128

غیر منتخب حفیظ شیخ بجٹ پیش کر سکتے ہیں یا نہیں؟نئے آئینی بحران نے جنم لے لیا

Spread the love

لاہور (جنرل رپورٹر)قومی بجٹ پیش کرنے کے متعلق وزیراعظم عمران خان

کے مالیاتی امور کے معاون خصوصی حفیظ شیخ کے حلف نہ اٹھانے سے ایک

نئے بحران نے جنم لے لیا ۔ بجٹ پیش کرنے سے پہلے یا تو وہ حلف اٹھائیں گے

یا پھر کوئی دوسرا رکن قومی اسمبلی بجٹ پیش کرے گا ، اس ضمن میں وزارت

خزانہ نے بھی وزارت قانون انصاف سے رائے طلب کر لی ہے، حکومتی حلقوں

میں اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ حفیظ شیخ بجٹ پیش کر سکتے ہیں یا نہیں

کیونکہ آئین کے مطابق بجٹ پیش کرنے کیلئے ضروری ہے متعلقہ وزیر پارلیمنٹ

کا رکن ہو اور بجٹ پیش کرنے سے کم از کم چھ گھنٹے پہلے اس نے وزیر کا

حلف بھی اٹھایا ہو کیونکہ حفیظ شیخ نہ ہی اس وقت سینیٹر ہیں اور نہ ہی رکن

قومی اسمبلی۔ اسلئے وزیرعظم نے اپنے صوابدیدی اختیار کے تحت ان کی تقرری

کی تھی ، ادھر اس حوالے سے وزارت قانون و انصاف کا کہنا ہے بجٹ پیش

کرنے کیلئے ضروری ہے کہ متعلقہ وزیر نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا رکھا ہو

اور جو وزیر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لے اس کیلئے ایک مخصوص مدت کے

اندر رکن پارلیمنٹ ہونا ضروری ہوتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے حکومت حفیظ

شیخ سے بطور وفاقی وزیر حلف لے لے اور بعد ازاں انہیں ٹیکنو کریٹ کی سیٹ

پر سینیٹر منتخب کروا لیا جائے اور اگر معاملہ اس طرح حل نہ ہوا تو عین ممکن

ہے خزانہ امورکے وزیر مملکت حماد اظہر آج کا بجٹ پیش کریں۔جیسا مسلم لیگ

(ن) کی سابق حکومت میں مفتاح اسماعیل کو چھ گھنٹے پہلے وزیر خزانہ کا حلف

اٹھوایا گیا تھا اور اس کے بعد ا نہوں نے بجٹ پیش کیا تھا ، گزشتہ روز قومی

اسمبلی کے اجلاس میں بھی حکومتی بنچوں پر اسی حوالے سے چہ میگوئیاں

ہوتی رہیں کہ آ ج بجٹ کون پیش کر ے گا ۔دوسری جانب سیاسی و معاشی

مبصرین کا یہ خیال بھی ہے چونکہ وزیر اعظم عمران خان کے پاس وزارت

خزانہ کا بھی قلم دان ہے تو عین ممکن ہے وہ اپنے تبدیلی کے ایجنڈے کو آگے

بڑھاتے ہوئے بذات خود بجٹ پیش کر کے تاریخ رقم کریں ۔مگر یہ امر یقینی ہے

کہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ آئین کی رو سے بغیر حلف اٹھائے بجٹ پیش کر نے کے

اہل نہیں۔



اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...