5 ہزار کا نوٹ فوری بند کیا جائے:متبادل وزیر اعظم

Spread the love

اسی طرح 40 ہزار کے بانڈ کے بانڈ کی زیادہ تعداد میں خریداری کرنے والوں کو بھی حراست میں لیا جائے

خود کو عقل کل سمجھنے والے بیوروکریٹوں کو بھی نشان عبرت بنا ہو گا

نوٹوں کی تبدیلی کے وقت تو کسی سے بھی سوال کیا جا سکتا ہے کہ اس کے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی

لاہور(سٹاف رپورٹر سے) متبادل وزیر اعظم نواب ڈاکٹر امبر شہزادہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر حکومت کرپشن کے خاتمے اور لوٹی ہوئی واپس لینے میں سنجیدہ ہیں تو ان کے لیے تجویز ہے کہ ہو فوری طور پر تمام نوٹوں کا ڈیزائن بدل دیں اگر یہ ممکن نہ ہو سکے تو کم از کم پانچ ہزار کا نوٹ بند کر دیا جائے اور اس کے ساتھ یہ پابندی بھی عائد کی جائے کہ جب تک پانچ ہزار کے نوٹ مکمل طور پر سٹیٹ بینک کو واپس موصول نہ ہو جائیں اس وقت تک سونے چاندی اور دیگر قیمتی اجناس جیسے غیر ملکی کرنسی، ڈالر وغیرہ کی خرید پر بھی پابندی لگائی جائے تاکہ اس کے کماحقہ نتائج مل سکیں۔

انہوں نے کہا کہ نوٹوں کی تبدیلی کے وقت تو کسی سے بھی سوال کیا جا سکتا ہے کہ اس کے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 40 ہزار کے بانڈ سمیت ملک بھر میں کسی بھی قیمتی چیز کی خرید و فروخت پر حکومتی اداروں کو فوری طور پر حرکت میں آنا ہو گا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورت میں جو کوئی بھی جمع شدہ رقم کے بارے میں بتانا نہیں چاہے گا اس کے لیے اتنی بڑی رقوم کو چلانے کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہوگا ۔ چونکہ کرنسی جلانا بھی ایک جرم ہے اس لیے جلانے والوں کو پکڑ کر ان سے پھر جرمانوں کی صورت میں ریونیو جمع ہو جائے گا

انہوں نے کہا کہ بیشک نوٹوں کی تبدیلی کو احتجاج کی کال تک بڑھا دیا جائے اور اس دوران تمام ہنڈی والوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور اس کے ساتھ یہ خیال رکھا جائے کہ جو کوئی زیادہ مقدار میں سونا چاندی خریدنے آئے تو اس سے بھی باز پرس کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس عمل کے بعد مالی فتوحات کے مجاہدین کو مکمل طور پر پسپائی ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیم کرپٹوں کے پاس تجاویز کی کمی نہیں اصل مسئلہ حکومت نے حل کرنا ہے کہ وہ لوٹی ہوئی رقم کی واپسی کے لیے کس حد تک سنجیدہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت خود کو عقل کل اور ملک کا مالک و مختار سمجھنے والے بیورکریٹوں کو نشان عبرت بنائے بغیر مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا ہم نے کبھی غور نہیں کیا کہ یہ بیوروکریٹ دراصل لارڈ میکالے کی وہ ٹیم ہے جس کے لیے اس نے کہا تھا کہ میں یہاں جو نظام تعلیم چھوڑ کر جا رہا ہوں اس سے صرف کلرک ہی پیدا ہوں گے۔ تو یہ بیورکریٹ دراصل لوئر ڈویژن کلرک ہیں ان کی ذہنی سطح آج تک کلرک کی سوچ سے اوپر نہیں گئی۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ بات ذہن میں رکھی جائے کہ عمران خان کے بعد میں اس ملک کا وزیر اعظم ہوں اور میں ملک میں کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑنے والا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو وعدہ کرنا ہو گا کہ اگر میری تجاویز سے کرپشن کا پیسہ وصول ہو تو اس میں سے میرا حصہ پہنچا دیا جائے تاکہ میں ان کو آئندہ بھی دانش و حکمت سے نوازتا رہوں۔

Please follow and like us:

Leave a Reply