قوانین کا معاملہ‏ (Zur Frage der Gesetze)کہانی: فرانزکافکا ترجمہ: مقبول ملک

Spread the love

فرانز کافکا کی ایک کہانی، قوانین کا معاملہ‏ (Zur Frage der Gesetze) جرمن سے براہ راست اردو میں

کہانی کا ہمارے موجودہ حالات سے مطابقت رکھنا کوئی اتفاق نہیں ہے ہم روز اول ہی سے تساہل پسند ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہی رہے۔ ہم ہر وقت ظلم ظلم تو کرتے ہیں مگر اس ظلم، اس نظام اور اس ظالمانہ قوانین کے خلاف بغاوت کرنے اور اس اشرافیہ کو اٹھا کر باہر پھینکنے کی ہم نے کبھی کوشش نہیں کی جو آج بھی ہمارے سر پر سوار ہے اور ہمارے اسلاف بھی اسی اشرافیہ کے ہاتھوں کی پتلیاں بنے رہے۔ نام نہاد اشرافیہ جو کچھ کرتی ہے دراصل وہ قانون بن جاتا ہے۔ اشرافیہ کے چنگل میں دنیا عمومی طور پر اور ہم مسلمان خصوصی طور پر پھنسے ہوئے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ ظلم سہنا اور بغاوت نہ کرنا کیا انسانیت کے ہی خلاف تو نہیں ہے۔ آج کی کہانی بھی اسی سے متعلق ہے۔ اور موجودہ وقت پر اس کی اشاعت کسی باقاعدہ تنظیم کے تحت نہیں بلکہ محض اتفاق ہے۔ ہمارے ملک میں اس وقت بھی اشرافیہ وہ تمام قوانین بدلنے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہے جو ان کے مفادات کے خلاف جانے لگیں ہیں اور اس سے حساب مانگا جا رہا ہے۔ امید ہے یہ سب ڈرامے جلد ختم ہو جائیں گے اور پھر ایسے ہی قوانین بن جائیں گے جن سے اشرافیہ کا پھندا ہمارے گلے میں رہے گا۔(مدیر)

ہمارے قوانین عمومی طور پر معروف نہیں ہیں۔ یہ قوانین اشرافیہ کے اس چھوٹے سے گروہ کا ایک راز ہیں، جو ہم پر حکمرانی کرتا ہے۔ ہم اس بات کے قائل ہو چکے ہیں کہ ان پرانے قوانین کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔ لیکن یہ بات غیر معمولی حد تک تکلیف دہ بھی ہے کہ آپ پر ایسے قوانین کے ذریعے حکمرانی کی جائے، جن کو آپ جانتے ہی نہ ہوں۔ میں یہاں قوانین کی مختلف تشریحات اور ان کے امکانات کی بات نہیں کر رہا، نہ ہی ان نقصانات کی جو ایسی متنوع تشریحات سے جڑے ہوتے ہیں، لیکن ہم اس بات کے قائل ہو چکے ہیں کہ جب قوانین کی تشریحات میں پوری قوم کے بجائے صرف چند افراد کو ہی شامل کیا جاتا ہے، تو ایسا ہی ہوتا ہے۔

یہ نقصانات شاید بہت بڑے نہیں ہیں۔ لیکن قوانین اتنے پرانے ہیں کہ ان کی تشریحات اور وضاحت پر صدیوں تک کام کیا جا چکا ہے۔ یہی تشریح اب خود ایک قانون بن چکی ہے۔ ان قوانین کی ممکنہ تشریح کی کچھ آزادی اب بھی ہے لیکن وہ بہت محدود ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ اشرافیہ کے پاس بظاہر اس کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ قوانین کی اس تشریح کے عمل پر اپنے ذاتی مفادات کے پیش نظر اس طرح اثر انداز ہو کہ اس سے ہمیں کوئی نقصان پہنچے، اس لیے کہ یہ قوانین تو شروع سے بنائے ہی صرف اشرافیہ کے لیے گئے تھے۔ وہ اشرافیہ جو خود ان قوانین سے بالاتر ہے، اور لگتا ہے کہ عین اسی وجہ سے قانون نے اپنے آپ کو صرف اسی اشرافیہ کے ہاتھوں میں دے رکھا ہے۔

اس میں بھی یقینی طور پر بڑی حکمت ہے — بہت قدیم قوانین کی حکمت پر بھلا کون شک کرتا ہے؟ — ساتھ ہی ہمارے ان مصائب پر بھی، جن سے فرار شاید ممکن ہی نہیں۔ ویسے ان نام نہاد قوانین کی موجودگی محض ایک قیاس ہی ہے۔ یہ ایک روایت ہے کہ ان کا وجود ہے اور انہیں ایک راز کی طرح اشرافیہ کے حوالے کیا گیا ہے۔ لیکن یہ ایک قدیم اور اپنے بہت قدیم ہونے کے باعث قابل اعتماد ہو چکی روایت سے زیادہ نہ کچھ ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے، کیونکہ ان قوانین کا کردار ہی اس بات کا متقاضی ہے کہ ان کے وجود کو خفیہ رکھا جائے۔

اگر کوئی قانون واقعی موجود ہے، تو وہ صرف یہی ہو سکتا ہے: جو کچھ بھی اشرافیہ کرتی ہے، وہی قانون ہے۔

