خون عطیہ کرو، زندگی بچائو

Spread the love

تحریر: وحید احمد، خانیوال

princesnowwhite@gmail.com

انسانی زندگی کا نہ تو کوئی مول ہے اور نہ ہی کوئی نعم البدل، زندگی کی اہمیت کا اندازہ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جن کے عزیزوں، پیاروں، والدین یا بچوں پر یہ وقت کسی حادثے یا سانحے کی صورت میں نازل ہوتا ہے اور پھر ان میں سے بہت سے لوگوں کے لیے زندگی دوسرا جنم لیتی ہے اور یہ سب انسانی خون کے عطیہ اور انتقال خون ہی کی بدولت ممکن ہو پاتا ہے۔ زلزلے نے قیامت ڈھا دی تھی، چند لمحوں میں ہنستی بستی جنت میں اب چارسو قیامت صغریٰ کا منظر تھا، اونچی بلڈنگز سے لے کر چھوٹے مکانات، دکانیں، سب کچھ زمین بوس ہو چکا تھا، سینکڑوں کی تعداد میں اموات، ہزاروں شدید زخمی،ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ، قیمتی جانیں بچانے کے لیے خون کی اشد ضرورت ہے کے اعلانات، شہر کے پر رونق علاقے میں بم بلاسٹ کی اطلاع چند لمحوں میں ہی شہر سائیں سائیں کرتی ایمبولینسوں کے سائرنوں سے گونج اٹھا، اسپتالوں نے زخمیوں کی جانیں بچانے کے لیے خون کے عطیات کی اپیل کردی، عوام ایکسپریس ملتان کے قریب مال گاڑی سے ٹکرا گئی، 150 سے زیادہ مسافر شدید زخمی، خون کی ضرورت، بونیر میں تیز رفتاری کے باعث مسافروں سے بھری بس کھائی میں گر گئی ، 2 درجن سے زیادہ مسافر شدید زخمی، خون کی اشد ضرورت ہے، شہر میں دو سیاسی پارٹیوں کے جلسے کے دوران دنگا فساد،متعدد کارکن زخمی اور ان جیسی سینکڑوں خبریں روزانہ آپ ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ یاسوشل میڈیا پر پڑھتے یا سنتے ہوں گے اور اسکے بعد خون کے عطیات کی اپیل ۔ناگہانی آفات ہوں، ایکسیڈنٹ، بم بلاسٹ، کوئی دنگا فساد یا سرحدوں پر پاک فوج کے جوان جو دن رات سردوگرم کی پروا کیے بنا پاک وطن کی حفاظت کے لیے سر پر کفن باندھے دشمن کی سفاک مشین گنوں کے سامنے سر بکف رہتے ہیں ان زخمیوں کی قیمتی جانیں بچانا ڈاکٹرز کی اولین ذمہ داری اور اخلاقی فرض ہوتا ہے۔خون ہمارے جسم کا ایک اہم جزو ہے، زیادہ خون بہہ جانے کی صورت میں انسان کی موت واقع ہو سکتی ہے اس لیے زخمیوں کی جان بچانے کے لیے خون کے عطیات کی اپیل کی جاتی ہے تا کہ یہ خون ان کو لگا کر انکی جانیں بچائی جا سکیں۔نازک آپریشنوں کے دوران یا جب کسی انسان کا جسم مناسب مقدار میں خون نہ بنا رہا ہو تب بھی خون کی ضرورت پڑتی ہے جیسا کہ انیمیا ،سکل سیل کی بیماری اور خون بہنے کی بیماری ہیموفیلیا۔ اس کے علاوہ چند ایک بیماریاں ایسی ہیں جن میں مریضوں کو مسلسل خون کی ضرورت ہوتی ہے بچوں میں پائی جانے والی بیماری تھیلیسیما ان میں سر فہرست ہے جبکہ کینسر کی بہت سی اقسام جسم میں خون کی کمی پیدا کر دیتی ہیں تب بھی مریضوں کو خون کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔

عالمی طور پر 117.4 ملین خون کے عطیات جمع کیے جاتے ہیں جن میں سے 42 فیصد امیر ممالک سے اکٹھے کیے جاتے ہیں جو کہ دنیا کی آبادی کا 16 فیصد ہیں، کم آمدنی والے ممالک میں 52 فیصد سے زیادہ انتقال خون 5 سال سے کم عمر کے بچوں میں کیا جاتا ہے کیونکہ ان ممالک میں بچوں کی صحت کی اعلیٰ اور بنیادی سہولیات کی ازحد کمی ہے جبکہ امیر ممالک میں انتقال خون زیادہ تر 65 سال سے زائد عمر کے مریضوں کو کیا جاتا ہے۔ پاکستان میںانتقال خون کی سالانہ ضروریات تقریباََ 1.5 ملین بیگ سے زیادہ ہے اور ہماری قوم میں انسانیت کی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے لیکن بدقسمتی سے خون دینے کا رحجان نہ ہونے کے برابر ہے، پاکستان میں ہر سال ہزاروں مریض شدید ضرورت کے وقت خون کی عدم دستیابی کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس رحجان کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے ـ” جس نے ایک جان بچائی اس نے گویا پوری انسانیت کو بچایا” ۔

یہ بھی پڑھئے

طبی ماہرین کے مطابق صحت مند لوگ جوچند بنیادی ضروریات پر پورا اتر رہے ہوںبا آسانی خون کا عطیہ دے سکتے ہیں۔اگر آپکی عمر 18 سال سے 65 سال کے درمیان ہے اور آپکا وزن کم از کم 50 کلوگرام ہے تو آپ خون دے سکتے ہیں۔ خون عطیہ کرنے کے بہت سے طبی و جسمانی فوائد ہیں۔ عطیہ خون ہیموکرومیٹوسس سے بچائو میں ممدومعاون ثابت ہوتا ہے، یہ بیماری جسم میں خون سے ضرورت سے زیادہ آئرن جذب کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، عطیہ خون کینسر کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے جسم میں آئرن کی مقدار صحت مند سطح پر برقرار رہتی ہے اور یوں کینسر کا خطرہ کم ہو جاتا ہے، جسم میں آئرن کے اوورلوڈ کی وجہ سے دل اور جگر میں پیدا ہونے والے خطرناک عارضے عطیہ خون کی وجہ سے کنٹرول کیے جا سکتے ہیںباقاعدگی سے خون دینا عطیہ دہندہ کے وزن کو کم کردیتا ہے اور یہ ان لوگوں کے لیے بہت مددگار ثابت ہوتا ہے جو موٹاپے کی بیماری کا شکار ہیں،خون عطیہ کرنے کے فوراََ بعد جسم خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے صحت مند خون کے خلیوں کی پیداوار شروع کر دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں اچھی صحت کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ خون کا عطیہ کرتے وقت آپ کو صحت مند ہونا چاہیے، اگر آپ سرد فلو، گلے کی سوزش، پیٹ کے کیڑوں یا کسی دوسرے انفیکشن سے متاثر ہ ہیں تو آپ خون عطیہ نہیں کر سکتے اگر آپ نے اپنے جسم پر ٹیٹو بنوایا ہے یا جسم چھیدوایاہے تو آپ اس عمل کے 6 ماہ بعد تک خون نہیں دے سکتے، اگر آپ نے حال ہی میں ڈینٹیسٹ سے دانتوں کی سرجری کروائی ہے تو آپ کو خون دینے کے لیے ایک مہینہ انتظار کرنا پڑے گا، اور اگر آپ کے جسم میں خون دینے کے لیے ہیموگلوبن کی کم سے کم معینہ مقدار موجود نہیں ہے تب بھی آپ کو خون عطیہ نہیں کرنا چاہیے اگر آپ نے حال ہی میںایسے علاقے کا سفر کیا ہے جہاں مچھروں سے پیدا ہونے والی بیماریاں مثلاََ ملیریا، ڈینگی اور زکا وائرس تھیں تو آپ کو عارضی طور پر خون عطیہ کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔دودھ پلانے والی مائوں کو خون عطیہ کرنے کا مشورہ نہیں دیا جاتا، دوران حمل اور بچے کی پیدائش کے کم از کم 3 ماہ بعد تک خواتین کو خون کا عطیہ کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

کون کون سے عوامل ہیں جن میں خون کا عطیہ ہرگز نہیں کرنا چاہیے؟اگر آپ گزشتہ 12 ماہ میں کبھی خطرناک جنسی سرگرمی میں ملوث رہے ہیں، اگر کبھی بھی آپ کا ایچ آئی وی (ایڈزوائرس) پازیٹو آیا تھا یاآپ نے کبھی بھی تفریحی منشیات انجکشن کے ذریعے لی تھیں تو آپ خون عطیہ نہیں کر سکتے ورنہ آپ دوسروں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دیں گے۔

دنیا بھر میں سب سے زیادہ زندگیاں رضاکارانہ طور پر خون کا عطیہ دینے والوں کے خون کی بدولت بچائی جاتی ہیں اور یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ایک مسیحا کی شکل میں سامنے آتے ہیں اور بنا کسی لالچ کے زندگیاں دان کر کے چلے جاتے ہیں، ایسے بے لوث جذبہ اور درد انسانیت رکھنے والے یہ لوگ ہمارے حقیقی ہیرو ہیں، اور بلاشبہ اللہ کی طرف سے بھی وہ انعام کے مستحق ہوں گے۔ہر سال دنیا بھر میں 14 جون کو ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے یا عطیہ خون کا عالمی دن منایا جاتا ہے اس دن کو منانے کا مقصدان لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو بلامعاوضہ خون عطیہ کر کے قیمتی جانیں بچاتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ انسانوں کی قیمتی جانیں بچانے کے لیے صحت مند خون کی فراہمی کی اہمیت پر زور دینا اور اس سے متعلق لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply