ٹیکس چوری پر سب سے پہلے وزیراعظم کو ہتھکڑی لگائیں، شاہد خاقان عباسی

Spread the love

ہم احتساب سے بالکل بھی نہیں گھبراتے جس چور نے تحفظ حاصل کرنا ہے وہ پی ٹی آئی میں چلا جائے

احتساب کرنا ہے تو وزیر اعظم اورانکے ارد گرد بیٹھے لوگوں کا کیا جائے، سابق وزیراعظم کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز نے رقم گوشواروں میں ظاہر کی تھی اگر ٹیکس چوری کی بات کرنی ہے تو سب سے پہلے وزیراعظم کو ہتھکڑی لگائیں۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حمزہ شہباز پر 18 کروڑ ملک سے باہر جانے کا نہیں بلکہ ملک میں پیسے لانے کا الزام عائد ہے، منی لانڈرنگ ملک سے باہر جانے والے پیسے پر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہ پیسہ جو حمزہ شہباز نے اپنے تمام ٹیکس ریٹرنز میں شامل کیا ہے، یہ وہ پیسہ ہے جسے قومی اور اسمبلی کے رکن بننے کے وقت ظاہر کیا گیا اور الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے گوشوارے میں یہ رقم موجود ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ چھپی ہوئی رقم نہیں ہے، یہ بینکنگ چینل سے آئی اور ہرسال اسی طرح 20 ارب ڈالر سے زیادہ پیسہ بیرون ملک سے پاکستان آتا ہے۔

مسلم لیگ(ن)کے رہنما کا کہنا تھا کہ یہ صرف سیاست اور سیاست دانوں کو بدنام کرنے کی کوشش ہے، ہم احتساب سے بالکل بھی نہیں گھبراتے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ نے الزام لگانا ہے لگائیں لیکن عوام کے سامنے ثبوت رکھیں، فیصل واوڈا، جہانگیر ترین ، خسرو بختیار کا بھی احتساب کرلیں۔

انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز ہر پیشی پر آئے، انہوں نے نیب کے سوال نامے کا جواب بھی دیا۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج ملک کا بجٹ آرہا ہے، جو الزام حمزہ شہباز پر لگایا گیا ہے وہی الزام ہر اس شخص پر ہے جس کے پاس بیرون ملک سے پیسہ آتا ہے جو کاروبار کرتے ہیں۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ایک پیسے کی کرپشن کا الزام لگانا ہے جس وزیر نے بھی لگانا ہے نیب کو خط لکھے، عوام کے سامنے رکھے ہم جواب دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس چوری کی بات کرنی ہے تو سب سے پہلے وزیراعظم کو ہتھکڑی لگائیں کہ کہاں سے پیسہ آتا ہے، کہاں سے ذاتی اخراجات پورے کرتے ہیں، وزرار بتائیں بجلی کے بل کیا ہیں، گاڑیوں کے خرچے کیا ہیں، ملازموں کو تنخواہ کون دیتا ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہمیں نہ جیلوں کا ڈر ہے، ہم اپنا مقدمہ عوام کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں، آج صرف نیب کا مقصد ہے کہ سیاست دان کو بدنام کیا جائے، جن لوگوں نے ملک کی خدمت کی ہے ان سے عوام کی نظر ہٹائی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک سال سے کم عرصے میں ملک کی معیشت کی رفتار نصف اور مہنگائی دگنی ہوگئی ہے، شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آج وزیراعظم خوش ہیں کہ لوگ کرپشن میں گرفتار ہوئے، کرپٹ لوگ ان کے دائیں بائیں بیٹھے ہیں، ان کو بھی گرفتار کریں، جس ملک کا وزیراعظم ٹیکس چور ہو، ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھایا ہو، پھر وہ صبح تقریر کرکے ہمیں کہے ٹیکس ادا کرو، معیشت تباہ اس لیے ہوئی ہے کہ دوہرے معیار ہیں، حکومت اعتماد کھوچکی ہے، لوگ سرمایہ کاری کو تیار نہیں، جس چور نے پروٹیکشن حاصل کرنا ہے وہ پی ٹی آئی میں چلا جائے، اسے نیب سمیت کوئی نہیں پوچھے گا۔

لیگی رہنما نے دعوی کیا کہ بطور وزیراعظم ہمارا ریکارڈ حکومت کے پاس ہے، حکومت نیب کو لکھے کہ کس وزیر نے محکمے میں کرپشن کی، احسن اقبال نے ہزاروں ارب کے ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا ایک روپے کی کرپشن سامنے نہیں آئی۔

Please follow and like us:

Leave a Reply