گھر کا قیدی (افسانہ) صبا ممتاز

Spread the love

رشید نے اینٹوں کو ترتیب سے لگاتے ہوئے اپنے پتھریلے ہاتھوں کو دیکھا۔کبھی کبھی تو خونی بولی بولتے تھے۔

بھٹے پر مٹی کو پتھر بناتے بناتے نرم و نازک تن سخت جاں ہوگیا تھا۔ ایک دل ہی تورہ گیا تھا۔گوشت کا یہ لوتھڑا وقت کی سختیاں سہتے سہتے اور بھی نرم ہوگیا تھا۔چھوٹی چھوٹی بات پر پگھل جاتا تھا۔وہ غریب تھا، دل کیسے پتھر کا ہوتا۔جب مٹی جیسا تھا توکام بھی کم ہو پاتا تھا۔ پتھر جیسا ہوا تو ڈنگروں کی طرح کام کرنے لگا۔

رشید اکثر اپنی بیوی سے کہا کرتا تھا۔ رضیہ ان امیروں کے دل پتھر کے ہوتے ہیں ۔ہم کتنا بھی چیخیں چلائیں، ان پر اثر نہیں ہوتا۔ دھیان کسی یاد سے جا ٹکرایا، جب وہ چھوٹا تھا تو اس کی ماں کہا کرتی تھی۔’’ دیکھ رشید کے ابا میں اپنے بیٹے کو پڑھائوں لکھائوں گی، اسے بڑا آدمی بنائوں گی، مجھے اسے بھَّٹہ مالک کا غلام نہیںبنانا۔

ایک دفعہ اس کا باپ ماں کی یہ بات سن کر تڑخ کر بولا۔ ’’تو کیا اسے افسر لگائے گی، اری میرا باپ بھی غلام تھا، اس بھٹے کے مالک کا، میرے باپ کا باپ بھی غلام تھا اور اب اس رشید کا باپ بھی غلام ہے۔ خواب دیکھنا چھوڑ دے۔ یہ جو تیرا بیٹا ہے نا اور تیرے ان پانچ بچوں کا باپ جو تونے مجھ سے جنے ہیں اور جو اس رشید کے بھائی بہن ہیں، بھَّٹہ مالک کے مقروض ہیں یہ قرض ایک نسل کا نہیں، کئی نسلوں کا ہے، ابھی تک ہم اسے ادا نہیں کرسکے روٹی ٹکر کھائیں کہ پیسے بچائیں، اسے بھی یہی کام کرنا ہے ۔ ورنہ یہ روٹی ٹکر سے بھی جائے گا۔‘‘

اس کے باپ نے سچ کہا تھا۔ اس کے دادا نے اس کے باپ کو بھَّٹہ مالک کی غلامی میں دیا تھا، اس کے باپ نے بھی یہی کیا، غلامی کی روایت ورثے میں چلی آ رہی تھی۔ قرض کے بوجھ تلے دبے رشید کو بھی بھَّٹہ مالک کا غلام بننا پڑا۔ اسے اس غلامی کو قبول کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگا ۔ بھَّٹہ مزدوروں کے بچے جونہی سوجھ بوجھ کے قابل ہوتے ہیں، وہ اس بات کو بھی سمجھنے لگتے ہیں کہ انہیں بھی اپنے ماں باپ کی طرح بھَّٹہ مالک کے آگے ہاتھ جوڑنا ہیں، پائوں دبانا ہیں اور ان کی چاکری کرنا ہے۔

پانچ سال کے رشید نے جب اپنے باپ کے ساتھ ہاتھ بٹانا شروع کیا تو اس کا مقدر تو بگڑا ہی بگڑا مگر اس کا نام بھی بگڑ گیا۔ بھَّٹہ مالک نے اسے رشید سے شیدا بنا دیا۔

بہتے ہوئے ناک کے ساتھ جب شیدا کام کرتا تو بھٹے کا منشی اسے ’’شیدا نلی‘‘ کہہ کر چھیڑتا۔ کام کرتے کرتے زندگی کے 22 سال گزر گئے ۔شیدا نلی جوان ہوا۔ ماں نے ساتھ والے گائوں کے ایک پتھیرے کی بیٹی کے ساتھ اس کا بیاہ کر دیا۔بیاہ کے لیے تھوڑا سا قرض پھر لیا۔یہ بھی اس قرض میں شامل ہوگیا۔ تھوڑا تھوڑا قرض بڑھ کر پہاڑ سا بنتا جا رہا تھا۔شادی ہوئی تو منشی شیدے کو دیکھ کر مسکرایا۔

’’یار پتہ ہی نہیں چلا اور تو نلی کے دور سے گزر کر ٹلی کے دور میں داخل ہوگیا۔ آخر تونے شادی کی ٹلیاں بجا ہی لیں، اب تو شیدا ٹلی ہے، شیدا ٹلی۔‘‘

رشید کو نہ شیدا نلی پسند تھا اور نہ شیدا ٹلی۔ اسے تو بس رشید پسند تھا، کتنے چائو سے اس کی پھوپھو نے اس کا نام رشید رکھا تھا اور بھٹے کے مالک اور منشی نے اسے بگاڑ دیا تھا۔

ایک دن اس نے اپنے باپ سے اس بات کا شکوہ کیا تو وہ بولا’’پتر ماں باپ کا دیا ہوا نام غریبوں کے ساتھ زیادہ دیر تک نہیں چلتا، امیر رشید کو شیدا، نذیر کو جیرا، مجید کو مجیدا، یا جیدا، زرینہ کو جیناں، صفیہ کو صفو بنا دیتے ہیں اور غریب ان بگڑے ہوئے ناموں کو غریبی کا تحفہ سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔امیروں کے نام کے ساتھ صاحب لگا کر انہیں عزت دی جاتی ہے اور غریبوں کے نام بگاڑ کر انہیں ان کی اوقات اور حیثیت بتائی جاتی ہے۔ کیا فائدہ جلنے کڑھنے کا، جو نام ہے، اس پر راضی رہو‘‘۔ رشید کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اسے غریبی کے ساتھ کتنے تحفوں کو اور قبول کرنا ہے۔ اسے پتہ نہ تھا کہ غریبی جب آتی ہے تو اکیلی نہیں آتی۔ کئی مسئلے لے کر آتی ہے۔

اس کی بیوی بہت خوب صورت تھی، گوری چٹی، تیکھے نقوش درمیانہ قد اور پُرشباب بدن، باپ نے بوجھ سمجھ کر اسے جلدی جلدی ایک پتھیرسے بیاہ دیا تھا۔ 16 سال کی نوخیز کلی کو ماں بننے میں دیر نہیں لگی۔

رشید نہیں چاہتا تھا کہ رضیہ اس کے ساتھ بھٹے پر کام کرے مگر پتھیرووں کی بیویاں گھر پر بیٹھی مالکوں کو کب اچھی لگتی ہیں۔ رضیہ اس کے ساتھ کام پر آنے لگی۔بچے کو اس کی دادی سنبھالنے لگی ۔اینٹیں بناتے، پکاتے، نکالتے، رکھتے ہوئے اور سرد و گرم موسم کی سختیاں برداشت کرتے ہوئے رضیہ کا حسن ماند پڑتا جارہا تھا۔ رضیہ ایک بھَّٹہ مزدور کی کوٹھری سے نکل کر دوسرے بھَّٹہ مزدور کی کوٹھری میں آگئی تھی۔ ایک گائوں سے دوسرے گائوں تک کا فاصلہ اتنی جلدی ختم ہوگیا تھا کہ وہ اس سفر میں اپنی آنکھیں بھی خشک نہیں کر پائی تھی۔

فرق بس اتنا سا تھا کہ وہاں اس کا باپ بھٹا مزدور تھا اور یہاں اس کا خاوند۔کوٹھری کچھ بڑی تھی مگر تھی تو وہی کوٹھری جیسی جو وہ چھوڑ کر آئی تھی۔ اُس کوٹھری میں اس کی ماں اس کے باپ کے ساتھ سوتی تھی، اِس کوٹھری میں اسے اپنے خاوند کے ساتھ سونا تھا۔ رات جب ڈھل جاتی تھی تو اس کی ماں چپکے سے آہستہ سے اپنے سوئے ہوئے بچوں کو چھوڑ کر اس کے باپ کے ساتھ جا کر لیٹ جاتی تھی۔ ایک رات کروٹیں بدلتی ہوئی، کسمساتی ہوئی رضیہ کو دیکھ کر باپ نے اسے جلد رخصت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

بھَّٹہ مالک کے اس احاطے میں دس کوٹھریاں ساتھ ساتھ بنی ہوئی تھیں۔ قبروں کی طرح ایک جیسی کوٹھریاں، کسی پر پردہ لگا ہوا تھا اور کسی پر ٹین کا دروازہ، شادی سے پہلے رشید کی کوٹھری پر بھی پردہ لٹکتا رہتا تھا مگر شادی سے پہلے اس نے ٹین کا دروازہ لگوا لیا تھا، کھڑکا ختم ہوگیا تھا۔ کوٹھریوں کے اس احاطے میں دو غسل خانے تھے، سب انہی کو استعمال کرتے تھے۔

رضیہ کا نام بھی اب رجو بن گیا تھا۔ وہ اور رجو دل لگا کر کام کر رہے تھے مگر قرض تھا کہ گھٹنے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔ گھٹنے کی بجائے بڑھتا جا رہا تھا۔ دن کو وہ خوب دل لگا کر کام کرتے، رات کو تھوڑا ٹی وی دیکھتے اور پیار کی محفل جماتے۔ بچوں کی تعداد بھی بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ ساس کب تک زندہ رہتی۔ رضیہ بچے کو کپڑے کی النگنی یا جھولا سا بنا کر اس میں ڈال دیتی اور خود خاوند کے ساتھ کام کرتی رہتی۔ بچہ روتا تو اسے دودھ پلا دیتی۔ ان کے پہلے بھَّٹہ مالک کا نام عظیم ملک تھا، موجودہ بھَّٹہ مالک سیف اللہ تھا۔ نام بدل گئے تھے، جگہ بدل گئی تھی مگر رویے وہی ظالمانہ تھے۔ نعیم ملک نے سیف اللہ کے ہاتھوں ایک لاکھ میں انہیں فروخت کر دیا تھا۔ دونوں دوست تھے۔ سیف اللہ نے دوسرا بھَّٹہ بنایا تو اسے پَتھیروں کی ضرورت پڑی۔ نعیم ملک نے سیف اللہ سے کہا۔

’’مجھے پتا ہے، اس کا باپ میرا قرض دار تھا۔ اب رشید بھی قرض دار ہے، کچھ باپ کا قرض اور کچھ اپنا قرض میں مفت میں کیسے اسے دے دوں۔‘‘

’’میں بھی بھَّٹہ مالک ہوں، سب سمجھتا ہوں۔ مجھے اصل رقم بتا یہ ڈرامے نہ کر۔‘‘

’’اچھا یار، ایک لاکھ دے اور لے جا۔‘‘ نعیم نے اصل رقم بتائی تو دونوں میں سودا طے پا گیا۔ نعیم ملک سے وہ سیف اللہ کی غلامی میں آگئے۔

نعیم اور سیف اللہ جیتے جاگتے انسان کا سودا کر رہے تھے۔ غلاموں کی قیمت انہیں بتا کر تھوڑی لگائی جاتی ہے۔ بس بتایا جاتا ہے کہ اب وہ کوچ کی تیاری کریں۔ اب ملکیت کسی اور کے نام منتقل ہو چکی۔ بھَّٹہ مزدور قرض کی مجبوری میں نسل در نسل بکتے تھے۔ نسل در نسل کا قرض، نسل در نسل کی فروخت۔ پھر بھی قرض تھا کہ اترنے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔

رشید نے ایک دو دفعہ منشی سے پوچھا تو اس نے یہی کہا۔

’’ابھی توبہت سارا باقی ہے۔‘‘ رشید کو تو لگتا تھا سارا باقی ہے ۔رشید کا باپ چلا گیا۔ ماں نہ رہی مگر اس سارے میں سے تھوڑا بھی ادا نہ ہوا۔ سارے کا سارا پورا رہا اور اس سارے قرض کو اتارتے اتارتے ان کے جسم ادھورے ہوتے چلے گئے۔ سرکاری ریٹ ایک ہزار روپے فی ہزار اینٹ تھا۔ ان کو نصف سے بھی کم دیا جاتا تھا۔ پانچ سو روپے فی ہزار اینٹ۔ ایک ہزار اینٹ کہاں بن پاتی تھی ان سے۔ ایک دن میں چھ سو یا سات سو اورا س میں بھی کچھ اینٹیں خراب نکل آتیں اور کچھ ٹیکس کی کٹوتی۔

ہفتہ بھر کی دیہاڑی اینٹوں کی تعداد کے مطابق منشی لکھ لیتا تھا ۔جمعرات کو حساب کتاب ہوتا تھا۔ اگر دو ہزار بنتا تو بھی منشی ایک ہزار قرض کی مد میں رکھ لیتا تھا۔ اگر پندرہ سو بنتا تو سات سو رکھ لیتا۔ رضیہ کے بھی کچھ پیسے بن جاتے، مل ملا کر گھر کا راشن آ جاتا۔ ہر جمعرات کو رشید صبح سے انتظار کرتا تھا کہ جلدی سے شام ہو، اسے پیسے ملیں اور گھر میں ہفتے بھر کا راشن ڈلے۔ ہفتے بھر کا راشن صرف چار دن چلتا تھا کیونکہ نو بچوں میں اتنا راشن کیا کام کرتا۔

بھوک تو ازل سے انسان کے ساتھ لگی ہے۔ دنیا میں آتے ہی پیٹ کے ہاتھوں روتا ہے۔ حتیٰ کہ عمر بھر پیٹ کا بوجھ ڈھوتے ڈھوتے، اس کا ایندھن بھرتے بھرتے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ اس کا باپ بڑا سیانا بندہ تھا۔ ایک دفعہ ایک بھَّٹہ مزدور چوری کرتے پکڑا گیا۔ اس کی بیوی، اس کے بچے دو دن سے بھوکے تھے۔ اس نے بھَّٹہ مالک سے ایڈوانس مانگا، اس نے دیا نہیں، اس نے بھٹے کے مالک سے التجا کی مگر اس کا دل نرم نہیں ہوا، رات کو قصبے کی ایک دُکان کا تالا توڑ کر وہ سامان چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا۔

اس کے باپ کو جب اس واقعے کا پتا چلا تو اس نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا۔ ’’توبہ توبہ یہ پیٹ بڑا پاپی ہے۔ کیا کیا کام کرواتا ہے۔ کتنا بیبا بندہ تھا، مجبور ہوگیا۔‘‘

چند دن بعد شرفو کو بھَّٹہ مالک چھڑوا لایا۔اس جزا کا خراج تین راتیں اس کی بیوی کو ادا کرنا پڑا۔ پہلی رات بھَّٹہ مالک کی تھی۔ دوسری اُس کے دوستوں کی اور تیسری اس کے منشی کی۔

منشی بھَّٹہ مالک کا راز دان تھا، بھَّٹہ مالک بھی منشی کو خوش رکھتا تھا ۔ کتا جب پاگل ہو جاتا ہے تو اسے کہاں ہوش رہتا ہے کہ کسے کاٹنا ہے اور کسے نہیں۔ بھٹا مالک کی کھائی ہوئی ہڈیاںچوس کر وہ کتے کی طرح دُم ہلاتا رہتا تھا۔ مالک بھی خوش اور منشی بھی خوش۔

رشید کی عمر اب 34 سال تھی۔ 22 سال کی عمر میں اس کی شادی ہوئی تھی۔ ان بارہ برسوں میں اس نے نو بچے بنائے تھے۔ کئی دفعہ رضیہ اسے کہتی تھی ’’رشیدے، اپنی روٹی پوری نہیں پڑتی، اوپر سے اتنے بچے، اب بس کر، تو کہے تو میں آپریشن کروا لوں۔ ا میر لوگ دیکھے ہیں تونے، کتنا پیسہ ہوتا ہے اور بچے اتنے کم۔‘‘ رضیہ کی بات سن کر وہ اُسے پاس بٹھا لیتا۔

’’کرماں والیے، امیروں کے پاس پیسہ ہوتا ہے، پیار نہیں ہوتا، پیسہ پیار کو کھا جاتا ہے۔ اسی لیے تو ان کے بچے تھوڑے ہوتے ہیں ہم غریبوں کے پاس پیار ہوتا ہے، اسی لیے ہمارے بچے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔‘‘

’’مگر پھر بھی شیدے‘‘ رضیہ کی سمجھ میں رشید کی بات نہیں آئی۔

’’سن نصیباں والیے، ہمارے بچے پیسہ کمائیں گے یعنی ہم پیار سے بچے بنائیں گے اور ہمارے بچے محنت سے پیسہ بنائیں گے اور پھر بھَّٹہ مالک کا سارا قرض اتر جائے گا، تب ہم یہاں سے چلے جائیں گے، ہم آزاد ہو جائیں گے۔‘‘ رشید کی آنکھیں آنے والے دنوں کے تصور سے چمک اٹھیں۔ رضیہ اس بات کو سمجھ گئی، آسان اور مطلب کی بات تھی۔ اسے اچھی لگی۔

آج صبح سے موسم ٹھنڈا تھا، سخت گرمی کا زور ٹوٹنے کو تھا، رحمتوں کی بارش برسنے کو تھی۔ آج جمعرات بھی تھی۔ رشید کو ہفتہ بھر کی کمائی ملنا تھی۔ شیدے نے آسمان کی طرف دیکھ کر دعا کی کہ آج اسے پورے پیسے مل جائیں۔
منشی نے کھاتہ کھولا اور 2000 روپے اس کے ہاتھ میں تھما کر اسے کہا کہ وہ رجسٹر پر دستخط کر دے۔

2000 روپے دیکھ کر رشید کو خود پر قابو نہ رہا، وہ روہانسا ہو کر بولا۔ ’’منشی ہمارے ہفتے بھر کے تین ہزار بنتے ہیں اور تو مجھے دو پکڑا رہا ہے۔‘‘

’’اچھا، یہ تجھے یاد ہے کہ تیرے تین ہزار بنتے ہیں، یہ یاد نہیں کہ تونے اپنے مائی باپ مالک کا قرض اتارنا ہے۔ باقی قرض میں کٹ گئے ہیں، چل ہٹ اب دوسرے کو آنے دے۔‘‘

’’منشی مجھے بتا میرا کتنا قرض رہتا ہے اب، میرے گھر کا خرچ نہیں چلتا، 9 بچے ہیں میرے، روٹی ٹکر پورا نہیں ہوتا۔‘‘ رشید کے لہجے میں تلخی تھی، بے بسی تھی، دُکھ تھا۔

’’تو تو نہ کرتا اتنے بچے، یہ کون سی منافع بخش پیداوار ہے جو تو مارکیٹ میں ہر سال لا رہا ہے۔‘‘ منشی نے بھی طنزاً جواب دیا، رشید سے برداشت نہ ہوا، وہ منشی کے گلے پڑنے کو تیار ہوگیا۔ مزدوروں نے مک مکا کرا دیا۔

’’شیدے، اس سے لڑنے کا فائدہ، مالک سے بات کر‘‘۔ دوسرے پتھیروں نے اسے سمجھایا۔ طبیعت کی خرابی کی وجہ سے رضیہ تین دن سے اس کے ساتھ بھٹے پر کام کرنے نہیں جاسکی تھی۔ بچوں کو اس نے قریبی مدرسے میں بٹھا دیا تھا کہ کچھ پڑھنے لکھنے کے قابل ہو جائیں گے۔ بھَّٹہ مالک کو یہ بھی گوارا نہ تھا۔ وہ اسے کئی دفعہ کہہ چکا تھا ’’تو کیا کرے گا ان کو پڑھا لکھا کر، انہیں اپنے ساتھ کام پر لا، اپنا قرض اتار اور پیٹ بھر روٹی کھا۔‘‘

وہ چاہتا تھا، اس کے بچے پانچ پانچ جماعتیں پڑھ جائیں، ناظرہ قرآن پاک پڑھ جائیں، حیوان تو نہ رہیں۔ مالک کے پاس کئی دفعہ سرکاری اہل کار آتے بھَّٹہ مالک بھی بڑا کایاں تھا۔ وہ کسی مزدور کو ان اہل کاروں سے ملنے نہیں دیتا تھا۔ اس کے رجسٹر پر سرکاری ریٹ کی ادائیگی تھی اور نیچے مزدوروں کے دستخط۔

سرکاری اہلکار مرغ مسلَّم کھا کر اور اپنی جیبیں بھر کر چلے جاتے تھے۔ رشید کا دل چاہتا تھا کہ وہ ان کو چیخ چیخ کر بتائے کہ ان سے جبری مشقت لی جاتی ہے، ان کو سرکاری ریٹ کا نصف دیا جاتا ہے۔ رشید یہ سب انہیں بتانا چاہتا تھا کہ شاید کوئی ایسا ہو، جیسے یہ سب سن کر ترس آ جائے۔ کبھی کبھی ظالموں میں بھی مسیحا چھپے ہوتے ہیں جو اچانک باہر نکل آتے ہیں مگر یہ سب رشید کی سوچ تھی، محض سوچ کیونکر بھَّٹہ مالک کے پاس آنے والے سرکاری اہل کاروں کو سب پتا تھا، ہر چیز کی خبر تھی۔ انہیں تو یہ بھی پتا تھا، کچھ بھَّٹہ مالک جب جی چاہتا، بھَّٹہ مزدوروں کی عورتوں کو بلوا لیتے تھے۔ ایک دفعہ ایک عورت نے روتے ہوئے انہیں بتایا تھا کہ ان کی عورتیں جب بھَّٹہ مالک کے کمرہ خاص میں جاتی ہیں تو انہیں حکم ہے کہ وہ شلوار اتار کر اس کمرے میں جایا کریں ان کی کنواری لڑکیاں بس نام کی کنواری ہوتی ہیں بھَّٹہ مالک تو جوان ہوتے ہی ان کے جسم کا خراج مانگنا شروع کر دیتا ہے۔‘‘

اس عورت سے بھَّٹہ مالک کی عیاشیوں کے قصے سن کر بھی سرکاری اہل کاروں نے انہیں اتنا کہا تھا ’’جب یہاں رہنا ہے تو یہ سب سہنا ہوگا، نہیں سہنا تو چلے جائو۔‘‘ ان کے پاس نہ گھر تھا نہ گھاٹ، اس لیے وہ سب سہہ رہے تھے۔

یہاں ان کو سر چھپانے کا ٹھکانہ اور روکھی سوکھی روٹی تو میسر تھی، اس لیے شیدا بھی دوسرے پتھیروں کی طرح لگا رہتا۔ کبھی کبھی دونوں کام کرتے کرتے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے شیدا سوچتا کہ وہ اس سے چھ سال چھوٹی ہے مگر دس سال بڑی لگنے لگی ہے، جس عورت کو مرد کے ساتھ مزدوری بھی کرنی پڑے، بچے بھی جننا پڑیں، خوراک بھی اچھی نہ ملے اور آرام بھی نہ کرسکے، وہ وقت سے پہلے بوڑھی نہیں ہوگی تو کیا ہوگا۔ ادھر شیدے کو سر جھکائے، منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے ہوئے دیکھ کر رضیہ سوچتی کہ کتنا گھبرو جوان تھا اس کا خاوند مگر جب دن رات کام کرنا پڑے، بھَّٹہ مالک کی باتیں بھی سننا پڑیں اور بچے پیدا کرنے کی آزمائش سے بھی گزرنا پڑے تو مرد وقت سے پہلے طاقت کھو دیتا ہے۔

رضیہ بیمار تھی، چھوٹا بچہ بھی ٹھیک نہیں تھا۔ رشید کو دوا دارو کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی۔ اس نے پنکھا اٹھایا اور ساتھ والے پتھیر کو بیج دیا، اسے پتا تھا کہ اس کی لُگائی اور بچہ بیمار ہے۔ اسے پیسوں کی ضرورت ہے۔اس نے شیدے کی مجبوریوں کی قیمت لگانے میں دیر نہیں لگائی ۔رشید نے اونے پونے داموں پنکھا بیچا اور دوا اور کچھ پھل لے آیا۔ اب گرمی میں مچھر تھے، مکھیاں تھیں، چھوٹے موٹے کیڑے تھے۔ ان کا پنکھا ساتھ والے پتھیر کی کوٹھری میں چلتا تھا اور وہ مچھروں کا مقابلہ کرتے تھے۔

رشید کی مایوسی بڑھتی جا رہی تھی۔ مایوسی حد سے بڑھ جائے تو امید کی کرن ضرور پھوٹتی ہے۔ رشید کے لیے گلزار مسیح آزادی کی نوید بن کر آیا، گلزار مسیح بھَّٹہ مزدوروں کے حقوق کے لیے بہت سرگرم تھا۔ اس نے رشید کا رابطہ ایک این جی او سے کروایا۔ یہ این جی او بھَّٹہ مزدوروں کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کے حوالے سے کام کے لیے مشہور تھی۔ جمعرات کو اسے دیہاڑی ملی، لاہور کے اس سفر میں وہ اکیلا نہیں تھا ۔کئی سپنے اس کی آنکھوں میں سجے تھے۔دل میں امیدوں کا دریا موجزن تھا۔آنکھوں میں خوابوں کے دیئے روشن تھے اور تمنائوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ اس کا کیس عدالت میں گیا، سارے پیسے این جی او نے لگائے۔

جونہی بھَّٹہ مالک کو اطلاع ملی، اس نے رشید کے بیوی بچوں کو کوٹھری میں قید کر دیا۔

عدالت نے پولیس کو جلد از جلد رشید کے بیوی بچوں کو بازیاب کرانے کا حکم دیا۔پولیس نے عدالتی کارروائی پر رشید کے محبوس بیوی بچوں کو بھَّٹہ مالک کی قید سے آزاد کرایا۔ عدالت میں رشید اور اس کے بیوی بچوں کی حاضری ہوئی۔ جج نے بھَّٹہ مالک کے رشید اور اس کے خاندان پر مظالم اور جبری مشقت کی داستانیں سن کر فیصلہ دیا ، ’’اب وہ آزاد ہے، بھَّٹہ مالک کا قرضہ ادا کرنے کا پابند نہیں، جہاں چاہے ، جاسکتا ہے۔‘‘

بھَّٹہ مالک کے خلاف کیس جاری رہنے کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے فی الفور رشید کے قرضہ معافی اور رہائی کے آرڈر جاری کر دیئے گئے۔ اب رشید تھا، اس کے بیوی بچے اور وہ گدھا گاڑی جس پر اس نے تمنائوں کی دنیا سجائے اوکاڑہ سے لاہور تک کا سفر کیا تھا۔

عدالت سے نکلتے ہوئے فتح کا احساس اس کے روم روم پرطاری تھا۔ آزادی کی خماری سر پر سوار تھی۔ ہاں وہی آزادی جس کے لیے وہ ترستے تھے، وہی آزادی جس کے لیے مسلمان اور ہندو ایک دوسرے کے دشمن ہوگئے تھے، آزادی جس کے لیے پرندے پنجرے سے ٹکریں مار مار کر مر جاتے ہیں۔ دنیا میں ہر چیز کا سودا ہوتا ہے مگر اپنی آزادی کا سودا کوئی نہیں کرتا۔ آزادی دنیا کی سب سے قیمتی اور پیاری چیز ہے۔ اپنی آزادی کا پہلا دن اس نے لاہو رمیں گزارا، بیوی بچوں کو وہ مینار پاکستان دکھایا جو وہ ٹی وی پر دیکھا کرتے تھے، شاہی قلعے کی بھی سیر کروائی، دریائے راوی کے کنارے پر بھی لے گیا۔

گھومتے پھرتے اورکھاتے پیتے شام ہوگئی۔ پرندوں کا اپنے گھونسلوں میں کوچ کا وقت ہوگیا تھا۔ کتے بھی اپنے ٹھکانوں کو لوٹنے کی تیاری میں تھے۔ شام رات میں ڈھلنے کو تھی، بڑھتی ہو ئی تاریکی میں مبہم سائوںنے رشید کو خوف زدہ کر دیا۔ اسے لگا جیسے یہ اندھیرے اسے کھا جائیں گے۔ اپنے بیوی بچوں کو لے کر کدھر جائے، اس اجنبی شہر میں کون اسے ٹھکانہ دے گا، کون اسے مزدوری دے گا، اس کے پاس تو پیسے بھی نہیں۔ اس کے پاس تو ضمانت بھی نہیں۔۔ یہاں سب اجنبی تھے اور ان اجنبیوں میں آدھے سے زیادہ پردیسی تھے۔ پردیسی تو خود مسافر تھے، وہ اسے کیا پناہ دیتے۔

جونہی رات کے اندھیروں نے اس کے وجود کو دبوچا، اس کی خوف زدگی شدید پریشانی میں بدل گئی۔ اس نے گدھا گاڑی کا رخ اوکاڑہ کی طرف موڑ دیا… طویل مسافت کے بعد وہ پھر اسی بھٹے پر جا پہنچا جہاں سے آزادی کے لیے اس نے اتنا کشت کاٹا تھا۔ بھَّٹہ مالک اسے اپنے سامنے دیکھ کر پریشان ہوگیا…

’’مالک، مجھے معاف کر دو، مجھے تو پتا بھی نہیں تھا ۔اس تنظیم والوں نے ازخود کارروائی کی درخواست دے دی، میں ان کے بہکاوے میں آگیا تھا۔ مجھے تمہارے پاس کام کرنا ہے۔‘‘

رشید گڑگڑا رہا تھا، اس کے لفظوں میں پچھتاوا تھا۔

بھَّٹہ مالک نے رعونت سے کہا۔ ’’تجھے کہا تھا نہ کہ تم یہاں سے بھاگ نہیں سکتے۔ ادھر سے بھاگ کر جائو گے بھی کہاں؟‘‘

رشید نے کوٹھری کا دروازہ کھولا۔ آنسوئوں سے اس کا چہرہ بھیگ رہا تھا۔ اس نے جان لیا تھا کہ وہ بھَّٹہ مالک کا قیدی نہیں، گھر کا قیدی تھا۔

Please follow and like us:

Leave a Reply