بچوں کی جبری مشقت: ایک المیہ!

Spread the love

تحریر: وحید احمد، خانیوال
princesnowwhite@gmail.com

وحید احمد بنیادی طور پر استاد ہیں اور خانیوال میں اپنے فرائض منصبی کے سلسلہ میں تعینات ہیں معاشرتی مسائل پر نظر رکھتے ہیں اور مختلف اداروں کے لیے قلمی معاونت بھی کرتے ہیں۔ بچوں سے مشقت کے عالمی دن پر ان کا خصوصی مضمون قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔

مائیکل مور جو ایک امریکی دستاویزی فلم ساز اور مصنف ہیں نے کہا تھا کہ “You can’t regulate child labour. You can’t regulate slavery. Some things are just wrong.” اور انکی یہ بات حرف بحرف سچ ہے، پرانے وقتوں سے آجکل کے دورِجدیدمیں بھی غلامی اور چائلڈ لیبردنیا بھر میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔ اوئے چھوٹے، جلدی سے چائے لے آ، بڑے صاحب کی گاڑی چیک کر، ابے چھوٹو، موٹر سائیکل کا تیل بدل دے، ابے چھ نمبر ٹیبل صاف کر، چھوٹو میڈم صاحبہ سے آرڈر لے، جوتا پالش کر، مجھے آفس سے دیر ہو رہی ہے، اوئے نکے، صاحب کے بالوں پر پانی لگا، ان سب مکالمات سے روزانہ کسی نہ کسی چائے کی دکان، کاروں یا موٹرسائیکل کی ورکشاپ، ہوٹل یا نائی کی دکان پر آپ کا واسطہ ضرور پڑتا ہوگا،لیکن چائلڈ لیبر صرف ان جگہوں تک محدود نہیں ہے، یہ ہر جگہ ہے، زرعی سیکٹر میںدوران کاشتکاری کپاس، گندم، گنے کی کٹائی میں، کجھوروں کے باغات میں، آلو کی پٹائی میں، صنعتی سیکٹرمیںچوڑیاں بنانے والے کارخانوں میں، آلات جراحی بنانے میں، کھجور کے پتوں کی چٹائیاں بنانے میں، کپڑوں کی بنائی، قالین بافی،چمڑے کی رنگائی، فٹ بال کی سلائی، اینٹوں کے بھٹوں پر،کوئلے، نمک اور قیمتی پتھروں کی کان کنی میں، جپسم پتھر کی کرشنگ، ویلڈنگ، سٹیل کی پیٹیاں بنانے کے کارخانوں میں، خدمات سیکٹر میں گھریلو کام کاج اور صفائی ستھرائی میں،ریسٹورنٹس، ہوٹلوں، چائے کے ڈھابوں پر، بسوں، ٹرکوں، لوڈر گاڑیوں میں ہیلپر کے طور پر، پٹرول، گیس سٹیشنوں پر، کوڑا کرکٹ اور ردی کاغذ چننے میں، ری سائیکلنگ کے لیے چیزوں کو الگ الگ کرنے میں اور خوانچہ فروشی میں بھی بچوں کواستعمال کیا جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ چائلڈ لیبر کی کچھ بدترین اشکال بھی موجود ہیں۔

گلیوں میں پھرنے والے ، گھروں سے بھاگ جانے والے اور غربت و افلاس میں زندگی بسر کرنے والے بچے بسا اوقات بھیک مانگنے والے منظم گروہوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں جو انہیں مختلف طریقوں سے بھیک مانگنے پر مجبور کرتے ہیں، بچوں کو ملکی قوانین میں بیان کیے گئے بہت سے جرائم جیسا کہ چوری کے سامان کی خرید و فروخت، ڈاکہ زنی، چوری، گاڑیوں کی چوری، جیب تراشی اور نقب زنی میں باقاعدہ منصوبہ بندی، ذہن سازی اور تربیت کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے اس کے علاوہ اینٹوں کے بھٹوں، قالین اور چوڑیاں بنانے کے کارخانوں میں جبری مزدوری جس میں ان کو یرغمال بنا کر رکھا جاتا ہے، انسانی سمگلنگ کے نتیجے میں جبری گھریلو مشقت، خانہ زاد غلامی، تجارتی جنسی استحصال، غیر ریاستی مسلح گروہوں میںقلی، خانساماں، قاصد یا پھر لڑنے کے لیے زبردستی بھرتی، غیر قانونی سرگرمیوں بشمول انسانی سمگلنگ اور منشیات کی پیداوار، بچوں کی غیر اخلاقی فلم سازی اور بچوں کی قحبہ گری (چائلڈ پورنوگرافی اور پراسٹیٹیوشن) میں استعمال قابل ذکر ہیںان بچوں کے ساتھ اکثر اوقات زیادتی اور انکا جنسی استحصال کیا جاتا ہے یہاں تک کے بعض جگہوں پرانہیں دوسرے انسانوں کو مارنے پر مجبور کیا جاتا ہے، ان جگہوں پر بچوں کو جسمانی اذیت، غذائیت کی کمی اور جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جو اکثر اوقات ان کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہوتی ہیں۔

پاکستان میں 12.5 ملین سے زیادہ بچے چائلڈ لیبر ہیں، روئٹرز کے مطابق پاکستان لیبر فورس سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ 10 سے 14 سال تک کی عمر کے بچے جو چائلڈ لیبر ہیں ان میں 61 فیصد لڑکے ہیں اور 88 فیصد دیہی علاقوں سے آئے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں 38.8 فیصد آبادی غربت کی زندگی بسر کر رہی ہے جبکہ چار میں سے ایک خط غربت سے بھی نیچے ہیں، اس کے علاوہ ملک کی معاشی اور اقتصادی صورت حال کی وجہ سے بہت سے شہریوں کے لیے اپنی گزر اوقات اور اپنے خاندان کو معاشی سہارا فراہم کرنے کے لیے اچھی نوکری ملنا بہت مشکل امر ہے، جو پہلے سے نوکریاں کر رہے ہیں وہاں یا تو تنخواہیں کم ہیں یا پھر مہنگائی کے تناسب سے بڑھتی نہیں ہیں۔

غربت کے پس منظر سے تعلق رکھنے والے بیشتر طلبا پڑھائی کو چھوڑ کر محنت مزدوری کو ترجیح دیتے ہیں اور پھر کام کی جگہوں پر اکثر اوقات ان کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے، گالم گلوچ، مار پیٹ یہاں تک کہ جنسی زیادتی اور تشدد کرنا بھی ایک عام بات ہے۔ گائوں میں رہنے والے بہت سے بچوں اور بچیوں کو ان کے والدین بڑے شہروں میں درمیانے طبقے یا امرا کے گھر وں میں گھریلو ملازمین کے طور پر کام کے لیے بھیج دیتے ہیں تا کہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کر سکیںلیکن یہی گھریلو ملازمتیں ان کے لیے خطرہ بن جاتی ہیں کیونکہ ان کو انہی گھروں میں تشدد اور جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے، اول تو اس کی رپورٹ نہیں کی جاتی اور اگر رپورٹ کی بھی جائے تو 99 فیصد کیسوں میں بچے اور انکے والدین انصاف کو ترستے ہی رہ جاتے ہیں اور صاحب حیثیت امرا اور مالک جو اصل میں مجرم ہوتے ہیں ان کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا۔ اور اگر کسی طرح کوئی عدالتوں تک پہنچ بھی جائے تو امرا ڈرا دھمکا کر انہیں کیس واپس لینے پر مجبور کر دیتے ہیں اور اس صورت میں کبھی حکومت ان امرا کے خلاف بطور فریق سامنے نہیں آتی تاکہ کسی کو سزا دی جا سکے۔ حالانکہ ہمارے ہاں جو صورت حال ہے اس کے پیش نظر مضروبین کی جگہ حکومت کو ہی ایسے کیسوں کا مدعی اور فریق ہونا چاہیے تاکہ انصاف کا تقاضہ پورا ہو ریاست کی ذمہ داری بھی پوری ہو سکے۔

پاکستان میںچائلڈ لیبر سے نمٹنے کے لیے حکومت کی سرپرستی میں معدودے چند پروگرام ہیں، مثال کے طور پر بچوں کی معاونت کا پروگرام جس میں بچوں کی والدین کی مالی معاونت کی جاتی ہے تا کہ وہ اپنے بچوں کو سکول بھیج سکیں۔ 12 جون بچوں کی مشقت کے خلاف عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، اس دن جلوس، ریلیاں، سیمینار منعقد کرنے کے بجائے ضرورت اس امر کی ہے کہ گورنمنٹ اس معاملہ کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کرے اور اس سلسلہ میں مناسب قانون سازی کرنے کے ساتھ ساتھ کام کی جگہوں پر بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی مناسب اقدامات کیے جائیں تا کہ چائلڈ لیبر سے پاک معاشرہ وجود میں آسکے۔

Please follow and like us:

بچوں کی جبری مشقت: ایک المیہ!” ایک تبصرہ

Leave a Reply