مرنے کے بعد (افسانہ) خوشونت سنگھ

Spread the love

سن انیس سو پنتالیس کی ایک شام۔ مجھے بخار ہے۔ میں بستر میں پڑا ہوں، لیکن کوئی گھبراہٹ والی بات نہیں ہے، بالکل ہی گھبرانے والی بات نہیں، کیونکہ مجھے میرے حال پر ہی چھوڑ دیا گیا ہے۔ میرے پاس میری تیمارداری کے واسطے کوئی بیٹھا بھی نہیں ہے۔ لیکن اگر میرا بخار اچانک ہی بڑھ جائے؟ اگر میں مر ہی جاؤں؟ تو میرے دوستوں کا کیا ہوگا؟ ایک دو نہیں، سینکڑوں دوست ہی میرے اتنا مانتے ہیں سب مجھ کو ۔ معلوم نہیں، اخبار والے بھی کیا کیا لکھیں گے، میرے مرنے پر! یہ کبھی ہو سکتا ہے کہ وہ میرے بارے میں نہ لکھیں۔ “ٹریبون” تو شاید اپنے پہلے صفحے پر ہی میری ایک چھوٹی فوٹو کے ساتھ یہ خبر چھاپ دے۔ سُرخیوں میں چھپا ہوگا۔۔۔۔۔ “سردار خوشونت سنگھ کا سورگ واس۔” اور پھر چھوٹے پرنٹ میں خاص خبر اس طرح ہوگی۔۔۔۔

“صدمے کے ساتھ بتانا پڑرہا ہے کہ گزشتہ شام 6 بجے سردار خوشونت سنگھ اچانک وفات پا گئے۔ اپنے پیچھے وہ اپنی جوان بیوی، دو چھوٹے بچوں اور لا تعداد دوستوں اور فینز کو روتا بلکتا چھوڑ کر چلے گئے۔ آپ کو یاد دلادیں کہ وہ اپنے مستقل رہائشی مقام دہلی سے تقریباً پانچ برس پہلے لاہور میں آکر بس گئے تھے۔ ان ہی سالوں کے دوران انہوں نے عدالت اور سیاست میں اپنا ایک خاص مقام بنالیا تھا۔ سارے صوبے میں ان کی وفات پر سوگ منایا گیا۔

“سوورگ داسی سردار جی کی رہائش گاہ پر اظہارِ افسوس کے لئے آنے والے لوگوں میں اہم تھے۔۔۔۔ وزیرِاعظم کے ذاتی مشیر، چیف جسٹس کے ذاتی مشیر، کئی وزیر اور ہائی کورٹ کے جج۔ رپورٹروں کو دیئے گئے اپنے بیان میں عزت مآب چیف جسٹس نے کہا۔۔۔۔ “اس شخص کی وفات سے پنجاب نے مستقبل کا ایک چمکدار ستارہ کھودیا۔”
خبر کے نیچے ایک اعلان ہوگا۔۔۔۔
“آخری رسومات آج صبح دس بجے ہوں گی۔”

مجھے اپنے دوستوں اور اپنے آپ پر ترس آنے لگا۔ اپنی ہی موت پر بہتے ہوئے اپنے آنسوؤں کو میں بمشکل روک لیتا ہوں ۔ لیکن اپنے آپ میں ایک عجیب سا فخر کا احساس بھی محسوس کر رہا ہوں اور چاہتا ہوں کہ لوگ میرا ماتم منائیں۔ شام ہوگئی ہے۔ اب تک سب اخبار والوں کو میری موت کی خبر لگ چکی ہوگی۔ اس لئے میں اپنے مردے میں سے نکل کر باہر آتا ہوں۔ گھر کی سنگِ مرمر کی ٹھنڈی سیڑھیوں پر مرنے کے بعد لوگوں کی نظروں سے اوجھل بیٹھ جاتا ہوں۔

صبح اخبار مجھے اپنی بیوی سے پہلے ہی مل جاتا ہے۔ چھینا جھپٹی کے بکھیڑے کا سوال ہی نہیں تھا، میں تو دروازے کے باہر ہی بیٹھا تھا۔ ویسے بھی میری بیوی کو اخبار کا خیال ہی کہاں تھا؟ وہ تو بیچاری میری لاش کے چکر لگارہی تھی۔

“ٹریبون” نے میرے ساتھ برا کیا۔ صفحہ تین پر پہلے کالم میں سب سے نیچے ریٹائر سرکاری افسروں کی موت کی اطلاعات میں ایک چھوٹے سے چوکھٹے میں میرا نام تھا، بس! مجھے بہت غصہ آیا۔ ضرور اس بکواسی، خاص رپورٹر۔۔۔۔ شفیع کے کرتوت ہوں گے۔ اسے میں اچھا ہی کہاں لگتا تھا؟ لیکن اتنا تو نہیں سوچا تھاکہ مرنے کے بعد مجھے تھوڑی سی اہمیت دینے سے بھی کترا جائے گا۔ جو بھی ہو، سارے صوبے میں میری موت سے پھیلی دکھ کی لہر کو وہ اپنے اخبار تک پہنچنے سے نہیں روک سکے گا۔ میرے دوست اس کا مکمل بندوبست کریں گے۔

ہائیکورٹ کے پاس اخبار جلدی پہنچ جاتا ہے۔ میرے وکیل دوست منظور قادر کے گھر تو صبح ہونے سے پہلے ہی۔ ایسا بھی نہیں کہ منظور قادر جلد اُٹھ جاتے ہوں۔ بلکہ نو بجے سے پہلے تو اس گھر میں کوئی ہلتا بھی نہیں۔ لیکن منظور قادر اصولوں کا پکا ہے اور اخبار اس کے پاس سویرے سویرے پہنچ ہی جانا چاہیئے، چاہے ہی وہ اسے دیکھے یا نہ دیکھے۔

ہمیشہ کی طرح قادر اور اس کی بیوی نو بجے تک بستر میں ہی تھے۔ رات دیر تک کام کرتا رہا تھا۔ بیوی کو تو ویسے بھی سونے کا شغل تھا۔ ٹرے میں اخبار رکھ کر آئی۔ ساتھ میں گرم لیموں پانی کا گلاس بھی۔ سگریٹ کے کشوں کے درمیان قادر گرم پانی کی چسکیاں لیتا رہا۔ قبض کی شکایت کے باعث اس کا روز کا کام تھا۔ بستر پر لیٹے لیٹے ہی اس نے سرخیوں پر نظر ڈالی۔ اصلی اخبار تب پڑھتا تھا، جب سگریٹ اور لیموں اپنا کام کررہے ہوتے۔ میری موت کی خبر اس کے لیٹرین جانے کی محتاج تھی۔تو قادر کا لیٹرین جانے کا وقت آہی گیا۔ ایک ہاتھ میں اخبار ہے، ہونٹوں میں سگریٹ دبی ہے۔ سیٹ پر آرام سے بیٹھ گیا ہے۔ اخبار پر اچھی طرح نظر ڈالتا ہے۔ پہلے چھوٹی موٹی خبروں پر دھیان جاتا ہے۔ صفحہ تین کے پہلے کالم پر نظر پڑتے ہی لمحہ بھر کو سگریٹ پینا روک دیتا ہے۔ سوچتا ہے کہ کیا اٹھ کر بیوی کو خبر سنائے؟۔۔ نہیں نہیں ۔ یہ ٹھیک نہیں لگے گا۔ دکھاوٹی پن لگے گا۔ قادر منطقی انسان تھا۔ شادی کے بعد تو اور بھی ہوگیا تھا۔ بیوی جو جزباتی اور بات بات پر طوفان اٹھانے والی ملی تھی۔ اور اب تو دوست بیچارہ مر ہی گیا ، کیا بھی کیا جاسکتا ہے۔ بیوی کو بتایا تو ابھی رونا دھونا مچا دے گی۔ اس لئے اس کو خبر اس طریقے سے دینی ہوگی، جیسے کچھ خاص نہ ہوا ہو، صرف ایک مقدمے میں ہار ہوگئی ہو۔

قادر اپنی عورت کو جانتا تھا۔ اس نے اسے سرسری طور پر بتایا۔ جیسا کہ اسے معلوم تھا، سنتے ہی وہ زور زور سے رونے لگی۔ اس کی دس سال کی بچی کمرے میں بھاگی آگئی۔ ماں کو روتا دیکھ کر بغیر سوچے سمجھے اس نے بھی رونا شروع کردیا۔ قادر نے سوچ لیا کہ اب سختی برتنی پڑے گی۔
اس نے زور سے کہا، “یہ سب شور و غل کیوں مچا دیا ہے؟ اس سے کیا جانے والا لوٹ کر آجائے گا؟”
بیوی کو معلوم تھاکہ اس سے بحث کرنا بیکار ہے۔ جیت تو اسی کی ہوئی تھی۔ وہ بولی، “سنو، ہمیں ابھی فوراً ان کے گھر چلنا چاہیئے۔ اس کی بیوی بیچاری پر کیا گزر رہی ہوگی؟”

قادر نے کندھے جھٹکا دیئے۔ “بھئی میرے تو بس کی بات نہیں ہے۔ تسلی تو میں بھی دینا چاہتا ہوں، اس کی بیوی کو، لیکن میرے موکلوں کی طرف میرا فرض پہلے آتا ہے۔ مجھے کورٹ میں آدھے گھنٹے کے اندر ہی پہنچنا ہے۔”

تو قادر سارا دن کورٹ میں رہا اور اس کی بیوی گھر پر۔
شہر کے بڑے پارک کے پاس ہی میرا ایک اور دوست کھوسلہ رہتا ہے۔ اونچے طبقے کے محلے میں مکان ہے۔ گھر میں بیوی، تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ پیشے سے جج ہے اور دفتر شاہی میں خاصہ رعب اور نام ہے۔

کھوسلہ جلدی اٹھنے والوں میں سے ہے۔ جلدی اٹھتا ہے، کیونکہ یہی ایک وقت ہے، جو اس کا اپنا ہے۔ دن بھی کورٹ میں کام کرتا ہے، شام کو ٹینس کھیلنا ضروری ہے۔ اسی وقت تھوڑی دیر بیوی اور بچوں کے ساتھ ہی گزارنی ہوتی ہے۔ اس کے یہاں ملنے جلنے والے بھی بہت آتے ہیں۔ کافی مقبول شخص ہے۔ بچپن سے ہی اسے اپنی تیز طراری کا احساس تھا۔ چھوٹی عمر میں ہی اس کے بال جھڑنے شروع ہوگئے تھے اور ماتھا کافی دور تک گنجا ہوچکا تھا۔ شاید قدرت نے اسے اس کے روپ کے ذریعے اس کی باصلاحیت ہونے کی تصدیق کی تھی۔ جتنا زیادہ آئینے میں اپنے سر کو دیکھتا ، اتنا ہی زیادہ مطمئین ہوتا رہتاہے کہ وہ زندگی میں کچھ غیر معمولی کرنے والا ہے۔ اس لئے وہ سخت محنت کرنے لگا۔ وہ کلاس میں اوّل آتا اور مقابلے کے امتحان میں سب سے اوّل آیا۔ ملک میں ہونے والے بڑے سے بڑے مقابلے کے امتحانات میں اونچے اونچے درجے حاصل کرکے اس نے اپنی خود اعتمادی کو اس سے بھی مضبوط کر لیا ۔ کچھ سالوں تک وہ اپنی نوکری اور اپنے آپ سے مکمل مطمئین ہو کر جیتا رہا۔ یہاں تک کہ اسے پورا بھروسہ ہوچکا تھاکہ وہ اپنی زندگی میں پوری طرح کامیاب ثابت ہوا ہے۔ لوگ تو ایسا کہتے ہی تھے۔

کچھ سالوں کے بعد اس کو ایسے لگا کہ یہ سب محض ایک فریب تھا۔ جتنی بار وہ اپنے گنے چنے بالوں میں کنگھی کرتا اور اپنے گنجے سر پر ہاتھ پھیرتا، اسے محسوس ہوتاکہ ابھی کافی کچھ باقی ہے، جو وہ حاصل نہ کرسکا تھا۔ اس جیسے ہزاروں بااختیار افسر تھے۔ سب اپنی اپنی زندگی میں کامیاب کہلاتے تھے۔ سول سروس ہی سب کچھ نہیں تھی، اسے کچھ اور بھی کرنا چاہیئے۔ وہ لکھنا شروع کردے۔ اچھا لکھنے کے لئے اس نے پڑھنا بھی شروع کیا۔ ایک بڑا کتب خانہ بنا کر باقاعدہ دفتر جانے سے پہلے کچھ وقت وہاں گزارنے لگا۔

آج صبح بھی کھوسلہ لکھنے کے موڈ میں لگ رہا تھا۔ اس نے اپنے لئے ایک کپ چائے بنائی اور آرام سے اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔ پنسل منہ میں دبا کر سوچنا شروع کیا۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا لکھے۔ تب سوچا کہ چلو اپنی ڈائری ہی لکھ ڈالے۔ کل کا دن ایک ضروری مقدمے کو سننے میں گزرا تھا۔ مقدمہ کچھ دن اور چلنے والا تھا۔ عدالت ٹھسا ٹھس بھری ہوئی تھی، اور لوگوں کی نگاہیں اسی پر جمی تھیں۔ یہ موضع ٹھیک جم رہا تھا۔ اس نے اسی موضوع پر لکھنا شروع کردیا۔
اخبار لے کر آئے نوکر کے دروازے کھٹکھٹانے سے اس کا عمل ٹوٹا۔ اخبار کھولا۔ چلو عملی زندگی کی حقیقتوں پر بھی کچھ نظر ڈال لیں۔

کھوسلہ کو قومی اور بین الاقوامی اہمیت کے موضوعات سے زیادہ دلچسپی لگتی تھی، سماجی قسم کی خبریں، شادی بیاہ، مرنے جینے وغیرہ کی خبریں ۔ اس نے سیدھا ہی صفحہ تین کھولا۔ پہلے کالم پر نظر پڑتے ہی وہ تن کر بیٹھ گیا۔
نوٹ بُک میں پنسل پھنسا کر، کھانستے ہوئے اس نے اپنی شریمتی جی کو خبر سنائی۔ جمائی لے کر شریمتی جی نے اپنی لمبی خوابیدہ پلکیں کھولیں۔
“تب تو آج ہائیکورٹ بند رہے گا؟” وہ بولیں۔

“ہائی کورٹ ایسے ہی چھوٹی موٹی باتوں پر بند نہیں ہوتا۔ میں جارہا ہوں۔ اگر مجھے وقت ملا تو راستے میں ان کے یہاں تھوڑی دیر ہو آؤں گا یا پھر ہم لوگ اتوار والے دن چلے چلیں گے۔”
کھوسلہ لوگ نہیں آئے۔ اور بھی کتنے دوست یار میری ماتم پرسی کے لئے نہیں آئے۔ اور میں تھاکہ یہی سوچ سوچ کر بے حال ہوا جارہا تھا کہ بیچارے میری موت کی خبر سُن کر کتنے دکھی ہوئے ہوں گے۔
دس بجے کے قریب میرے گھر کے سامنے تھوڑی سی بھیڑ جمع ہوگئی۔ اس میں زیادہ تر ایسے لوگ تھے، جن کے آنے کا میں نے تصور تک نہیں کیا تھا۔ عدالت کے لباس میں کچھ وکیل تھے اور باقی کے تھے تماش بین۔ میرے دو دوست بھی آئے ہوئے تھے، لیکن وہ بھیڑ سے تھوڑی دور ہو کر کھڑے تھے۔ ایک تو فنکار سا نظر آتا تھا، پتلا سا، لمبا سا۔ ایک ہاتھ میں سگریٹ تھامے تھا اور دوسرے سے اپنی لمبی زُلفوں کو بار بار پیچھے کررہا تھا۔ ادیب آدمی تھا۔ میت کی رسومات وغیرہ میں حصہ لینے جیسی باتوں پر اس کا کوئی عقیدہ نہیں تھا لیکن سماجی فرائض کو نبھانے کے لئے ایسے مواقع پر شکل تو دکھانی پڑتی ہے۔ وہ ناک بھوں سکوڑ رہا تھا۔ مردے سے دور ہی رہنا چاہیئے۔ کہیں چھوت وغیرہ لگ جائے تو اس لئے ہر سگریٹ پیتے ہوئے اس نے اپنے اور باقی لوگوں کے درمیان دھوئیں کی دیوار کھڑی کرلی۔

دوسرا دوست کمیونسٹ تھا، ناٹا سا، گھنگھریالے بالوں والا، خرانٹ سی قسم کا انسان۔ اسے دیکھ کر لگتا نہیں تھا کہ اندر کتنا بڑا جوالہ مکھی دبائے رکھتے ہیں یہ لوگ۔ وہ ہر ایک چیز کو مارکس ازم نظروں سے دیکھنے کا عادی تھا۔ جذبات کی اس کے لئے کوئی اہمیت نہیں تھی۔ موت وغیرہ تو بالکل مو نلی قسم کی باتیں تھیں۔ جو بات اہمیت رکھتی تھی، وہ تھی کسی چیز کا مقصد ۔ اس نے آہستہ سے ادیب سے پوچھا۔
“تم کہاں تک ساتھ چلو گے؟”

“میں تو سوچتا ہوں، کافی ہاؤس تک چلا جاؤں۔ تمہارا کیا خیال ہے؟ کیا شمشان گھاٹ تک جاؤ گے؟”
“نہیں یار۔” کمیونسٹ بولا، “دراصل مجھے تو دس بجے ایک میٹنگ میں جانا تھا۔ میں تو سوچ رہا تھاکہ یہاں سے ساڑھے نو بجے تک فارغ ہوجاؤں گا۔ لیکن تم جانتے ہو، ہمارے دیش کے لوگوں کو وقت کی ذرا بھی قدر نہیں ہے۔ اچھا پھر ابھی تو میں اپنی پارٹی کے دفتر میں جارہا ہوں۔ ساڑھے گیارہ کے قریب تم کو کافی ہاؤس میں ملتا ہوں۔ اگر موقع ملے تو یار ذرا مردہ گاڑی والے ڈرائیور سے پوچھنا کہ وہ تانگے والوں کی یونین کا ممبر ہے کہ نہیں؟ چلتا ہوں۔۔۔۔”

تھوڑی دیر بعد مردہ گاڑی میرے دروازے تک آپہنچی۔ ایک بھورے رنگ کا گھوڑا جتا ہوا تھا۔ گھوڑے اور اس کے مالک کو موقع کی سنجیدگی سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ کوچوان پان چباتا ہوا آرام سے بیٹھا تھا اور بھیڑ کو دیکھ رہا تھا۔ اندازہ لگا رہا تھا کہ ان میں سے کسی سے بخششں وغیرہ ملنے کی اُمید ہے کہ نہیں؟ گھوڑے نے وہیں پر موتنا شروع کردیا۔ اینٹوں کے فرش پر چھڑکتی دھار کے چھینٹوں سے بچنے کے لئے بھیڑ تھوڑی بکھر گئی۔

لوگوں کو زیادہ دیر تک رکنا نہیں پڑا۔ میری لاش کو سفید کپڑے میں لپیٹ کر نیچے لایا گیا اور مردہ گاڑی میں رکھ دیا گیا۔ کچھ تھوڑے سے پھول بھی ارتھی کے اوپر ڈال دیئے گئے۔ اب جلوس کوچ کے لئے تیار تھا۔
ہمارے روانہ ہونے سے پہلے ایک اور دوست اپنی سائیکل لے کر پہنچا۔ دیکھنے سے ہی لگ رہا تھا کہ کوئی بہت زیادہ سنجیدہ پروفیسر ہے۔ رنگت میں تھوڑا سا سانولا، جسم سے ذرا تھتھلا۔ سائیکل کے کیرئیر پر کئی کتابیں دبی ہوئی تھیں۔ ارتھی والی مردہ گاڑی کو دیکھتے ہی وہ سائیکل سے اتر گیا۔ مردوں کے لئے اس کے دل میں بڑی عقیدت تھی، اور وہ بے کھٹک ظاہر بھی کرتا تھا۔ سائیکل کو ہال کے کمرے میں رکھ کر اسے چین لگادی۔ پھر بے فکر ہو کر بھیڑ میں جا ملا۔ جب میری بیوی مجھے آخری بار الوداع کرنے آئی، تو بیچارے کی آنکھیں بھر آئیں۔ اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی کتاب نکال کر اس کے صفحے پلٹنے لگا اور بھیڑ کو چھانٹتا ہوا میری بیوی کی طرف بڑھا۔ بھیگی آنکھوں سے اس نے وہ کتاب میری بیوی کو نذر کردی۔
“میں آپ کے لیے گیتا کی یہ کتاب لایا ہوں، اس سے آپ کو سکون ملے گا۔”

جزبات کے تابع ہوکر بہتے ہوئے آنسوؤں کو پونچھنے کے لئے وہ پیچھے ہوا اور آہ بھرتے ہوئے اپنے آپ میں ہی بڑبڑ انے لگا۔۔۔۔

“یہی انسانی زندگی کا اختتام ہے۔ یہی حقیقت ہے۔”
عام قول و بیان کو دہراتے رہنے کا اسے شوق تھا۔ لیکن اس کی نظر میں بار بار دہرائے جانے والے ان عام قول و بیان کی بھی اپنی اہمیت تھی، اپنی الگ بنیاد۔
وہ دل ہی دل میں بولا: “انسانی زندگی پانی کے بلبلے کی طرح ہے۔ بلبلے کی طرح ہی لمحاتی۔”
“لیکن کوئی مر کر ختم نہیں ہوجاتا۔ مادہ کبھی فنا نہیں ہوتا، صرف شکل تبدیل کرنا ہے۔”

پروفیسر اپنے ہی دھیان میں کھونے لگا۔ سوچ رہا تھا کہ اس کے دوست نے اب کون سا نیا کپڑا پہنا ہوگا۔
تبھی پاؤں کے درمیان پھدکتا ہوا اس کی پتلون کو چاٹ رہا تھا۔ آدمی رحم دل قسم کا تھا۔ اس نے جھک کر کتے کو تھپتھپایا اور اپنے ہاتھ چٹوانے لگا۔

پروفیسر بے چین سا معلوم ہونے لگا۔ اس کا دل پھر بھٹک رہا تھا۔ اس نے لاش کو دیکھا اور پھر پاؤں کے درمیان کھیلتے چھوٹے کتے کو دیکھا آخر یہ کتا بھی تو ایشور کی ہی تخلیق ہے۔۔۔

جلوس آگے بڑھ رہا تھا۔ شیشے کے تابوت میں لیٹا میں سب سے آگے تھا۔ پیچھے پیچھے کوئی درجن بھر لوگ چل رہے تھے۔ جلوس ندی کی طرف بڑھنے لگا۔

بڑی سڑک کو پار کیا تو دیکھا، سارے لوگ میرا ساتھ چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ وکیل تو ہائی کورٹ کے پاس ہی مڑگئے۔ میرا ادیب دوست سگریٹ پیتا ہوا کافی ہاؤس کے پاس جاکر رکا۔ مقامی کالج کے پاس پہنچ کر پروفیسر نے بھی مجھے آخری بار موہ بھری نظر سے دیکھا اور کلاس روم کی طرف جاتی ڈگر پر بڑھ گیا۔ باقی ماندہ بھی ضلع کچہری تک پہنچتے پہنچتے غائب ہوگئے۔

میں اپنے آپ کو ننگا محسوس کرنے لگا۔ مجھ سے بھی گئے گزرے لوگوں کے جنازے میں بھیڑ کی بھیڑ جاتی ہے۔ میونسپلٹی کی گاڑی میں لدی ہوئی بھکاری کی لاش کو کم از کم دو جمعدار کھینچ کرلے جاتے ہیں۔مجھے کھینچنے والا صرف ایک ہی ڈرائیور تھا وہ بھی اس شخص کے وجود کی عظمت سے بے خبر، جس کی لاش کو وہ آخری سفر کے لئے جارہا تھا۔ اور رہی گھوڑے کی بات تو گھوڑے کی گستاخی کا تزکرہ نہ ہی کریں تو اچھا۔

شمشان بھومی کا راستہ بدبو کے مختلف مقامات سے ہوکر گزرتا تھا۔ آخری حد تو اب آئی، جب بڑی سڑک کو چھوڑ کر شمشان گھاٹ کی طرف جانے والی تنگ سڑک پر پہنچے۔ شہر کی تمام گندگی اور غلاظت سے بھرا اکلوتا نالہ اسی سڑک کے کنارے ساتھ ساتھ بہتا تھا۔نالے کی تھمی ہوئی کالی گندگی سطح پر لگاتار بلبلے اٹھ رہے تھے۔

خوش قسمتی سے مجھے موقع دیا گیا کہ میں اپنی موت کے بعد والی اہمیت کے بارے اپنی غلط فہمیوں پر ایک بار پھر غور کرلوں۔ ڈرائیور نے شمشان گھاٹ کی طرف مُڑنے والی سڑک پر ایک بہت بڑے پیپل کے درخت کے نےر مردہ گاڑی کو جا روکا۔ یہ تانگوں کا اڈہ ہے۔ یہاں گھوڑوں کے پانی پینے کے لئے ایک ناند بھی ہے۔ گھوڑے کو پانی پینے کے لئے چھوڑ کر ڈرائیور دوسرے تانگے والوں کے پاس بیڑی سلگانے چلا گیا۔

تانگے والوں نے ارتھی کے پاس آخر گھر ا ڈالا اور تاک جھانک کرنے لگے۔

ایک نے کہا، “اماں، امیر آدمی معلوم ہوتا ہے۔” دوسرے نے پوچھا، ” اس کے ساتھ تو کوئی بھی نہیں ہے؟ ارے کیا یہ بھی کوئی انگریزی رسم و رواج ہے کہ جنازے کے ساتھ کوئی نہ جائے؟”

اب تک میں پوری طرح سے تنگ آچکا تھا۔ میرے پاس تین راستے تھے۔ ایک تو تھا کہ سیدھے شمشان گھاٹ چلا جاؤں اور وہاں پہنچنے والے باقی لوگوں کی طرح اپنے آپ کو شعلوں کے حوالے کردوں۔ جل کر ہمیشہ کے لئے نیست و نابود ہوجاؤں یا پھر شاید کسی دوسری جنس میں جنم مل جائے۔

دائیں طرف سے نکلتی ہوئی دوسری سڑک شہر کی طرف جاتی تھی۔ اس سڑک پر طوائفوں اور دوسرے بدنام لوگوں کی بستی تھی۔ شرابی، جواری اور طوائف باز قسم کے اِن لوگوں کی اپنی ایک الگ ہی دنیا تھی۔۔۔۔ طرح طرح کے سنسنی خیز تجربات سے بھری۔

تیسرا راستہ تھا، واپس اپنے گھر کی طرف مُڑ جانے کا ۔ فیصلہ کرنا مشکل لگ رہا تھا۔ ایسے مواقع پر سِکہ اُچھال کر “ٹاس” (فیصلہ) کرنا ہی کام آتا ہے۔ اس لئے میں نے سِکہ اُچھال کر فیصلہ کرنے کا ارادہ کیا۔ سیدھا پڑا تو میں اس دنیا کو چھوڑ کر دوسری دنیا کی طرف چل دوں گا۔ الٹا پڑا تو سنسنی خیز تجربات کی کھوج میں بدنام بستی کا رُخ کردوں گا۔ اگر نہ سیدھا پڑا، نہ اُلٹا اور سکہ اپنے کنارے پر کھڑا ہی ہوگیا تو میں پھر اپنی اسی بے کیف گھسی پٹی زندگی میں واپس لوٹ جاؤں گا، جس میں نہ تو کوئی جو کھم ہے اور نہ ہی جینے کے بارے میں کوئی اُمنگ یا اشتیاق۔ اور پھر ایسا ہوا ہوا۔ سکہ اپنے کنارے پر کھڑا ہوگیا۔

Leave a Reply