11کھرب 20ارب کے نئے ٹیکس ,گاڑیاں ,سیمنٹ , گھی, گوشت ,چینی,سگریٹ,سی این جی,مشروبات,مکھن,پنیر مہنگا,موبائل,انٹرنیٹ سستا ,تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ, دفاعی بجٹ پچھلے سال کی سطح پر برقرار

Spread the love

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ) آئندہ مالی سال 2019-20ء کا 8238 ارب دس کروڑ روپے حجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا‘ آئندہ مالی سال کے لئے بجٹ خسارہ 3151 ارب روپے ہوگاجسے ٹیکس اصلاحات کے ذریعے پورا کیا جائے گا‘ نئے بجٹ میں 11 کھرب روپے سے زائد کے نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں ۔وفاقی بجٹ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کیلئے 55 کھرب 55 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف رکھا گیا ہے

جو کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 25 فیصد یعنی 11 کھرب 20 ارب روپے زیادہ ہے۔اس سلسلے میں گزشتہ برس کی نسبت بلاواسطہ ٹیکس کی مد میں 3 کھرب 46 ارب روپے اور 7 کھرب 73 ارب روپے بلواسطہ ٹیکس کی مد میں بڑھائے گئے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ 20-2019 کے وفاقی بجٹ میں گزشتہ مالی سال کی نسبت 4 کھرب 77 ارب روپے کے اضافی سیلز ٹیکس، 3 کھرب 63 ارب روپے کے اضافی انکم ٹیکس، 2 کھرب 65 ارب روپے کی اضافی کسٹمز ڈیوٹیاں اور 99 ارب روپے کی اضافی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹیاں عائد کی جائیں گیآئندہ مالی سال 2019-20کے بجٹ میں چینی ،گھی، مشروبات ،تیل،سگریٹ ،خٹک دودھ ، پنیر ، کریم ، سیمنٹ ، سی این جی ،مہنگا کر نے ،سنگ مرمر کی صنعت پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے، سیمی پراسسڈ اورپکے ہوئے چکن،مٹن، بیف اورمچھلی پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز

جبکہ پنشن میں 10 فیصد ،ایک سے سولہ گریڈ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اور سولہ سے بیس گریڈ کے ملازمین کی تنخواہوں میں 5فیصد اضافہ ہوگا ،21سے 22گریڈ کے ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھائی جائیں گی ،مزدور کی کم از کم تنخواہ 17500روپے مقرر کر دی گئی ،تنخواہ دار طبقے کیلئے بارہ لاکھ روپے سالانہ آمدن پر چھوٹ ختم کر کے اس کی حد چھ لاکھ روپے سالانہ کر دی گئی ،

اس طرح پچاس ہزار روپے سے زائد ماہانہ تنخواہ وصول کر نے والو ں کو ٹیکس دینا ہوگا ،ترقیاتی بجٹ کیلئے 1800 ارب سے روپے ،دیامر بھاشا ڈیم کیلئے 20 ارب روپے ، داسو ہائیڈرو منصوبے اور مہمند ڈیم کے لیے 15، 15 ارب روپے، اعلیٰ تعلیم کے لیے ریکارڈ 43 ارب روپے ، زرعی شعبے کے لیے 12 ارب روپے، کراچی کے 9 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 45.5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ،دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے برقرار رہے گا‘ کم سے کم اجرت بڑھا کر 17500 کی گئی ہے‘ تنخواہ دار طبقے کے لئے 6 لاکھ روپے سالانہ اور غیر تنخواہ دار طبقے کے لئے 4 لاکھ روپے سے زائد پر انکم ٹیکس لاگو ہوگا‘

آئندہ مالی سال کے لئے ٹیکس ریونیو کا ہدف5555 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے‘ عالمی مالیاتی فنڈ سے چھ ارب ڈالر کے پروگرام کا معاہدہ ہوگیا ہے‘ آئی ایم ایف کے بورڈ سے اس کی منظوری کے بعد اس معاہدے پر عملدرآمد شروع ہو جائے گا‘ سول حکومت کے اخراجات 460 ارب روپے سے کم ہوکر 437 ارب روپے کئے جارہے ہیں جبکہ عسکری بجٹ موجودہ سال کی سطح یعنی 1150 ارب روپے پر مستحکم رہے گا۔ منگل کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2019-20ء کا وفاقی بجٹ وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے ایوان میں پیش کیا۔ وفاقی بجٹ میں ایف بی آر کے لئے ٹیکس محصولات کا ہدف 5555 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ اخراجات میں کمی پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی تاکہ بنیادی خسارہ 0.6 فیصد تک رہ جائے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ہماری بنیادی اصلاح ٹیکس میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے غربت کے خاتمے کے لئے ایک نئی وزارت قائم کی ہے۔ وزیر مملکت حماد اظہر نے کہا کہ ہمیں معاشی وراثت میں مجموعی قرضہ اور ادائیگیاں 3100 ارب روپے ملیں۔ ان میں تقریباً 97 ارب ڈالر بیرونی قرضہ جات اور ادائیگیاں تھیں۔ بہت سے کمرشل قرضے زیادہ سود پر لئے گئے تھے۔

گزشتہ دو سال کے دوران سٹیٹ بنک آف پاکستان کے ریزرو 18 ارب ڈالر سے گرتے گرتے دس ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے تھے۔ کرنٹ اکائونٹ خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح 20 ارب ڈالر جبکہ تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ پانچ سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ مالیاتی خسارہ 2260 ارب روپے کی خطرناک حد تک پہنچ گیا تھا۔ اتنا بڑا خسارہ الیکشن کے سال میں مالیاتی بدنظمی کی وجہ سے ہوا۔ بجلی کے نظام کا گردشی قرضہ 1200 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا اور 38 ارب روپے ماہانہ کی شرح سے بڑھ رہا تھا۔ سرکاری اداروں کی کارکردگی 1300 ارب روپے کے مجموعی خسارے سے زائد تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی روپے کی قدر بلند رکھنے کے لئے اربوں ڈالر جھونک دیئے گئے۔ اس مہنگی حکمت عملی سے برآمدات کو نقصان پہنچا۔ درآمدات کو سبسڈی ملی اور معیشت کو نقصان ہوا۔ اس کی وجہ سے دسمبر 2017ء میں روپیہ گرنے لگا۔

انہوں نے بتایا کہ چیزوں کی قیمتوں پر دبائو بڑھ رہا تھا اور افراط زر چھ فیصد کو چھو رہی تھی۔ ہماری حکومت نے مناسب اقدامات سے صورتحال کو قابو میں لانے کے لئے حکمت عملی اپنائی۔ فوری خطرہ سے نمٹنے اور معاشی استحکام کے لئے اقدامات کئے۔ درآمدات پر ڈیوٹی میں اضافے سے جولائی سے اپریل کے دوران درآمدات کم ہو کر 45 ارب ہوگئیں اور تجارتی خسارہ چار ارب ڈالر کم ہوا۔ وزیر اعظم کے سمندر پار پاکستانیوں کو اعتماد دلانے سے ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا۔ بجلی کے گردشی قرضوں کو 26 ارب روپے ماہانہ پر لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چین‘ سعودی عرب ‘ یو اے ای سے 9 ارب 20 کروڑ ڈالر کی امداد ملی جس پر ان دوست ممالک کے شکرگزار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ برآمدات میں اضافے کے لئے حکومت نے صنعتی اور برآمدی شعبے کو رعایتی نرخوں پر بجلی اور گیس کی فراہمی‘ کم سود پر قرضوں کی فراہمی‘ خام مال پر عائد درآمدی ڈیوٹی میں کمی کے ذریعے مجموعی طور پر 10 ارب ڈالر کی رعایت دینے کے ساتھ ساتھ برآمدی شعبہ کے لئے وزیراعظم کے پروگرام میں تین سال تک توسیع کی گئی۔

چین سے 313 اشیاء کی ڈیوٹی فری برآمد کا معاہدہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان اقدامات کی بدولت موجودہ سال میں برآمدات کے حجم میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی مالیاتی فنڈ سے چھ ارب ڈالر کے پروگرام کا معاہدہ ہوگیا ہے۔ آئی ایم ایف کے بورڈ سے اس کی منظوری کے بعد اس معاہدے پر عملدرآمد شروع ہو جائے گا جس سے انتہائی کم سود پر دو سے تین ارب ڈالر کی اضافی عالمی امداد بھی میسر آئے گی۔ مالیاتی نظم و نسق اور بنیادی اصلاحات کے لئے حکومت کی سنجیدگی نظر آئے گی جس سے عالمی سرمائے کا اعتماد حاصل ہوگا۔ معیشت کو استحکام حاصل ہوگا اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے فوری ادائیگی کے بغیر 3ارب 20 کروڑ ڈالر سالانہ کا تیل درآمد کرنے کی سہولت حاصل کی گئی تاکہ عالمی کرنسی کے ذخائر پر دبائو کم ہو۔ اس کے علاوہ حکومت نے اسلامی ترقیاتی بنک سے ایک ارب دس کروڑ ڈالر کی فوری ادائیگی کے بغیر تیل درآمد کرنے کی سہولت حاصل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان اقدامات کی بدولت اس سال کرنٹ اکائونٹ خسارے میں سات ارب ڈالر کی کمی آئے گی

جبکہ آئندہ سال مزید 6ارب 50 کروڑ ڈالر کی کمی آئے گی۔ انہوں نے بیرونی استحکام کے علاوہ حکومت کے بعض دیگر اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اثاثہ جات ظاہر کرنے کی سکیم پر عمل جاری ہے جس سے ٹیکس کا دائرہ وسیع ہوگا اور بے نامی اور غیر رجسٹرڈ اثاثے معیشت میں شامل ہوں گے۔ 95 ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کے لئے فنڈز جاری کئے گئے ہیں۔ احتساب کے نظام‘ اداروں کے استحکام اور طرز حکمرانی بہتر بنانے کے لئے خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں جن میں سٹیٹ بنک کو مزید خودمختاری دی گئی ہے‘ افراط زر کو مانیٹری پالیسی کے ذریعے کنٹرول کیا جارہا ہے۔ ٹیکس پالیسی کو ٹیکس انتظامیہ سے الگ کیا گیا ہے۔ ایک ٹریژری سنگل اکائونٹ بنایا گیا ہے۔ اب حکومت کی رقم کمرشل بنک اکائونٹ میں رکھنا منع ہے۔ پاکستان بنائو سرٹیفکیٹ کا اجراء کیا گیا ہے تاکہ سمندر پار پاکستانی 6.75 فیصد کے منافع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے وطن میں سرمایہ کاری کر سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر نے سرمایہ کی کمی دور کرنے کے پچھلے سال کے 54 ارب روپے کے مقابلے میں 145 ارب روپے کے ری فنڈ جاری کئے۔ انہوں نے بتایا کہ سابقہ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لئے خیبرپختونخوا کا حصہ بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ حماد اظہر نے بتایا کہ یقیناً بجٹ بناتے وقت حکومت کا بنیادی مقصد عوام کی فلاح اور خوشحالی ہے۔ انہوں نے بجٹ کی تیاری کے دوران مدنظر رکھے جانے والے رہنما اصولوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں 31 لاکھ کمرشل صارفین میں سے صرف 14 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں۔ بنکوں میں مجموعی طور پر پانچ کروڑ اکائونٹ ہیں جن میں سے صرف دس فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ایک لاکھ کمپنیوں میں سے صرف پچاس فیصد ٹیکس دیتی ہیں۔ نئے پاکستان میں اس سوچ کو بدلنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم ٹیکس کا نظام بہتر نہیں بنائیں گے پاکستان ترقی نہیں کرے گا۔ تاریخی طور پر ہم نے صحت‘ تعلیم‘ پینے کے پانی‘ شہری سہولیات اور لوگوں سے متعلق کسی بھی چیز پر مطلوبہ اخراجات نہیں کئے اب ہم اس مقام پر آچکے ہیں جہاں ہمیں قرضوں اور تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے بھی قرض لینا پڑے گا اس صورتحال کو بدلنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ کفایت شعاری پر عمل کرتے ہوئے سول و عسکری بجٹ کے ذریعے بچت کی جائے گی۔

سول حکومت کے اخراجات 460 ارب روپے سے کم ہوکر 437 ارب روپے کئے جارہے ہیں جبکہ عسکری بجٹ موجودہ سال کی سطح یعنی 1150 ارب روپے پر مستحکم رہے گا۔ بچت کے ان مشکل فیصلوں کے لئے وزیراعظم عمران خان کے تدبر اور عسکری قیادت کی سپورٹ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دفاع اور قومی خودمختاری ہر شے پر مقدم ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اپنے وطن اور لوگوں کے دفاع کے لئے پاک فوج کی صلاحیت میں کمی نہ آئے۔ انہوں نے بتایا کہ کم بجلی استعمال کرنے والوں کو سبسڈی کے لئے 200 ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں۔ حکومت نے غربت کے خاتمے کے لئے ایک نئی وزارت قائم کی ہے جو ملک میں سماجی تحفظ کے پروگرام بنائے گی۔ دس لاکھ مستحکم افراد کو صحت مند خوراک فراہم کرنے کے لئے ایک نئی راشن کارڈ سکیم شروع کی جارہی ہے۔ مائوں اور نوزائیدہ بچوں کو خصوصی صحت مند خوراک مہیا کی جائے گی۔ 80 ہزار مستحکم لوگوں کو ہر مہینے بلاسود قرضے دیئے جائیں گے۔ 60 لاکھ خواتین کو ان کے اپنے سیونگ اکائونٹ میں وظائف کی فراہمی اور موبائل فون تک رسائی دی جائے گی۔

500 کفایت مراکز کے ذریعے خواتین اور بچوں کو فری آن لائن کورسز کی سہولت دی جائے گی۔ معذور افراد کو وہیل چیئر اور سننے کے آلات فراہم کئے جائیں گے۔ تعلیم میں پیچھے رہ جانے والے اضلاع کے لئے بچے سکول بھیجنے کے لئے خصوصی ترغیبات دی جائیں گی۔ عمررسیدہ افراد کے لئے احساس گھر بنانے پر کام شروع کردیا گیا ہے۔ احساس پروگرام کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے 57 لاکھ انتہائی غریب گھرانوں کو دی جانے والی سہ ماہی پانچ ہزار روپے امداد کو بڑھا کر 5500 کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مئی 2020ء تک غریبوں کی نشاندہی کا سروے مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ صحت کارڈ کے ذریعے 270 ہسپتالوں میں 7 لاکھ 20 ہزار روپے سالانہ تک علاج کی سہولت دی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں پاکستان کے 42 اضلاع میں 32 لاکھ غریبوں خاندانوں کو یہ سہولت مہیا کی جارہی ہے۔ اگلے مرحلے میں اس پروگرام کو ڈیڑھ کروڑ افراد تک پھیلایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صحت‘ غذائیت‘ تعلیم ‘ پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور حفظان صحت کے لئے 93 ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔ کم آمدنی والے افراد کے لئے سستے گھر اور موسمی تبدیلی کی تلافی کے لئے بلین ٹری سونامی اور کلین و گرین پاکستان پروگرام شروع کئے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ افراط زر میں کمی کے لئے حکومت نے اہم اقدامات کئے ہیں۔ وسط مدتی افراط زر کا ہدف پانچ سے سات فیصد ہے۔ 2019-20ء معیشت کے استحکام کا سال ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال قومی ترقیاتی پروگرام کے لئے 1863 ارب روپے رکھے گئے ہیں جن میں سے 951 وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لئے ہیں۔ دیامر بھاشا ڈیم کی زمین حاصل کرنے کے لئے بیس ارب روپے اور مہمند ڈیم ہائیڈل پاور کے لئے 15 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ذریعے 156ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔ توانائی‘ انسانی ترقی‘ زراعت ‘ کوئٹہ کے ترقیاتی پیکج‘ کراچی کے ترقیاتی پیکج کے لئے بھی نمایاں ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اپنا گھر پروگرام کے تحت 50 لاکھ گھر بنائے جائیں گے جس سے 28 صنعتوں کو فائدہ ہوگا۔ اپنا کام پروگرام کے تحت کامیاب جوان پروگرام متعارف کرایا گیا ہے۔ اس سکیم کے تحت سو ارب روپے کے قرضے دیئے جائیں گے۔ صنعتی شعبہ میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے مراعات اور سبسڈی دی جارہی ہے۔ زرعی شعبہ پر خصوصی توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ پانی کی کفایت کے منصوبے بھی اس میں شامل ہیں جس کے لئے 218 ارب کے منصوبوں پر کام ہوگا۔

گندم ‘ چاول‘ گنے اور کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لئے 44 ارب 80 کروڑ روپے فراہم کئے جائیں گے۔ زرعی ٹیوب ویلوں پر 6 روپے 85 پیسے فی یونٹ کے حساب سے رعایتی نرخ دیئے جائیں گے۔ اس میں وفاق کا حصہ 60 جبکہ صوبائی حکومتوں کا حصہ 40 فیصد ہوگا۔ سرکاری اداروں کی اصلاح کے لئے ایک تفصیلی پروگرام پیش کیا جائے گا جس کے تحت اداروں کی نجکاری اور تشکیل نو سمیت دیگر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال ایل این جی سے چلنے والے دو بجلی گھروں اور چند چھوٹے اداروں کی نجکاری کی جائے گی جس سے دو ارب ڈالر حاصل ہونگے۔ پاکستان سٹیل ملز کو چلانے کے لئے بیرون سرمایہ کاروں سے رابطے کئے گئے ہیں۔ موبائل فون کے لائسنس سے ایک ارب ڈالر کی آمدن متوقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت بجلی کا گردشی قرضہ 1.6 کھرب روپے ہے۔ اس طرح گیس کا گردشی قرضہ 150 ارب روپے ہے۔ اس سے نمٹنے کے لئے بجلی اور گیس کے ٹیرف پر نظرثانی کی گئی تاکہ صارف پر اس کا اثر کم سے کم ہو۔ بجلی کے بل ادا نہ کرنے اور بجلی چوری کرنے والوں کے خلاف منظم مہم شروع کی گئی جس کی بدولت چھ ماہ میں 80 ارب کی وصولیاں ہوئیں۔ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کردیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ کے پی کے میں ضم ہونے والے اضلاع کی ترقی کے لئے 152 ارب روپے وفاق فراہم کرے گا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ یہ ہماری مستقل ترجیح ہے۔ اس کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اس میں نئے شعبے شامل کئے گئے ہیں۔ ریلوے کے شعبہ کو ترقی دینے کے لئے ایم ایل ون منصوبے کے لئے رقوم فراہم کی گئی ہیں۔ منی لانڈرنگ کی لعنت کی روک تھام کے لئے ایک بالکل نیا نظام تجویز کیا جارہا ہے۔ اداروں کی صلاح میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سول حکومت کے گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین اور افواج پاکستان کے تمام ملازمین کو 2017ء کے بنیادی پے سکیل کے مطابق رننگ بیسک پے پر 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جائے گا۔ گریڈ 17 سے 20 تک کے سول ملازمین کو 5 فیصد ایڈہاک ریلیف الائونس دیا جائے گا۔ گریڈ 21 اور 22 کے سول ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

وفاقی حکومت کے تمام سول اور فوجی پنشنرز کی نیٹ پنشن میں دس فیصد

اضافہ کیا جائے گا۔ معذور ملازمین کا سپیشل کنوینس الائونس بڑھا کر ماہانہ 2 ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے۔ وزراء‘ وزراء مملکت‘ پارلیمانی سیکرٹری‘ ایڈیشنل سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری کے ساتھ کا م کرنے والے سپیشل‘ پرائیویٹ سیکرٹری اور اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹریوں کی سپیشل تنخواہ میں 25 فیصد اضافہ کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ کم سے کم اجرت بڑھا کر 17500 روپے کی جارہی ہے۔ مالی سال 2019-20ء کے لئے وفاقی آمدنی کا تخمینہ 6ہزار 717 ارب روپے ہے جوکہ رواں مالی سال 5661 ارب روپے کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے۔ ایف بی آر کے ذریعے 5555 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔ وفاقی سطح پر جمع کئے گئے ریونیو میں سے 3255 ارب روپے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو دیئے جائیں گے جوکہ موجودہ سال کے مقابلے میں 32 فیصد زیادہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لئے نیٹ فیڈرل ریونیو کی مد میں 3462 ارب روپے کا تخمینہ ہے جوکہ رواں مالی سال کے مقابلے میں 13 فیصد زائد ہے۔ وفاقی بجٹ خسارہ 3560 ارب روپے ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کا مجموعی مالیاتی خسارہ 3137 ارب روپے یا جی ڈی پی کا 7.1 فیصد ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت 22 کروڑ آبادی میں صرف 19 لاکھ افراد انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرواتے ہیں اور ان میں بھی ٹیکس جمع کروانے والوں کی تعداد 13 لاکھ ہے جوکہ تشویشناک ہے۔ اسی تناظر میں حکومت نے ٹیکس اصلاحات کا ایسا ایجنڈہ ترتیب دیا ہے جس کے ذریعے سخت فیصلے کئے جائیں گے۔ 1600 سے زائد ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی خام مال کے ضمن میں بجٹ میں مستثنیٰ کی جارہی ہے۔ حکومت کسٹم ٹیرف کے اصلاحاتی منصوبے کو حتمی شکل دے رہی ہے جسے مرحلہ وار لاگو کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ لکڑی کے فرنیچر اور ریزر کی پیداوار میں استعمال ہونے والی کچھ اشیاء پر ڈیوٹی کم کی جاسکتی ہے۔ مقامی جنگلات کو بچانے اور فرنیچر کے پیدا کنندگان کی حوصلہ افزائی کے لئے لکڑی پر ڈیوٹی تین فیصد سے کم کرکے زیرو فیصد اور لکڑی کی مصنوعی پینلز پر ڈیوٹی 11 فیصد سے کم کرکے تین فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ برآمدات کی

حوصلہ افزائی کے لئے مختلف سکیموں کو سادہ اور خودکار بنایا جارہا ہے۔ سرحدی علاقوں میں سمگلنگ کے خلاف اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کے لئے کراچی‘ پشاور اور کوئٹہ میں علیحدہ سے کلیکٹوریٹس قائم کئے گئے ہیں۔ ایل این جی کی درآمد پر موجودہ کسٹم ڈیوٹی سات فیصد سے کم کرکے پانچ فیصد کئے جانے کی تجویز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اینٹوں کے بھٹوں سے 17 فیصد ٹیکس کی جگہ استعداد اور جگہ کے حساب سے ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ ریستوران اور بیکریوں کی طرف سے سپلائی کی جانے والی غذائی اشیاء پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم کرکے 7.5 فیصد تک لائی جائے گی۔ خشک دودھ پر دس فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔ پی ایم سی اور پی وی سی کی افغانستان برآمد پر پابندی کے خاتمے کی تجویز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سابق قبائلی علاقوں میں تمام گھریلو اور کاروباری صارفین اور 31 مئی 2018ء سے پہلے قائم ہونے والی صنعتوں کو بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس کے لئے چھوٹ دینے کی تجویز ہے جبکہ یہ اطلاق سٹیل ملز اور گھی ملز پر نہیں ہوگا۔ موبائل فون کی درآمد پر 3 فیصد ویلیو ایڈیشن ٹیکس کے خاتمے کی تجویز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بے حد ضروری ایس آر اوز کے علاوہ تمام ایس آر اوز اور ایس ٹی جی اوز کا خاتمہ کیا جارہا ہے۔ سٹیل کے شعبے کے لئے عمومی قانون کی بحالی کے تحت ان اشیاء پر ایف ای ڈی لگانے سے فروخت پر سیلز ٹیکس کا خاتمہ کیا جارہا ہے۔ سی این جی ڈیلرز کے لئے ویلیو ریجن ون کے لئے 64 روپے 80 پیسے فی کلو سے بڑھا کر 74 روپے 4پیسے فی کلو گرام اور ریجن ٹو کے لئے 57 روپے 69 پیسے فی کلو سے بڑھا کر 69 روپے 57 پیسے فی کلو گرام کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ چینی پر ٹیکس کی شرح 17 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ چکن‘ مٹن‘ بیف اور مچھلی کے گوشت سے تیار ہونے والی فروزن اشیاء پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کئے جانے کی تجویز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گھی ‘ کوکنگ آئل پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 17 فیصد کئے جانے کی تجویز ہے۔

سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ڈیڑھ روپے سے بڑھا کر 2 روپے کرنے کی تجویز ہے۔ ایل این جی کی درآمد پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے کی تجویز ہے۔ کاروں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ 1700 سی سی اور اس سے زائد انجن کی حامل گاڑیوں پر 10 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی متعارف کی گئی تھی تاہم اب یہاں سلیب متعارف کرائے گئے ہیں۔ ہزار سی سی تک 2.5 فیصد‘ 1000 سے 2000 سی سی تک پانچ فیصد اور 2000 سے زائد پر 7.5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔ سگریٹس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں بھی اضافے کی تجویز ہے۔ بالائی سلیب پر چار ہزار پانچ سو روپے فی ہزار سٹکس سے بڑھا کر 5200 روپے زیریں سلیب کے لئے موجودہ دو سلیبز کو ضم کرکے 1650 روپے فی ہزار سٹکس کے لحاظ سے ٹیکس عائد کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں ٹیکس گزاروں کی فعال فہرست میں مقررہ تاریخ کے بعد جمع کرائے گئے گوشوارے کے حامل افراد نان فائلر ہی شمار ہوتے تھے

جبکہ اس پر زیادہ ٹیکس کی شرح لاگو ہوتی تھی۔ اس شق کو ختم کیا گیا ہے۔ نان فائلر کے نام پر پچاس لاکھ روپے سے زائد کی جائیداد کی خریداری پر عائد پابندی ختم کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار افراد کے لئے ٹیکس کی شرح میں اضافے کی تجویز ہے۔ قابل ٹیکس آمدن کی کم سے کم شرح تنخواہ دار طبقے کے لئے چھ لاکھ اور غیر تنخواہ دار طبقے کے لئے چار لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے۔ چھ لاکھ سے زائد آمدن والے تنخواہ دار افراد کے لئے 11 قابل ٹیکس سلیب پانچ فیصد سے 35 فیصد تک کے پروگریسو ٹیکس ریٹس کے ساتھ متعارف کرائے جانے کی تجویز ہے۔ 4 لاکھ روپے سے زائد آمدن والے غیر تنخواہ دار طبقے کے لئے آمدن کی آٹھ سلیبز پانچ فیصد سے 35 فیصد ٹیکس ریٹ کے ساتھ متعارف کرائے جانے کی تجویز ہے۔ کمپنیوں کے لئے ٹیکس ریٹ اگلے دو سال کے لئے 29 فیصد پر فکس کئے جانے کی تجویز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گفٹ کی وصولی آمدن تصور ہوگی۔ حصص پر منافع کی شرح پر ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے بڑھانے کی تجویز ہے۔ قرض پر منافع کی آمدن پر ٹیکس میں اضافے کی تجویز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قانونی کارروائی کے لئے سپیشل جج کی عدالت میں گوشوارے جمع نہ کرانے پر قانونی کارروائی کے لئے مقدمہ کئے جانے اور مذکورہ شخص کی گرفتاری ممکن بنانے کی تجویز زیر غور ہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply