پنجاب بجٹ،ٹیکسوں میں26 فیصد اضافہ

Spread the love

لاہور (جنرل رپورٹر، کامرس رپورٹر ) صوبائی

وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت نے آئندہ مالی سال 2019-20 کے لئے صوبائی بجٹ

اپوزیشن کے شدید احتجاج کے دوران 2300 ارب 57 کروڑ روپے کا بجٹ پیش

کر دیا ہے اس میں سے 350 ارب روپے ترقیاتی اخراجات کے لئے جبکہ 1717

ارب 60 کروڑ روپے جاری اخراجات کے لئے مختص کیے گئے ہیں جبکہ بجٹ

میں آمدن کا تخمینہ 1990 ارب روپے لگایا گیا ہے یوں پنجاب حکومت نے

خسارے کا بجٹ پیش کردیا ہے۔پنجاب حکومت نے نئے مالی سال 2019-20 کے

بجٹ میں صوبے کی آمدنی کا تخمینہ 368 ارب روپے لگایا ہے جس کے لئے

صوبائی ٹیکسوں میں 26 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ رواں مالی سال 2018-

19 کے بجٹ میں ٹیکس وصولی کا ہدف 208 ارب روپے رکھا گیا تھا جبکہ نئے

مالی سال کے بجٹ میں اس مد میں 263 ارب روپے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں وزیر خزانہ پنجاب

مخدوم ہاشم جواں بخت نے جب بجٹ تقریر کا آغاز کیا تو اپوزیشن بنچوں پر

بیٹھے ارکان اسمبلی نے اعتراض اٹھایا کہ ارکان کو بجٹ تقریر فراہم کیے بغیر

بجٹ پیش نہیں کیا جا سکتا جس پر سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے

ارکان اسمبلی کو بتایا کہ بجٹ تقریر ارکان میں تقسیم کی جا رہی ہے اس دوران

اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف جیسے ہی ایوان میں داخل ہوئے تو اپوزیشن

ارکان نے ڈیسک بجا کر حمزہ شہباز شریف کا خیر مقدم کیا اور پنجاب اسمبلی کا

ایوان اپوزیشن ارکان اسمبلی کے نعروں سے گونج اٹھا ۔ اس موقع پر اپوزیشن

ارکان نے ’’گلی گلی میں شور ہے، عمران نیازی چور ہے‘‘ اور ’’گو عمران گو‘‘

کے نعرے لگائے اور بجٹ تقریر کی کاپیاں پھاڑ دیں اور سپیکر کے ڈائس کا

گھیرائو بھی کیا۔ اس صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے حکومتی ارکان

اسمبلی نے سپیکر ڈائس کو اپنے حصار میں لے لیا تاہم اپوزیشن ارکان اسمبلی کی

نعرے بازی بجٹ تقریر کے اختتام تک جاری رہی اور صوبائی وزیر خزانہ کی

بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان اسمبلی ’’جھوٹے جھوٹے‘‘ کے نعرے بھی

لگاتے رہے۔ صوبائی وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت نے بجٹ پیش کرتے

ہوئے بتایا کہ NFC کے تحت وفاقی حکومت کی جانب سے پنجاب کو 1601

ارب 46 کروڑ روپے کی آمدن متوقع ہے جبکہ صوبائی محصولات کی مد میں

388 ارب 40 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ مالی سال میں جاریہ اخراجات

کا کل تخمینہ 1298 ارب 80 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ جس میں سے 337

ارب 60 کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں، 244 ارب 90 کروڑ روپے پنشن،

مقامی حکومتوں کے لئے 437 ارب 10 کروڑ اور سروس ڈیلیوری اخراجات کے

لئے 279 ارب 20 کروڑ روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ

حکومت پنجاب کی کفایت شعاری کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہوتے ہوئے

آئندہ مالی سال کے بجٹ کے جاریہ اخراجات میں رواں مالی سال کے مقابلے میں

صرف 2.7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ پنجاب کی تاریخ میں سال بہ سال ہونے

والا سب سے کم اضافہ ہے اور یہ سادگی اور کفایت شعاری کی بہترین مثال ہے۔

ملک میں موجودہ مالی بحران کے پیش نظر حکومت پنجاب کی جانب سے گزشتہ

برس کی طرح اس سال بھی 233 ارب کی رقم بجٹ میں سرپلس کے طور پر

رکھی جا رہی ہے جو کہ قومی بجٹ خسارہ کم کرنے میں مددگار ہو گی اور

محصولات کے اہداف کے حصول پر اگلے مالی سال میں دستیاب ہو گی۔ وسائل

کی کمی اور مشکل اقتصادی صورت حال کے باوجود سالانہ ترقیاتی پروگرام کے

لئے 350 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں جو کہ پچھلے سال کے مقابلے

میں 47 فیصد زیادہ ہیں۔ میں اپنی حکومت کی ترجیحات کا ذکر پہلے کر چکا ہوں۔

ترقیاتی پروگرام انہی ترجیحات کی روشنی میں تشکیل دیا گیا ہے اور اس ترقیاتی

پروگرام میں 125 ارب روپے سوشل سیکٹر، 88 ارب انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ

سیکٹر، 34 ارب پروڈکشن سیکٹر، 21 ارب سروسز سیکٹر، 17 ارب دیگر شعبہ

جارت، 23 ارب سپیشل پروگرامز، 42 ارب پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی مد میں

رکھے گئے ہیں۔ صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ جب تحریک انصاف کی قیادت

’’ریاست مدینہ‘‘ کے ماڈل کی بات کرتی ہے تو ہمارے مد نظر ایسا معاشرہ ہوتا

ہے جس میں پسماندہ اور محروم طبقات کے تحفظ کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ اسی

تصور کو ممکنہ حد تک عملی شکل دینے کے لئے حکومت پنجاب نے ایک جامع

’’پنجاب احساس پروگرام‘‘ کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے۔ ’’پنجاب احساس پروگرام‘‘

کے تحت جاری کئے جانے والے منصوبہ جات میں 3 ارب روپے کی لاگت سے

’’باہمت بزرگ پروگرام‘‘ کا اجراء کیا جا رہا ہے۔ جس کے تحت 65 سال سے زائد

عمر کے ایک لاکھ پچاس ہزار بزرگوں کی ماہانہ مالی معاونت کے لئے 2000

ہزار روپے الائونس دیا جائے گا۔ معذور افراد اور ان کے خاندانوں کی درپیش

مسائل کسی سے پوشیدہ نہیں۔ حکومت ان خاندانوں کی مشکلات میں کمی کے لئے

’’ہم قدم ‘‘ کے نام سے 3 ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک پروگرام کا

آغاز کرنے جا رہی ہے۔ اس پروگرام کے تحت 2 لاکھ سے زیادہ افراد کو 2000

روپے ماہانہ کی مالی امداد مہیا کی جائے گی۔ بیوائوں اور یتیم بچوں کی کفالت

کے لئے 2 ارب روپے کی لاگت سے ’’سرپرست پروگرام‘‘ متعارف کروایا جا رہا

ہے۔ اس پروگرام کے تحت بیوہ خواتین کی مالی معاونت کے لئے ماہانہ 2 ہزار

روپے کا وظیفہ مقرر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں فنکاروں اور

ہنرمندوں کی مالی امداد میں خاطر خواہ اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ معاشرے

کے ایک محروم طبقے یعنی ’’خواجہ سرائوں‘‘ کی فلاح و بہبود کے لئے 20

کروڑ روپے کی لاگت سے ’’مساوات ‘‘ پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ تیزاب

گردی جیسے سنگین جرم کا شکار افراد کی بحالی کے لئے 10 کروڑ کی لاگت

سے ’’نئی زندگی پروگرام‘‘ کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ خواتین کو معاشی طور پر

خودمختار بنانے کے لئے 8 ارب روپے کی لاگت سے ایک پانچ سالہ منصوبہ کا

آغاز کیا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے دہشت گردی کا نشانہ بننے

والے سرکاری اہلکاروں کی طرح ایک باقاعدہ پالیسی کے تحت عام شہریوں کے

اہل خانہ کی مالی امداد کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ’’خراج شہداء پروگرام‘‘ کے تحت

دہشت گردی کا شکار ہونے والے ان شہریوں کی بیوائوں اور یتیموں کی کفالت کو

اس وقت تک یقینی بنایا جائے گا جب تک وہ اپنے پائوں پہ کھڑے نہ ہو جائیں۔ اس

مقصد کے لئے 30 کروڑ روپے مہیا کئے جائیں گے۔ لاہور میں بے گھر افراد

کے لئے ’’ پناہ گاہ‘‘ منصوبہ بے حد کامیاب رہا ہے۔ پنجاب احساس پروگرام کے

تحت پورے پنجاب میں پناہ گاہوں کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا۔ وزیر خزانہ نے

کہا کہ آئندہ مالی سال میں ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں مزید 9 پناہ گاہوں کا قیام عمل

میں لایا جائے گا۔ ہماری حکومت نے میگا پراجیکٹس کے تصور کو ایک نیا رخ

دیا ہے۔ اب یہ میگا پراجیکٹس محض سڑکوں اور پلوں تک محدود نہیں رہیں گے۔

ہم نے صحت، تعلیم، صنعت اور زراعت سمیت دیگر شبعوں میں میگا پراجیکٹس

شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ ہم صحت کے

شعبہ میں پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ لا رہے ہیں۔ چنانچہ آئندہ بجٹ میں

مجموعی طور پر 279 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی جا رہی ہے۔ اس

ضمن میں مختص کی جانے والی رقم گزشتہ حکمرانوں کے دور حکومت کے

آخری بجٹ سے 20 فیصد زیادہ ہے۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ لاہور میں

محض ٹرانسپورٹ کے ایک زیر تعمیر منصوبے پر صرف ہونے والی مجموعی

رقم سے پنجاب کے طول و عرض میں کم از کم 50 جدید ترین ہسپتالوں کی تعمیر

عمل میں لائی جا سکتی تھی۔ صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت کا کہنا تھا کہ

یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں گزشتہ کئی ادوار

سے ایک بھی نئے جنرل ہسپتال کا قیام عمل میں نہیں لایا جا سکا۔ میں آج ایوان

میں انتہائی مسرت کے ساتھ پنجاب کے مختلف شہروں میں تقریباً40 ارب روپے

کی لاگت سے 9 جدید ہسپتالوں کے قیام کا اعلان کرتا ہوں۔ یہ ہسپتال لیہ، لاہور،

میانوالی، رھیم یار خان، رالپنڈی، بہاولپور، ڈی جی خان، ملتان اور راجن پور میں

تعمیر کئے جائیں گے۔ اسی طرح صحت عامہ کے وہ منصوبے جو گزشتہ

حکومت نے سیاسی وجوہ کی بنا پر سرد خانے کی نظر کر دئیے تھے ہماری

حکومت نے وہ تمام منصوبے بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply