمان پر جنوب کی جانب انتہائی چمکدار ستارہ نظر آرہا ہوگا وہ یہی مشتری ہے، یہ آجکل زمین کے نزدیک آیا ہوا ہے ……..

اگر آپ اس “چمکدار ستارے” کو ٹیلی سکوپ کی مدد سے دیکھیں گے تو اس پہ موجود رنگ برنگی ہلکی لائنیں اور لال رنگ کا نقطہ بھی دکھائی دے گا… یہ نقطہ دراصل ایک بگولا/طوفان (cyclone) ہے جو مشتری پہ پچھلے 400 سال سے آیا ہوا ہے (400 سال وہ عرصہ ہے جب سے ہم نے مشتری کو observe کرنا شروع کیا ہے حقیقتاً یہ طوفان کتنے سو سال سے جاری ہے ہمیں نہیں معلوم)

یہ طوفان اتنا عظیم علاقہ گھیرے ہوئے ہے کہ اس میں ہماری تین زمینیں فِٹ ہوسکتی ہیں… 11 جولائی 2017ء کو ناسا کی جونو سیٹلائیٹ نے اس طوفان کی انتہائی قریب سے تصاویر لیں اور ڈیٹا حاصل کیا جس سے معلوم ہوا کہ اس طوفان میں چلنے والی ہواؤں کی رفتار 450 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جبکہ ہماری زمین پر آنے والے شدید ترین طوفان میں ہواؤں کی رفتار 300 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے۔

یہ طوفان اپنے محور کے گرد ایک چکر (spin) مکمل کرنے میں چھ دن لیتا ہے، اس طوفان میں نچلی سطح پر موجود ہوائیں ٹھنڈی ہیں مگر شدید دباؤ کے باعث اس طوفان کے اوپر کا حصہ مشتری کا گرم ترین حصہ ہے… سلفر اور فاسفورس ان ہواؤں میں وافر مقدار میں ہے، اس طوفان کے اوپر موجود مشتری کی atmosphere، مشتری کے بقیہ علاقوں کی atmosphere کی نسبت 8 کلومیٹر تک اونچی ہے (یہ اونچائی ماونٹ ایورسٹ جتنی ہے اور یہ اونچائی طوفان کی شدت کے باعث ہے)!

یہ طوفان بہت ہی دھیرے دھیرے سمٹ رہا ہے مگر سائنسدان یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اسے سمٹنے میں کتنے سو سال لگیں گے، لیکن اس سب کے باوجود اچھی بات یہ ہے کہ آپ اپنے گھر کی چھت سے صرف ایک ٹیلی سکوپ کے ذریعے اس طوفان کو براہ راست دیکھ سکتے ہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ چترال میں اور دیگر علاقون میں ہونے والی حالیہ برفباری کا سیارہ مشتری کے طوفان سے کوئی تعلق نہیں ہے

Leave a Reply