لیکن جب ہم، جو عوام میں سے ہیں، قدیم ترین زمانوں سے نظر آنے والے اشرافیہ کے رویوں کا بڑی احتیاط سے جائزہ لیتے ہیں، ہمارے پاس اس بارے میں اپنے اجداد کا لکھا ہوا تحریری ریکارڈ بھی موجود ہے، جس کے تسلسل کو ہم نے بڑے باضمیر انداز میں آگے بڑھایا ہے، جس سے متعلق اپنے بےشمار اقدامات کے ذریعے ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ہم خاص قسم کے ان ضوابط کو پہچان بھی چکے ہیں جن کا کسی نہ کسی تاریخی حوالے سے تعین کیا جا سکتا ہو۔ پھر جب ہم انتہائی احتیاط سے چھانے گئے اور منظم انداز میں پیش نظر رکھے گئے انہی نتائج کی روشنی میں خود کو حال اور مستقبل کے تقاضوں سے تھوڑا سا بھی ہم آہنگ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، تو سب کچھ غیر یقینی ہو جاتا ہے اور شاید صرف ہمارے فہم ہی کا ایک کھیل نظر آنے لگتا ہے۔ اس لیے کہ وہ قوانین جن کے تعین کی ہم کوشش کر رہے ہوتے ہیں، وہ شاید سرے سے موجود ہی نہیں ہوتے۔

ایک چھوٹی سی پارٹی ہے، جس کی واقعی یہ رائے ہے اور جو یہ ثابت کرنے کی جستجو میں ہے کہ اگر کوئی قانون واقعی موجود ہے، تو وہ صرف یہی ہو سکتا ہے: جو کچھ بھی اشرافیہ کرتی ہے، وہی قانون ہے۔ یہ پارٹی صرف اشرافیہ کے اندھا دھند اور حسب منشا کیے جانے والے اعمال دیکھتی ہے اور اس عوامی روایت کو مسترد کرتی ہے، جو اس کی رائے میں محض اتفاقیہ طور پر ہی اور بہت تھوڑے فائدے کا سبب بنتی ہے لیکن اس کے برعکس اس کی وجہ سے ہونے والے نقصانات اکثر بہت شدید ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ یہی روایت عوام میں آئندہ پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے ایسے تیقن کا باعث بنتی ہے، جو غلط، دھوکا دینے اور کم عقلی کی طرف لے جانے والا ہوتا ہے۔

اس نقصان سے انکار نہیں کیا جا سکتا مگر ہمارے ہاں بہت غالب اکثریت کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ روایت تو بالکل بھی کافی ثابت نہیں ہوتی، یعنی اس پر ابھی بہت تحقیق کی ضرورت ہے اور اس روایت کے حق میں مواد، جو کہ بہت زیادہ محسوس ہوتا ہے، دراصل بہت تھوڑا ہے اور اس پر ابھی لازمی طور پر مزید کئی صدیوں تک کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ عملاً کافی ثابت ہو سکے۔

آج کل کے ابر آلود دور کے حوالے سے یہ نقطہ نظر اس یقین پر روشنی ڈالنے کے لیے کافی ہے کہ کبھی ایسا وقت بھی آئے گا کہ روایت اور اس پر کسی حد تک تسلی بخش انداز میں کی جانے والی تحقیق اس حتمی نتیجے پر پہنچیں گے کہ ہر چیز واضح ہو گئی ہے اور قانون کا رشتہ صرف عوام سے ہے اور اشرافیہ غائب ہو جائے گی۔ لیکن یہ بات مثال کے طور پر اشرافیہ سے نفرت کے ساتھ نہیں کہی جائے گی، بلکہ کسی کے خلاف بھی نفرت سے نہیں اور کسی کی طرف سے بھی نہیں۔

ہم تو مقابلتاً خود سے زیادہ نفرت کرتے ہیں، اس لیے کہ ہم نے آج تک خود کو اس قابل ثابت ہی نہیں کیا کہ قانون ہمارے حوالے کیا جا سکے۔ اسی لیے اس چھوٹی سی پارٹی میں ہر کوئی کسی نہ کسی حد تک بڑا پرکشش معلوم ہوتا ہے، جو کسی حقیقی قانون پر کوئی یقین ہی نہیں رکھتا، جو اس لیے بہت چھوٹا رہ گیا ہے کہ وہ بھی اشرافیہ اور اس کے وجود کے حق کو مکمل طور پر تسلیم کرتا ہے۔

اس بات کو دراصل صرف ایک طرح کے تضاد کے طور پر ہی بیان کیا جا سکتا ہے: ایک ایسی پارٹی جو قانون پر اعتماد کے ساتھ ساتھ اشرافیہ کو بھی اٹھا کر باہر ہھینک دے، یکدم پوری قوم کی تائید و حمایت حاصل کر سکتی ہے۔ لیکن ایسی کوئی پارٹی وجود میں آ ہی نہیں سکتی کیونکہ اشرافیہ کو اٹھا کر باہر پھینک دینے کا تو کوئی سوچتا ہی نہیں۔

ہم چھری کی اسی تیز دھار پر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایک ادیب نے ایک بار اس صورت حال کا خلاصہ اس طرح بیان کیا تھا: وہ واحد، نظر آنے والا اور کسی بھی شبے سے بالاتر قانون جو ہم پر مسلط کیا گیا ہے، وہ اشرافیہ ہے اور کیا ہمیں خود ہی اپنے آپ کو اس واحد قانون سے بھی محروم کر دینا چاہیے؟

Please follow and like us:

Leave a Reply