10 جون کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1934ء سوویت یونین اور رومانیہ کے درمیان دوبارہ سفارتی تعلقات قائم ہوئے

1940ء جنگ عظیم دوم:کینیڈا نے اٹلی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا

1940ءجنگ عظیم دوم:اٹلی نے فرانس اور برطانیہ کے خلاف جنگ کا اعلان کیا

1967ء اسرائیل اورشام جنگ بندی پر رضامندہوئے

1967ء سوویت یونین نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کیے

ولادت

940ء ابو الوفاء البوزجانی کا شمار اسلامی دور کے عظیم ریاضی دانوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے الجبراء اور جیومیٹری میں ایسے نئے مسائل اور قاعدے نکالے جو اس سے بیشتر موجود نہ تھے۔ انھیں مثلثات یعنی ٹرگنومیٹری کے اولین موجدوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ عرب کے عظیم ترین ریاضی دان تھے، ریاضی علوم کی ترقی میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ ان کا انتقال 15 جولائی 998ء کو ہوا۔

1832ء نیکولاوس آٹو ایک جرمن انجینئر تھا جس نے کامیابی سے منقبض چارج اندرونی احتراقی انجن تیار کیا جو کہ پٹرولیم گیس پر چلتا تھااسی کی بنیاد پر جدید داخلی احتراقی انجن بنایا گیا۔ ان کا انتقال 26 جنوری 1891 کو ہوا۔

1896ء سید آل رضا پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامورمرثیہ گو شاعر تھے۔ سید آل رضا یکم مارچ، 1978ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں واقع علی باغ قبرستان میں دفن ہیں۔

1908ء مولانا محمد حنیف ندوی پاکستان سے تعلق رکھنے والے عالمِ اسلام کے نامور عالمِ دین، محقق، مفسرِ قرآن، فلسفی اور مترجم تھے۔ 12 جولائی، 1987ء کو انتقال فرما گئے۔

وفات

323 ق م سکندر 350 سے 10 جون 323 قبل مسیح تک مقدونیہ کا حکمران رہا۔ اس نے ارسطو جیسے استاد کی صحبت پائی۔ کم عمری ہی میں یونان کی شہری ریاستوں کے ساتھ مصر اور فارس تک فتح کر لیا۔ کئی اور سلطنتیں بھی اس نے فتح کیں جس کے بعد اس کی حکمرانی یونان سے لے کر ہندوستان کی سرحدوں تک پھیل گئی۔ صرف بائیس سال کی عمر میں وہ دنیا فتح کرنے کے لیے نکلا۔ یہ اس کے باپ کا خواب تھا اور وہ اس کے لیے تیار ی بھی مکمل کر چکا تھا لیکن اس کے دشمنوں نے اسے قتل کرا دیا۔ اب یہ ذمہ داری سکندر پر عاید ہوتی تھی کہ وہ اپنے باپ کے مشن کو کسی طرح پورا کرے۔

1245ء علاؤ الدین مسعود (1242ء – 1246ء) سلطنت دہلی کا ساتواں سلطان تھا جس نے ہندوستان پر حکومت کی۔ اس کا تعلق خاندان غلاماں سے تھا۔ وہ رکن الدین فیروز کا بیٹا اور رضيہ سلطانہ کا بھتیجا تھا۔ 1242ء میں اپنے پیشرو معز الدین بہرام کی افواج کے ہاتھوں مارے جانے اور بے امنی کی صورت حال میں اسے سلطان منتخب کیا گیا۔ اس لیے وہ زیادہ اختیارات کا حامل نہیں تھا اور اقتدار کے حصول کی کشمکش کے دوران درباری امرا نے اس کی جگہ ناصر الدین محمود (1246ء تا 1266ء) کو سلطان بنا دیا۔

2000ء حافظ الاسد شام کے صدر تھے۔ 10 جون سنہ 2000 کو شام کے صدر حافظ الاسد طویل بیماری کے بعد 70 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ حافظ الاسد سنہ 1964 میں شام کی فضائیہ کے کمانڈر کے عہدے پر فائز ہوئے اور اس کے تین سال بعد وزير دفاع بنے۔ سنہ 1970 میں انہوں نے ایک بغاوت کے ذریعے شام کا اقتدار اپنے ہاتھ میں لیا اور پھر بعث پارٹی کے لیڈر منتخب ہوئے۔ ایک سال کے بعد وہ ریفرینڈم کے ذریعے شام کے صدر بنے اور پھر کئی ریفرینڈموں کے ذریعے آخری دم تک عہدۂ صدارت پر باقی رہے۔ سنہ 1967 میں عربوں اور صیہونی حکومت کے درمیان ہونے والی جنگ کے دوران حافظ الاسد شام کے وزير دفاع تھے۔ اس جنگ میں صیہونی حکومت نے جولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کرلیاتھا، لیکن سنہ 1973 ع میں حافظ الاسد اپنی فوج کو مضبوط کرکے جولان پہاڑیوں کے ایک حصے کو واپس لینے میں کامیاب ہو گئے۔ صیہونی حکومت کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا اور اسلامی جمہوریۂ ایران جیسے، صیہونیت مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنا، حافظ الاسد کے دور کی، شام کی خارجہ پالیسی کی خصوصیات میں شامل ہیں۔ حافظ الاسد کے بعد ان کے بیٹے بشار اسد کو صدر منتخب کیا گيا۔ انہوں نے بھی اپنے والد کی پالیسیوں کو آگے بڑھایا خطے میں جاری صیہونیت مخالف محاذ میں شام کے بنیادی کردار کو محفوظ رکھا جو امریکہ، اسرائیل اور خطے میں ان کے حامی ممالک کو ایک آنکھ نہيں بھاتا چنانچہ اس وقت صدر بشارالاسد کو ایک ایسی خانہ جنگی کا سامنا ہے جس میں ترکی سعودی عرب اور قطر سمیت کئی ديگر ممالک کا ہاتھ نمایا ہے۔ تاہم صدر بشار اسد کی حکومت گراکر ان کی جگہ کسی مغرب نواز ایجنٹ کو اقتدار میں لانے کی ان کی کوئی بھی کوشش تابحال کامیاب نہيں ہو سکی ہے۔

2008ء چنگیز اعتماتوف سوویت اور کرغیزستان کے نامور مصنف، مترجم، سیاستدان، سفارت کار اور کرغیز و روسی ادب کی مشہور شخصیت تھے جو اپنے ناول “جمیلہ” کی وجہ سے مشہور و معروف ہیں۔ وہ 12 دسمبر، 1928ء کو پیدا ہوئے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply